احتیاط بہتر ہے!

ہر قسم کے نقصان سے بچنے ،تکلیف سے چھٹکارہ پانے اور غم والم سے نجات پانے کا واحد راستہ۔۔۔ اسلامی راستہ ہے۔ صراط مستقیم پر چلنا ہی ذہنی ،دماغی ،قلبی،اخلاقی ،معاشی،معاشرتی،جسمانی،روحانی غرض ہر طرح کی پگڈنڈیوں اور ہر قسم کے جھاڑ جھنکاڑ اورخاردار راہوں ،پرُ پیچ راستوں سے انسان کو بچا سکتاہے۔ اسلامی تعلیمات کا فقدان اور اسلامی اصول وضوابط پر عمل پیرا ناہونا تمام فسادات کی جڑ ہے ۔

عورت پر ظلم ہو یامعاشی کرپشن ، دلہنیں جہیز کی دیوی پر بھینٹ چڑ ھائی جائیںیا کسان قرض کے بوجھ تلے دب کر خود کشی کریں یادسویں بارہویںکے بچّے ڈپریشن کا شکار ہوکر (Sucide ) کریں، فلمی بلائیں سینما کے پردے پرتھرکیںیا طوائف کے کوٹھوں پر جاکر جنسی تششد کا نشانہ بنیں ،ہر غلط کام کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہے ۔معصوم بچے بچیوں کے ساتھ درندگی شیطان کی فتح ہے اُسکے منصوبوں کی کامیابی ہے اور اُسکے اُس چیلنج کی جیت ہے جو اس نے خدائے بزرگ وبرتر سے کہاتھا ۔یعنی بنی نوع آدم کو ہمہ جہت بہکانے کا چیلنج ۔ وہ اپنا وعدہ وفا کرنے میں لگا ہے اور ہر گھڑی لگاہے ۔ کتنا چوکنا، کیساچست وچالاک، لمحہ بھر کو غافل نہیں ۔

مگر کیا خدائے بزرگ وبرتر نے اس مردود کے جواب میں نہیں فرمایاکہ تیرا یہ دائو ںمیرے مخلص بندوں پر نا چل سکے گا۔ مخلص بندہ کون ہوتاہے یا مخلص کسے کہتے ہیں ؟آئیے قرآن کا مطالعہ کریں ۔ اللہ پاک اپنے کلام مجید میں فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’اورنہیں حکم دیا گیا ان کو مگر صرف یہ کہ وہ اللہ کی ہی عبادت کریں یکسو ہو کر اور اسکے دین کے لئے مخلص ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوۃ اداکریں اوریہی درست نظام زندگی ہے ۔ ‘‘ (البینہ:۵)

دین نظام ِ زندگی کو کہتے ہیں ۔اور اسلام اللہ کی مرضی کے آگے سپر ڈال دینے، جھک جانے اور اطاعت وفرمابرداری کرنے کو کہتے ہیں ۔ پس دین اسلام کا مطلب تو یہ ہوا ۔کہ اللہ تعالی نے دنیا میں زندگی گزارنے کا جو طریقہ بتایاہے، جو اصول وضوابط اور قاعدے قانون بتائے ہیں، انہی کو پسند کیا جائے اور انہیں پر عمل کیا جائے۔ اگر بھول چوک ،کمی بیشی اور نادانستہ غلطی یاغفلت ہوجائے تو فورا احساس ہوتے ہی توبہ استغفار اور معافی تلافی کرلی جائے ۔

دوسروں کے نظام زندگی کو دیکھنا پسند کرنا اور کچھ نا کچھ عمل بھی کرنا یا کروانا وہ بدترین گناہ ہے جو بہت جلد تباہی و بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کرتاہے ۔ کچھ یہی کیفیت ہماری معاشرتی زندگی کی ہے۔ ہماری سماجی اقدار تلپٹ ہوگئی ہیں اور جگہ جگہ برائیاں سر ابھار رہی ہیں۔ والدین کا احترام اٹھ گیا ہے۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں اور لوگوں کو شکایتیں ہیں۔ قرآن نے والدین کے بارے میں اولاد کو نصیحت کی کہ اپنے بازؤں کو اپنے ماں باپ کے لئے جھکا کر رکھو۔ انکو اُف بھی ناکہو اگر ان پر نظر ڈالوبھی تو عزت و احترام اور عقیدت، محبت کی نظر ڈالو۔ ان کو عقیدت سے دیکھنے کا ثواب ایک حج کے برابر قراردیا۔

