جواب

فرقان صاحب بھی عجیب آدمی ہیں ۔کسی بھی موضوع پر ان سے بات کیجیے غیر ضروری طور پر اور مخاطب کو تھکا دینے کی حد تک جزئیات کا ذکر ،اور پھر اس کی تفصیل بیان کرنا جیسے ان کی مجبوری ہو۔بعض لوگوں کی عادت ہی ہوتی ہے کہ جب تک وہ کسی موضوع پرپھیل کربات نہ کریں انھیں اطمینان ہی نہیں ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی غیر معمولی مصروفیات کا رونا بھی روتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔آج کی دوڑتی بھاگتی شہری زندگی میں ، جس کے قویٰ مضمحل اور اعصاب بالکل ڈھیلے نہ پڑ گئے ہوں ، وہ کون ہے جو فارغ الوقت ہو ۔ادارے کے مختلف امور کا بار تو یقیناً ان پر ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ وہ جتنا مصروف رہتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مصروفیت انھوں نے اپنے اوپر اوڑھ رکھی ہے ۔جب بھی ملئے وہ یہ ضرور بتائیں گے کہ یا تو وہ کسی میٹنگ سے آرہے ہیں یا کسی میٹنگ میں جانے کی یا اور کسی کام کی تیاری کر رہے ہیں ۔ایسے میں اگر آپ نے کوئی موضوع چھیڑ دیا تو وہ پہروں آپ سے باتیں بھی کرتے رہیں گے ۔ فرقان صاحب کی شخصیت کے یہ دو متضاد پہلو بہت نمایاں ہیں ، جسے ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں ۔

کچھ عرصے سے مدرسے میں بڑھتی ہوئی بد انتظامی اورطلبا، اور ان کے سرپرستوں کی جانب سے دراز ہوتے ہوئے شکایات کے سلسلے کے پیش نظر میں کئی دنوں سے فرقان صاحب سے ملنا چاہتا تھا مگر ہر بار ان کی مصروفیت آڑے آتی رہی ۔

یہ اتفاق ہی ہے کہ کل وہ اپنے کمرے میں مجھے تنہا مل گئے۔میری اچٹتی ہوئی نگاہوں کو ان کے چہرے پر اس وقت بیزاری کی کیفیت محسوس کرنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی ۔ ممکن ہے کہ کاموں کے ہجوم میں وہ اس فیصلے کے کرب سے گزر رہے ہوں کہ ترجیحاً کس کام کو پہلے شروع کیا جائے اور کسے مؤخر ۔انھوں نے با دل نخواستہ حسب معمول ایک پھیکی سی مسکراہٹ سے میرا استقبال کیا ۔مسکرانا بھی ان کی ایک کمزوری ہے مگر پھیکی اور بے جان مسکراہٹ،جس میںکسی شگفتگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔اس کے باوجودوہ مسکراتے ضرور ہیں ۔میں نے موقع غنیمت جانا اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی کسی مصروفیت کا ذکر کرتے ، فوراًہی اپنا مدعا بیان کر دیا۔

’’جناب مدرسے کی موجودہ صورت حال کے تعلق سے میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔اگر آپ اجازت دیں تو……….‘‘ میں نے قصداً اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

’’ضرور ———- کیوں نہیں! یہ آپ کا حق ہی نہیں بلکہ یہاں کے ایک اسٹاف ہونے کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داری بھی ہے ۔‘‘معاًان کی پھیکی سی معمول کی مسکراہٹ ایک دل نواز تبسم میںتبدیل ہوگئی ۔جیسے میں نے انھیں مصروفیت کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہو ۔

فرقان صاحب میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ سپریم باڈی نے جو نگراں کمیٹی تشکیل کی تھی کیا وہ عبدالکریم صاحب کی ایماء پر کی گئی تھی ؟دوسرے یہ کہ کچھ ذمہ داریاں بھی کمیٹی کے سپرد کی گئی ہوں گی ،اورکچھ اختیارات …………

’’سعد صاحب میں آپ کی بات سمجھ گیا ۔‘‘میرا سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی فرقان صاحب نے کرسی پر ذرا سا پہلو بدل کر کہا ۔ میں نے دیکھا کہ میرے پہلے جملے کی ادائیگی کے ساتھ ہی ان کے چہرے پر ایک خاص رنگ آیا اور کہیں غائب بھی ہو گیا ۔یہ موضوع در اصل ان کی دکھتی ہوئی رگ تھی ۔انھوں نے کہنا شروع کیا ۔

’’آپ نے اچھا سوال کیا ہے ۔پچھلے دنوں آپ سے سرسری ملاقات تو ہوتی رہی مگر کوئی بات نہیں ہو سکی ۔تاہم آپ کے چہرے مہرے سے محسوس ضرورہو تا تھا کہ آپ کے ذہن میں کچھ پک سا رہا ہے ۔آپ جیسے حضرات سے توقع بھی یہی کی جاتی ہے کہ ادارے میں اگر کچھ اونچ نیچ دیکھیں تو کھل کر اس کااظہار بھی کریں ۔یہ ادارے سے آپ کے گہرے تعلق اور خلوص کی واضح علامت ہے ۔ آپ نے اگرچہ اپنا اصل مدعا بیان نہیں کیا ہے مگر میں آپ کے احساسات کو نہ صرف یہ کہ بخوبی سمجھ سکتا ہوں بلکہ ان سے اتفاق بھی رکھتا ہوں ۔آپ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں اس کے بارے میں عرض کروں کہ خدا بھلا کرے عبدالکریم صاحب کا کہ انھوں نے اپنے درد مند دل کی آواز پر یہ ادارہ قائم کر دیا ،جس سے صرف کالونی ہی کے لوگ نہیں بلکہ شہر کے دوسرے علاقوں کے افراد بھی بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ یہ ادارہ دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں کس تیزی سے ترقی کے بام عروج پر پہنچ گیا ۔ان کی اپنی تعلیم تو بس واجبی سی ہے مگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ کیسے کیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات انھوں نے اپنے ارد گرد جمع کر لیے ہیں اور کیسی کیسی صلاحیتیں ان کا دست و بازو بنی ہوئی ہیں ۔ پھر آپ اس کالونی کو ہی دیکھیے کہ اس کو بسانے میں عبدالکریم صاحب نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں ۔اور …………

اس کے بعد کالونی کے قیام کا پس منظراور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے جب دس منٹ گزر گئے تو میں نے ذرا کسمساتے ہوئے عرض کرنا چاہا۔

جناب درا صل میں نے یہ جاننا چاہا تھا کہ سپریم………….

تو وہ میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے درمیان ہی میں بول پڑے ، ’’جی، جی، آپ کا سوال میرے ذہن میں پوری طرح مستحضر ہے اور میں نے اس کے جواب ہی میں یہ چند باتیں تمہیداً عرض کی ہیں ۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے انھوں نے فرمایا

’’خود عبدالکریم صاحب کی ذات گرامی سے آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کا ماضی کس کسمپر سی میں گزرا مگر چونکہ دل میں ملت کا درد رکھتے تھے اور۔۔۔ ‘‘

پھر انھوں نے عبدالکریم صاحب کا تفصیلی تعارف کرایا اور ان کی پچھلی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اپنی زندگی کے نہایت سخت مراحل سے گزرتے ہوئے بھی ملت اور اس کے نو نہالوں کے مستقبل کی انھیں کتنی فکر دامن گیر تھی ، اور اس کی بہتری کے لیے منصوبہ بندی ،ان تھک کوششیں اور بالآخر ابتدائی طور پر ایک مکتب کا قیام ،جو آگے چل کر مدسہ بنا اور…… پھر ان کے آئندہ کے عزائم ——- پیش نظر مقصد سے عشق کی حد تک لگاؤ——-ان کے حصول کے لیے مجنونانہ تگ و دو وغیرہ کا بالترتیب اور بالتفصیل تذکرہ فرمانے کے بعد وہ ایک لمحے کو رکے،بازو میں سلیقے سے رکھی ہوئی تپائی سے پانی کی بوتل اٹھائی اور دو گلاسوں میں پانی ڈھال کر ایک میری طرف بڑھا دیا اور دوسرے سے خود دو چھوٹے چھوٹے گھونٹ لینے کے بعد کچھ کہنے کے لیے ان کے ہونٹ کھلے ہی تھے کہ میں جلدی سے گویا ہوا ۔

شکریہ جناب ، میں اس وقت پانی کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہا تھا ۔میں ایک بار پھر آپ کاشکریہ ادا کر تا ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی میں چاہتا ہوں کہ اپنا سوال ایک بار پھر دہرا دوں۔

’’قطعی نہیں جناب ———- اس کی بالکل ضرورت نہیں ‘‘ ان کے ہونٹ تو مسکرا رہے تھے مگر اس میں کسی قدر خفگی کی علامت بھی نمایاں تھی ۔انھوں نے اپنی بات جاری رکھی۔

’’میں نے ابھی ابھی عرض کیا تھا کہ آپ کا سوال میرے ذہن میں پوری طرح محفوظ ہے اور میں اپنے موضوع سے ذرہ برابر ہٹا بھی نہیں ہوں۔‘‘

میں نے سوچا کہ موصوف ٹھیک ہی فرما رہے ہیں ۔میرا سوال چاہے جو بھی ہو ،ان کا موضوع تو وہی ہے جو ان کا سوچا ہوا ہے اور جو کچھ وہ کہنا چاہتے ہیں ۔پھر موضوع سے ذرہ برابر ہٹنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے ۔ان کے ہونٹ پھڑپھڑاتے رہے۔

