مشورہ حاضر ہے!

میری عمر ۲۰ سال ۵ ماہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرا قد ۶ فٹ ہو جائے۔ اس سلسلے میں آپ بتائیں، میرا قد ۵ فٹ ۷ انچ ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ میری کلائیاں بہت کمزور ہیں۔ یہ کیسے مضبوط ہو سکتی ہیں؟

lآپ کا قد مناسب ہے۔ ہو سکتا ہے قدرتی طور پر تھوڑا سا بڑھ جائے۔ اپنی غذا کا خیال رکھیے۔ پھل، دودھ، بادام استعمال کریں۔ جم جا کر آپ کلائیوں کے لیے ورزش کر سکتے ہیں۔ کلائیاں مضبوط ہو جائیں گی۔ زیتون کے تیل کا روزانہ مساج کرنے سے بھی فرق پڑتا ہے۔

جوڑوں کا درد

ہماری قاریہ بہن محترمہ صنوبر ، راولپنڈی چھائونی عزیز بھٹی روڈ سے لکھتی ہیں۔ جوڑوں کے درد کے لیے اپنا آزمودہ نسخہ لکھ رہی ہوں۔ جو بے حد کار آمد ہے۔ اس میں چار دوائیں ہیں۔ اسگند، سورنجان، اسپند، خولنجان۔ ہر دوا ۲۴ گرام لینی ہے اور پھر ان کو صاف کر کے پیس، چھان لیں۔ صبح شام ۴ گرام پانی کے ساتھ کھائیں۔ کھٹی چیزوں سے پرہیز کریں، تین ماہ کھانے سے تکلیف دور ہو جائے گی۔

صنوبر بہن کا شکریہ، زمانہ قدیم سے اسگند اور سورنجان کو جوڑوں کی تکالیف میں مختلف ادویہ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اس کے مابعد اثرات بھی نہیں۔ دوسرا یہ کہ اس کی خوراک بھی زیادہ نہیں۔ اسے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آپ بے فکر ہو کر لے سکتے ہیں جو لوگ یہ نسخہ استعمال کریں۔ وہ مجھے ضرور بعد میں مطلع کریں۔

ہونٹ پھٹ جاتے ہیں

جب بھی سردی کا موسم آتا ہے، میرے ہونٹ خشک ہونے لگتے ہیں اور پھٹ جاتے ہیں۔ ان میں سے خون نکلنے لگتا ہے۔ سارا چہرہ بد وضع ہو جاتا ہے۔ اس کے بارے میں ضرور مشورہ دیجیے۔ میں بہت پریشان ہوں۔

lآپ ہونٹوں پر دودھ کی بالائی صبح شام لگائیں۔ ہونٹ پھٹنے لگیں تو سیب کے بیج دس بارہ لے کر باریک پیس کر ہونٹوں پر لگا کر سو جائیں اور رات کو سوتے وقت ناف میں تھوڑا سا تیل روز لگائیں۔ اس سے بھی ہونٹ نہیں پھٹتے۔ نرم ملائم رہتے ہیں۔ کچھ خواتین گہرے رنگ کی لپ اسٹک ہونٹوں پر لگاتی ہیں تا کہ ہونٹ نہ پھٹیں، ناقص قسم کی لپ اسٹک ہونٹوں کو مزید خراب کر دیتی ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ آپ پٹرولیم جیلی، زیتون کا تیل لگا لیں۔ ہونٹ ملائم رہیں گے۔ کچے دودھ کے اوپر ہلکی سی تہہ جم جاتی ہے اسے اتار کر ہونٹوں پر دن میں تین بار لگائیے۔ ہونٹ نرم ہو جائیں گے۔

