قربانی

قربانی: مسلمان بناتی ہے!

وسیع تر مفہوم میں ’قربانی‘ کا مطلب ہے اپنی قیمتی اور محبوب چیزوں سے دست بردار ہو جانا۔ یہ چیزیں وقت، دولت اور زندگی یا جیسی چیزیں بھی ہوسکتی ہیں جنھیں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جنھیں شمار کیا جاسکتا ہے۔ یا احساسات، رویے، مسلک و موقف اور تمناؤں جیسی اشیاء بھی ہوسکتی ہیں کہ جن کو محسوس کیا جاسکتا ہے نہ ناپاتولا جاسکتا ہے۔ ان چیزوں کی قربانی کسی ایسی چیز کے حصول کی خاطر دی جاتی ہے جو ان سے زیادہ قیمتی، زیادہ اہم یا زیادہ ضروری ہوں۔ یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ بنیادی طور پر قربانی کا مطلب ہے خدا کے حضور کسی جانور کا ذبیحہ بطور نذر پیش کرنا، اور یوں اپنی ملکیت میں سے کوئی چیز خدا کی نذر کرنا۔

’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔‘‘

قربانی ایسا جوہر ہے جس سے عام انسانی زندگیاں بھی عمدہ اور کامیاب بن جاتی ہیں۔ اس کے بغیر زندگی امن، ہم آہنگی اور امداد باہمی سے محروم رہے گی، تنازعات اور اختلافات سے پرہوگی۔ نفسانی خواہشات کی فی الفور تسکین، خود غرضی اور حرص و طمع کا شکار ہوگی۔ علاوہ ازیں کوئی خاندان یا برداری بھی نہ اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے نہ اس میں یک جہتی اور استحکام پیدا ہوسکتا ہے جب تک اس کے ارکان اپنی طرف سے کچھ قربانی نہ دیں۔ کوئی انسانی جدوجہد اپنا ہدف حاصل کرنے میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنی قیمتی اور محبوب چیزوں کی قربانی نہ دے۔

قربانی سے ایمان کی نشو ونما ہے، اس کے بغیر ایمان کے ننھے منے بیج سے ایسے تناور اور سرسبز و شاداب درخت پروان نہیں چڑھیں گے جو بے شمار انسانی کاروانوں کو چھاؤں اور پھل فراہم کریں۔ (ابراہیم:۲۴،۲۵) اسے ایسا باوفا ہمدم و رفیق بن جانا چاہیے جس کے بغیر راہِ جہاد طے نہ کی جاسکے، کیوں کہ اس راستے میں صحرائے ناپیدا کنار بھی پھیلے ہوئے ہیں اور منزل تک پہنچنے کی راہ میں بلند و بالا پہاڑ بھی حائل ہیں (التوبہ:۲۴)۔ قربانی اُن کنجیوں میں سے ایک کنجی ہے جس کے بغیر بند دروازے کھل نہیں سکتے۔ (البقرۃ:۲۱۴)

خواہ روحانی و اخلاقی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے کیا جانے والا سفر ذاتی ہو یا زندگی اور معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے (ایک خدا کے آگے سر تسلیم خم کردینے) کے لیے کیا جانے والا سماجی سفر، یہ کلیہ دونوں پر صادق آتا ہے۔ اور یہی کلیہ اس صورت میں بھی صادق آتا ہے جب یہ دونوں راہیں انتہائی چاہت کے ساتھ ایک دوسرے میں ضم ہوجاتی ہیں۔ منزل جتنی عظیم اور بلند ہوگی، راستہ اتنا ہی کٹھن اور دشوار ہوگا۔

اب تک آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ قربانی کا موضوع کتنا وسیع ہے۔ اسی موضوع سے مضبوطی کے ساتھ گندھا ہوا اتنا ہی وسیع اور اتنا ہی اہم موضوع ’ابتلا و آزمائش‘ کا اور ’صبر‘ کا ہے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی صبر اور قربانیوں سے عبارت ہے۔ اور یہ حج اور قربانی صبر و ثبات ابراہیم کو یاد کرتے اور اسے اختیار کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
خرم مرادؒ

Leave a Reply