ہنسنا منع ہے!

ایک صاحب دفتر میں ہمیشہ سوجایا کرتے تھے۔ ایک دن ان کے افسر نے کہا ’’تم دفتر میں کیوں سوتے ہو؟‘‘
انھوں نے جواب دیا: ’’میرا بیٹا رات کو مجھے سونے نہیں دیتا۔‘‘
افسر نے کہا:’’ کل سے اپنے بیٹے کو ساتھ لیتے آنا تاکہ وہ تم کو یہاںبھی سونے نہ دے۔‘‘
***
عمران: (دادا سے) ’’آپ کے دانت ہیں؟‘‘
دادا: ’’نہیں بیٹا!‘‘
عمران: ’’اچھا تو پھر یہ میرا سیب چھپالیں، میں تھوڑی دیر بعد لے لوں گا۔‘‘
***
ایک چھوٹی لڑکی نے جس کا باپ جج تھا، بڑے پیار سے پوچھا : ’’ابا جان آپ میری سالگرہ پر مجھے کیا تحفہ دیں گے۔‘‘
باپ جو کسی مقدمے میں منہمک تھا، بولا ’’چودہ سال قید بامشقت۔‘‘
***
ایک بچہ دوڑتا ہوا ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا ڈاکٹر صاحب! میرے کتے نے پٹرول پی لیا ہے اور وہ تیزی سے چکر کاٹ رہا ہے۔
ڈاکٹر نے اطمینان سے جواب دیا کہ اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں جب پٹرول ختم ہوگا تو خود ہی رک جائے گا۔
***
وہ ایک گرم دن تھا کھیل بہت سلو ہورہا تھا جس کی وجہ سے تماشائی بہت بور ہورہے تھے بلے بازوں نے گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران صرف تین رن بنائے تھے۔ دفعتاً گراؤنڈ کے باہر سے کسی کار کے سائلنسر سے ہونے والے دھماکے کی آواز سنائی دی۔
ایک تماشائی اچھل کر کھڑا ہوگیا اور چیخا اب ہمیں اپنے گھروں کی طرف چل دینا چاہیے اسکور نے خود کرلی ہے۔
***
بیٹا: (باپ سے) آج اسکول میں دس روپے جرمانہ ہوگیا۔
باپ: وہ کیوں؟
بیٹا: اس لیے کہ آج میں اسکول میں لیٹ گیا تھا۔
باپ: (غصے سے) نالائق میں تجھے اسکول پڑھنے کے لیے بھیجتا ہوں یالیٹنے کے لیے۔
***
شیخی خور (دوستوں کی محفل میں) ارے شارجہ کے میچ میں سعید انور نے سو رن بنا کر کیا کمال کیا۔ سو رن بناناتو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن ……‘‘
لیکن کیا؟ سب نے دلچسپی سے پوچھا۔
شیخی خور (ہنستے ہوئے) اگر امپائر مجھے آؤٹ نہ دے تو۔
***
ایک بار دو چوہے کہیں جارہے تھے۔ راستے میں انھیں ایک بلی دکھائی دی پہلے چوہے نے دوسرے چوہے سے کہا ’’چلو بھائی اس پر حملہ کیا جائے۔‘‘ دوسرے چوہے نے جواب : ’’جانے دو بچاری اکیلی ہے۔‘‘
***
ایک صاحب دوستوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ خوب گپ شپ ہورہی تھی۔ موج میں آکر بتانے لگے : ’’کل میں اسٹیڈیم گیا تو لوگوں نے مجھے گھیر لیا۔ ہر کوئی اپنی آٹو گراف بک میرے قریب کررہا تھا۔‘‘
ایک دوست نے ٹوک دیا ’’اب ایسی گپ بھی مت ہانکو۔‘‘ وہ صاحب فوراً بولے ’’یقین نہیں آتا؟ جاؤ وسیم اکرم سے پوچھو۔ وہ میرے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔‘‘
***
انتخاب کے زمانے میں ایک سیاست داں ہسپتال میں ٹہل رہے تھے کہ نرس نے آکر انھیں مبارکباد دی اور کہا ’’آپ کے یہاں تین جڑواں بچے پیدا ہوئے ہیں۔‘‘
سیاستداں انتخابات کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ بے خیالی میں جلدی سے بولے: ’’یہ ہو نہیں سکتا دوبارہ گنتی کراؤ۔‘‘
