داعیہ

مسلم خواتین اور اسلام کی دعوت

[مضمون نگار بہن نے اس پر اپنا نام نہیں دیا ہے جب کہ مضمون کے ایک طرف 4/11/2005 کی تاریخ درج ہے۔ بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ مضمون پر اپنا نام پتہ اور رابطہ کا نمبر ضرور تحریر کریں۔ ایڈیٹر]

دنیا کے ان ہنگاموں اور فسادات کو دیکھ کر تو ایسا معلوم ہورہا ہے کہ اس سر زمین پر کیسے کیسے لوگوں کا پہرا ہے۔ اور وہ کیسے کیسے اعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اللہ رب العزت کا قہر و غضب اس دنیا پر برس رہا ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ ذلت اور یہ پستی آج ہماری قوم میں کہاں سے آئی ہے؟ کیوں آج ہم ستائے جا رہے ہیں۔ آج مسلم ممالک پر غیر لوگوں کا تسلط اور اقتدار ہے اور مسلمانوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا جا رہا ہے۔ آج اس ملت کا کیا حال ہوگیا ہے جو کہ امت وسط اور امت خیر ہے؟ ان تمام چیزوں کے پیچھے صرف ایک وجہ ہے کہ آج مسلمانوں نے اپنی خصوصیات اور اپنے منصب کو بھلا دیا ہے۔ جو ذمہ داری امت مسلمہ پر ڈالی گئی تھی، اس ذمہ داری کی ادائیگی کا احساس ہمارے پاس موجود نہیں۔ آج ہم لوگوں کو معروف کی طرف نہیں بلاتے اور منکر سے نہیں روکتے۔ آج ہم اللہ کے دین کو بھلا بیٹھے تو اللہ رب العزت نے بھی ہمیں بھلا دیا اور ہم اللہ کی مدد سے محروم ہوگئے۔ اور جسے اللہ کی مدد اور نصرت نہ ملے، وہ مظلوم اور مغلوب ہونے سے نہیں بچ سکتا۔

آغاز اسلام پر نظر ڈالیں تو صورت حال بالکل اس کے برعکس تھی۔ اللہ رب العزت نے تو مومنین کے لیے ہی دنیا و آخرت کی حکومت رکھی ہے، مگر اس کے برعکس آج ہم غلام بنے ہوئے ہیں اور غیر قومیں ہم پر اس طرح ٹوٹ پڑ رہی ہیں جیسے بھوکے دسترخوان پر گرتے ہیں۔

آج کی اس صورتِ حال کاجائزہ لیا جائے اور ان کا حل تلاش کریں تو ایک ہی بات ہماری نظروں کے سامنے آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نے اس آسمانی کتاب کو اپنے طاقوں کی زینت بنا رکھا ہے۔ آپؐ کی احادیث کو ہم نے لپیٹ کر بڑی حفاظت سے اٹھا کر ر دیا۔ ہم نے قرآن کو کھولا نہ اس کو پڑھا، اور نہ ہی ہم نے نہ اس کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے کی فکر کی اور نہ ہی ہم نے قرآن کی دعوت لوگوں تک پہنچائی۔ جس کی سزا آج ہم کو دنیا میں مل رہی ہے۔

اللہ رب العزت نے ہی تمام انسانوں کو پیدا کیا۔ اور اسی لیے نبیؐ نے فرمایا کہ الخلق عیال اللہ ’’ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے‘‘ اور حضرت آدم علیہ السلام و حوا علیہا السلام ہمارے ماں باپ ہیں۔ اس طرح ہمارا اور غیر مسلمین کا رشتہ بھائی بہنوں کا سا ہوگیا۔ کیا آج ہم ان غیر مسلموں سے اتنی محبت کرتے ہیں جس طرح اپنے بھائی بہنوں سے کرتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں۔ لیکن ہم جب آپ کی تڑپ کو دیکھتے ہیں، آپ ان لوگوں سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے۔ ان کو اللہ کا پیغام پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے۔ خود اللہ رب العزت کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ سورہ کہف کی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

’’اے محمد! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ تو ان کے پیچھے جاں ہی دے دیں گے کہ یہ اس بات پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔‘‘

