حجاج

حج کی اہمیت

حج کے لغوی معنی قصد و ارادے کے ہیں اسلام کی اصطلاح میں مخصوص زمانے میں مخصوص مقامات پر جاکر مخصوص افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنا حج کہلاتا ہے۔ حج ۹ھ میں فرض کیا گیا قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے۔‘‘ اس کی فرضیت کے بارے میں نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، بس تم حج کرو۔

اسی آیت کے بارے میں اللہ کے رسول ؐ کا ارشاد ہے کہ ’’جو شخص زاد سفر اور ایسی سواری کا مالک ہو جس سے وہ بیت اللہ تک چلا جائے پھر وہ حج نہ کرے تو اللہ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ یہودی و نصرانی ہوکر مرے۔ (دونوں حالت میں مرنا یکساں ہے)۔‘‘ اور اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ جو قدرت کے باوجود حج نہیں کرتے ہیں میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگادوں، وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں۔ قرآن و حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے یہ بات ظاہر ہے کہ حج کوئی ایسا فرض نہیں کہ جی میں آیا تو کرلیا بلکہ زندگی میں ایک بار اس کا اداکرنا ضروری اور لازمی ہے جب کہ یہ فرض ہوچکا ہو۔ خواہ وہ مسلمان دنیا کے کسی کونے میں ہو اور اس پر چاہے کتنی ہی گھریلو ذمہ داریاں ہوں۔ لہٰذا جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور مصروفیتوں کو بہانہ بنا لیتے ہیں تو ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جو دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں اچھے اچھے مقامات کو دیکھتے ہیں مگر ان کے دل میں یہ خیال تک نہیں آتا کہ اللہ کے گھر کی زیارت کر آئیں تو مسلمان کہلانے کے لائق نہیں اور یہی لوگ اللہ کے رسولؐ کے قول ’’ان یموت یھودیا او نصرانیا‘‘ کے مستحق ہیں۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد دانش غفار بجنوری

Leave a Reply