ننھے نمازی

مساجد، بچے اور ہمارا طرزِ عمل

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ’ماڈرن اور آزاد خیال لڑکیاں جو برقع سے بے نیاز اور دو پٹہ کے نام پر ’چند دھجیاں‘ گلے میں لٹکائے بازاروں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں گھومتی ہیں، اذان سنتے ہی ان ’دھجیوں‘ کو ہی سروں پر رکھ لیتی ہیں۔ کون سی چیز ان کو ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ سیدھی سی بات ہے نانی یا دادی کا سکھایا ہوا طریقہ جو ان کے ذہن کے کسی گوشے میں غیر شعوری طور پر دبا ہوتا ہے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ان کے ’انگریز والدین یا فیشن کی دنیا‘ نے بے پردہ کر دیا۔ بالکل اسی طرح سے اگر چھوٹے بچوں کو نماز کے لیے مسجد میں شروع ہی سے لایا جائے تو اسی طرح ان کی بھی ذہن سازی ہوگی۔

مسلمانوں کی دینی تعلیم سے دوری کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں نماز کے تئیں غفلت پائی جاتی ہے۔ اس میں جہاں ایک طرف والدین قصور وار ہیں وہیں دوسری طرف ہمارے سماج کے کچھ ’مولوی حضرات‘ بھی ذمہ دار ہیں۔ خاص کر بچوں کے سلسلے میں ان لوگوں کو برتاؤ عجیب و غریب ہے۔ یہ لوگ بچوں کو مسجدوں میں آنے ہی نہیں دیتے ہیں کہ شرات کرتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ مسجد میں آگیا تو اس کو ایسا ڈانٹا اور جھڑکا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ آنے کی جرأت ہی نہ کرسکے۔ حالانکہ بچپن میں جو عادتیں پختہ ہوتی ہیں وہ تاحیات قائم رہتی ہیں۔

بچوں کی نماز کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی زیادہ تاکید کی ہے، اس کا اندازہ اس حدیث سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ عمرو بن شعیبؓ سے مروی ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور نماز نہ پڑھنے پر ان کی پٹائی کرو، جب وہ دس سال کے ہوجائیں اور ان کا بستر الگ کردو۔

(ابوداؤد:۴۹۵)

اسی وجہ سے لوگ اپنے ننھے منے بچوں کو انگلی پکڑے مسجدوں میں لاتے ہیں اور بچے بھی خوشی خوشی آتے ہیں۔ ایسا نظارہ جمعہ یا عیدین کی نمازوں میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن عام نمازوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے ’’زاہدانہ، خشک مزاج اور پڑھے لکھے جاہل لوگوں‘‘ نے مساجد کو بڑی حد تک بچوں کے لیے ’جیل خانہ‘ بنا دیا ہے۔

مگر ان لوگوں کا اپنا عمل،مسجدوں میں کیا رہتا ہے؟ جماعت کھڑی ہونے سے پہلے تک دنیا جہاں کی باتیں آمنے سامنے یا موبائل سے کی جاتی ہیں۔ مسجد میں ثواب لینے جاتے ہیں اور وہاں سے فرشتوں کی بد دعائیں لے کر آتے ہیں۔ کیوں کہ جب کوئی شخص مسجد میں دنیا کی باتیں کرتا ہے تو فرشتے پہلے کہتے ہیں اسکت یا بغیض اللہ (اے اللہ کے دشمن چپ رہ) پھر اگر وہ شخص اس سے بھی آگے بڑھتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اسکت لعنۃ الہ علیک (تجھ پر خدا کی لعنت چپ رہ) ابن ماجہ۔

