مسلم عورت کا تاریخی کردار

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلما ن خواتین نے اپنے دین کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ اس کے لیے اُنھوں نے قریب ترین تعلقات اور رشتوں کی بھی پروا نہ کی۔خاندان اور قبیلہ سے جنگ مول لی۔مصیبتیں سہیں، گھر با ر چھوڑا۔غرض یہ کہ دین سے اُن کا جو بھی مفاد ٹکرا یا، اُسے ٹھکرانے میں اُنہوں نے کوئی تامل اور پس و پیش نہیں کیا اور آخری وقت تک اپنے رب سے وفاداری کا جو عہد کیا تھا،اس کی مکمل پاسداری کی۔

مکہ کے ابتدائی دور میں جن سعادت مند اور باہمت نفوس نے ایمان قبول کیا تھا ان میں عماربن یاسرؓ کا خاندان بھی تھا۔ان کی والدہ ابو حذیفہ بن مغیرہ کی باندھی تھیں ،اُن کو دین سے پھیرنے کے لیے ہر طرح کی اذیت دی جاتی رہی یہاں تک کہ ابو جہل نے جرمِ حق کی پاداش میں نیزہ مار کر ان کو شہید کر دیا، لیکن ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی۔یہ پہلی شہادت تھی جو حضورﷺکے پیغام پر لبیک کہنے کے نتیجہ میں کسی کو نصیب ہوئی۔

حضرت عمر ؓ کی بہن فاطمہؓ بنت خطاب ایمان لے آئیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو اس قدر زدوکوب کیا کہ لہو لہان ہوگئیں۔ حضرت عمرؓ کی سختی کے جواب میں کہتی ہیں:

’’اے ابن خطاب !میں تو ایمان قبول کر چکی اب جو چاہو کرگزرو (میں اس سے پھر نہیں سکتی )۔‘‘

ابو سفیا ن کے ایمان لانے سے قبل کا واقعہ ہے کہ وہ نبیﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے تو اپنی بیٹی اُم المومنین اُمِ حبیبہ ؓ سے بھی ملنے گئے۔گھر میں نبیﷺ کا بستربچھا ہوا تھا۔ وہ اس پر بیٹھنے لگے تو بیٹی نے فوراً اس کو تہہ کر دیا۔باپ کے لیے یہ حرکت سخت تعجب خیز تھی،پوچھا:کیا تم نے اس کو میرے شایانِ شان نہ سمجھ کر اُٹھا دیا یا مجھے اس قابل نہ سمجھا کہ اس پر بیٹھوں؟بیٹی نے جواب دیا۔یہ رسول خدا ﷺکا بستر ہے اور آپ مشرک اور نجس ہیں۔ میں اس مقدس بستر پر آپ کو بٹھا کر اس کو پلید کرنا نہیں چاہتی۔

قرآن مجید کا حکم ہے کہ خدا کے دشمنوں اور محاربین سے اہل ایمان کو کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ایک مرتبہ حضرت اسماؓکی مشرک والدہ بنت عبدالعزّٰی،تحفے تحائف لیے ہوئے مکہ سے مدینہ ان کے گھر آئیں ،حضرت اسما ؓنے ماں کے تحفوں کو قبول کرنے بلکہ ان کو اندر آنے کی اجازت دینے سے قبل رسول اللہﷺسے اجازت لی کہ کیا میں ان کو اپنے گھر ٹھہرا سکتی ہوں ؟اور یہ کہ وہ مجھ سے مدد اور ہمدردی کی توقع رکھتی ہیں کیا ان کے ساتھ تعاون اور حسن ِسلوک میرے لیے جائز ہے ؟حضورؐنے جواب دیا: ہاں، تمہارے لیے یہ دونوں باتیں جائز ہیں۔

جنگی خدمات:

شریعت نے ریاست کے دفاع اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری عورت پر نہیں ڈالی، لیکن اس کے باوجوداللہ تعالیٰ کے دین کو سر بلند دیکھنے کی تمنا اس کو دشمن اسلام کے خلاف محاذِ جنگ پر لے آتی اور مردوں کے ساتھ وہ بھی کفر کا علم سر نگوں کرنے میں حصہ لیتی رہی:

۱۔ ایک انصاری صحابیہ اُم عمارہ ؓ نے جنگ ِاُحد میں مردوں کی سی ثابت قدمی اور دلیری کا مظاہر کیا۔سعد بن ربیع کی صاحبزادی ام سعدؓنے اس کارنامہ کے متعلق دریافت کیا توتفصیل سے بتایا کہ میں صبح سویرے ہی مجاہدین کی خدمت کے لیے میدانِ کارزار میں پہنچ گئی تھی۔

ابتدا میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا، لیکن بعد میں جب فتح و نصرت نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیاتواُن میں افراتفری اورانتشار پھیل گیا۔اِس وقت حضور اکرمؐ کے قریب پہنچ کر آپﷺکی مدافعت میں تیر اور تلوار چلانے لگی۔یہاں تک کہ دشمن کی ضر ب مجھ پر آن پڑی۔ ام سعد کہتی ہیں کہ میں نے ان کے کندھے پر بہت ہی گہرے زخم کا نشان دیکھا اور پوچھا، کس نے آپ پر اتنا سخت حملہ کیا تھا؟ اُنہوں نے جواب دیا، ابن قمہ نے! اللہ اسے غارت کرے! جب مسلمان شکست کھا کر حضورﷺکے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ چلاتا ہوا آیا: بتاؤ محمد(ﷺ) کہاں ہے؟ اگر وہ اس جنگ میں بچ گیا تو میری نجات نہیں۔یہ میری ہلاکت اور موت ہے۔ یہ سن کر میں اور مصعب بن عمیر ؓ اور چند دوسرے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ جمے ہوئے تھے، اس کا سامنا کیا۔اس مقابلہ میں اُس نے مجھ پر یہ وار کیا جس کا نشان تم دیکھ رہی ہو۔ میں نے بھی تلوار سے کئی ایک حملے کیے، لیکن دشمنِ خدا دو دو زرہیں پہنے ہوئے تھا۔نبیﷺکی مدافعت میں اُنہوں نے جس ہمت اور پامردی کا ثبوت دیا اس کی شہادت خود آپﷺنے ان الفاظ میں دی :

’’دائیں بائیں جس طرف بھی میں نے رُخ کیا اُم عمارہ ؓ کو اپنی مدافعت میں لڑتے دیکھا۔‘‘

اس دن ان کے جمائواور ثابت قدمی کو دیکھ کر حضورﷺنے فرمایا:

’’آج نسیبہ بنت کعب (اُم عمارہ) کی ثابت قدمی اور استقلال فلاں اور فلاں سے بہتر ہے۔‘‘

اُحد کے علاوہ اُنہوں نے خیبر، حنین اور یمامہ کی جنگ میں بھی شرکت کی تھی۔یمامہ کے دن لڑتے لڑتے ان کا ہاتھ شہید ہو گیا اور اس کے علاوہ تلوار اور نیزوں کے بارہ زخم ان پر دیکھے گئے۔

۲۔ رومیوں سے مسلمانوں کی جنگ میں عکرمہ ؓ بن ابو جہل کی بیوی اُم حکیمؓ شریک تھیں۔ اجنادین کی لڑائی میں عکرمہؓ شہید ہو گئے،چار ماہ دس دن کی عدت کے بعد مرجِ صفر نامی ایک مقام پر ان کا نکاح خالد بن سعید ؓ سے ہو گیا۔ نکاح کے دوسرے دن خالد بن سعیدؓ نے دعوتِ ولیمہ کی، ابھی لوگ دعوت سے فارغ ہونے بھی نہ پائے تھے کہ رومیوں نے صف بندی شروع کر دی۔جب گھمسان کا رن پڑا تو اُم حکیمؓ ، جن پر اب تک شب ِعروسی کے آثار نمایاں تھے اپنے خیمے کا ایک ڈنڈا لے کر میدان میں کود پڑیں اور دشمن کے سات افراد کو اس دن موت کے گھاٹ اتار دیا۔

