haj

حج رب کی کبریائی کا اعلان

’’اللہ اکبر‘‘ کہنے کو صرف دو لفظ ہیں لیکن ان کی معنویت اتنی وسیع ہے کہ سارا اسلام اس کے اندر سما جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے ایک مسلمان کی زبان سے پنج وقتہ نمازوں میں کئی بار یہ مقدس کلمہ کہلایا جاتا ہے۔ کرۂ ارض پر مسلمانوں کی کوئی بستی نہ ہوگی جس کی فضاؤں میں موذن کی زبان سے یہ کلمہ تیس تیس بار روزانہ بآواز بلند نہ گونجتا ہو۔ یہی کلمہ ایک نووارد جان کے لیے ترانہ خیر مقدم بھی ہے اور یہی میدانِ جنگ میں ایک باغی حق کو بزم حیات سے رخصت کرنے کا کلمہ وداع بھی! اس میں انتہائی شفقت کا اظہار بھی ہوتا ہے اور یہی انتہائی جبر و قہر کا ترجمان بھی۔ یہ اذان کی بھی روح ہے اور رجز کا بھی مغز! یہ زندگی کا پیغام بھی ہے اور موت کا سندیسہ بھی!

یہ کلمہ یکم ذی الحجہ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک دنیا کے ہر اس گوشہ میں گونجے گا جہاں مسلمان بستے ہیں۔ حرم پاک میں ’لبیک لبیک‘‘ کہتے ہوئے جان نثارانِ توحید کے انبوہ کے انبوہ اس کلمہ کو پکاریں گے اور ان سے ہم آہنگ ہوکر سارے جہاں کے مسلمان بآواز بلند اعلان کریں گے کہ اللہ سب سے بڑا ہے!

٭٭

’اللہ سب سے بڑا ہے‘ کیا یہ بات ویسی ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ سب سے بڑا پہاڑ کوہ ہمالیہ ہے، سب سے بڑا دریا دریائے ایمیزن ہے، سب سے بڑا شہر لندن ہے، سب سے بڑا بر اعظم ایشیا ہے اور سب سے بڑی دیوار دیوارِ چین ہے۔ ان چیزوں کی بڑائی کو ماننا معلومات کے تحت آتا ہے۔ اس کی نوعیت اعتقاد کی نہیں ہوتی۔ اس کے ماننے سے انسانی خیالات اور کردار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ہم ایمان و کفر، شرافت و رذالت، راستی و گمرہی اور نیکی و بدی کے لحاظ سے وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ یہ علم کوئی ایسا شعور پیدا نہیں کرتا، جس سے زندگی کا نقشہ بدل جائے۔

اس معنی میں اللہ کو بڑا ماننا کہ محض ہماری ’’دلچسپ معلومات‘‘ میں ایک نئی بات کا اضافہ ہوجائے، کافی نہیں ہے۔ اللہ کو سب سے بڑا ماننے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اس کے حقوق کو دوسروں کے حقوق کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ وزنی قرار دے۔

٭٭

آج ہم مسلمان بھی اسی پستی میں آگرے ہیں کہ زبان پر تو ’’اللہ اکبر‘‘ ہے لیکن عملی زندگی گواہی دیتی ہے کہ دل اوروں کی بڑائی کو مانتا ہے، آج بھی نمازوں میں بیسیوں مرتبہ یہ اقرار کیا جاتا ہے، اذانوں میں اسی کا اعلان ہوتا ہے اور زمانہ حج میں حرم پاک کے مرکز سے لے کرکرۂ ارضی کے آخری کناروں تک ہوائی لہروں میں اسی نغمے کا مدوجزر واقع ہورہا ہوگا۔ لیکن اللہ کو سب سے بڑا کہنے والوں کی زندگیاں ان لوگوں کے ہمرنگ ہوگئی ہیں جو اللہ کو سب سے بڑا نہیں مانتے۔ آج اپنی خواہشیں بڑی ہیں معاشرے کی رسمیں بڑی ہیں، مروجہ تہذیب کے معیارات بڑے ہیں اور مادی تمدن کے سطحی تقاضے بڑے ہیں۔ اسی طرح کہیں الحاد کے پیش کردہ فلسفے اور نظریے، کہیں سیاسی پارٹیوں کے نعرے، کہیں خود ساختہ مذہبی دھڑوں کے مناظرانہ عقیدے اور فقیہانہ مسئلے، کہیں علاقوں اور زبانوں اور نسلوں کی عصبیتوں کے بت بڑے ہیں۔ حریم حیات میں اصنام کا یہ ہجوم دیکھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ یہاں سرے سے خدا کے لیے جگہ ہی کہاں، کجا کہ اسے سب سے بڑا مانا جارہا ہو۔

