والدین

والدین کے ساتھ حسن سلوک

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سب سے بڑا ذریعہ والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ قرآن حکیم کی سورہ بقرہ، سورہ التوبہ، سورہ مریم، سورہ الانعام، سورہ ابراہیم، سورہ بنی اسرائیل، سورہ النمل، سورہ العنکبوت، سورہ لقمان اور سورہ احقاف میں والدین کا ذکر، ان کے حقوق، ان کی عظمت و بزرگی، اللہ کے نزدیک ان کی اہمیت اور دیگر متعلقہ مسائل اور فضائل کا ذکر ہے۔

سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور والدین کی اطاعت کو ایک ہی آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ: ’’اور تیرے رب نے یہ حکم کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔‘‘

سورہ لقمان میں جہاں خدا کا شکر ادا کرنے کا حکم ہے، وہاں ساتھ ہی والدین کا شکر ادا کرنے کا بھی حکم ہے۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: ’’میرا شکر ادا کرو، اور اپنے والدین کا بھی۔‘‘

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بعد سب سے بڑا عمل والدین کی اطاعت ہے۔ حضور نبی کریمؐ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کیا ہے تو آپ نے فرمایا: نماز کا اپنے وقت پر ادا کرنا، پھر سوال کیا گیا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا، نیز آپؐ نے فرمایا:

٭ اللہ کی رضا ماں باپ کی رضا میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔

٭ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔ تمہیں اختیار ہے کہ چاہے تو اس کی حفاظت کرو یا ضائع کردو۔

٭ اللہ تعالیٰ سب گناہوں کی سزا قیامت تک موخر کردیتے ہیں، سوائے والدین کی نافرمانی اور حق تلفی کے۔ اس کی سزا آخرت سے قبل دنیا میں دے دی جاتی ہے۔

٭ حضرت اسماءؓ نے آپ سے سوال کیا کہ میری ماں مشرک ہے کیا پھر بھی میں اس کی خاطر مدارات کروں۔ آپ نے فرمایا: ہاں! اپنی والدہ کی خاطر مدارات کرو۔

٭ والدین کے سامنے عاجزی سے سر جھکا کر رکھو۔ جو شخص والدین کی فرماں برداری کرے اس کے لیے جنت کے دروازے کھلے رہیں گے۔

٭ بہشت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے۔ لیکن والدین کا نافرمان اسے بھی نہیں۔

٭ توحید کے بعد اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والا سب سے بڑا عمل والدین سے حسن سلوک ہے۔

ظاہر ہے کہ ہر انسان اپنے بچپن میں اس حالت سے گزر کر ہی بڑا ہوتا ہے جب وہ بالکل بے بس ہوتا ہے۔ سوائے والدین کے اس کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا۔ ماں اس کے پیشاب پاخانے کو دن میں کئی کئی مرتبہ صاف کرتی ہے۔ اس کی ذرا سی پریشانی سے والدین بے چین ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے وسائل سے بڑھ کر اس کی پرورش پر خرچ کرتے ہیں۔ اس کی تعلیم و تربیت کے لیے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ان کا بڑھاپا آجاتا ہے تو بوڑھے والدین، اولاد کے سہارے کے متمنی اور محتاج ہوتے ہیں۔

امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی کتنی خدمت کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان لمحات میں اولاد کے ذہن و دماغ میں تنگی کا عنصر شامل ہو جاتا ہے اور وہ والدین کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے: (اپنے آپ کو والدین کے سامنے تواضع اور عاجزی سے جھکا کر رکھو اور ان کے ساتھ ہر معاملہ ریاکاری کا نہیں بلکہ دلی رحمت اور اکرام کا معاملہ ہو)۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ایذا رسانی میں ’’اف‘‘ سے بھی کوئی کم درجہ ہوتا تو اس کا ذکر بھی فرما دیا جاتا۔

آپ نے یہ بشارت بھی دی کہ والدین کو رحمت و شفقت سے دیکھنا مقبول حج کا ثواب ہے۔ صحابہؓ میں سے کسی نے سوال کیا کہ اگر دن میں سو مرتبہ دیکھیں تو؟ آپؐ نے فرمایا: ہر نظر پر یہی ثواب عنایت ہوگا۔ کیوں کہ اللہ رب العزت بہت بڑا ہے اور اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اولاد کو چاہیے کہ والدین کے وجود کو غنیمت جانیں اور جہاں تک ممکن ہو ان کی خدمت و اطاعت کرکے ثواب کے مستحق بنیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ عبد اللہ ثانی

Leave a Reply