پرسکون زندگی کا راز

لوگوں کے برے سلوک کے باوجود مسکراتے رہنا ایک فن ہے۔ مسکراہٹ تو انسان کی اپنی ہوتی ہے اور اس کی صحت و شخصیت کو بنائے رکھنے میں اہم کردار کرتی ہے۔اگر انسان لوگوں کے برے سلوک کو ہی نظر انداز کردے تو ذہن کے اندر ان چیزوں کو ہی نہ محسوس کرے پھر اس کے اوپر کوئی چیز حاوی نہیں ہوتی یا کوئی ایسی بات دماغ میں نہیں آتی جو اسے ذہنی الجھن میں مبتلا کرے۔

مثال کے طور پر اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے ریلوے اسٹیشن پر ہیں اور آپ کا جی چاہتا ہے کہ اچھی چائے پئیں اور وہاں آپ کو اچھی چائے نہیں ملتی تو آپ کبھی غم زدہ نہیں ہوتیں۔ آپ سمجھتی ہیںکہ تھوڑی دیر کی بات ہے ۔میںاپنے گھر جائوں گی وہاں اچھی چائے بناکر پی لوںگی بالکل اسطرح اللہ والے بھی سوچتے ہیں کے یہ دنیا مسافر خانہ اور گزرنے کی جگہ ہے ۔ اگر یہاں انسان کو خوشیاں نہ ملیں تو کونسی بات ہے۔ انشاء اللہ جنت میں جاکر خوشیوںبھری زندگی گزارئیں گے ۔

اس لیے اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچ بھی جائے تو اس کو اپنے دل ودماغ سے ہٹادیں ۔ایسے سمجھیں کی جیسے کچھ ہو ا ہی نہ ہو۔ بلکہ اگر آپ کو کسی دکھ دے یا کوئی نعمت سے محروم بھی کر دے تو آپ سوچیے کہ اللہ نے مجھے عقل عطافرمائی ،شکل عطافرمائی مجھے اللہ نے صحت عطا فرمائی ،صحیح سالم ہاتھ ،پیر ،آنکھ ،ناک، عطافرمائے ۔بولنے کی طاقت ،دیکھنے کی طاقت ،سننے کی طاقت یہ سب دولت اللہ نے بن مانگے عطا کی۔ مجھ پر تو اللہ ر ب ا لعزت کی بڑی نعمتیں ہیں میں تو ان کا شکریہ بھی ادا نہیں کر سکتی ۔جب انسان ایسی چیزوں کو دیکھتا ہے تو بے اختیار دل سے الحمد اللہ کے الفاظ نکلتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم کو مسلمان بنایا۔ اس کاشکر ادا کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم حضورﷺ سے پوچھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہونے کا شکریہ کس طرح ادا کرنا چاہیے یہ تو بہت ضروری ہے ۔حضور ﷺنے فر مایا کہ انسان کھانے کے بغیر تو زندہ نہیں رہتا اور وہ دن میں تین چار بار کھانا کھاتا ہے ۔ہر کھانا کھانے کے بعد مسلمان ہونے کا شکریہ ادا کرتاہے ۔

کچھ اس طرح: الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین۔

َِِِِِِِِْؑؐ؁ؑـّساری حمد وستا ئش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلا یا اور ہمیں مسلمان بنایا۔

جب ہم دین کا مطالعہ کرتے ہیں اور رسولؐ کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو دو باتیں س سے نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ایک صبر کہ انسان ہر حالت میں خواہ تنگی ہو یا خوش حالی، خوشی ہو یا غم صبر کا دامن تھامے رہے اور دوسری بات ہے شکر کہ انسان ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا رہے ایک نعمت کے چھن جانے پر اداس ہونے کے بجائے دوسری نعمت کو یادکر کے اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے صبر اور شکر کی نعمتیں مل گئیں اسے سکون کی زندگی کا راز مل گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ نیلوفر صدیق (اودگیر)

Leave a Reply