مچھلی

میں ڈپریشن کا مریض ہوں۔ سوچ بچار سے دل کی دھڑکن بھی بے قابو ہو جاتی ہے۔ ہر وقت سوچتا رہتا ہوں، ایسا لگتا ہے زندگی میں کچھ نہیں رہا۔ گائے کا گوشت پسند تھا۔ مگر اب ڈاکٹر کہتے ہیں۔ گائے کا گوشت مضر ہے۔ سردی ہے، آپ مجھے مچھلی کے بارے میں بتائیے کیا یہ میرے لیے مفید ہے اور اس کے کھانے سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا؟

lمچھلی تو قدرت کی عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں فائدے ہی فائدے ہیں۔ باسی مچھلی کھانے سے کوئی فائدہ نہیں، نقصان ہی نقصان ہے۔ ہفتہ میں کم از کم دو بار ضرور مچھلی کھانی چاہیے۔ مچھلی میں فیٹی ایسڈ موجود ہیں جو دل کو خطرات سے بچاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن کو اعتدال پر لاتے ہیں۔ ڈپریشن کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ دل اور دماغ کے لیے مچھلی بہت مفید ہے۔ سردی کے موسم میں تو آپ اس کا ایک بڑا ٹکڑا روزانہ بھی لے سکتے ہیں۔ مچھلی وٹامن اے اور ڈی کا بھرپورخزانہ ہے اور جب سے یہ دنیا وجود میں آئی یہ انسانوں کی مرغوب غذا رہی ہے۔ سو گرام کا مچھلی کا ٹکڑا آپ کو غذائیت فراہم کرتا ہے۔ بلڈپریشر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ آپ کی ذہانت کو بڑھاتا ہے۔ آپ مچھلی ضرور کھائیں فائدہ ہو گا۔

سانس کی بدبو

مجھے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تمھارے سانس میں بدبو ہے۔ مجھے خود محسوس نہیں ہوتی۔ یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ آپ کے اپنے منہ سے بدبو آ رہی ہے۔ اس کے لیے کوئی دیسی ٹوٹکا بھی بتائیں تا کہ میں استعمال کر سکوں۔

lکہتے تو یہی ہیں۔ کھانے کے ذرات منہ میں رہ جائیں تو ان کے گلنے سڑنے سے بدبو آنے لگتی ہے۔ اسی طرح اگر قبض کی پرانی شکایت ہو۔ منہ میں کوئی تکلیف ہو، بیماری سے اٹھے ہوں اور کچھ دوائوں کے ردعمل سے بھی یہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔ زبان پر بہت سارا میل جما ہو۔ پائیوریا ہو، تب بھی یہی مسئلہ ہوتا ہے۔ کافی وجوہ ہیں۔ جن کی وجہ سے منہ میں بدبو ہو جاتی ہے۔ نیم، کیکر کی مسواک روزانہ کی جائے تو بہت فرق پڑ جاتا ہے۔

آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح جوڑ لیں کہ پیالے کی شکل بن جائے۔ اب اسے اپنے منہ کے قریب لا کر گہرے گہرے سانس لیں۔ پھر آپ اپنے ہاتھ کو سونگھیں۔ آپ کو پتا چل جائے گا کہ آپ کے سانس میں بدبو ہے یا نہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ آپ قبض نہ ہونے دیجیے۔ دوسری بات یہ کہ انجیر کے چند دانے کھانے سے آنتوں میں جمی غلاظت بھی نکل جاتی ہے۔ انجیر کے بہت فائدے ہیں۔ تین سے پانچ دانے انجیر قبض کو ختم کرتے ہیں۔

پیٹ میں گیس نہیں بننے دیتے۔ نہار منہ تین دانے کھانے سے پیٹ میں جو بھی گیس ہو گی وہ ختم ہو جاتی ہے۔ ۱۵ نیم کے پتے لے کر کچل کر پانی میں ملا کر لوگ غرارے کرتے ہیں اور دو بڑے چمچے گلاب کا عرق ایک گلاس تازے پانی میں ملا کر سوتے وقت مائوتھ واش کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ گلاب کاعرق بھی بدبو زائل کر دیتا ہے۔ بھنی ہوئی سونف، چھوٹی الائچی کے دانے، دھنیے کی تھوڑی سی بھنی ہوئی گری ملا کر اس میں تھوڑی سی چینی یا مصری ملا کر بوتل میں رکھ لیں۔دن میں دو تین بار تھوڑا تھوڑا کھائیں۔ اس سے بھی بدبو دور ہو جاتی ہے۔