***
ایک مسافر ریل گاڑی میں سفر کررہا تھا کہ ٹکٹ چیکر آگیا اور مسافر سے بولا: ’’ٹکٹ دکھاؤ‘‘
مسافر نے جواب میں پوچھا : آپ کی ملازمت کو کتنا عرصہ ہوگیا ہے۔
ٹکٹ چیکر نے جواب دیا ’’بیس سال‘‘
مسافر نے افسوس سے کہا : ’’کتنے دکھ کی بات ہے کہ آپ نے ابھی تک ٹکٹ نہیں دیکھا۔‘‘
***
ایک شخص (دکاندار سے) کیا آپ پرانی اور نایاب چیزیں خریدتے ہیں؟
دکاندار : جی ہاں
وہ شخض: میرے پاس مغل بادشاہ، شاہ جہاں کے زمانے کا ٹائپ رائٹر ہے بتائیے اس کے کتنے پیسے دیں گے۔
دکاندار: مگر شاہجہاں کے زمانے میں ٹائپ رائٹر تھا ہی نہیں۔
وہ شخص: اسی لیے تو وہ نایاب ہے۔
***
انیتا: تمہیں ٹرین اچھی لگتی ہے یا بس۔
انجلی: مجھے ٹرین اچھی لگتی ہے۔
انیتا: کیوں؟
انجلی: کیونکہ ٹرین کا ٹائر کبھی پنکچر نہیں ہوتا۔
***
ایک کرایہ دار نے آدھی رات کو مکان کے مالک کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ مکان مالک نے نیند سے بیدار ہوکر مکان کا دروازہ کھولا تو کرایہ دار نے کہا: ’’میں یہ کہنے کے لیے آیا ہوں کہ میں اس مہینے کا کرایہ ادا نہیں کرسکوں گا۔‘‘
مکان مالک غصہ سے بے قابو ہوکر بولا: ’’لیکن یہ بات تم مجھے کل صبح بھی بتاسکتے تھے۔ آدھی رات کو سوتے سے اٹھا کر پریشان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
کرایہ دار نے اطمینان سے جواب دیا: ’’میں نے سوچا اس فکر میں میں اکیلا ہی کیوں جاگوں۔‘‘
***
تھکا ہوا شکاری (راہ گیر سے) تم نے کسی ہرن کو یہاں سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے؟
راہ گیر: ہاں۔
شکاری: کتنی دیر ہوئی؟
راہ گیر: ایک سال ہوا۔
***
ایک آدمی کا سر پھٹ گیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا ’’یہ کیسے ہوا؟‘‘
وہ بولا: ’’میں جوتے میںکیل ٹھونک رہا تھا۔ ایک آدمی نے مجھ سے کہا کھوپڑی کا استعمال کرو۔
***
ایک کنجوس آدمی بحری جہاز کے ذریعے دوسرے ملک گیا۔ وہاں جاکر اس نے دیکھا ایک شخص تیر رہا تھا۔ اس نے افسردگی سے سوچا پہلے پتا ہوتا تو میں بھی تیر کر آجاتا پیسے تو بچتے۔
***
کرائے دار مالک سے: بھائی صاحب میں نے سنا ہے یہاں پر روحیں اور جن وغیرہ آتے ہیں۔
مالک مکان: مجھے تو پتہ نہیں میں خود آٹھ سال پہلے مرچکا ہوں۔
***
ایک ہوائی جہاز میں تکنیکی خرابی آگئی، پائلٹ نے اس کی اطلاع کنٹرول روم کو دی۔
’’اپنی بلندی اور پوزیشن بتاؤ‘‘ کنٹرول ٹاور سے پائلٹ سے سوال ہوا۔
’’میں ۵ فٹ ۸ انچ لمبا ہوں اور اس وقت کا ک پٹ میں ہوں، پریشان حال پائلٹ بولا۔
***
ایک موٹے صاحب ہوائی جہاز میں سوار ہونے جا رہے تھے جب اس نے سیڑھیوں پر قدم رکھا تو ایئر ہوسٹس نے رکنے کے لیے کہا: ’ ’ویٹ پلیز‘‘
ان صاحب نے برجستہ جوا ب دیا ’’۱۱۰ کلو۔
***
بیٹا باپ سے ’’منیجر‘‘ کسے کہتے ہیں؟
باپ بیٹے سے: نالائق! اتنا بھی نہیں پتا؟ لا میری ڈکشنری، میں بتاؤں۔

***

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

Leave a Reply