٭٭

’’اللہ اکبر‘‘ کا ایک وہ اقرار تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداو خلق کے سامنے باندھا تھا۔ سب سے پہلے ان کی نگاہ کا دامن ایک کوکب درخشاں کی شعاعوں نے کھینچا۔ لیکن اس کے نظر سے اوجھل ہوتے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ یہ ستارہ جو زوال پاگیا بزم وجود میں کبریائی کی سند نہیں پاسکتا۔ پھر چاند نے نقاب الٹ کر دعوتِ نظارہ دی، لیکن جب چاند بھی ڈوب گیا تو آپؑ کے دل نے اسے اکبر ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر سورج نورد حرارت کے طوفان اٹھاتا مشرق سے برآمد ہوا تو اس نے اپنی قوت و عظمت کا پیغام سنایا مگر چند گھنٹہ کی اس سلطنت نور پر جونہی اندھیرے کی فوجیں غالب آگئیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سورج کی بڑائی کا تصور مسترد کردیا۔ ان کے دل پر آخر یہ حقیقت فاش ہوگئی کہ ایک اللہ ہی اکبر ہے وہ لا احب الافلین کہہ کر اپنے خالق و مالک کے سامنے جھک گئے۔ تب خانہ آذری کے اصنام معبودانہ شان کے ساتھ ان کے سامنے آئے تو ان کو انہوں نے ٹھکرا دیا۔ پھر نمرود کی قوت و شوکت نے انہیں چیلنج کیا اور وہ اس کے ساتھ ٹکرا گئے پھر ان کے حقوق یافتہ خاندان نے عیش و تنعم کے سارے اسباب ان کے سامنے رکھ کر یہ خواہش کی کہ اللہ کو سب سے بڑا ماننے سے باز آؤ مگر انہوں نے عیش و تنعم کو ٹھکرا دیا اور خاندان کو سلام علیک کہہ کر خانہ بدوش بن گئے۔ وطن کی محبت دامن گیر ہوئی، مگر وہ دامن جھٹک کر حق کی راہ پر بڑھ گئے۔ تمدن نے اپنے ہنگاموں کاواسطہ دلایا مگر ا نہوں نے دشت پیمائی کو ترجیح دی اور آخر کار ایک ویرانے کو جا آباد کیا۔ آخری عمر میں خدا نے اولاد دی اور اولاد کی محبت پروان چڑھنے لگی۔ خاص طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا سلیم الطبع فرزند جو نوعمر ہی سے ہمہ تن اپنے پدر بزگوار کے مشن میں گم تھا۔ دل و نظر میں ایک خاص مقام حاصل کررہا تھا لیکن ایک اشارہ پاتے ہی زندگی کی اس عزیز ترین متاع کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس اللہ کے آستانے پر بھینٹ چڑھانے کے لیے چھری ہاتھ میں لے لی۔ جسے انہوں نے سب سے بڑا مانا تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک اقدام پکارتا رہا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ خدا کے اس جلیل القدر پیغمبر نے خدا کو بڑا ماننے کا اسوہ ہمیشہ کے لیے فراہم کر دیا۔

٭٭

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ حسنہ کے نقوش کو اجاگر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حج کے مناسک معین فرمائے۔ آج زائرین حرم جب اپنے گھر بار چھوڑ کر دنیا بھر سے مکہ کا سفر کرتے ہیں تمدن کے سارے بوجھ اتار کر ایک یکساں اور کفن نما لباس زیب تن کرتے ہیں۔ جب لبیک اللھم لبیک کہہ کر پروانہ وار سرچشمہ توحید کا طواف کرتے ہیں۔ جب صفا و مروہ کے درمیان اس انداز سے دوڑ دوڑ کر چکر لگاتے ہیں جیسے کسی بادشاہ کے سپاہیوں کے خاص دستے فرمان پذیری کے لیے چاق و چوبند ہوکر اس کے محل کے سامنے متحرک ہوں جب وہ بیٹے کی قربانی کی تمثیل کے طور پر اپنے اپنے جانوروں کو تکبیر پڑھ کر ذبح کرتے ہیں، جب وہ دوگانہ عید ادا کرتے ہوئے اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد کی صدا لگاتے ہیں تو درحقیقت اس مثالی انسان کی کتاب حیات کے اوراق کھول کر اپنے سامنے رکھتے ہیں جس نے اللہ کو بڑا مان کر زندگی بسر کرنے کا مسلک قائم کیا۔