چہرے کے مسام

میرے چہرے کے مسام بہت برے لگتے ہیں۔ ایسا گھریلو ٹوٹکہ بتائیے جس سے یہ بند ہو جائیں اور میرا چہرہ بھی صاف ہو جائے۔

lمجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ رات کو چہرہ پر لگی کریم یا میک اپ صاف نہیں کرتیں۔ میک اپ کرنے کے بعد اسے رات کو اتار کر سونا چاہیے۔ کھلے مساموں میں آہستہ آہستہ گرد اور چکنائی جم جاتی ہے اور ان کی صفائی مشکل ہوتی ہے۔ ایک کپ گرم پانی لے کر اس میں چوتھائی چائے کی چمچی پسی ہوئی سفید پھٹکری ملائیں اور اپنا منہ اچھی طرح دھو کر خشک کر کے روئی کے ساتھ چہرے پر لگا کر صاف کریں۔ تین چار بار یہ عمل دہرائیں۔

پھٹکری مساموں کو سکیڑتی ہے جب بھی باہر سے آئیں فوراً منہ دھو لیا کریں تا کہ چہرے پر جمی چکنائی ختم ہو جائے۔ اپنے مساموں کا خود خیال رکھیں۔ ان پر زیادہ ٹالکم پائوڈر بھی نہ لگائیں۔ کبھی کبھی ۲ چمچے کھیرے کے رس میں ۵ بوند لیموں کا رس ڈال کر چہرے پر لگائیں۔ ۱۵ منٹ بعد منہ دھو کر خشک کر کے گلاب کا عرق لگائیں۔ کھلے مسام بند ہو جائیں گے۔ ہلکا میک اپ کیجیے۔ زیادہ میک اپ کرنے سے بھی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اپنے چہرے کو ہوا لگنے دیجیے اور میک اپ کو جلد سے جلد اتارنے کی کوشش کیجئے۔ اس طرح آپ کے چہرے کی دلکشی برقرار رہے گی۔

کھانا ہضم نہیں ہوتا

دو تین ماہ سے دوپہر کو کھانا کھاتا ہوں تو مجھے بدہضمی کا احساس ہوتا ہے۔ پیٹ اوپر کی طرف ہوا سے بھر جاتا ہے۔ کبھی دل متلاتا ہے، دو تین گھنٹے اسی حال میں گزرتے ہیں۔ کھانا ہضم ہوتا ہے تو پھر کام کر سکتا ہوں۔ آپ اس کے لیے کچھ بتا سکتی ہیں۔

lچند روز آپ مرغن غذا نہ کھائیے۔ سفید زیرہ پسوا کر رکھیے اور کالی مرچ بھی۔ ایک پیالہ دہی میں ذرا سا نمک ڈالیے۔ سفید زیرہ پیسنے سے پہلے توے پر ہلکا سا فرائی کریں کہ جلے نہیں، ہلکا برائون ہو جائے تو اتار کر پیس لیں۔ اب دہی میں آدھا چائے کا چمچ سفید بھنا ہوا زیرہ ملائیے اور چوتھائی چمچ پسی ہوئی کالی مرچ۔ دوپہر کے کھانے کے ساتھ ایک دو ہفتہ یہی دہی کھائیے۔ روزانہ تازہ دہی بنانی ہے۔ اس سے کھانا ہضم ہونے میں مدد ملے گی۔

ایک پپیتا لا کر رکھیے۔ صرف دو پھانکیں کاٹ کر کھانے کے بعد کھائیں۔ یہ بھی کھانے کو ہضم کرے گا۔ پپیتا آنتوں میں گیس نہیں ہونے دیتا اور کھانے کو ہضم کر دیتا ہے۔ بھوک رکھ کر کھانا کھائیے۔ کھانا کھانے کے بعد ڈٹ کر پانی نہ پئیں۔ ہاضمہ کے لیے زیادہ دوائیاں بھی نہیں کھانی چاہئیں۔ بلکہ غذا میں بھرپور احتیاط کرنی چاہیے۔ گوبھی، ماش کی دال وغیرہ جب بھی پکوائیں اس میں ڈھیر سارا کاٹا ہوا ادرک اور پسا گرم مسالہ ضرورشامل کر لیا کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply