5

خوب صورت اخلاق

ٹینو ایک بہت خوبصورت ہرن کا بچہ تھا۔ اس کا رنگ سنہرا اور سینگ بڑے بڑے اور حسین تھے۔ ٹینو یہ جانتا تھا کہ وہ جنگل کا سب سے خوبصورت ہرن ہے۔ اسی لیے اس کے اندر تکبر اور غرور آگیا تھا۔ جنگل میں میکو نام کا ایک اور ہرن کا بچہ بھی تھا۔ بچپن میں ہی کسی بیماری کی وجہ سے اس کے سینگ آدھے جھڑ گئے تھے۔ اب اس کے سینگ ٹوٹے پھوٹے لگتے تھے اور وہ اسے بہت بدنما بناتے تھے۔ ٹینو ہمیشہ اس کا مذاق اڑاتا۔ میکو یہ سب سن کر بہت اداس ہوتا اور ہمیشہ اپنی ماں سے کہتا۔ اللہ نے مجھے ٹوٹے پھوٹے سینگ کیوں دیے ہیں۔ اس کی ماں ہمیشہ اس کو پیار سے سمجھاتی کہ پیارے بیٹے ایسا نہیں کہتے۔ اللہ کے ہر کام کے پیچھے کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ ٹینو، میکو، بھولو بھالو، ٹن ٹن گلہری اور ٹوٹو بندر سب ایک ساتھ کھیلتے مگر ٹینو ہمیشہ کسی نہ کسی بات کو لے کر یہ جتاتا رہتا کہ وہ ان سب سے زیادہ خوبصورت ہے اور سب کا کسی نہ کسی بات کو لے کر مذاق اڑاتا رہتا۔

ایک دن وہ سب کھیلتے کھیلتے جنگل میں کافی دور تک نکل گئے۔ ٹینو اور میکو سب سے آگے تھے۔ وہاں کسی شکاری نے اپنا جال بچھا رکھا تھا۔ ٹینو اور میکو دونوں جال میں پھنس گئے۔ باقی تینوں دوستوں نے انہیں نکالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہے۔ اتنے میں شکاری آگیا۔ تینوں دوڑ کر پیڑوں کے پیچھے چھپ گئے۔ شکاری دو، دو ہرنوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور بولا اب میں تم دونوں کے سینگ بازار میں بیچ کر بھاری رقم کماؤں گا۔ پہلے اس نے میکو کو دیکھا۔ اسے دیکھ کر بولا دھت تیرے کی۔ اس کے تو سینگ ہی ٹوٹے پھوٹے ہیں۔ یہ میرے کسی کام کے نہیں اور شکاری نے میکو کو چھوڑ دیا۔ آزاد ہوتے ہی میکو نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ آج اسے اپنے ٹوٹے ہوئے سینگ ایک نعمت نظر آرہے تھے۔ ادھر شکاری ٹینو کے بڑے بڑے اور خوب صورت سینگوں کو دیکھ کر خوش ہوگیا۔ اس نے ٹینو کے سینگ کو ایک جھٹکے سے توڑ دیا۔ ٹینو کی چیخیں نکل گئیں۔ ایک مہینہ اسپتال میں گزارنے کے بعد ٹینو گھر واپس آگیا۔ گھر آکر اس نے جیسے ہی آئینہ دیکھا تو اپنی شکل دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔ سر پر خوبصورت سینگوں کی جگہ دو گومڑ سے نظر آرہے تھے۔ وہ بہت بدنما لگ رہا تھا۔ اس نے اپنی امی سے کہا کہ وہ اب اس شکل کے ساتھ کبھی باہر نہیں جائے گا۔ اس کی امی نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ یہی کہتا رہا کہ سب میرا مذاق اڑائیں گے اس لیے میں کبھی باہر نہیں جاؤں گا۔

اس کی امی نے اس سے کہا: ’’پیارے بیٹے! کسی کی بدصورتی یا خوبصورتی اس کے چہرے میں نہیں اس کے اخلاق میں چھپی ہوتی ہے۔ تم دیکھنے میں کیسے بھی ہو اگر تمہارا اخلاق اچھا ہے تو تم سب کی آنکھ کا تارا بن جاؤگے اور اگر تم خوب صورت ہو مگر تمہارا اخلاق اچھا نہ ہو تو لوگ ایسے انسان سے کبھی محبت نہیں کرتے اور اسے اپنی زندگی سے ایسے نکال دیتے ہیں جیسے دودھ سے مکھی۔ ‘‘

یہ سب کچھ سن کر ٹینو کی ہمت بندھی اور اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ا ب کسی کا مذاق نہیں اڑائے گا اور اتنا اچھا بن کر دکھائے گا کہ سب اس سے محبت کرنے لگیں گے۔ اس پختہ ارادے کے ساتھ اس نے دروازہ کھول دیا۔ سب دوستوں نے اسے دیکھ کر زور سے نعرہ لگایا اور اس سے چمٹ گیا۔

پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ انسان اچھا اپنی اچھی صورت سے نہیں بلکہ اچھی سیرت سے بنتا ہے۔lll

پڑوسیوں سے نیک سلوک

حضور اکرمﷺ نے پڑوسیوں سے نیک سلوک کرنے کی تعلیم فرمائی۔ اور اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھی پڑوسیوں کی تعظیم کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عبداللہ ؓ کے گھر بکری ذبح ہوئی۔ گھر کے بازو میں ایک غیر مسلم کا گھر تھا۔ حضرت عبداللہ کے گھر والوں نے بکری کا گوشت اس کے گھر نہیں بھیجا اور جب حضرت عبداللہ گھر آئے تو پوچھا کہ پڑوسی کو گوشت بھیجا۔ گھروالوں نے کہا کہ ہم نے اس لیے گوشت نہیں دیا کہ وہ غیر مسلم ہے۔ آپؓ نے فوراً ہی اس کے گھر گوشت بھیجا اور پھر کھانا تناول فرمایا۔

مرسلہ : منیرہ علی احمد، پٹنہ

شیئر کیجیے
Default image
فاکہہ ایوب زنجانی (جدہ)

تبصرہ کیجیے