جبر

موت سب سے پہلے خواب بن کر اس کی آنکھوں میں اُتری اور صبح آنکھ کھلنے سے پہلے اپنا بدن چرا کر نکل گئی۔ تب وہ بھاگم بھاگ بیوی کے اسکول پہنچا، وہ ورانڈے میں دوسری استانیوں کے ساتھ بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی، اسے یوں پریشان دیکھ کر گھبرا گئی۔ ’’کیا بات ہے؟‘‘

’’میں مرگیا ہوں۔‘‘ اس نے پھولی ہوئی سانسوں میں کہا۔

بیوی کے منہ سے چیخ نکلی، لیکن اگلے ہی لمحہ غصہ کھٹ کھٹ کرتا، اس کے منہ پر پھیل گیا۔ ’’شرم نہیں آتی، ایسا مذاق کرتے ہوئے۔‘‘

’’یہ مذاق نہیں‘‘ وہ دونوںہاتھ ملتے ہوئے بولا۔ ’’میں سچ مچ مر گیا ہوں۔‘‘

’’کیا بکواس ہے؟‘‘ بیوی جھنجھلا گئی۔

دوسری استانیاں بھی ان کی طر ف متوجہ ہوگئیں، ایک بولی۔ ’’بھائی صاب! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘

سچ کہہ رہا ہوں، میں واقعی مر گیا ہوں۔‘‘

پھر بیوی کی طرف منہ کر کے کہنے لگا۔ ’’چلو جلدی کرو، ابھی بہت سے لوگوں کو اطلاع دینی ہے۔ کفن دفن کا بندوبست بھی کرنا ہے۔‘‘

بیوی نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا، کچھ کہنا چاہا، پھر چپ ہوگئی اور خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔

سڑک پر پہنچ کر اس نے کہا۔ ’’میرا خیال ہے راستہ والا قبرستان بہتر رہے گا، بڑے گھنے ’’درخت ہیں وہاں۔‘‘

بیوی نے تنک کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’تمہیں ہوا کیا ہے؟‘‘

’’ہونا کیا ہے، بس میں مر گیا ہوں۔‘‘

’’پر کیسے؟‘‘ وہ سوچ میں پڑ گیا ’’کیسے؟‘‘

وہ مسلسل اسے گھورے جا رہی تھی۔

’’کیسے؟‘ اس نے خود سے پوچھا، سوچا، ذہن پر زور دیا مگر اسے کوئی جواب نہ سوجھا۔

بس اتنا یاد آیا کہ موت خواب بن کر اس کی آنکھوں میں اتری تھی، اس کے بعد۔ اس کے بعد کچھ یاد نہ تھا۔ وہ سوچتا رہا، سوچتا رہا، پھر بولا ’’چلو چھوڑو۔‘‘ آؤ کہیں بیٹھ کر چائے پئیں۔

چائے کا آرڈر لے کر بیرا گیا ہی تھا کہ منیجر ان کی میز پر آیا۔

’’کون ہو تم؟‘‘ ، ’’میں، میں ہوں۔‘‘

’’اور یہ عورت؟‘‘ ، ’’میری بیوی ہے۔‘‘

’’ثبوت؟‘‘، ’’بس یہ میری بیوی ہے۔‘‘

’’نکاح نامہ ہے تمہارے پاس۔‘‘

اس نے مڑ کر بیوی کو دیکھا اور سوچا اس عورت سے جو اس کے دو بچوں کی ماں ہے، اس کے تعلقات کیا ہیں؟ وہ مسلسل اسے دیکھتا رہا۔

وہ بولی۔ ’’کیا دیکھ رہے ہو؟َ‘‘

’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ بولا ’’پھر کب ملوگی؟‘‘

’’کیا‘‘ وہ چیخ کر بولی۔ ’’تم مجھے گرل فرینڈ سمجھ رہے ہو۔‘‘ اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر پیر پٹختی باہر نکل گئی۔

دوسری رات موت جس نے اس کی آنکھوں کا دریچہ کھلا دیکھ لیا تھا، چپکے سے آئی اور آنکھوں کے راستے جسم میں اُتر گئی۔ ساری رات اس کے جسم کے اندر گھومتی رہی اور صبح ہوتے ہوتے چپکے سے نکل گئی۔

دن چڑھے وہ قبرستان گیا اور گورکن سے کہنے لگا۔ ’’میری قبر کھو د دو۔‘‘

گورکن نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

’’قبر ذرا لمبی چوڑی ہو، سلیں بھی صاف ستھری۔ اور ہاں جگہ اچھی ہو۔ کسی گھنے درخت کے پاس۔‘‘

گورکن نے انگلی سے سر کھجایا، اسے گھورا اور جواب دیے بغیر دوسری طرف چلا گیا،

اگلی رات موت دستک دے کر آئی، اس نے اس کے جسم کے کواڑوں کو زور زور سے کھٹ کھٹایا۔

وہ سہم گیا اور ڈری آواز میں بولا۔ ’’کون؟‘‘

’’میں‘‘ موت نے سرگوشی کی۔ ’’دروازہ کھولو۔‘‘

’’میں دروازہ نہیں کھولوں گا‘‘ وہ کپکپاتی آواز میں بولا۔ میں تمہیں اندر نہیں آنے دوں گا۔‘‘

