بیٹیاں

اسلام میں عورت کی تین حیثیتیں: بیٹی (۲)

عورت کا ایک اور کردار بیٹی کی صورت میں ہے یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد دوسرے غیر مسلم معاشروں میں لڑکی اور بیٹی کے وجود کو اچھا نہیں سمجھا گیا بلکہ ان کو زندہ درگور کردینے، پیدا ہوتے ہی ختم کردینے اور ان کی پیدائش پر عار محسوس کرنے کے واقعات تاریخ کے صفحات پر بکھرے پڑے ہیں۔

قرآن مجید نے انتہائی پرزور اور پراثر انداز میں بیٹیوں کی اس زندہ درگوری کے خلاف آواز بلند کی کہ قیامت کے دن یہ سوال ضرور ہوگا کہ بیٹیوں کو کس جرم میں مارا گیا تھا؟ ’’اور جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں ماری گئی۔‘‘ (التکویر:۵-۸)

بیٹیوں کو دیوتاؤں پر بھینٹ چڑھایا جاتا تھا، قرآن نے اس کو بربادی کا گل قرار دیا۔

’’اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنا دیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں۔‘‘ (الانعام:۷۳)

قرآن مجید نے ایسے لوگوں کی نفسیاتی بیماری کی تشخیص کی ہے جن کو بچی کی پیدائش کی خبر ملتی ہے تو غم سے ان کے چہرے سیاہ ہوجاتے ہیں وہ بچی کی پیدائش کی خبر سن کر بجائے مسرور ہونے کے کڑھتے رہتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کریں۔ اس ذِلت کو برداشت کرلیں یا پھر اس کو سپرد خاک کردیں۔

’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور غصے کے گھونٹ پیتا ہے۔ وہ لوگوں سے اس خبر کی تکلیف کی وجہ سے چھپا پھرتا ہے۔ (سوچتا ہے) کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا اس کو مٹی میں دبا دے۔‘‘ (النحل:۹۵۔۸۵)

اسلام نے ان بیٹیوں کو بجائے عار و شرم کے جنت کے استحقاق کا سبب بنا دیا، انسان اور جہنم کے درمیان یہ بیٹیاں ایک آڑ اور ایک حجاب بن گئیں۔ صحیحین اور ترمذی کی روایت ہے کہ:

’’ان بچیوں کے ذریعے سے جس شخص کی کچھ بھی آزمائش کی گئی اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو یہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے حجاب بن جائیں گی۔‘‘

ایک اور روایت کے مطابق قیامت کے دن رسول اللہﷺ سے ایسا شخص انتہائی قریب ہوگا، جس نے دو بچیوں کی پرورش اور تربیت کی ہوگی۔

ترمذی کی روایت ہے کہ جس نے تین بہنوں یا بیٹیوں اور دو بہنوں اور بیٹیوں کی عمدہ طور پر پرورش کی تو جنت اس کی ہوگی۔

’’جس نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو بہنوں یا دو بیٹیوں کی پرورش کی، ان کو تہذیب سکھائی ان سے اچھا برتاؤ کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔‘‘

ایک اور روایت میں واضح طور پر یہ الفاظ ہیں کہ جس شخص کے گھر میں بیٹی ہوئی پھر اس نے اس کو زندہ درگور نہیں کیا، اس کو ذلیل نہیں سمجھا، بیٹوں کو اس پر ترجیح نہیں دی تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے اجر کے طور پر جنت میں داخل کریں گے۔ ’’جس کی بیٹی ہو پھر وہ اس کو زندہ دفن نہ کرے اور نہ اس بچی کی توہین کرے اور نہ اس پر بیٹوں کو ترجیح دے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کریں گے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد عارف عبد الرؤف چاچیا

Leave a Reply