2

عظیم غلام

وہ گھڑ سواروں کا پورا دستہ تھا۔ گھوڑے دوڑنے کے بجائے دلکی چال چل رہے تھے۔ سوار آپس میں افسوس کا اظہار کر رہے تھے کہ آج ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ اچانک ایک ساتھی نے گھوڑے کی باگ کھینچی اور ساتھیوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔

’’کیوں بھئی! رک کیوں گئے؟‘‘ ساتھیوں نے پوچھا۔

’’وہ دیکھو شکار!‘‘

سب نے ادھر دیکھا جس طرف اشارہ ہوا تھا۔ ایک چھوٹی سی بستی میں ایک خیمے کے باہر آٹھ نو برس کا ایک بچہ کھڑا تھا۔ ایک کہنے لگا: ’’بھائیو! یہ بھی خوب رہی، ڈاکا نہ ڈال سکے، تو اب اس بچے پر ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟‘‘

’’وہ غراتے ہوئے بولا: ’’تمہارے سر کی قسم، بڑا اچھا شکار ہے۔۔۔۔ بڑی اچھی قیمت دے گا۔‘‘

’’تمہاری ماں خوشی منائے ۔۔۔ یہ بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ شکار کام کا ہے، کسی کے آنے سے پہلے ہی اس پھول کو توڑ لیتے ہیں۔‘‘ تیسرے نے کہا اور ساتھیوں کو جھاڑیوں کی اوٹ میں ہونے کی ہدایت دی۔ پھر اکیلا ہی خیمے کی طرف گھوڑا بڑھانے لگا۔ اس نے بڑی احتیاط سے گھوڑا خیمے کے پاس کھڑا کیا۔ نیچے اُترا، پھر کسی چیل کی طرح جھپٹا اور ایک ہی ہاتھ سے بچے کو اٹھا لایا۔ اسے گھوڑے کی زین پر پٹخ کر ایک ہاتھ اس کے اوپر رکھا تاکہ وہ نہ گرے اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر خود بھی بڑی مہارت سے اس پر سوار ہوگیا۔ ساتھ ہی اس کا گھوڑا بگٹٹ بھاگنے لگا۔ ساتھی خوشی سے نعرے لگاتے اس کے پیچھے ہولیے۔ معصوم بچے کی چیخ و پکار گھوڑے کے ٹاپوں اور غارت گروں کی ہاہا کار میں دب گئی۔

خیمے کے اندر بچے کی ماں اور اس کی نانی باتوں میں مصروف تھیں۔ ماں کو پتا ہی نہ چلا کہ بچہ کب کھیلنے کے لیے باہر نکلا۔ وہ تو گھوڑے بھاگنے کی آوازیں سن کر ہی سہم گئی تھی مگر جب اسے بچے کا خیال آیا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ روتی پیٹتی باہر نکلی تو دیکھنے والے چند ایک لوگوں نے بتایا کہ گھوڑے والے دراصل ڈاکو تھے اور وہ بچے کو اٹھا کر چلتے بنے۔

اب ماں پر غشی کے دورے پڑنے لگے۔ اغوا ہونے والا بچہ اس کا اکلوتا بیٹا اور اپنے باپ کا تو بہت ہی پیارا تھا۔ باپ کو بچے کے بغیر چین ہی نہیں آتا تھا۔ وہ تو بڑی ضد کر کے یمن سے اپنی والدہ سے ملنے آئی تھی لیکن اسے کیا خبر تھی کہ یہاں یہ الم ناک حادثہ پیش آجائے گا۔ بے چاری سوچنے لگی کہ معلوم نہیں شوہر اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟

باپ کو خبر ہوئی تو سر میں خاک ڈالنے لگا۔ اس کے غم کا کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا تھا۔ مرد ہوکر بھی وہ بیٹے کی جدائی میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔

حارثہ کو اچھی طرح علم تھا کہ یہ ڈاکو اس کے لخت جگر کو کہیں دور دراز علاقے میں بیچ دیں گے۔ یوں لاڈ پیار سے پلنے والا ساری زندگی نہ جانے کس حال میں رہے گا۔

باپ نے چاروں طر ف گھر سوار دوڑادیے۔ قریب کے تمام علاقوں میں بھی پیغام بھجوائے اور منادی کرائی۔۔۔۔ ماں نے منتیں مانیں کہ بیٹا مل جائے، پورا خاندان اس کام میں جٹ گیا تھا۔

ڈاکو بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے کسی اونچے خاندان کا چشم و چراغ اڑایا ہے، اس لیے انہوں نے بچے کو باہر ہی نہ نکالا۔ اس کی حفاظت یوں کرتے رہے جس طرح قصائی اپنے بکرے کی کرتا ہے۔ اس تلاش میں کئی برس گزر گئے مگر حارثہ نے ہار نہ مانی۔ اس کا دل کہتا تھا کہ بیٹا ضرور مل جائے گا۔

