ماں کے جسم میں بچے کے زندہ خلئے

ایک اردو مثل ہے: ’’باپ پر پوت، پتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔‘‘ اس مثل کے معنی ہیں کہ اولاد شکل و صورت اور عادات میں اپنے والدین سے ملتی جلتی ہے۔ اب جدید سائنس نے بھی اس برسوں پرانی مثل کو درست قرار دے ڈالا۔

امریکی سائنس دانوں نے مائوں کے دماغ میں بچوں کے زندہ خلیے دریافت کیے ہیں۔ یوں ماں اور بچے کا روایتی رشتہ مزید مستحکم ہو گیا۔ ہمارے دین کی رو سے روحانی طور پر یہ رشتہ بہت گہرا ہے۔ اب سائنس نے اْسے جسمانی لحاظ سے بھی بہت مضبوط کر دیا۔

ماں اور بچے کے مابین روحانی و جسمانی رشتے کا آغاز زمانہ حمل سے ہوتا ہے۔ تب بڑھتے بچے (جنین) کے لیے ماں ہی سب کچھ ہوتی ہے، وہ اْسے گرمائش فراہم کرتی ہے اور غذائیت بھی! جبکہ ماں کے دل کی دھڑکن بچے کو مسلسل لوری جیسی کیفیت عطا کرتی اور اْسے پْرسکون رکھتی ہے۔

ایک نالی، آنول (Placenta) ماں اور بچے کے مابین جسمانی تعلق قائم رکھتی ہے۔ یہ نالی ماں اور بچے، دونوں کے خلیے مل جل کر جنم دیتے ہیں۔ اسی نالی کے ذریعے ماں سے غذا بچے کو منتقل ہوتی ہے جبکہ بچہ اپنا فضلہ اور گیس باہر خارج کرتا ہے۔

آنول کے ذریعے ہی ماں اور بچے کے خلیے ایک دوسرے کے اعضا کی سمت ہجرت کرتے ہیں۔ عموماً جگر، غدہ درقہ، پھیپھڑے، دل، گردے اور جلد ان ہجرتی خلیوں کا مسکن بنتی ہے۔ ماہرین نے بذریعہ تحقیق دریافت کیا ہے کہ یہ ہجرت خواہ مخواہ نہیں ہوتی۔۔۔ ہجرتی خلیے ضرورت پڑنے پرم میزبان کی بافتوں (Tissues) کی مرمت کرتے اور اْسے کینسر جیسے موذی امراض سے بچاتے ہیں۔

سائنس دانوں سے لے کر عام آدمیوں تک، سبھی کو یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ایک فرد کے خلیے بڑی آسانی سے دوسرے فرد کے اعضا کے خلیوں سے جا ملتے ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ ایک انسان اپنے مخصوص اور انفرادی خلیوں سے وجود میں آتا ہے۔ لیکن درج بالا تحقیق نے یہ نظریہ باطل قرار دے ڈالا۔ کیونکہ اس نے ثابت کر دیا کہ تمام انسان اپنے بدن میں خصوصاً مائوں کے خلیے رکھتے ہیں۔

زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ انسانی جسم میں اہم ترین عضو دماغ میں دوسرے لوگوں کے خلیے پائے گئے۔ تحقیق نے انکشاف کیا کہ عورتوں کے دماغ میں مردانہ خلیے پائے گئے۔ جبکہ مردوں کے دماغوں میں زنانہ خلیے دریافت ہوئے۔ اب ماہرین تحقیق کر رہے ہیں کہ انسانوں میں خلیوں کی ہجرت کس قسم کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ بذریعہ تحقیق ایک چشم کشا انکشاف ضرور ہوا۔۔۔ ہجرتی خلیے ان خواتین کے دماغ میں کم پائے گئے جو الزائمر کی مریض تھیں۔ گویا ان خلیوں کا دماغ کی تندرستی سے تعلق ہے۔

ہم سبھی خود کو اچھوتا سمجھتے ہیں۔ لہٰذا یہ خیال بہرحال کافی عجیب ہے کہ آپ کے جسم میں والدین حتیٰ کہ پْرکھوں کے خلیے موجود ہوں۔ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہجرتی خلیے دماغ جیسے پیچیدہ عضو میں بھی ملتے ہیں۔ تاہم زندگی میں خلیوں کا ملنا جلنا غیر معمولی بات نہیں۔ یہ عمل سائنسی اصطلاح میں ’’کیمرازم‘‘ (Chimerism) کہلاتا ہے۔ دیگر حیوانات مثلاً پھپھوندی اور مونگے کی چٹانوں (Corals) میں عموماً یہ عمل انجام پاتا ہے۔

جب ایک نامیے (Organism) میں جینیاتی طور پر مختلف خلیے موجود ہوں تو یہ کیمرازم کہلاتا ہے۔ انسانوں میں اس عمل کا مشاہدہ پچاس برس قبل ہوا جب حمل کے بعد حاملہ کے خون میں وائی لومیے (Y Chromosome) دیکھے گئے۔ چونکہ یہ خلیے جینیاتی طو رپر مردانہ ہوتے ہیں، لہٰذا زنانہ جسم میں جنم نہیں لے سکتے۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ یہ دراصل نر بچوں سے مائوں میں منتقل ہوئے۔

اب ماہرین جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بچے کے خلیے ماں کے جسم میں کیا عمل کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک منفرد نظریہ سامنے آیا۔ بچے کے خلیے بنیادی (stem) خلیوں کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ یعنی ان سے مختلف اقسام کے عضو اور بافتیں بن سکتی ہیں۔ نیز یہی خلیے بافتوں کی مرمت بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جب ماں کے کسی عضو مثلاً دل، گردے یا دماغ میں کوئی خلل آئے، تو بچے کے خلیے ہی متاثرہ عضو کی مرمت کرتے ہیں۔

اگر تحقیق اور تجربات سے درج بالا نظریہ درست نکلا تو یہ ایک عظیم دریافت ہو گی۔ یوں ماں اور بچے کے مابین موجود لازوال رشتہ مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اس سے یہ بھی انکشاف ہو گا کہ انسانوں کے مابین روابط کتنے مضبوط ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد الہادی سید

Leave a Reply