زندگی کی نعمت

اب یہ خدا کی قدرت کا ایک لامثال کارنامہ نہیں تو اور کیا ہے کہ اس نے اپنی حکمت سے خاک کے بے جان پتلے کو زندگی کی روشنی بخشی۔ معمولی گوشت کے لوتھڑے کو انسان بنایا۔ عقل و شعور عطا کیے۔ نیک و بد کی صلاحیت دی اور انسان کو اشرف المخلوقات کے شرف لازوال سے نوازا۔ مگر انسان! انسان جب چند روزہ زندگی پاتا ہے۔ تو وہ زندگی کو اپنی میراث سمجھنے لگتا ہے۔ دنیا سے اس قدر محبت کرنے لگتا ہے کہ موت کو فراموش کردیتا ہے۔ اس طرف اس کا خیال بھی نہیں جاتا کہ اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ وہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اور یہ کہ خالق کے احکام اسے ماننے چاہئیں۔ بہرحال اس کی میعاد مقرر ہے۔ اس عرصے میں چاہیے جو کرے، پھر موت آتی ہے اور سفر آخرت شروع ہو جاتا ہے۔ اور انسان جیسا بوتا ہے ویسا ہی کاٹنے کو ملتا ہے۔ انسان کی زندگی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے روح کو بنایا ہے اور یہ روح کا ہی ظہور ہے۔ جب آدمی چل پھر رہا ہوتا ہے۔ باتیں کر رہا ہو تا ہے اور جب روح واپس ہوجاتی ہے تو صرف خاک کا ڈھیر باقی رہ جاتا ہے۔ جب خدائے عظیم کسی روح کو انسانی شکل میں پیدا کرتا ہے تو حیرت انگیز طور پر مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ ترجمہ: ’’کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ہم نے اسے کیسے پیدا کیا ہے؟ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اس کے بعد اس کو گوشت کا لوتھڑا بنایا پھر ہڈیاں بنائیں اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا۔‘‘

پھر انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس نے ضروریات کے سامان پیدا کردیے اور ماں کے سینے میں دودھ سے لے کر دل میں محبت تک ڈال دی کہ وہ اپنا سکون غارت کر کے اس کی پرورش کرتی ہے۔ پھر انسان بچپن کے مراحل سے گزر کر بلوغت کو پہنچتا ہے۔ تب اس پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں، جو قدرت نے اپنے بندوں پر عائد کی ہیں۔ اس کے سامنے دو نوں راستے کھول دیے جاتے ہیں۔ بدی کا راستہ اور نیکی کی راہ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہم نے اسے دونوں راستے دکھادیے، اگر وہ چاہے تو شکر کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو کفر کی راہ۔‘‘

اب اس مقام سے اس کو آخرت کی طرف جانا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ آخرت کے لیے آم بوئے یا ببول۔ اس دنیا میں وہ جیسے اعمال کرے گا قیامت میں موت کے بعد ویسا ہی بدلہ پائے گا۔ شکر کی راہ کا انجام اور نتیجہ جنت جب کہ کفر کی راہ کا انجام جہنم ہے۔

قرآن کریم اور پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صرف اور صرف شکر اور جنت کے راستے کی وضاحت ہے اور اس بات سے واقفیت ہے کہ جنت کے راستے پر چلنے اور جہنم کے راستے سے بچنے کی کیا ترکیب ہے۔

اب یہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے کہ ہم اس زندگی کو سنجیدگی سے گزارتے ہیں یا غفلت اور لاپروائی کا شکار ہوکر اس موقعے کو تباہ کردیتے ہیں۔ اس موقع کو تباہ کردینے کا مطلب جانتے ہیں کیا ہے؟؟ عذاب نار جہنم کی آگ ۔۔۔۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ آمینl

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ خاتون (نظام آباد)

Leave a Reply