3

دعوت و تبلیغ میں حکمت و دانائی

ایک دفعہ ایک شخص حضرت ابراہیم ابن ادہمؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے شیخ! میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے۔ مجھ کو کوئی نصیحت کیجیے تاکہ اس پر عمل کروں۔ حضرت ابراہیم بن ادہمؒ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے چھ خصلتوں کو قبول کرلے تو اس کے بعد تو جو کچھ کرے گا وہ تجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ جب تو گناہ کرے تو خدا کی روزی نہ کھا۔

اس شخص نے کہا: ’’جب رازق وہی ہے تو پھر اور کہاں سے کھاؤں؟‘‘

انہوں نے فرمایا: ’’یہ بات اچھی نہیں کہ آقا کی نافرمانی کرے اور پھر اس کی روزی کھائے۔‘‘ دوسری بات یہ ہے کہ اگر تو گناہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے ملک سے باہر نکل جا۔

اس نے کہا: ’’مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کا مالک اللہ ہے۔ آخر میں کہاں جاسکتا ہوں؟‘‘

فرمایا: ’’یہ بات اچھی نہیں کہ تو اسی کے ملک میں رہے پھر اس کی نافرمانی کرے۔‘‘ پھر اس سے کہا:

’’تیسری بات یہ ہے کہ جب تو گناہ کرنا چاہے تو ایسی جگہ کر جہاں وہ تجھے نہ دیکھے۔‘‘

اس نے کہا: ’’وہ تو ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور دل کی پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔ ایسی جگہ کون سی ہے جہاں وہ موجود نہ ہو؟‘‘

فرمایا: ’’یہ بات اچھی نہیں ہے کہ تو اس کو حاضر و ناظر بھی جانے اور پھر بے دھڑک ہوکر گناہ بھی کرے۔‘‘

پھر فرمایا: ’’چوتھی بات یہ ہے کہ جب ملک الموت تیری روح قبض کرنے آئے تو اس سے کہہ دے کہ مجھے توبہ کرنے کی مہلت دے۔‘‘

اس نے کہا: ’’بھلا وہ میری بات کیوں قبول کرے گا۔ موت کا وقت تو مقرر ہے۔‘‘

فرمایا: ’’اگر تم کو یہ اختیار نہیں کہ توبہ کے لیے مہلت حاصل کرلو، تو اس وقت کو غنیمت کیوں نہیں سمجھتے؟ اور ملک الموت کے آنے سے پہلے توبہ کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘

پھر فرمایا: ’’پانچویں بات یہ ہے کہ جب تیرے پاس منکر نکیر آئیں تو اُن کو اپنے پاس سے دور کردے۔‘‘

اس نے کہا: ’’بھلا مجھ میں اتنی طاقت کہاں؟‘‘

فرمایا: ’’اگر یہ طاقت نہیں تو ان کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر۔‘‘

پھر فرمایا: ’’چھٹی بات یہ ہے کہ قیامت کے دن جب حکم ہوگا کہ گنہ گاروں کو دوزخ میں لے جاؤ، اس وقت کہنا کہ میں نہیں جاتا۔‘‘

اس نے کہا: ’’میرے کہنے کا کیا ہے۔ وہ مجھے زبردستی گھسیٹ کر لے جائیں گے۔‘‘

فرمایا: اگر یہ حال ہے تو پھر گناہ سے باز کیوں نہیں آتے؟‘‘

واضح رہے کہ جو کچھ حضرات ابراہیم بن ادہمؒ کو اس شخص سے کہنا تھا، وہ صرف یہ تھا کہ

تو خدا کی روزی کھاتا ہے

اور اس کے ملک میں رہتا ہے

اور وہ حاضر و ناظر ہونے کے باعث تیرے گناہوں کو دیکھ رہا ہے۔

اور ایک دن تجھے موت کا سامنا کرنا ہے جو اس طرح اچانک آئے گی کہ تجھے توبہ کی مہلت نہیں دے گی۔

اور مرنے کے بعد تجھے قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کا جواب بھی دینا ہے۔

اور اگر تو گناہوں سے باز نہ آیا تو قیامت کے دن تجھے دوزخ میں جانا پڑے گا۔ لہٰذا ان تمام حقائق کے پیش نظر تو موت کے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلے تاکہ تو قبر اور دوزخ کے عذاب سے بچ جائے۔