۳۔ اَسماء بنت یزید کے ہاتھ سے جنگِ یرموک میں9 رومیوںکو موت کاپیالہ پینا پڑا۔

۴۔ ایک اور انصاری خاتون اُم حارث ؓکی ثابت قدمی اور شجاعت دیکھئے کہ جنگِ حنین میں اسلامی فوج کے قدم میدان سے اُکھڑ چکے ہیں، لیکن یہ چند باہمت نفوس کے ساتھ پہاڑ کی طرح جمی ہوئی ہے۔

۵۔ حضرت انس کی والدہ اُم سلیم ؓ خنجر لئے ہوئے اُحد میں آئی تھیں۔ حنین میں بھی ان کے پاس خنجر تھا، اس طرح مسلح ہو کر آنے کا مقصد حضورﷺنے دریافت فرمایا تو جواب دیا: ’’میں نے اس کو اس لیے ساتھ رکھا ہے تا کہ اگر کوئی مشرک قریب ہو تو اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں۔‘‘

۶۔ رومیوں میں جہاد میں شہرت رکھنے والی نامور شخصیت حبیب بن مسلمہ ؓ سے ان کی بیوی نے ایک جنگ کے موقع پر دریافت کیا۔ بتائیے! کل آپ کہاں ہوں گے؟ جواب دیا: یا تو دشمنوں کی صفوں کے اند ریا جنت میں۔اِن شاء اللہ،جواب سن کر بیوی نے بھی پورے عزم کے ساتھ کہا، ان دونوں جگہوں میں سے جہاں بھی آپ ہوں گے مجھے توقع ہے کہ میرا مقام بھی وہی ہو گا۔

۷۔ ربیع بنت معوذ ؓکا بیان ہے:

’’ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد پر جاتی تھیں اورہماری خدمات یہ ہوتی تھیں کہ مجاہدین کو پانی پلاتیں۔ ان کی خدمت کرتیں اور جنگ میں کام آنے والوں اور زخمی ہونے والوں کو مدینہ لوٹاتیں۔‘‘

۸۔ ایک اور صحابیہؓجو حضورﷺکے ساتھ غزوات میں شریک ہوئی تھیں، بیان کرتی ہیں:

’’ہم زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کا علاج معالجہ اور ان کی تیمار داری کرتی تھیں۔‘‘

۹۔ اُم عطیہ اپنے متعلق فرماتی ہیں:

’’میں نبیﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی تو میں لوگوں کے لیے کھانا بناتی،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی۔‘‘

۱۰۔ اُحد کے زخمی مجاہدین کی مرہم پٹی اور خدمت کے لئے بہت سی صحابیات جنگ کے بعد مدینہ سے گئی تھیں، طبرانی کی روایت ہے : ’’جس دن اُحد کی جنگ ہوئی اور جنگ کے بعد مشرکین واپس ہو گئے تو خواتین صحابہ کی معاونت کے لیے روانہ ہوئیں۔ حضرت فاطمہ ؓ بھی ان ہی میں تھیں۔‘‘

چنانچہ حضورﷺ اس د ن زخمی ہوئے تو حضرت فاطمہ ؓ ہی نے اسے چٹائی کی راکھ سے بھرا تھا۔

۱۱۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ جنگ اُحد میں حضرت عائشہ ؓ اور اُم سلیمؓ نے بھی مجاہدین کی خدمت کی تھی۔ ’’میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور اُم سلیم ؓکو کمر بستہ (لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے) دیکھا۔ وہ اس قدر تیزی سے دوڑ دھو پ کر رہی تھیں کہ میں نے ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھے، وہ اپنی پشت پر پانی سے بھرے ہوئے مشک لاد لاد کر لاتی تھیں اور مجاہدین کو پلاتیں پھر واپس جاتیں اور بھر کر لاتیں اور مجاہدین کی تشنگی دور کرتیں۔‘‘