’’سعد صاحب آپ کا سوال اتنا اہم ہے کہ درمیان سے اگر کوئی بات کی جائے تو جواب ادھورارہ جائے گا ۔آپ مدرسے کے پرانے اسٹاف ہیں ۔آپ کے علم میں شاید یہ بات ہو گی کہ جیسے جیسے مدرسے کو ترقی حاصل ہوتی گئی اور اس کی شہرت میں روز افزوں اضافہ ہوتا چلا گیا ویسے ویسے اس کے بدخواہوں اور حاسدین کی تعداد بھی بڑھتی گئی ۔دوسری طرف حسب ضرورت تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے طور پر بھانت بھانت کے لوگ بحال ہوتے چلے گئے ،جن کو عبدالکریم صاحب کے اعلیٰ مقاصد سے شغف کم اور اپنے مفاد سے دلچسپی زیادہ تھی ۔اس کی وجوہات پر بھی غور کرنا چاہیے۔صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی………….

’’لیکن جناب …………….. ‘‘ میں نے ہمت کر کے مداخلت کرنی چاہی۔

’’ ایک منٹ ، ایک منٹ ——–آپ سن تو لیں ‘‘ میرے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے انھوں نے اپنی بات جاری رکھی۔

’’دیکھیے آپ یہاں کے ایک معتمد اسٹاف ہیں ۔آپ کو پوری صورت حال سے واقف رہنا چاہیے ۔ادارے کا پیش منظر جتنی اہمیت کے ساتھ ہماری توجہ کا طالب ہے ،اس کا پس منظر اس سے کم ضروری نہیں ہے……………… ‘‘اور ان کی گفتگو کا سلسلہ ایک بار پھر دراز ہو تا چلا گیا ۔

میں بے بس ہو کر منہ پھاڑے ان کے چہرے پر دیدے جمائے رہا جیسے پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ ان کی باتیں سن رہا ہوں ۔مگر سچی بات یہ ہے کہ اب مجھ میں کچھ بھی سننے کا یارا نہ تھا بلکہ مجھے کچھ سنائی بھی نہیں دے رہا تھا ۔دماغ میں جھنجھناہٹ سی ہو رہی تھی اور کانوں میں سائیں سائیں کی آواز یںایک تسلسل کے ساتھ سمائی جا رہی تھیں ۔فرقان صاحب تو یہی سمجھ رہے تھے میں گوش بر آواز ہوں مگر میرے قلب و ذہن میں طوفان برپا تھا ۔وہ بولتے رہے ———- میں سوچتا رہا ۔ البتہ میری تھکی تھکی سی نظریں ان کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔اچانک ہی مجھے خیال آیا کہ میں نے فرقان صاحب سے جاننا کیا چاہا تھا؟ذہن پر بہت زور ڈالا مگر کچھ یاد نہیں آیا ———- جیسے میرا ذہن ماؤف ہو کر رہ گیا ہو ۔میرے خدا ! یہ مجھے کیا ہو گیا ؟میں نے کنکھیوں سے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی ———- ٹھیک پچاس منٹ پہلے میں فرقان صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرمائے ۔ میں نے ہمت کر کے کمزور سی آواز میں تقریباً گھگھیاتے ہو ئے عرض کیا ۔

’’محترم ! میں پوری دلچسپی سے آپ کی باتیں سن رہا ہوں ۔الحمد للہ میری معلومات میں اضافہ بھی ہوا …لیکن۔۔۔ براہ کرم میری مدد فرمائیے۔۔۔ میں آپ کی باتیں اتنے انہماک اور توجہ سے سنتا رہا کہ اپنا سوال ہی مجھے یاد نہیں رہا ۔اگرآپ تازہ کر دیں تو آپ کے جواب کو اس سے مربوط کرنے میں مجھے سہولت ہوگی۔‘‘

فرقان صاحب بولتے ہوئے یوں رک گئے جیسے انھیں بجلی کا شاک لگ گیا ہو ۔کچھ سوچتے ہوئے انداز میں اپنی الجھی اور قدرے گھبرائی ہوئی نظریں میرے چہرے پر گاڑ دیں اور فرمایا

جی ———- ! آپ نے مجھ سے یہ جاننا چاہا تھا کہ———- میرا مطلب ہے آپ کا سوال یہ تھا کہ ———- ان کی آواز کچھ لڑکھڑا سی رہی تھی۔

میں نے محسوس کیا کہ ان کی وہ الجھی اور گھبرائی سی نگاہیں میرے چہرے سے آہستہ آہستہ پھسلتی ہوئی اوپر کو اٹھتی چلی گئیں اور کمرے کی چھت پر کہیں جا کر ٹک سی گئیں ۔شاید ان کی نگاہیں وہاں میرا سوال تلاش کر رہی تھیں جس کا پورے پچاس منٹ تک نہ ٹوٹنے والے تسلسل کے ساتھ وہ جواب دیتے رہے تھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد حسنین، نئی دہلی

Leave a Reply