ہماری ذمہ داری

ہر شخص یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ زمانہ خراب ہے، معاشرہ خراب ہے، سماج میں برائی ہے۔ برا وقت آگیا ہے۔

کیا ہم نے کبھی غور کیاکہ یہ سب کیوں ہے؟ اور کون سے عوامل ان میں شامل ہیں؟ اس کی وجہ ہم اور آپ ہیں۔ سماج میں جو بھی اچھا یا برا ہو رہا ہے، اس کے لیے سماج میں رہنے والے ہی ذمہ دار ہیں اور معاشرہ صرف دو جنسوں پر مشتمل ہے۔ مرد اور عورت۔ اگر مرد حضرات یہ الزام عورتوں پر ڈال دیں کہ معاشرے میں ساری برائی عورتوں کی وجہ سے ہے تو یہ ناقابل قبول ہے۔ اور اسی طرح ’’خواتین‘‘ بھی اپنے آپ کو معصوم نہیں ثابت کرسکتیں کہ ساری برائیوں کے ذمہ دار مرد ہیں۔ہمیں اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ ہم اپنی ذمہ داریوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ اللہ سبحانہ نے قرآن میں فرمایا کہ :

’’تم وہ بہترین امت ہو جسے بنایا گیا ہے لوگوں کے لیے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ‘‘

قرآن کا یہ واضح حکم اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کیا صرف مردوں کے لیے ہے؟ ذرا غور کیجیے۔

اللہ نے یہ حکم مسلم امت کی خواتین و مرد دونوں کو دیا ہے۔ اس پر عمل کرنا مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اللہ خواتین سے بھی پوچھے گا کہ تم نے اس آیت پر عمل کرنے کے لیے کتنی کوششیں کی، کتنی جدوجہد کی۔

تصور کیجیے اس وقت کاجب قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہم سے یہ سوال کرے گا۔

یہ ہمارا فریضہ ہے لیکن ہم اس سے غافل ہیں، ہمیں اس کا ہوش نہیں، ہم خواب دیکھ رہے ہیں کہ صرف اپنے اعمال کو درست کرلیں تو جنت کے حق دار بن جائیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ اپنی بہنوں، محلے والوں، پڑوسیوں کی اصلاح کی بھی فکر ہونی چاہیے، اور کوشش پیہم کرنی چاہیے کہ جہاں تک ہوسکے، جس شکل میں جس حد تک ہو، ہم حق کی اشاعت کریں تاکہ قیامت کے روز ہمیں اپنے پروردگار کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

خواتین، خواتین کے درمیان کام کریں، اپنے آرام و آرائش والی زندگی یا پھر تکلیفوں اور مشکلوں والی زندگیوں سے دو چار گھنٹے نگالیں اور اسے ’’اشاعت دین‘‘ کے لیے وقف کریں۔ اگر ہم چاہیں تو ہفتے میں دو چار گھنٹے ضرور نکال لیں گے۔ ہمارے پاس لاکھ مشغولیتیں ہوں پھر بھی اگر ہم اپنے اوقات کو منظم کرلیں تو ضرور یہ کام کرسکتے ہیں۔ مادی ضرورتوں میں تھوڑی کمی کریں۔ اپنے آرام اور نیند کی بھی قربانی دینی پڑسکتی ہے۔ اگر ہم آج اس کے لیے عزم مصمم کرلیں تو اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا کرے گا اور راستے ہموار کردے گا۔

ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اس دنیا میں انسان کی زندگی بے مقصد ہے۔ نہیں انسان کی زندگی بے مقصد نہیں ہوسکتی۔

پھر آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس پر غور کریں، صاف سمجھ میں آجائے گا، اللہ تعالیٰ نے صرف گھروں میں آرام کرنے کے لیے ہمیں پیدا نہیں کیا بلکہ ہمیں ’’راہِ حق‘‘ میں کوششیں بھی کرنی ہیں۔ اگر آج ہم نے یہ ارادہ کرلیا کہ ہم بھی حق کی اشاعت کے لیے کوشش کریں گے تو آج سے ہی ہمارے اعمال نامے میں نیکیاں لکھی جانے لگیں گی۔

’’اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے۔‘‘ ہم جیسا عمل کریں گے اس کے ہم ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ ہمارے گھر کے مرد حضرات جیسا عمل کریں گے، اس کے لیے وہ جواب دہ ہیں۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا:

’’مرد جیسا کریں گے، ویسا پائیں گے عورتیں جیسا کریں گی ویسا بدلہ پائیں گی۔‘‘

ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے کہ اپنے ’’اوقات‘‘ کا، اپنی ’’صلاحیتوں‘‘ کا، اپنے مال کا، استعمال کہاں کیا۔ ہمیں اس کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے۔ خود ’’دین‘‘ کو سمجھنا ہے اور دوسری بہنوں کو بھی سمجھانا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نیلم غزالہ

Leave a Reply