۱۲۔ ایک انصاری خاتون اُم سلیطؓکے متعلق حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: ’’ اُحد کے دن وہ ہمارے لیے مشکیزے بھرتی تھیں۔‘‘

۱۳- حمنہ بنت حَجشؓ نے بھی اس دن یہ خدمات انجام دی ہیں۔ ابن سعد نے لکھا ہے:

’’وہ اُحد میں موجود تھیں۔ پیاسوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتیں۔‘‘

۱۴۔ اُم ایمن کے حالات میں بھی ابن سعدنے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے:

۱۵۔ جنگ خیبر کے سلسلے میں مورخ ابن اسحق نے صراحت کی ہے:

’’خیبر میں حضورﷺکے ساتھ مسلمان خواتین میں سے بہت سی خواتین نے شرکت کی۔‘‘

۱۶۔ حشربن زیاد کی دادی اور پانچ عورتیں بھی اس جنگ میں گئی تھیں۔ انہوں نے حضورﷺسے آنے کا مقصد ان الفاظ میں ظاہر کیا:

’’ اللہ کے رسولﷺ! ہم بالوں کو بٹتی ہیں اور ا س کے ذریعے اللہ کے رستے میں تعاون کرتی ہیں۔ ہمارے ہمراہ زخمیوں کے لیے دوا ہوتی ہے، ہم تیر پکڑاتی اور ستو پلاتی ہیں۔‘‘

۱۷۔ خیبر ہی میں ابو رافع رضی اللہ عنہ کی بیوی، سلمہ ؓ قبیلہ اَشہل کی ایک خاتون اُم عامر، ایک انصاری عورت ام خَلااور کعیبہ بنت ِسعد کی شرکت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔

اس سے اہم تر بات یہ ہے کہ وہ کسی خارجی دباؤ کے تحت یہ خدمات انجام نہیں دیتی تھیں بلکہ محافظین دین کی رفاقت اور تعاون کو اپنے لیے باعث عزت سمجھ کر خود ہی پیش کش کرتی تھیں۔ اسی جنگ خیبر کا واقعہ ہے کہ رسولﷺروانہ ہونے لگے تو قبیلہ غفار کی چند عورتوں نے آکر عرض کیا:

’’اے اللہ کے رسولﷺ! اس مبارک سفرمیں جس پر آپ جا رہے ہیں ہم بھی آپﷺکے ساتھ چلنا چاہتی ہیں تاکہ زخمیوں کا علاج کریں اور اپنے بس بھر مسلمانوں کی مدد کریں۔‘‘

بعض خواتین میدان جنگ سے باہر بھی یہ خدمات انجام دیتی تھیں۔ مثلاً رفیدہ نامی قبیلہ اسلم کی عورت کے متعلق مؤرخین نے لکھا ہے :

’’وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی اور انہوں نے مسلمانوں کے زخمیوں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا۔‘‘

چنانچہ مسجد ِ نبوی میں ان کا خیمہ تھا۔ حضرت سعد بن معاذؓ جنگ خندق میں زخمی ہوئے تو حضورﷺنے ان کو رفیدہ ہی کے خیمہ میں منتقل کر دیا تھا تا کہ آپ بآسانی ان کی عیادت کر سکیں۔

اس تذکرہ کا یہ مطلب نہیں کہ اس زمانے کی خواتین گھریلو کاموں اور بچوں کی تربیت و تعلیم سے دور یا بے توجہ تھیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی ان کا اہم ترین مجاز تھا۔ خود رسول اللہؐ کی بیٹی فاطمہ کی زندگی اس سلسلے میں نمونہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرتی تھیں اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کرتی تھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عابدہ فیروز (لال بازار، سرینگر)

Leave a Reply