حادثہ کے بعد بچوں میں ذہنی نقصانات

دنیا بھر میں مردوں اور خواتین کی طرح بچے بھی زندگی میں حادثات کا شکارذہنی صدمات سے دو چار ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بچوں کی نفسیاتی مشکلات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں بچے روزانہ بم دھماکے، پبلک میں فائرنگ، سڑک پر حادثات، بلا وجہ مار کاٹ، آگ کے زلزلوں، سیلاب کی تباہ کاریوں، جسمانی تشدد، ٹریفک میں زخمی اور ہلاک ہونے کے واقعات، اپنے قریبی لوگوں پر ظلم و تشدد دیکھ کر، پولیس کے ظلم، گھر میں چوری دیکھنے، پستول دکھا کر گاڑی یا موبائل چھیننے اور اسکول میں استاد کی جسمانی سزا کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی پر اوپر بیان کیے گئے واقعات دیکھنے سے بچوں کے ذہن اور جسم پر برے اثرات پڑتے ہیں۔

حلقہ اثر

دنیا کے ہر ملک میں تقریباً ۱۰ فیصد بچے کسی بھی حادثے کے بعد مختلف اقسام کے ذہنی نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔ لڑکیوں میں ان کے اثرات لڑکوں کی نسبت دوگنا ہوتے ہیں۔ جن بچوں کے والدین دور ہوتے ہیں یا پھر خاندان میں اتفاق نہیں ہوتا ایسے بچے زیادہ ذہنی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

علامات

کسی بھی حادثہ کی صورت میں بچہ یا بچی میں یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

۱- خوف زدہ ہونا، ۲-کانپنا، ۳-رونا، ۴-صدمہ، ۵-چڑچڑاپن، ۶-بے چینی اور بے چینی کے دورے، ۷-اداسی کی صورت میں، ۸-والدین سے چمٹنا، ۹-گھبرانا، ۱۰- ہلکی آواز پر ڈر جانا، چونک جانا، ۱۲-پریشانی، ۱۳- نیند نہ آنا، ۱۴- نیند میں حادثہ دیکھنا، ۱۵- برے خواب آنا، ۱۶- دن کو حادثہ کا ذہن میں گھومنا، ۱۷-غصہ کرنا، ۱۸- بیزاری، ۱۹-اسکول جانے سے انکار، ۲۰- گھر سے باہر نہ جانا، ۲۱-ملنے جلنے سے گھبرانا، ۲۲-روز مرہ کے کام میں دلچسپی نہ لینا، ۲۳-محسوس کرنا کہ حادثہ بار بار ذہن میں ہو رہا ہو، ۲۴-شدید ذہنی دباؤ، ۲۵- لوگوں سے نہ ملنا، ۲۶- لوگوں سے علیحدگی میں یا کشیدگی میں رہنا، ۲۷-خوشی وغیرہ محسوس نہ کرنا، ۲۸- ہر چیز میں بے تعلقی ظاہر کرنا، ۲۹- کھیل، تعلیم کھانے اور گھر سے لاتعلقی ہونا، ۳۰-برتاؤ بدل جانا، ۳۱- اعتماد ختم ہو جانا، ۳۲- کپڑوں اور صفائی کا خیال نہ رکھنا، ۳۳- کسی کام میں توجہ نہ دینا۔

علاج

* والدین: بچے کو قریب رکھیں اور رات کو بچے کو اپنے کمرے میں سلائیں۔ اچھی باتیں کریں اور تسلی دیں۔

* اساتذہ، مدہم آواز میں بات کریں، تسلی دیں اور خاص توجہ دیں۔ تفریح میں پاس بٹھا کر بات کریں اور تفصیل سے سنیں۔

* رشتہ دار: بچے کو توجہ دیں اللہ اور رسول پاکؐ اور اسلامی ہیروز کی باتیں سنائیں۔ بچے کے ساتھ کھیلیں اور پسندیدہ کھانا دیں۔

* بہن بھائی: بچے کے ساتھ رہیں۔ اچھی باتیں کریں اور اس چیز کی بار بار یقین دہانی کرائیں کہ چند دن میں خوف ختم ہوجائے گا۔

* نیند: ساتھ سوئیں اگر بچہ خوف سے اٹھ جائے تو والدین گلے سے لگا کر پیار کریں۔

* پرانے حادثے کا چند ہفتے بعد ہلکا سا ذکر کریں۔ فوٹو دکھائیں اور چند ہفتوں بعد اس جگہ سے گزریں۔ یہ سب سے اہم ہے۔

* علماء حضرات: بچے کو حدیث اور قرآن کی اچھی باتوں سے خوف سے نجات دلائیں۔

* جسمانی علاج: اگر بچے کو جسمانی زخم ہوا ہے تو اس کا علاج کروائیں۔

* خود اعتمادی: بچے سے درخواست کریں کہ اپنے بارے میں اچھی باتیں لکھیں اور خود بھی بچے کے سلسلے میں اچھی چیزیں اسے پڑھائیں۔ ڈرائنگ اور رنگین پنسل لے کر دیں اور تصاویر بنائیں۔

* میڈیا: حادثہ والے ڈرامے اور پروگرام ۹ بجے کے بعد دکھائیں اور شام کو بچوں کے ایسے پروگرام دکھائیں جن میں بچوں کی بہادری سے حادثہ پر قابو پانے کے واقعات پیش کریں۔

مرض کی پیشین گوئی

بہت سارے بچے والدین، اساتذہ، دوستوں، خاندان، اساتذہ کرام، علماء حضرات کی باتوں کو سن کر اور اچھی باتیں پڑھنے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں ہم سب کوشش کریں کہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں بچے پر خاص توجہ دیں۔ اس کے علاوہ معاشرے کے ہر فرد کی کوشش ہونی چاہیے کہ نونہالوں کو کوئی تکلیف نہ دیں کیوں کہ ’’بچے کو تکلیف دینے والا دنیا کا سب سے برا بندہ ہے اور اللہ کا ناپسندیدہ شخص ہے۔‘‘

ہمارے رسول پاک نے بچوں سے محبت مہربانی اور انصاف کرنے پر ابھارا ہے۔ ***

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد ارشد (چائلڈ سائیکا ٹرسٹ)

Leave a Reply