مسلم خواتین

عورت اسلام کی نظر میں

اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام چیزوں کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔ وہ قرآن میں فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’اور ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو۔‘‘

انسانی جوڑا مرد اور عورت پر مشتمل ہے۔ عورت اللہ تعالیٰ کی عظیم اور دل کش تخلیق ہے۔ عورت پاکیزگی و نازکی، عزت و حرمت اور عصمت و عفت کا مجموعہ ہے۔ راحت و سکون کا منبع ہے۔ عورت میں بے لوث و بے غرض محبت، ایثار و قربانی اور خدمت جیسے جذبوں کی فراوانی اللہ نے رکھی ہے۔

دوسرے مذاہب کا اگر ہم جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو عزت وعظمت اسلام نے عورت کو دی ہے۔ وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔ دورِ جاہلیت میں عورت کو حقیر سمجھا جاتا تھا۔ کچھ تو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ مشرق و مغرب میں کہیں بھی کسی قسم کی آزادی اور حقوق عورت کو حاصل نہیں تھے۔ معاشی حیثیت سے عورت کو بالکل بے بس کر کے مرد کے قابو میں دے دیا گیا تھا۔ وراثت میں اس کے کوئی حقوق نہیں تھے۔ گویا پورے نظام معاشرت میں عورت کو ایک بے زبان جانور بنادیا گیا تھا۔

جب اسلام آیا تو قرآن و حدیث کی روشنی میں عورت کو عزت، عظمت و سربلندی ملی۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے، جس نے عورت کی سماج میں حیثیت متعین کی ہے۔ عورت جس کو قرآن و حدیث میں بلند درجوں سے نوازا گیا، ماں کے روپ میں اس کے قدموں کے نیچے اللہ تعالیٰ نے جنت رکھ دی۔ بیوی اور شریک حیات کی حیثیت سے عورت چراغ نما ہے۔ بیوی کو سب سے بڑی نعمت کہا گیا ہے۔ کسی کے گھر بیٹی بن کر پیدا ہوتی ہے تو اس گھر کی روشنی بن جاتی ہے۔ اور والدین کے لیے جنت کی خوشخبری اور سلامتی لے کر آتی ہے۔

مذہب اسلام میں قرآن و حدیث میں عورت کو مرد کے برابر حقوق دیے ہیں۔ اسلام نے اس وقت کی دنیا کی روش کے خلاف یہ تعلیم دی کہ زندگی مرد اور عورت دونوں کی محتاج ہے۔ اس نے مرد ہی کی طرح عورت کے مستقل اور الگ وجود کو بہ حیثیت فرد تسلیم کیا۔ قرآن نے اعلان کیا کہ جو بھی مرد یا عورت نیک عمل کرے گا ایمان کے ساتھ، تو اس کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اس نے مردوں کے غلبہ والے سماج کو بتایا کہ مرد و عورت ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں۔ اور ان میں جو فضیلت ہے وہ تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کے مقام سے اتنی تیزی سے اٹھایا کہ مدینہ کی زندگی آتے آتے ان کی دنیا بدل گئی۔

عورت جب اپنے مقصد آفرینش کی تکمیل کے مرحلے تک پہنچتی ہے یعنی ماں بن جاتی ہے تو اپنی عظمت کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ماں عورت کا مقدس ترین روپ ہے۔ ماں کی کوکھ سے انسانی تمدن وجود میں آتا ہے۔ ماں کی گود انسانی تہذیب کی پرورش و پرداخت کا مرکز اور اس کی اساسی تربیت گاہ ہے۔ ماں کی نرم آغوش میں انسانیت کا پہلا مدرسہ ہے۔ ماں کی ممتا بے غرض و بیش قیمت ہے۔

بیٹی کے بارے میں فرمانِ رسولﷺ ہے کہ جس گھر میں پیدا ہوتی ہے، خدا اس کے یہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو ۔ یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس کی نگرانی اور پرورش کرے گا، قیامت تک خدا کی مدد اس کے ساتھ شامل حال رہے گی۔

بیوی اور شریک حیات کے روپ میں عورت کو بلند درجہ حاصل ہے جو اپنے گھر کی خوبصورتی ہے، رونق ہے، گھر کی عزت ہے، جہاں وہ اپنے ہر کردار کا جوہر دکھاتی ہے۔ گھر کی چار دیواری میں رہ کر اپنے فرائض کو انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے گھر میں وہ اپنے شوہر کی فرماں بردار بیوی، اپنے بچوں کی شفیق ماں، ساس سسر کی دلاری بہو بن کر عظیم کرداروں کے پیمانے چھلکاتی رہتی ہے۔ فرمان رسولؐ ہے کہ:

’’دنیا کی چیزوں میں مجھے عورت اور خوشبو پسند ہیں لیکن میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔‘‘

کیسا عظیم و اعلیٰ مرتبہ حاصل ہے عورت کو اسلامی معاشرے میں کہ کسی اور مذہب نے عورت کو اتنا بلند وبالا نہ کیا جتنا کہ اسلام نے کیا۔ اگر قرآن وحدیث کی تعلیمات میں اپنی زندگیوں کی تصاویر کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ابھی تو ہم کافی پیچھے ہیں۔ قرآن و حدیث نے جو حقوق اور رتبے ہم کو دیے ہیں، اگر ہم ان تمام باتوں کو رو بہ عمل لائیں تو ہمارے معاشرے کی خواتین بھی مثالی خواتین، مثالی مائیں، مثالی بیویاں اور مثالی بیٹیاں بنیں گی۔ امہات المومنین اور صحابیات کی زندگیوں کو اگر ہم آئیڈیل بنائیں تو ضرور ہمارے معاشرے اور امت مسلمہ کی خواتین مثالی خواتین بنیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
دلشاد فاطمہ (اورنگ آباد)

تبصرہ کیجیے