مسلم خواتین

عورت اور اسلام

موجودہ دور میں اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں ان میں سے بہت ہی اہم ہے کہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حیثیت نہیں دی ہے اور اس پر اتنی پابندیاں عائد کردی ہیں کہ وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے اور ہمیشہ عورت مرد کی محتاج رہتی ہے۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عورت کی تاریخ مظلومی اور محکومی کی تاریخ تھی اور اس کے لیے ذلت و حقارت کا تصور پایا جاتا تھا۔ اسے سارے فساد اور خرابی جڑ سمجھا جاتا تھا اور جیسے سانپ بچھو سے بچایا جاتا ہے اسی طرح اس سے بچنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ بازاروں میں جانوروں کی طرح اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی اور اسے سماج کے باعزت فرد کی حیثیت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی اس کو کسی طرح کے حقوق حاصل تھے۔ مگر اسلام نے اس کی مظلومی کے خلاف آواز بلند کی اور اسے سماج کے ایک باعزت فرد کی حیثیت عطا کرکے قابل احترام اور باعزت بنا دیا۔ قرآن میں کہا گیا:

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور اُن دونوں سے بہت سے مرد اور عورت پھیلا دیے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے ذریعے تم ایک دوسرے سے مدد طلب کرتے ہو اور رشتوں کا احترام کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

اسلام مردوں کا دین نہ ٹھہرا بلکہ مرد و عورت دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے یکساں طور پر جواب دہ ٹھہرے ہیں اور اعمال کے سلسلہ میں دونوں پر یکساں ذمہ داریاں عائد کی گئیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا کہ جو مرد یا عورت نیک عمل کرے گا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور محض جنس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔

چناں چہ جہاں مردوں کو ایسے اعمال کی ترغیب دی گئی جن سے اللہ راضی ہو اسی طرح عورتوں کو اس بات کی ترغیب دینی بھی ضروری ہے کہ وہ زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھا کر وہ کام کریں جن سے اللہ خوش ہوتا ہے۔

اللہ کی اطاعت کرنا اور اس کے احکام بجا لانا جس طرح مردوں کے لیے ضروری ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی لازمی ہے۔ آخرت کی کامیابی کے اعتبار سے مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور آخرت میں کامیاب ہونے کے لیے جس طرح مردوں کو کوشش کرنی ہوگی اسی طرح عورت کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی پڑیں گی۔

اسلام نے عورت کی عزت و قدر و منزلت کے دعوے ہی نہیں کیے بلکہ عملاً اسے ثابت کیا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں عورت کو بہادری اور شجاعت میں، علم و فن میں، دعوت و تبلیغ میں، تہذیب و تمدن کے ارتقاء میں غرض زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی عملی حیثیت سے مردوں کے دوش بدوش کھڑا کر دیا۔ اگر مردوں کی صف سے ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور علی حیدر رضی اللہ عنہم جیسے لوگ سامنے آئے تو عورتوں کی جماعت سے حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت صفیہ، حضرت ام سلمہ حضرت زینب بن جحش اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہن جیسی خواتین کو زہد و تقویٰ اور پارسائی اور علم و عمل کے قابل تقلید نمونے بنا کر اقوامِ عالم کے روبرو عبرت و نصیحت کی غرض سے پیش کر دیا۔

مگر موجودہ مسلم سماج چوں کہ خود اسلام اور اسلامی تاریخ سے ناواقف ہے اس لیے ہماری ’’نئی ذہن‘‘ کی خواتین غلط پروپیگنڈہ سے متاثر ہوجاتی ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ اسلام کا مطالعہ کرتیں تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ مغرب کے تمام دعوے اور اسلام پر اعتراض نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ مغرب کا اپنا تصور آزادی عورتوں پر نہ صرف ظلم ہے بلکہ پوری انسانیت کو تباہی سے دوچار کرنے والا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عشرت جبین

Leave a Reply