تحفہ

یونیورسٹی میں داخلہ لیے اسے یہی کوئی دوسرا ہفتہ چل رہا تھا اور اب تک تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ مصیبت نے اس دن سر اٹھایا جب امبر کو اپنے جدید تراش خراش کے سلوائے گئے آٹھ عدد سوٹ کم دکھائی دینے لگے۔ مگر والدہ محترمہ کے فرمان کے مطابق اس کو محض فیشن کے جدید تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے گھریلو بجٹ کو مزید زحمت نہیں دی جاسکتی تھی۔ نتیجتاً وہ اپنی کل ہر حال میں جمع کرائی جانے والی اسائنمنٹ کو بھول کر دل و دماغ میں نئی کھلبلی مچائے بیٹھی تھی کہ اگر وہ انہی کپڑوں کو اتنی جلدی دوبارہ سے پہن کر گئی تو اس کی اعلیٰ و ارفع شخصیت کی شان میں اچھی خاصی گستاخی ہوجائے گی جو اس کے لیے کسی قیمت قابل قبول نہ تھا۔

وہ گھر والوں کی لاکھ چہیتی سہی مگر اتنی امیر زادی بھی نہ تھی کہ محض اس کی ’’ناک‘‘ اونچی رکھنے کے لیے باقی افراد کے اخراجات کو نظر انداز کر دیا جاتا۔ اسکول، کالج کا دور بھی اس نے ناز نخروں کے ساتھ گزارا مگر اب معاملہ یونیورسٹی کا تھا جہاں معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بھرمار تھی۔ امراء کے بچوں کے ٹھاٹھ درمیانے طبقے کی لڑکیوں کو احساس کمتری میں دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ جب امبر نے آنکھوں کو خیرہ کرنے والی اس زندگی میں قدم رکھا تو حسب توقع اس کی فرمائشیں بھی بڑھنے لگیں خصوصاًکپڑوں کی بھرمار کا تو اسے جنون ہوگیا۔ اس کے قیمتی نظریات کے مطابق لباس جتنا مہنگا اور جدید فیشن کے مطابق ہو، اتنا ہی کلاس فیلو اور اساتذہ پر اچھا تاثر ڈالتا تھا۔ فقط اس موضوع سے قطع نظر بلاشبہ وہ ایک اچھے اوصاف کی لڑکی تھی۔

جیسے تیسے کر کے ایک سمسٹر گزر گیا، اگلے ہفتے اس کا وائیوا تھا اور یونیورسٹی کی روایت کے مطابق اپنی ذات پر اعتماد کے اظہار کے لیے ایک نیا سوٹ ہمیشہ کی طرح اس کی پہلی ترجیح تھا۔ جب فرمائش امی کے سامنے پیش کی گئی تو ان کے پاس ایک مستند جواز تھا جس میں سو فیصد سچائی بھی تھی کہ واقعی مہینے کا اختتام چل رہا تھا، جس میں ایک مڈل کلاس فیملی غیر متوقع اور غیر ضروری خرچ کی متحمل بمشکل ہی ہوسکتی تھی۔ سو اسے مجبوراً تین بار پہنے گئے سوٹ ہی کا انتخاب کرنا پڑا۔

وائیوا والے دن وہ افسردہ سی تھی۔ کچھ قسمت سے شکوہ بھی دل میں سر اٹھا رہا تھا کہ کیا تھا جو اللہ اس کی فیملی کو بھی کسی طرح امیر کبیر بنا دیتا۔

اس کی اکلوتی دوست غنویٰ اس کی تمام تر اندرونی کیفیات سے باخبر تھی کہ اس کا ذہن کتابوں پر کم اور اپنی حسرتوں پر زیادہ تھا۔ بارہا اس نے دوستی کے فرض سے پورا پورا انصاف کرتے ہوئے اپنی باتوں سے اس کی تشنگی پر اس کے مقصد کی لگن کو حاوی کرنا چاہا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس بار غنویٰ کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جس سے اس کی عزیز از جان سہیلی خود ترسی کے خول سے باہر نکل آئے اور صبر و شکر کے راستے پر چل کر علم کی جستجو میں شریک ہو۔ اس کے لیے اس نے ایک پروقار طریقے کا انتخاب کیا اور کسی مناسب موقعے کا انتظار کرنے لگی جو عید الاضحی کی صورت میں جلد ہی اس کے ہاتھ آگیا۔ اس نے پہلے سے منتخب تحفہ امبر کے پسندیدہ رنگ میں خریدا اور نہایت خوب صورت سی پیکنگ کر کے ہاتھ سے بنایا گیا ایک کارڈ اس پر چسپاں کیا جس پر اپنی خوبصورت لکھائی میں اس کے نام چند سطریں لکھیں۔

’’پیاری امبر! میری خواہش ہے کہ تم میرے تحفے کو تہہ دل سے نہ صرف قبول کرو بلکہ اس کو اپنے استعمال کا شرف بھی بخشو کیوں کہ اس میں میرے خلوص کے ساتھ تمہارے ایک بہت اہم مسئلے کا حل بھی چھپا ہے۔‘‘

تحفہ جب امبر کے ہاتھ میں پہنچا تو اس کی دلفریب پیکنگ نے ہی اس کا دل موہ لیا۔ پھر جب اس نے اس پر چسپاں کارڈ دیکھا تو اشتیاق سے جلدی جلدی اس کا ریپر اتارنے لگی۔ مگر یہ کیا ۔۔۔۔۔ اس میں تو ایک عبایا تھا جس سے اسے کبھی بھی شغف نہ رہا تھا مگر یہ عام سا تحفہ اس کو بہت خاص دوست نے دیا تھا جس کا دل توڑنے کا وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ پھر اس نے عبایا پہن کر دیکھا تو بقول امی کے وہ اس پر بہت جچ رہا تھا۔یوں جب داد و تحسین ملی تو عبایا پہننے کا عجیب سا خوف بھی جاتا رہا۔

’’مگر اس میں میرے کس مسئلے کا حل ہے۔۔۔۔‘‘ اس نے خود کلامی کی۔ ’’اوہ ۔۔۔۔۔‘‘ اپنے سب سے اہم مسئلے کے حل کا ادراک ہوتے ہی وہ فون کی طرف لپکی۔ آخر کو اس کی پیاری سہیلی نے اس کو روز روز نئے کپڑے کے جھنجھٹ سے نجات دلانے کی ایک بہت انوکھی راہ دکھلائی تھی۔ جو دنیا ہی نہیں بلکہ دین میں بھی سرخ روئی کی ضمانت تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عنیزہ طارق

Leave a Reply