مگر اس بات کو اس طرح سیدھے سادے انداز میں کہنے کے بجائے انہوں نے اسے سوال و جواب کا انداز دے کر اتنی دانائی اور عمدگی سے کہا کہ سننے والے کا دل بے حد متاثر ہوا۔ وہ شدتِ تاثر سے زار زار رونے لگا۔ سچے دل سے توبہ کی اور آخر دم تک اس توبہ پر قائم رہا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تبلیغ کرتے وقت اس چیز کا دھیان رکھنا بے حد مفید ہوتا ہے کہ بات کو حتی الامکان اس دانائی اور عمدگی سے کہا جائے کہ سننے والا زیادہ سے زیادہ متاثر ہو۔

وما علینا الا البلاغ۔ (ہم پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے) کا مطلب یہ ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ خدا کے پیغام کو بس پہنچا دینا چاہیے، چاہے جیسے تیسے ہی پہنچائیں۔ تبلیغ اسلام کو جیسے تیسے پہنچا دینے کا نام نہیں بلکہ اس بات کا نام ہے کہ انسان اپنے جسم و جان اور سمجھ بوجھ کی تمام قوتوں کو کام میں لاکر خدا کے پیغام کو بہتر سے بہتر اور عمدہ سے عمدہ انداز میں پہنچائے اور اس کے بعد نتائج کے لیے خدا پر بھروسہ رکھے، جلدی نہ مچائے، نہ دل شکستگی کا شکار ہو۔ انبیائے کرامؓ اور صالحین عظامؒ کے تبلیغ کرنے کا یہی طریقہ تھا کہ وہ دانائی اور سمجھ داری سے تبلیغ کرتے تھے۔ بے سمجھی سے نہیں۔

اگر ہم خدا کے پیغام کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے وقت بے سمجھی کا ثبوت دیں گے، یعنی عالم جاہل، عقل مند بے عقل، خواہش مند، عورت مرد، بالغ نابالغ، خوش حال غریب، غمگین مسرور، مصیبت زدہ خوش نصیب، راسخ العقیدہ متشکک سب پر ایک ہی لگے بندھے طریقے سے تبلیغ کرنے کی کوشش کریں گے۔

یا لوگوں کو نسبتاً غیر اہم مسائل میں الجھا دیں گے اور اہم کو نظر انداز کیے رہیں گے۔ یا دین کو بہت مشکل بنا کر پیش کریں گے اور لوگوں کو ڈرا ڈرا کر ناامید کر دیں گے۔

یا مخاطبین کو غلط انداز میں یہ تاثر دیں گے کہ دین کا دنیاوی خوش حالی سے کوئی تعلق نہیں۔

یا وقت بے وقت اور موقع بے موقع بات کریں گے اور اتنی بار کریں گے کہ لوگ عاجز آجائیں۔

یا نرمی اور حسن بیان سے کام لینے کے بجائے درشتگی اور کرختگی اختیار کریں گے۔

اگر ہم ایسے غلط طریقے سے تبلیغ کریں گے تو ہمیں اس بات کی زیادہ توقع نہیں رکھینی چاہیے کہ لوگ ہماری بات سے متاثر ہوں گے۔

داعی کا کام صرف یہی نہیں کہ صرف تبلیغ کردے بلکہ تبلیغ کے ساتھ ایک چیز حکمتِ تبلیغ بھی ہے یعنی دانائی اور سمجھ داری سے تبلیغ کرنا۔ داعی کے لیے اس دانائی اور سمجھ داری سے کام لینا بہت ضروری ہے۔

سورہ نحل آیت ۱۲ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’اے نبی، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریق پر جو بہترین ہو۔‘‘

یہاں دعوت دینے کے ساتھ دانائی اور نصیحت کا ذکر ہے اور نصیحت کے متعلق واضح کیا گیا ہے کہ وہ عمدہ ہو اور مباحثہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مگر ساتھ ہی تلقین کردی گئی ہے کہ ایسے طریق سے ہو جو بہترین ہو۔

لفظ دانائی کے ٹھیک ٹھیک معنی معین کرنا اور تفصیل بتانا کہ اس میں کیا کیا شامل ہے، بہت مشکل ہے۔ مجملاً چند احتیاطیں پیش نظر رہنی چاہئیں۔ جن کے متعلق توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ داعی کی تبلیغی کوششوں کو موثر بنانے میں بہت مدد دیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بنت الاسلامدعودع

تبصرہ کیجیے