مسلم خواتین

حجاب ہمارا فخر ہے!

موجودہ دور میں عالمی استعماری قوتوں نے امت مسلمہ کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے بلکہ یہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے ۔فرانس ،ہالینڈ اور ڈنمارک میں حجاب پر سختی سے پابندی عائد ہو چکی ہے ۔ترکی میں یہ دو میٹر کا ٹکڑا اتنی خطرناک شکل اختیار کر گیا کہ جمہوری حکومت کو ہلا ڈالا ۔حد تو یہ ہے کہ چند ممالک اسلام کے غلبے سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ باحجاب لڑکیوں او رخواتین کو ملازمت پر نہیں لیا جا رہا ہے۔ اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مسلم طلبہ و طالبات کو داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے اور اگر انہیں داخلہ مل بھی جا رہا ہے تو ان طلبہ کو اسلامی لباس میں کلاس کرنے پر پابندی لگائی جارہی ہے اور داڑھی رکھنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ان تمام طرح کی پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی آج امت مسلمہ خدا کی زمین پر خدا کے نظام کو قائم کرنے میں سرگرداں ہیں۔

اسلام نے مسلم عورتوںکو شناخت کا سب سے بہترین اور با وقار ذریعہ دیا ہے جسے عالم اسلام میں حجاب کے نام سے جانا جاتا ہے ۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ برقع کے استعمال کے لئے عورتوں کو مجبور کیا جاتا ہے اور اس طرح سے ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے۔ انھیں صرف کاگھر کی خادمہ سمجھا جاتا ہے ۔ان کے کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جانے کی مسلسل کوشش کی جارہی کہ وہ بھی گھر کی ذمہ د اریوں کو ملازمہ کے بھروسے چھوڑ مغربی ممالک کی اندھی تقلید کرکرتے ہوئے نوکری کریں۔ اگر جاب نہیں کیا تو تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟ مگر یہ سراسر غلط خیال ہے ۔ظلمات کے پردوں کو اسلام کی روشنی ڈھانپ چکی ہے اور جہالت کا دور ختم ہو چکا ہے ۔لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا ظالمانہ اورگھناونا فعل ختم ہوا۔آج کی عورتیں اپنی حیثیت اور اہمیت سے واقف ہو چکی ہیں وہ پردے کو قید نہیں بلکہ حفاظت کا سامان تصور کرتی ہیں۔ اسے زیب تن کر کے وہ خود کو محفوظ سمجھتی ہیں اس سے رعب اور وقار پیدا ہوتا ہے ۔مردوں کے دلوں میں ان کے لئے قدر، عزت ا ور احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ پردہ طلبہ و خواتین کی شخصیت کو مکمل کرتا ہے اورسب سے بڑھ کر یہ لباس فاخرہ ہے جسے اختیار کرنا مسلم عورتوں کا شعار ہی نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسولؐ کا حکم سمجھ کر اسکی پابندی کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

کچھ حکومتوں نے یا مخصوص ذہنیت رکھنے والوں نے جب فرانس و دیگر ملکوں میں مسلم عورتوں کے برقع استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی تو دنیا بھرکے مسلم ممالک نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنی شروع کردی ۔اس درمیان وہاں کی خواتین و طالبات کو متعدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑااور جب یہ ظلم انتہا کو پہنچ گیا تو جولائی 2004میں لندن میں ’’اسمبلی فار دی پروٹکشن آف حجاب‘‘ (Assembly for the Protection of Hijab)کے زیر اہتمام ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس پابندی کے خلاف باقاعدہ مربوط اور منظم طریقے سے عالمی انداز میں مسلمان احتجاج کریں گے ۔ عالمی اسلامی تحریکوں کے ایک اجتماع میں امت مسلمہ کے جید عالم دین اور قابل احترام مفکر محترم یوسف القرضاوی کی قیادت میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سال 4 ستمبر کو یومِ حجاب منایا جائے گا اور پہلی دفعہ یہ عالمی یوم حجاب 2004میں منایا گیا ۔

اس دن مسلمان عورتیں اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ حجاب اسلام کا عطا کردہ معیار عزت و عظمت ہے ۔ حجاب ہمارا حق ہے۔ یہ کوئی پابندی یا جبر کی علامت نہیں ہے بلکہ تحفہ خداوندی ہے اور حجاب کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ہمارا فخر اور وقار ہے۔‘‘

حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور ہمارا حق بھی ۔ یہ ایک تحفہ ہے جسے صرف ہمارے لئے ہی بنایا گیا جو ہمارے رب کا عطیہ ہے اس کا اثر اور اس سے حاصل ہونے والا تحفظ کا احساس بے حجاب عورتوں کو ہرگز نصیب نہیں۔ یہ ہمارا وقار بھی ہے اور ہماری شناخت بھی۔ ہمارے کردار کی مضبوطی کی ضمانت بھی اور خدا کی خوشنودی کا بہترین اور موثر ترین ذریعہ بھی ہے۔با حجاب عورت کے لئے اللہ کے رسول ؐ نے خوشخبری دی ہے کہ دین عنقریب اجنبی بن جائے گا تو خوشخبری ہو اجنبی لوگوں کے لئے ۔اب ہماری ایک بڑی تعداد ہر میدان میں اول درجہ لئے ہوئے ترقی کی راہوں پر گامزن ہے جو باطل قوتوں کو لرزہ دینے لئے کافی ہے امتحان کے نتائج میں اولیت درجہ لینے والی طالبات کی اکثریت کا باحجاب ہونا اور حجاب کی خاطر عدالتوں میں مقدمے دائر کرنا اور فتح حاصل کرنا اور حجاب پر پابندیوں کے خلاف جان کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ روشنی کی شعائیں ہر سو‘ پھیل چکی ہیں اور اسلامی اقدار کو فوقیت حاصل ہو رہی ہے۔

عالمی یوم حجاب اس بات کی بھی علامت ہے کہ اب امت کی ماؤں،بیٹیوں کو اب حجاب کو لے کر دفاعی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مغربی دنیا جو حجاب کی مخالفت میں پیش پیش ہے اور آزادیِ نسواں اور مساواتِ مرد و زن کی بھی قائد ہے اپنی بیٹیوں کی حجاب کی طرف آنے سے کیوں نہیں روک پا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے ہ دنیا بھر میں حجاب کی مخالفت کی وجہ ہی یہ ہے کہ اب پڑھی لکھی عورت عریانیت سے تھک کر حجاب کے دامن میں پناہ لینا چاہتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناز آفرین (رانچی، جھارکھنڈ)

Leave a Reply