کیا یہ جذبہ، یہ اسپرٹ آج ہمارے اندر ہے؟ کیا ہم یہ گوارا کرسکتے ہیں کہ ہمارا کوئی رشتہ دار ہماری نظروں کے سامنے آگ میں جھونک دیا جائے۔ پھر اہل ایمان کو یہ کیسے گوارا ہے کہ وہ خود تو جنت کے راستے پر چلیں اور اپنے بھائی بہنوں کو دوزخ کی طرف جاتے ہوئے دیکھیں۔ یہ ہمارے بھائی بہنیں تو ابھی نادان ہیں۔ ان تک تو ہدایت کی روشنی پہنچی ہی نہیں۔ انھیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان مسلمانوں کے ساتھ ان کے گھروں میں ان کے طاقوں میں جو آسمانی کتاب رکھی ہوئی ہے اس میں زندگی کو کامیاب بنانے کا نسخہ ہے، جو ہر ایک کے لیے ہے۔ کیا ہم نے انھیں یہ باتیں بتائیں جو اس آسمانی کتاب میں ہیں۔

اگر ہم واقعی مومن ہیں اور رسولؐ اور آپ کی تعلیمات سے ہمیں محبت ہے تو ہمیں ان سے محبت کرنی ہوگی۔ ان کے قریب جانا ہوگا۔ ان کے سامنے حسب موقع اسلام کی دعوت پیش کرنی ہوگی۔ ہم ان کے سامنے سب سے پہلے توحید، رسالت و آخرت کی بات رکھیں۔ جب خواتین کے مسائل کے تعلق سے باتیں ہمارے سامنے آئیں تو اس وقت ہم پردے کے احکام، شادی بیاہ کے طریقے، طلاق، عورت کو اسلام میں جو رتبہ و درجہ حاصل ہے ان باتوں کے ذریعے ہم حسب موقع ان تک دعوت دین پہنچا سکتے ہیں۔

ہم اپنی حکمت کے ذریعے ان بہنوں کے مسائل کو حل کریں۔ ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے قرآن اور احادیث کی مدد لیں، ہم ان سے اسی طرح محبت کریں جس طرح آپؐ کیا کرتے تھے۔ ہم جہاں بھی جائیں، ایک مقصد ایک نصب العین لے کر جائیں، اگر ہم ٹرین میں سفر کر رہی ہوں تو ہم اپنے ساتھ ہندی، انگریزی یا علاقائی زبان میں لکھی ہوئی کوئی اسلامی کتاب لے کر جائیں، اگر ہماری سیٹ پر کوئی غیر مسلم بہن بیٹھی ہے تو ہم اس سے حکمت و مصلحت کے ساتھ بات کریں، گفتگو میں سادگی و شیرینی ہو، جب نماز کا وقت ہو رہا ہو تو ہم وہیں بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ لیں جس کے ذریعے سے وہ ہماری بہن ہم سے متاثر ہوسکتی ہے۔ ہمارا برقعہ بھی اسے بے حد متاثر کرے گا۔ جب وہ ہم سے کھل کر بات کرنے لگے تب ہم اس کو اپنی وہ کتاب بطور تحفہ دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بہن ہمیں اپنا پتہ وغیرہ دیتی ہے تو ہم بعد میں بھی اس سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔

اسی طرح کے ہزاروں مواقع ہمارے سامنے ہیں۔ ہم اسپتال جاتی ہیں وہاں ہمیں کئی غیر مسلم بہنیں مل جاتی ہیں، کالج یا پھر کہیں پارک میں ہر جگہ جب بھی ہمیں موقع ملے ہم اپنی حکمت سے کام لے کر دین کی دعوت ان کے سامنے پیش کریں۔

ورنہ یہی غیر مسلم بہنیں قیامت کے دن ہمارا دامن پکڑیں گی اور اللہ رب العزت کے سامنے ہماری شکایت کریں گی کہ ’’اے اللہ! یہ خاتون تو میری پڑوسن تھی، یہ جانتی تھی کہ تیرے کیا کیا احکام ہیں، لیکن اس نے مجھے کبھی کوئی بات نہیں بتائی۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
نا معلوم

تبصرہ کیجیے