افسانچے

سادگی

شادی کی تقریب کے بعد سب ہی شادی کی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹ رہے تھے کہ واقعی آج کے اس پر فتن دور میں اس شادی نے سادگی کی مثال قائم کی ہے۔ جہاں لڑکے نے جہیز میں ایک روپئے کی بھی چیز نہیں لی۔ بس نکاح ہوا مہر کی رقم نقد ادا کی گئی اور کوئی چیز لیے بغیر دلہن لے کر چلے گئے۔

’’واقعی شادی ہو تو ایسی!!‘‘

یہ تو صرف دلہن کے والدین ہی جانتے تھے کہ دلہا والوں نے جہیز کی رقم کے نقد دو لاکھ روپے شادی کے ایک دن پہلے ہی وصول کرلیے تھے۔

فرق

عثمان کی بیوی کے انتقال کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے دوسری شادی کرلی۔ اس لیے اس کی والدہ، جوان بیٹے، بیٹیاں، رشتہ دار اور سماج کے سبھی لوگ اس سے ناراض تھے۔

جب کہ لقمان کی بیوی کو مرے دس سال ہوچکے تھے اور اس نے دوسری شادی بھی نہیں کی تھی۔د اس لیے اس کے بچے رشتہ دار اور سماج کے لوگ سبھی اس سے خوش تھے۔

لیکن یہ کسی کو پرواہ نہیں کہ وہ اپنے کھیت پر کتنے گل چھرے اڑاتا ہے۔

دل تو دِل ہے

’’ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر انور جمال ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو بچانے میں ماہر ہیں۔ اسی لیے ان کے یہاں مریضوں کا تانبا بندھا رہتا۔

وہ مریضوں کا علاج کر رہے تھے کہ گھر سے فون آیا کہ ان کے والد کے سینے میں تکلیف ہے اور وہ گھبراہٹ محسوس کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے فوراً گاڑی نکالی تیز رفتاری سے گھر پہنچے جیسے ہی وہ کار سے اُترے انہیں اپنے ہی سینے میں درد کا احساس ہوا وہ دو چار قدم چل کر گر پڑے۔ ہارٹ اٹیک سے ان کی موت ہوچکی تھی۔

حسن اتفاق

سیٹھ عبد اللہ شہر کے بڑے تاجروں میں سے ایک ہیں۔ آج رات ۸؍ بجے کی بس سے انہیں دوسرے تاجروں کے ساتھ سورت شہر جانا تھا۔ اور کل دن بھر کی خریداری کے بعد راتوں رات واپس بھی آنا تھا۔ کیوں کہ پرسوں بازار کا دن ہے۔ لیکن یہ کیا؟ گاڑی ان کے پہنچنے سے پہلے ہی نکل گئی۔ اور سارے تاجر اس گاڑی میں چلے گئے۔ سیٹھ عبد اللہ بہت پریشان تھے کہ ساراپلان چوپٹ ہوگیا۔ اب وہ بازار کے دن کا کاروبار نہ کرسکیں گے۔ انہیں رات بھر نیند نہیں آئی۔ بے چینی سے رات کٹی صبح اخبار دیکھ رہے تھے کہ اچانک اچھل پڑے۔ یہ کیا؟!

’’کل رات جو بس ان سے چھوٹ گئی تھی وہ حادثہ کا شکار ہوگئی تھی اور سارے مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔‘‘!!

ڈاکٹر

ڈاکٹر نے بھری ہوئی سرینج (Syringe) دیوار پر جھڑک دی، محض اس لیے کہ ۔۔۔۔۔ مریض، جو شدید درد سے تڑپ رہا تھا اس کے پاس ۲ روپے کم تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر شعیب احمد خاں

Leave a Reply