حارثہ ایک دن اپنے گھر میں بیٹے کی یاد میں غمگین بیٹھا تھا کہ اس کے عزیزوں میں کچھ لوگ اس سے ملنے آئے۔ یہ لوگ اس سال حج کر کے آئے تھے۔ انہوں نے کہا ’’حارثہ خوش ہوجاؤ، ہم تمہارے بیٹے سے مل کر آئے ہیں۔‘‘

’’کہاں ہے میرے دل کا ٹکڑا؟ مجھے پوری بات سناؤ۔‘‘ حارثہ ابن شرجیل اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے بولا۔ رشتہ داروں نے بتایا ’’اے ہمارے چچا کے بیٹے‘‘ ہم اس سال حج کرنے گئے تھے۔ وہاں ہم نے تیرہ چودہ برس کے ایک لڑکے کو دیکھا۔ ہمیں تو وہ تمہارا کھویا ہوا لعل ہی لگا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ اے شریف باپ کے بیٹے، تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے بتایا کہ بنی کلب سے۔ ہم نے پوچھا کہ تم یہاں اکیلے کیوں ہو؟ اس نے بتایا کہ کچھ برس قبل مجھے ڈاکوؤں نے اٹھا لیا تھا۔ پھر مجھے مکہ میں لگنے والے ایک میلے میں بیچ دیا۔ اب میں ایک شریف اور اونچے خاندان کا غلام ہوں۔‘‘

’’کیا تم نے اسے اس کے باپ کی حالت نہ بتائی؟ یہ نہ کہا کہ آنسو بہابہا کر میری آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا ہے؟

’’کیوں نہیں، ہم نے تمہارا سارا حال اس کے سامنے بیان کیا۔ اس نے کہا کہ میرے والد کو تسلی دینا اور کہنا کہ حوصلہ رکھے، غم نہ کرے۔ میں یہاں بہت آرام اور سکون سے ہوں۔‘‘

’’ہائے میری قسمت پتہ نہیں بے چارا کس حال میں ہوگا اور میرا دل بہلانے کو کہہ دیا کہ اچھا ہوں۔ ارے دوستو، کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ میرا ہی بیٹا تھا؟‘‘

’’ہاں ہاں! اس معاملے میں تو ہمیں ذرا بھی شک نہیں۔ اس نے اپنا اور تمہارا نام بالکل ٹھیک ٹھیک بتایا۔اسے یہ بھی یاد تھا کہ اسے خیمے کے باہر سے ڈاکوؤں نے اٹھایا تھا۔

حارثہ اپنے بھائی کعب سے کہنے لگا ’’اے میرے ماں جائے چلو ابھی اور اسی وقت چلو۔ مجھے تو بیٹے کو دیکھے بغیر ایک پل چین نہیں۔ ہم مکہ چلتے ہیں۔‘‘

چناں چہ ایک چھوٹا سا قافلہ اسی وقت مکہ روانہ ہوگیا۔ منزلوں پر منزلیں مارتے یہ لوگ مکہ پہنچ گئے۔ انہیں معلوم ہوا کہ بیٹے کو عکاظ نامی میلے میں فروخت کیا گیا تھا اور ان کے خریدار کا نام حکیم تھا۔ حکیم ایک معزز قبیلے کا شریف آدمی تھا۔ وہ اس کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حکیم نے اسے خریدا ضرور تھا، لیکن پھر اپنی ہمشیرہ کو تحفے میں دے دیا۔ اب وہ حکیم کی بہن کے گھر روانہ ہوئے۔

انہیں بتایا گیا کہ وہ جس گھر کی طرف جا رہے ہیں، وہ بڑے معزز لوگوں کا گھر ہے۔ وہاں پہنچ کر ان کی ملاقات ایک نہایت پروقار شخص سے ہوئی۔ حارثہ اپنے بیٹے کے آقا کو دیکھتے ہی مطمئن ہوگیا۔ اس شخص کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اس سے کسی کو نقصان ہی نہیں پہنچ سکتا!

حارثہ نے میزبان سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا اور کہا: ’’اے معزز سردار! آپ اور آپ کا خاندان اللہ کے گھر کا نگہبان ہے۔ آپ مصیبت زدگان کی مدد اور قیدیوں کو کھانا کھلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ میرا بیٹا آپ کی ملکیت میں ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ جس قدر رقم چاہیں لے لیں مگر میرے بیٹے کو آزاد کردیں۔ میری آنکھیں اس کا چہرہ دیکھنے کو ترس رہی ہیں۔‘‘

’’معزز مہمان، آپ کس کی بات کر ہے ہیں؟‘‘ میزبان نے انتہائی میٹھے لہجے میں پوچھا۔

’’میں حارثہ کے بیٹے زید کی بات کر رہا ہوں۔‘‘

’’اچھا!‘‘ انہوں نے کہا اور کچھ سوچ میں پڑ گئے۔

حارثہ نے میزبان کے چہرے پر کچھ بے چینی سی دیکھی۔ وہ منزل کے اس قدر قریب آکر عجیب کیفیت محسوس کر رہا تھا۔ تبھی اس کے کانوں میں آواز آئی‘ ’’کیا اس کے علاوہ آپ کے یہاں آنے کا کوئی مقصد نہیں۔‘‘

