3

شیطان کی چال

شیطانوں کا سردار ابلیس ہے۔ اور ابلیس انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ اور اس کے چیلے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے ہر دم سرگرم رہتے ہیں۔ روزانہ عصر کے بعد اور سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے ابلیس کا تخت بچھتا ہے اور اس تخت پر ابلیس براجمان ہوتا ہے۔ تخت کے ارد گرد تمام شیاطین جمع ہوکر دن بھر کے اپنے کارنامے ابلیس کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

ایک روز تمام شیاطین ابلیس کے دربار میں کارکردگی بتانے کے لیے جمع تھے۔

سردار! میں نے بہت سے لوگوں کو بہکاکر ان سے حرام فعل کرایا۔ دوسرے نے بتایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو چوری ڈکیتی اور زنا کی ترغیب دی۔ غرض ہر شیطان نے اسی طرح اپنے کارنامے سنائے۔

ابلیس خاموشی سے روداد سنتا رہا۔ کسی کو اس نے شاباشی نہیں دی۔ آخر میں ایک شیطان بولا کہ آج میں نے فلاں طالب علم کو بہکا کر پڑھنے سے روک دیا۔

اتنا سنتے ہی ابلیس فرط خوشی سے اچھل پڑا اور تخت سے نیچے آکر اس شیطان کو گلے لگایا۔ اور بولا۔ آج تونے قابل تعریف کام کیا ہے۔

تمام شیاطین یہ منظر دیکھ کر حسد سے جل بھن اٹھے کہ ہم نے انسان سے اتنے بڑے بڑے کام کرائے۔ لیکن سردار نے کسی کے کام کی تعریف نہیں کی جب کہ اس نے صرف ایک طالب علم کو پڑھنے سے روکا ہے، اس کے معمولی سے کام پر سردار اس قدر خوش ہوا کہ تخت سے نیچے اتر کر اسے لگے لگایا۔ ابلیس نے اپنے چیلوں سے کہا۔ تمہیں پتہ کی بات نہیں معلوم۔ تم سب لوگوں کا کام دراصل اسی شیطان کی بدولت انجام دینا آسان ہوا۔ اگر یہ شیطان انسان کو علم سے نہ روکتا تو تم انسان سے چوری ڈاکہ، زنا کاری ہرگز نہیں کرا سکتے تھے۔ میں تمہیں پریکٹی کل کر کے بتاتا ہوں۔ تم مجھے جاہل عابد اور ایک عالم عابد کا پتہ بتاؤ۔ چناں چہ شیطانوں نے دونوں کے پتے بتائے۔ ابلیس صبح صادق کے وقت اپنے لشکر کو لے کر انسان کی شکل میں عابد کے راستے میں کھڑا ہوگیا۔ جو مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ ابلیس نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور بڑی معصوم صورت بنا کر کہا۔ حضرت! آپ سے ایک شرعی مسئلہ معلوم کرنا ہے۔۔۔؟؟

عابد نے کہا جلدی سے پوچھو، مجھے نماز کو جانا ہے، ابلیس نے جیب سے چھوٹی سے شیشی نکال کر دریافت کیا: حضرت کیا اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا ہے کہ اس شیشی میں آسمان اور زمین کو داخل کردے۔

بے علم عابد چند ثائیے سوچتا رہا۔۔۔۔ پھر چہرے پر قدرے ناگواری کے تاثرات لائے ہوئے بولا ہونہہ! کہاں زمین و آسمان۔۔۔ کہاں یہ چھوٹی سی شیشی یہ نا ممکن ہے۔۔۔۔ کہیں تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ۔۔۔؟

ابلیس نے مسکرا کر کہا۔۔۔ حضرت! مجھے صرف اتنا ہی پوچھنا تھا۔ اب آپ شوق سے نماز کے لیے تشریف لے جائیے۔ بے علم عابد وہاں سے آگے بڑھ گیا تو ابلیس نے اپنے چیلوں سے کہا۔۔۔ تم نے دیکھا۔۔۔؟ میں نے اس عابد کی زندگی بھر کی عبادت پل بھر میں ملیا میٹ کردی۔ یہ عابد اپنی بے علمی اور جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہی انکار کر بیٹھا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اس کا ایمان ہی نہیں۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اس کے سجدے کس کام کے۔۔۔؟

پھر ابلیس لشکر کے ساتھ آگے بڑھا۔ سورج طلوع ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ عالم عابد صاحب کے راستے پر جا کھڑا ہوا اور نماز فجر کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے۔ ابلیس انسانی شکل میں ان کے سامنے پہنچا۔ سلام کر کے وہی سوال بڑی معصومیت سے ’السلام علیکم‘ کہہ ان کے سامنے کر دیا۔

عالم صاحب سمجھ گئے کہ ایسا سوال سوائے ابلیس کے کوئی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے شدید غصہ کے عالم میں کہا۔

ملعون۔۔۔ تو ابلیس ہے۔ ارے مردود! یہ شیشی تو بہت بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسا قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کروڑوں ایسے آسمان و زمین کو ایک سوئی کے ناکے میں داخل کردے کیوں کہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

پھر ابلیس اپنے چیلوں سے مخاطب ہوا، دیکھا ایک عالم کو بہکانا کتنا مشکل کام ہے جب کہ ایک جاہل تو ہر لمحہ ہماری مٹھی میں رہتا ہے۔ اس لیے اس سے اہم کام مسلمان کو علم حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ جب مسلمان علم سے بے بہرہ ہوگا، تب تم اس سے خوب اپنی من مانی فتنہ پردازی کراسکتے ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سید عرفان پٹیل (ایوت محل)

تبصرہ کیجیے