کامیابی اور صلاحیت

قسمت، مقدر، منزل کس قدر زبردست الفاظ ہیں اور ان الفاظ کی عظمت کیا ہے؟ ہر چیز کے ساتھ ایک عظمت منسلک ہوتی ہے۔ آپ کی ایک قسمت، مقدر اور منزل ہے۔ قسمت، مقدر اور منزل کے متعلق ایک اور عظمت کیا ہے؟ اپنی قسمت اور مقدر تشکیل دینے میں ہمارا اپنا اہم کردار ہے۔مختصر یہ کہ آپ اپنی قسمت، مقدر اور منزل کا انتخاب مع دن خود کر سکتے ہیں۔

آپ کی قسمت، مقدر اور منزل آپ کا وہ خواب ہے جو آپ کے مطلوبہ اور ترجیحی مستقبل میں پوشیدہ ہے۔ ہر روز ہم جن خیالات کا انتخاب کرتے ہیں، وہ ہمیں ہماری قسمت، مقدر اور منزل کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ ہمارے رویے، طرزِہائے عمل، ہمارے الفاظ و افعال اور تعلقات یہ سب امور ہمارے مقدر، قسمت اور منزل کا تعین کرتے ہیں اور اس مخصوص دن کا بھی تعین کرتے ہیں جب ہم اپنی منزل پر پہنچیں گے۔

(جب آپ اپنی قسمت، مقدر اور منزل اور اس سے منسلک مخصوص دن کے متعلق سوچتے ہیں تو پھر مندرجہ ذیل افکار پر غور کیجیے)

ذہنی سوال: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ خوشحالی کی زندگی حاصل کر سکتے ہیں؟ واضح اور سچی بات تو یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی دلی خواہشات کی تکمیل نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کامیابی ایک ایسی چیز ہے جو ذہین اور باصلاحیت افراد کے لیے مخصوص ہے۔ یہ نظریہ درست نہیں ہے اور شاید آپ کی طرف سے اپنی منزل کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں خوشحالی کے خواہشمند ہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم یہ خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔

سچائی تو یہ ہے کہ یہ عمل قابلِ اہمیت نہیں ہے کہ آپ کی ذہانت کا معیار کیا ہے؟

آپ کے موجودہ وسائل و ذرائع کیا ہیں؟

آپ کا خاندانی پس منظر کیا ہے؟

آپ کے موجودہ حالات کیا ہیں؟

اور یہ وہ پیغام ہے جو ہمیں مسلسل دوسروں تک پہنچانا چاہیے ’’میں یہ کام کر سکتا ہوں۔‘‘ واضح سوچ اور واضح مقصد۔ ذیل میں چند سوالات دیے گئے ہیں جن کے ذریعے یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی سوچ اور مقصد واضح اور صاف ہے کہ نہیں۔

کیا آپ اسے مفصل بیان کر سکتے ہیں؟

کیا آپ اسے ’’دیکھ‘‘ سکتے ہیں؟کیا آپ اسے ’’محسوس‘‘ کر سکتے ہیں؟

کیا آپ اسے ’’سن‘‘ سکتے ہیں؟

اس ضمن میں ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔ شاید آپ اپنے گھرانے کے معذور فرد ہیں اور آپ کا خواب اور مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے افرادِخانہ کے ساتھ آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں۔ آئیے اب ہم ’’دعوت یوم تشکر‘‘ سے آغاز کرتے ہیں۔ کیا آپ وہاں ہر شخص کو دیکھ سکتے ہیں؟

انھوں نے کون سا لباس پہنا ہوا ہے؟ کیا وہ مسکرا رہے ہیں؟ ان کے درمیان کیا گفتگو ہو رہی ہے؟ کیا آپ ان کے قہقہے سْن سکتے ہیں؟ کیا آپ لطف اور مسرت محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ بھنے ہوئے مرغ کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں؟ رخصت ہونے کے وقت کیا آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہیں اور ’’دعوتِ یوم تشکر‘‘ کو شاندار قرار دے رہے ہیں؟

دوسرا منظر

آپ کا وہ ادارہ جس کے آپ آجر ہیں۔ کیا آپ وہ وسیع عمارت دیکھ سکتے ہیں جس کے اندر آپ موجود ہیں؟ کیا آپ اپنے ملازمین کو دیکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ ان کے مثبت رویے کو محسوس کر سکتے ہیں؟ جب 2ماہ بعد آپ کے پاس آپ کے ادارے کے نتائج آتے ہیں تو کیا آپ خوشی اور مسرت محسوس کر سکتے ہیں؟

کیا آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ ایمانداری سے کاروباری امور انجام دے رہے ہیں جو آپ کے ملازمین کے لیے تعجب کا باعث ہے؟ آپ کی سوچ اور مقصد کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ اپنی قسمت، مقدر اور منزل کے متعلق واضح سوچ۔ اپنے وسائل و ذرائع پر غور کیجیے۔ کیا آپ کو اپنے مطلوبہ مقاصدکے حصول کے ضمن میں اپنے پاس موجود وسائل اور ذرائع کا ادراک اور آگہی حاصل ہے؟ کیا آپ کو یہ علم ہے کہ آپ یہ وسائل اور ذرائع کیسے حاصل کر سکیں گے؟

آپ کے پاس موجود خداداد صلاحیتیں کون کون سی ہیںاور اپنے مقصد اور منزل کے حصول کے ضمن میں آپ انھیں زیادہ بہتر طور پر کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟

آپ کے موجودہ وسائل و ذرائع کی نوعیت و حیثیت کیاہے؟

رقم / دولت ، وقت؟ ذہنی و جذباتی صحت؟

دوستوں، افرادِخانہ، ملازمین کی طرف سے مدد اور معاونت؟

مستقبل کے لیے مطلوبہ ذرائع و وسائل کی نوعیت وکیفیت اور کیا آپ نے مطلوبہ وسائل و ذرائع حاصل کرنے کے ضمن میں کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟

آخری تجویز میں آپ کے سامنے یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی مطلوبہ قسمت، مقدر اور منزل کے حصول کے لیے ایک مخصوص تاریخ مقرر کیجیے۔ ایک عملی اور حقیقی تاریخ اور دن۔ اس عملی اور حقیقی دن/ تاریخ کے تعین کے باعث آپ اپنے مطلوبہ مقاصد و اہداف کی تکمیل کے لیے ایک مربوط منصوبہ مرتب کرسکیں گے۔

اب دوبارہ ان نکات پر توجہ دیجیے اس ذہنی سوال کا جواب دیجیے: کیا مجھے واقعی یقین ہے؟

ایک واضح مقصد اور سوچ پیدا کیجیے مطلوبہ وسائل و ذرائع پر نظر رکھیے ایک مخصوص دن/تاریخ مقرر کیجیے منصوبہ بندی کیجیے۔lll (از کرس وائیڈز)

شیئر کیجیے
Default image
احمد الرحمن ذکی (نئی دہلی)

Leave a Reply