اس موقع پر سعادت مندی ہے تو یہ کہ اللہ اکبر کے دو لفظ سینہ میں اپنے پورے معانی کے ساتھ نقش ہوجائیں۔ آدمی کے قلب میں یہ شعور ایمان بن کے راسخ ہوجائے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس مختصر سے انقلابی کلمہ کو زبان سے ادا کیجیے تو اس تہیہ کے ساتھ کیجیے کہ اب جو طاقت بھی آپ کو مخاطب کر کے اپنی بڑائی منوانا چاہے گی آپ پوری قوت سے اس کے مطالبہ کو مسترد کردیں گے اور جدھر سے بھی آپ پر دباؤ پڑے گا آپ اس کے خلاف کشمکش کریں گے۔ اگر اس انداز سے اللہ اکبر کی معنویت کا کھویا ہوا خزانہ ہاتھ آجائے تو سمجھئے کہ نماز، نماز ہے، قربانی، قربانی ہے اور حج، حج ہے۔ یہ نہیں تو باہر کا رسمیاتی ڈھانچہ چاہے کتنا خوشنما ہو اس کے اندر وہ روح موجود نہیں ہے جو اصل مطلوب ہے!

اس انقلابی روح کے ساتھ ’’اللہ اکبر‘‘ کو اپنے اندر جذب کر کے اس انقلابی روح کے ساتھ پڑھئے اور اس انقلابی روح کے ساتھ قربانی دیجئے پھر ساری زندگی پر اپنی انفرادی زندگی پر بھی اور اپنی اجتماعی زندگی پر بھی نگاہ ڈال کر دیکھئے کہ یہاںکس کس کی کبریائی اور عظمت کے جھنڈے گڑے ہوئے ہیں۔

جس معاشرہ و تمدن میں اللہ کو سب سے بڑا ماننے کے بجائے کسی اور کو بڑا مانا جاتا ہے، اس میں ہر پہلو سے فساد رونما ہو جاتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ بھی ہمہ جہتی فساد میں مبتلا ہے۔ یہ غنڈہ گردی، یہ بے حیائی، یہ اسمگلنگ، یہ چور بازاری، یہ اجناس میں ملاوٹ، یہ اندھی نفع اندوزی، یہ رشوت و خیانت، یہ شاطرانہ مسابقت، یہ قومی خزانے میں نقب زنی اور عیش پرستار معیار زندگی، عوام میں روز افزوں محرومی و بے روزگاری، یہ سب کرشمہ ہے اس فتنہ کا کہ ہر فرد کی خواہش نفس الٰہ بن گئی ہے اور وہ اللہ کے بالمقابل یہ دعویٰ لے کر میدان میں آگئی ہے کہ بڑائی اور کبریائی میرا حق ہے۔ جو کوئی اس معاشرے میں معاشی اور معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے جتنا بڑا ہے اس کا بتِ نفسانیت بھی اتنا ہی زیادہ سرکش ہے، جب تک نفسانیت کے ان باطل خداؤں کو توڑ نہ دیا جائے ممکن نہیں کہ پریشان حالی سے نجات ہو۔ پس آؤ کہ پہلے اللہ اکبر کی ضرب سے اپنے اندر کے صنم نفس کو توڑیں، پھر اجتماعی بت خانے میں جو بت بھرے ہوئے ہیں ان کو چکنا چور کریں اور جو جتنا بڑا بت ہے وہ اتنا ہی اولین توجہ کا مستحق ہے۔

یہی توسنت ابراہیمی کا پیغام ہے۔

اَللّٰہُ اکبَر اللّٰہ اکبر لا الٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر ولِلّٰہ الحمد۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ملک نصر اللہ خاں عزیزؔ

Leave a Reply