موت کھلکھلا کر ہنسی ’’میں تو تمہارے اندر ہی ہوں۔‘‘

’’تو پھر یہ باہر سے دروازہ کون کھٹکھٹا رہا ہے؟‘‘

’’تم خود‘‘ ’’میں ۔۔۔‘‘ اس نے بوکھلا کر اپنے سارے وجود کو ٹٹولا، وہ کھکھلاکر ہنسی اور ہنستے ہوئے دوہری ہوگئی، ’’تو میں اپنے جسم سے باہر ہوں اور موت اندر ہے۔‘‘ وہ بولی۔۔

۔ ’’آؤ مکالمہ کریں‘‘، ’’کس سے؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔ ’’میں تو اپنے اندر ہی نہیں۔‘‘

اگلی رات اس نے پھر دستک دی۔

اس نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا۔ ’’کون؟‘‘

’’آؤ مکالمہ کریں‘‘ وہ کھلکھلائی۔

وہ یہ سن کر اور دبک گیا، وہ ساری رات دستکیں دیتی، اس کا نام لے لے کر پکارتی رہی،

صبح وہ ناشتہ کیے بغیر ہی قبرستان جا پہنچا۔

گورکن اپنی کوٹھڑی میں چائے پی رہا تھا۔

’’میری قبر کھد گئی؟‘‘

گورکن نے مشکوک نظروں سے اس کو دیکھا۔

’’تو ٹھیک ہے۔ میں خود ہی کھود لوں گا۔‘‘

اس نے کدال اٹھائی، قبرستان کا چکر لگایا اور ایک گھنے درخت کے نیچے قبر کھودنی شروع کی، کچھ ہی دیر میں وہ پسینہ پسینہ ہوگیا، اس نے قمیص اتار پھینکی، پھر کچھ دیر بعد بنیان، پھر پتلون۔ بس انڈوریئر رہ گیا۔

سورج آہستہ آہستہ چلتا اس کے عین سر پر آن کھڑا ہوا اور جھک کر قبر میں جھانکنے لگا۔ قبر اس کے سرے اونچی ہوگئی، اس نے مٹی نکال کر اسے اچھی طرح صاف کیا، ایک ایک کر کے سلیں اکٹھی کیں، پانی کی بالٹی۔ گارا بنایا اور قبر میں اتر کر چت لیٹ گیا۔

اب صورت یہ ہے کہ وہ قبر میں چت لیٹا ہوا ہے، قبر کے گردا گرد اس کی بیوی بچے، ماں، بہن بھائی، دوست، رشتہ دار گھیرا ڈالے کھڑے ہیں اور اسے قبر سے باہر نکلنے کے لیے کہہ رہے ہیں؟ وہ اندر سے جواب دیتا ہے۔ ’’میرامردہ خراب نہ کرو، جلدی سلیں رکھ کر مٹی ڈالو۔‘‘ بیوی گڑگڑاتی ہے۔‘‘ خدا کے لیے باہر آجاؤ۔ میرا نہیں تو ان چھوٹے چھوٹے بچوں ہی کا خیال کرو۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتا ہے۔

ماں کہتی ہے۔۔۔ ’’بیٹا اب نکل آؤ، میرے بڑھاپے ہی کا کچھ خیال کرو۔‘‘

وہ نفی میں سر ہلاتا ہے۔ ’’میرا مردہ خراب نہ کرو‘‘

وہ سب ایک آواز ہوکر کہتے ہیں۔‘‘ اب نکل آؤ‘‘

وہ کہتا ہے ’’اچھا یہ بتاؤ میں کون ہوں؟‘‘

وہ کہتے ہیں ’’ تم رشید ہو‘‘

وہ کھلکھلا کر ہنستا ہے۔ ’’میں رشید نہیں ہوں۔ میں نہ اپنے اندر ہوں نہے باہر اور وہ میرے اندر بھی ہے اور باہر بھی۔‘‘

وہ کہتے ہیں ’’اچھا تو پھر بتاؤ تم اگر رشید نہیں تو کون ہو؟‘‘

وہ شانے اچکاتا ہے۔ ’’یہی تو مجھے معلوم نہیں کہ میں نہ اپنے اندر ہوں نہ باہر۔ اور وہ میرے اندر بھی ہے اور باہر بھی۔‘‘

دائرہ در دائرہ وہ سب کے سب اسے اپنے بتائے ہوئے نام، شخصیت اور ماحول کے چوکھٹے میں زبردستی فٹ کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ بار بار پہلو بدل بدل کر اس چوکھٹے سے پھسل جاتا ہے۔

اور ان سب کے ارد گرد وہ جو قبر کے گرداگرد گھیرا ڈالے اُسے باہر نکل آنے اور اسے ان کی پسند کا نام، شخصیت اور ماحول اختیار کر کے ان کی مرضی بن جانے کو کہہ رہے ہیں، وہ قبر کے اندر چت لیٹا دوسروں کی مرضی کے مطابق بن جانے اور باہر نکلنے سے انکاری ہے۔ ان سب کے ارد گرد موجود اور ناموجود کی سرمئی دھند میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے وقت اور موسم اس سارے تماشہ کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہے ہیں۔پس ہنستے ہی چلے جاتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
رشید امجد

Leave a Reply