دوسرا عمل یہ رہتا ہے کہ نماز مکمل ہوتے ہی پیچھے جانے کے لیے نمازیوں کے آگے سے گزرتے ہیں یا نماز پڑھ رہے لوگوں کے سامنے کھڑے ان کے سلام پھیرنے کا انتظار کرتے ہیںِ جس سے سامنے والے کی نماز میں خلل ہوتا ہے اور وہ جلدی جلدی نماز پڑھ کر سلام پھیرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کہ نمازی کے سامنے سے نکلنے سے چالیس سال کھڑا رہنا زیادہ پسند ہوتا۔ راوی کو شبہ ہے کہ آپؐ نے ۴۰ دن یا ۴۰ ماہ یا ۴۰ سال کہا۔ (صحیح بخاری: ۴۸۴) مگر ان سب باتوں پر نہ تو کسی کی روکنے ٹوکنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی درست کرنے کی۔ غصہ اگر آتا ہے تو ان معصوم بچوں پر جو اپنے والدین کے ساتھ خوشی خوشی مسجد آتے ہیں، جو ابھی نادان ہیں اور آدابِ نماز یا احترام نماز سے واقف نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے بچے مسجدوں میں نہیں آنا چاہتے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ اس میں اَن پڑھ طبقہ ملوث رہتا ہے، بلکہ معتبر علماء دین بھی ایسا کرتے ہیں۔ مسئلہ وہی ہے کہ خود کو ساری پابندی اور احکامات سے مبرا سمجھتے ہیں، لیکن اگر کسی بچے نے بول دیا یا ذراسی شرارت کردی تو سلام پھیرتے ہی ڈانٹ ڈپٹ اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا جاتا ہے اور ان کے والدین کو ایسی نظروں سے گھورا جاتا ہے، گویا بس کھانے کی دیر ہے کہ ہمت کیسے ہوئی کہ بچوں کو مسجد میں لائے۔ جب کہ صحابہ کرام کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مسجدوں میں انگوروں کا خوشہ لٹکا دیا کرتے تھے کہ بچے مسجد میں آئیں بلکہ نبی کریمؐ کے سامنے بچے مسجد میں کھیلا کرتے تھے اور آپؐ نے کبھی ان کو ڈانٹا یا منع نہیں کیا۔ بخاری شریف میں آتا ہے کہ عید کے دن مسجد نبوی میں حبشی بچے اپنے چھوٹے چھوٹے نیزے لے کر سپاہیانہ کھیل کھیلتے تھے اور آپؐ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: بنو ارفدو! نیزہ بازی اور تیر اندازی جم کر کرو تاکہ یہود کو معلوم ہو کہ ہمارے دین میں کہاں تک وسعت ہے۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ مسجد میں ساری غلطیاں بچوں کی ہی ہوتی ہیں۔ بچے تو اکثر بہت اہتمام کے ساتھ صف بنا کر نماز پڑھنا شروع کرتے ہیں پھر جب بڑے لوگ آتے ہیں تو دیکھتے ہی تیوریاں چڑھا کر ان کو پیچھے جانے کا حکم دے دیتے ہیں یا کھینچ کر سب سے پیچھے کردیتے ہیں اور خود ان کی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس سے بچوں کو سبکی محسوس ہوتی ہے اور یہ ان کے دلوں پر گراں گزرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ بھول بھال کر شرارت اور کھیل کود میں لگ جاتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ بچوں کی صف کو سب سے پیچھے ہونا چاہیے۔ پہلے مرد اپنی صف قائم کریں پھر بچے اور جب نماز شروع ہوجائے تو بعد میں آنے والے لوگ بچوں کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے جائیں۔ بچوں کو پیچھے نہ ہٹائیں، کیوں کہ بچے اپنے صحیح مقام پر کھڑے ہیں۔ مردوں اور بچوں کی ترتیب نماز کے شروع میں ہے، نہ کہ پوری جماعت کے دوران کہ لوگ آتے جائیں اور بچوں کو کھسکا کر مسجد کی آخری صف میں پہنچا دیں۔ اب بچے نماز پڑھیں کہ صفوں میں کھسکتے رہیں؟ اسی سے ان کی توجہ ختم ہوجاتی ہے اور پھر وہ شرارتوں میں لگ جاتے ہیں۔