’’نہیں مہربان سردار، ہم تو بیٹے کو منہ مانگی قیمت پر لینے آئے ہیں۔‘‘

’’تو پھر سنیے! ہم زید کو بلائے لیتے ہیں۔ اگر وہ آپ کو پہچان لے اور آپ کے ساتھ جانے کو راضی ہوجائے تو اسے لے جائیے۔ میں اس کے عوض ایک پائی بھی نہ لوں گا۔ لیکن اگر وہ آپ کے ساتھ جانے پر رضا مند نہ ہو تو پھر مجھے پسند نہیں ہوگا کہ آپ لڑکے سے زبردستی کریں۔‘‘

اب زید کو بلایا گیا۔ وہ باپ کو دیکھتے ہی ان سے لپٹ گیا۔ اس سے پوچھا گیا ’’کیا تم ان بزرگوں کو پہچانتے ہو؟‘‘

وہ بولا ’’کیوں نہیں آقا! یہ میرے پیارے والد ہیں اور یہ محترم چچا!‘‘

’’تو زید، تم مجھے بھی پہچانتے ہو۔ میرا خاندان بھی تمہیں معلوم ہے۔ میں نے تم سے جو معاملہ رکھا، اس سے بھی تم بخوبی واقف ہو۔ فیصلہ تمہارے اختیار میں ہے۔ تم پر کوئی زبردستی نہیں، تم چاہو تو خوشی کے ساتھ اپنے باپ کے ساتھ جاسکتے ہو۔ چاہو تو یہاں بھی ٹھہر سکتے ہو تم پر کوئی زور نہیں۔‘‘

زید کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آگئی۔ وہ بولا ’’میں نے آپ کا حسن سلوک دیکھا ہے۔ خدا کی قسم اس کے بعد میں ہرگز آپ کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔‘‘

زید کے لہجے میں ایک جذبہ اور محبت کا ایک سمندر تھا۔ باپ اور چچا نے حیرت سے بیٹے کی طرف دیکھا۔ باپ، جو نہ جانے کب سے بیٹے کی محبت کا چراغ سینے میں جلائے، اسے وادی وادی تلاش کرتا، پھر رہا تھا، حیرت اور دکھ سے بیٹے کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر بولا۔

’’اے زید! تم پر افسوس! تم آزادی پر غلامی کو قربان کر رہے ہو؟ خداکی قسم تمہاری تلاش میں کون سا ایسا کونا ہوگا جو میں نے نہیں چھانا اور اب تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘

زید بولے ’’اے والد محترم! آپ درست فرماتے ہیں۔ لیکن میں نے ان کی ذات میں جو کچھ دیکھا ہے، انہیں جس طرح کا خوب پایا ہے، اس کے بعد یہ میرے بس سے باہر ہے کہ میں انہیں چھوڑ دوں۔‘‘

زید کا فیصلہ اٹل تھا۔

باپ اور چچا حیرت سے بیٹے کا فیصلہ سن رہے تھے کہ وہ عظیم ہستی ۔۔۔۔ حضرت محمدﷺ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے زید کا بازو پکڑا اور اس کے چچا اور والد کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا۔ کعبہ میں پہنچ کر انہوں نے کہا ’’میں تم سب لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ یہ میرا وارث ہے اور میں اس کا وارث۔‘‘

ان اعلان سے زید کے والد اور چچا کا چہرہ کھل اٹھا۔ سوچنے لگے کہ انہیں تو بیٹے کی عزت اور بہتری سے غرض ہے۔ اگر وہ یہاں خوش ہے تو میری خوشی بیٹے کی خوشی کے ساتھ ہے۔ گویا انہیں احساس تھا کہ بچوں کے معاملات میں ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

محمدﷺ نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ جب چاہیں یہاں آکر اپنے بیٹے سے مل سکتے ہیں اور زید کو بھی نصیحت کی کہ وہ اپنے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے ان کے ہاں جایا کریں۔ یوں حضرت زیدؓ بن حارثہ نے اپنے حقیقی باپ کے بجائے محمدﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ چند برس بعد جب محمدﷺ کو اللہ نے اپنا رسول منتخب کیا تو زید آزاد کردہ غلاموں میں سب سے پہلے شخص تھے جو مسلمان ہوئے۔

انہیں حضرت خدیجہؓ کے بھائی حکیم نے عکاظ کے بازار سے خریدا اور تحفے میں ام المومنین خدیجہؓ کے حوالے کر دیا تھا۔ تب سے زیدؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگا دیا گیا تھا۔ زید چند ہی دن بعد آپ سے اس قدر مانوس ہوگئے تھے کہ ساری زندگی آپؐ کے پاس رہے۔ حضرت زیدؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساری زندگی کبھی نہیں ڈانٹا!lll

شیئر کیجیے
Default image
بنت مسعود

تبصرہ کیجیے