متعددمستند احادیث میں ماں باپ کی نافرمانی اور ادب واحترام میں کمی کو گناہ ِ کبیرہ بتایا گیاہے ۔استاد کی عزت میں کمی کی خاص وجوہات میں ایک یہ بھی ہے کہ بچوں کو دوست بنا کر پڑھائو۔

بڑوں کا لحاظ اور خیال اٹھ گیا ۔مغربی تہذیب کے دلدادہ ایڈوانس دنیا کے ماڈرن بچّے اسمارٹنیس کے نام پر جو ناکریں کم ہے۔ پھر یہ بچے ٹیچر بنتے اور ماں باپ بنتے ہیں ۔ جو دیکھتے سنتے اور پڑھتے ہیں وہی کرتے اور پڑھاتے ہیں۔ اسی ڈھرّے پر دنیا پچھلی کئی دہائیوں سے چل رہی ہے۔ ماں باپ کی عزت، استاد کا ادب اور لڑکیوں میں فطری شرم سب کچھ ختم ہوتا جارہاہے ۔

محسن انسانیت رحمت عالم ؐنے فرمایا : بچوں کو ادب سکھانے کے لئے گھر میں ایک چھڑی لٹکائے رکھو۔ (محض ڈرانے کے لئے) ورنہ نبی ؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا،ـ” بچوں کو مارو پیٹو نہیں بچے جنت کے پھول ہیں” ۔ مگر منشا ئے نبیؐ بحکم خداوندی یہ ہے کہ ادب تمییز اور اچھی باتیں سکھانے کے لئے اگر زرا سختی کرنی پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ فرمایا ،”بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کو کہو اور اگر وہ دس کے سال ہوجائیں مگر نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارو۔‘‘ ظاہر ہے ماں باپ دشمن نہیں ہیں جو جان سے ماردینگے مگر دینِ اسلام فطرت پر مبنی ہے اور ہر فطرت سلیمہ کہتی ہے بچوں کی تعلیم وتربیت میں کبھی نرمی تو کبھی سختی ناگزیر ہے۔

مگر ہم کم فہم ، مغربی تہذیب کے دلداہ کہلاتے ہیں ۔ بولڈ بنو، اسمارٹ بنو۔ ماں باپ کو کوئی حق نہیں کہ وہ بچے کو ڈانٹ بھی سکیں۔ کسی بڑے کوکوئی حق نہیں کہ اپنے چھوٹے کو تنبیہ کرسکے۔ ہاں بچے کو حق ہے کہ وہ ماں باپ کے خلاف پولس کو کمپلین کر سکتاہے اور پولس ماں باپ کو گرفتار بھی کرسکتی ہے ۔

ماں باپ کو کوئی حق نہیں بیٹی سے کہہ سکیں وہ فلاں دیندار لڑکا ہے تمہارے لئے پسند کیا ہے۔ ہاں لڑکی کو حق ہے وہ ماں باپ سے کہے فلاں میر ا بوائے فرینڈ مجھے پسند ہے اور میں اس سے شادی کرونگی۔

قرآن حکیم نے عورتوںکو حجاب کا حکم دیا ۔ مگر ہم اپنی اپنی بچیوں کو بلکہ جواں لڑکیوں کو بے حجاب، دیدہ دلیر بناکر اسکولوں، کالجوں اور پارکوں میں بھیج رہے ہیں۔ ہماری عزت مأب دوشیزائیں بڑی بے آبرو بھکارنیں بن گئیں ہیں اور ہم ان سے کہتے ہیں ذرا کوئی چھیڑے تو منھ توڑ جواب د ینا اور ہمیں سب کچھ بتادینا ۔

مگر لڑکوں کو پاکٹ منی اور پارٹ ٹائم جاب سے جو پیسے ملتے ہیں ان سے ان کو عریاں فلمیں دیکھنا جائز ہے ہاں بس ماں باپ کو معلوم ہونا چاہئے، چھپ کر کیا گناہ کرنا ،کھل کر کرو۔

اور قرآن نے مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے کو حکم دیا۔ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب و اکرام نہیں کر تا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘

اسلام صرف زنا کو گناہ کبیرہ نہیں کہتا بلکہ اس طرف جانے والے ہر راستہ کو بند کرتاہے۔ اسلام صرف چوری کو منع نہیں کرتا بلکہ پہلے چوری کرنے کے تمام اسباب ختم کرتاہے۔ اس کے لئے زکوٰۃ کا نظم قائم کرتا ہے۔ صدقہ خیرات کو مستحسن قراردیتا ہے۔ محنت و مشقت کو لازمی اور ہاتھ پھیلانے کو معیوب قرار دیتا ہے ۔ الغرض پرہیز علاج سے بہتر ہے ۔ اور اس کے لیے گھروں میں اسلامی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے گھروں میں اسلامی تاریخی کہانیاں، اسلامی رسالے جیسے ہلال ،نور،مائل خیرآبادی کی کتابیں، آدابِ زندگی ،اسلامی سی ڈی، ڈی وی ڈی، پیس ٹی وی چائنل بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔اگر آپکے بچے انگلش میڈیم کے ہیں تو بہت سی اسلامی کہانیوں، رسالوں، کتابوں کا انگلش میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔ بڑوں یعنی ماں باپ کے لئے اردو رسالہ حجابِ اسلامی ایک بہترین رسالہ ہے۔ خصوصا خواتین کے لئے بے حد مفید ہے۔

میری کوتاہ نظر اور کم علمی کا اتنا ہی ذخیرہ ہے ورنہ دنیا میں اسلامی علمی خزانے بھرے پڑے ہیں ۔

سب سے کار آمد بات جو معاشرے کی اصلاح اور بچوں کے تحفظ میں کلیدی رول ادا کرتی ہے وہ ماں, ماں اور صرف ماں ہے ۔ مؤمنہ ماں ۔

مگر مادّی دنیا کی چمک دمک میں کھو کر عورتوں نے اپنے مصارف بڑھالئے ہیں .مرد بھی اب نام نمود کے لئے دولت کے, شہرت کے حصول میں بولائے ہوئے ہیں. لہٰذا سب نوکری پیشہ, ملازمت پیشہ یا بزنس مین اور بز نیس ویمین ہوگئے ہیں ۔گھر میں بچے یتیمی، تنہائی اور بے آسرا ۔

قرآن کریم میں ہے وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتکنَّ ’’اپنے گھر وں میں عزت وقار سے رہو۔ ‘‘

ماؤں کو چاہئے کسی بھی غیر محرم کو گھر میں نا آنے دیں اور ناہی اپنی لڑکیوں کو غیر محرموں، رشتے کے بھائی ،اڑوس پڑوس کے بنے ہوئے بھائی، چچا ماموں وغیرہ کیساتھ ذرا دیر کے لئے بھی کہیں نہ بھیجیں۔ مرد ٹیوٹر کے پاس نہ پڑھائیں اور نہ ہی کوچنگ کو فروغ دیں ۔ مخلوط طریق تعلیم (Co-education) کو ہر گز فروغ نا دیں۔ ٖٖ

مرد عورت کے اختلاط پر مبنی معاشرہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ شادی بیا ہ دیگر پارٹیوں اور پروگرام میں جہاں مخلوط محفلکا خدشہ ہو، ناجائیں اگر جانا ناگزیر ہو تو سادہ حجاب اور سادگی کے ساتھ باپردہ لیکر جائیں ۔

بچوں کو خواہ لڑکے ہو یا لڑکیاں زیادہ دیر گھر میں تنہانا چھوڑیں۔ موبائیل اور انٹرنیٹ کے ساتھ کام کا رشتہ رکھیں اور بچوں کے لئے احتیاط کیساتھ اپنی نگرانی میں اس کے استعمال کی اجازت دیں۔ غلط ویب سائٹس یا امکانی غلط چیزیں لاکLock کردیں ۔

والدین کو چاہئے کہ حلال کمانے ،حلال پکانے اور حلال کھلانے کی فکر اور جد جہد کریں۔ کیونکہ حرام غذا بھی حرام خیالات اور حرام کام پر اکساتی ہے۔

سود ،جو شراب اور زنا سے کہیں زیادہ قبیح ہے، وہ عام ہوگیا ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک غم انگیز اور تکلیف کی با ت کیا ہوسکتی ہے کہ جس گناہ سے باز نہ آنے کی صورت میں اللہ رب العزت نے اعلان جنگ فرمایا، وہ مسلمانوں میں اس قدر عام ہوگئی کہ اس کی مذمت کے بارے میں عموما سوچتے بھی نہیں۔ بد کرداریوں اور انسانی جان، مال ،عز ت و آبرو کی پامالی کی بڑی وجہ یہی ہے ۔

ضروری ہے کہ عام مسلمان قرآن سے جڑیں اور اپنے بچوں میں خوفِ خدا پیدا کریں۔ شیطان مردود سے ہمہ وقت بچنے کے لئے اللہ کی پناہ میں آئیں اور یہ بات گھر کے ہر فرد کے ذہن میں بیٹھ جانی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ محسنہ ( میرا روڈ، ممبئی)

Leave a Reply