یہ رجحان صرف برصغیر میں ہے ورنہ خلیجی ممالک میں یا مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی میں اس طرح کے مناظر دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔ وہاں بھی ناسمجھ اور سمجھ دار دونوں طرح کے بچے ہوتے ہیں لیکن وہاں بچوں کو ساتھ کھڑے رکھنے کا رجحان ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بچے نظر کے سامنے رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ابو یا بھائی ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ شرارت کرنے سے باز رہتے ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ اگر بچوں کی شرارت کا اندیشہ ہو تو بچوں کو ایک ساتھ ایک جگہ جمع نہ ہونے دیا جائے بلکہ ان کو متفرق اور منتشر کر کے صفوں کے درمیان کھڑا کیا جائے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک یا دو بچے شرارت کرتے ہیں اور نماز کے بعد لوگ سارے ہی بچوں پر پل پڑتے ہیں اور سب کو ایک ہی لاتھی سے ہانکنے لگتے ہیں، اب اگر بچے صفائی دے رہے ہوں تو ڈانٹ کر چپ کرا دیا جاتا ہے یا والدین نے حمایت کردی تو ان کو بھی ’ریمانڈ‘ پر لے لیا جاتا ہے۔

ایسے لوگوں کے لیے اس واقعہ میں سبق ہے کہ ہندوستان کے ایک صاحب مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے تو دیکھا کہ بچے صفوں کے درمیان دوڑ بھاگ کر رہے ہیں، ان کو پورا یقین تھا کہ نماز ختم ہوتے ہی لوگ ان بچوں پر ٹوٹ پڑیں گے اور بری طرح ڈانٹیں پھٹکاریں گے مگر انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ نماز کے بعد بچوں کو ان کے والدین نے بڑے پیا ر سے چوما اور گود میں بٹھا لیا۔ اسی طرح کا واقعہ ان کے ساتھ مسجد حرام میں بھی پیش آیا تو انہوں نے اپنے عزیز جو وہیں مقیم تھے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ اچھا ہوا کہ آپ نے صرف دیکھا، اگر آپ غلطی سے بھی بچوں کو ڈانٹ دیتے یا ان کے والدین سے شکایت کرتے تو لوگ آپ کو ’سنانا‘ شروع کردیتے۔ یہاں عام خیال ہے کہ مسجد نبوی میں بچوں کا حق سب سے زیادہ ہے، اگر وہ نادانی میں بھاگیں، دوڑیں یا شرات کریں تو اس میں نہ تو کوئی حرج ہے اور نہ ہی کوئی کراہیت۔ اس لیے کہ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما بھی مسجد میں بھاگتے دوڑتے منبر تک چلے آتے تھے۔

تبھی کوئی ایسی روایت نہیں ملتی جس میں نبی کریمؐ نے حسن اور حسین کو مسجد میں آنے سے روکا ہوا اور ان کے دوڑنے بھاگنے پر ڈانٹا ہو یا حضرت فاطمہؓ سے کہا ہو کہ بچوں کو مسجد میں مت آنے دیا کرو یا یہ کیوں جاتے ہیں؟ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ کے ساتھ آپؐ کے نواسے اور نواسی بھی آتی تھیں۔ ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبیؐ کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا اور امامہؓ بنت ابو العاص، آپصلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی آپؐ کے کندھے پر سوار تھیں، (یہ آپؐ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کی بیٹی تھیں) جب آپؐ رکوع کرتے تو ان کو بٹھا دیتے اور جب سجدہ سے کھڑے ہوتے تو پھر ان کو کندھے پر بیٹھا لیتے (مسلم:۳۴۶) آج کے دور میں کوئی ایسا کردے تو ’بزرگ حضرات‘ اس کو کان پکڑ کے باہر نکال دیں گے۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے دور میں بچے بچیاں مسجدوں میں آتے تھے، اس لیے ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ بچوں کو مسجد آنے سے روکیں۔ اگر وہ شرارت کر بھی رہے ہوں تو ان کو پیار سے سمجھائیں کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، یہاں شرارت نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے ان کے اندر احساس پیدا ہوگا اور وہ بچنے کی کوشش کریں گے مگر لوگوں کو تو تربیت کرنے سے کہیں زیادہ آسان اور اچھا ڈانٹ ڈپٹ کرنا لگتا ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

Leave a Reply