ایمانداری کا صلہ

ایک بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی اس لیے وہ بڑا پریشان تھا۔ و ہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ جب میں اس دنیا سے انتقال کرجاؤں گا تو میری جائیداد کا مالک کون ہوگا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس نے ایک ترکیب سوچی صبح ہوتے ہی بادشاہ نے وزیر کو بلایا کہ ایک ایماندار لڑکا ڈھونڈ کر لاؤ تاکہ اس کے حوالے میں اپنی ساری سلطنت کردوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد سارے بچے بادشاہ کی حدمت میں حاضر ہوگئے۔ بادشاہ نے سارے بچوں کو حکم دیا کہ ان کو ایک ایک بیج دے دو اور اسے اپنے گملوں میں بولینا جس کے گملوں میں خوبصورت پھول لگیں گے۔ اسے میں اپنی جائیداد کا مالک بنادوں گا سب کے سب بچے بہت خوش ہوئے۔ سب بچوں کی بھی یہی خواہش تھی کہ وہ اس کی جائداد کا مالک بنے پھر سب بچے اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ کئی روز گزرگئے۔ بادشاہ نے ایک بار اعلان کروایا کہ دس دن کے اندر سب لڑکے اپنے اپنے پھولوں والے گملے بادشاہ کی خدمت میں حاضر کریں۔ اسی گاؤں میں ایک لڑکا محمد حسین رہتا تھا کئی دنوں سے اس کے گملے میں پھول کی نشانی تک نہ آئی۔ محمد حسین نے کھیت کی مٹی بھی ڈالی مگر پودا نشوونما نہ پاسکا۔ سب لڑکوں کے گملوں میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے سب لڑکوں کو بلایا سب لڑکے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ محمد حسین بھی اپنا مٹی والا خالی گملا لے کر حاضر ہوگیا۔ لڑکے محمدحسین کا مذاق اڑا رہے تھے اور بولے کہ تمہارا خالی گملا وہاں کیا کرے گا۔ سب لڑکے ہنس پڑے۔ بادشاہ نے سب کو خاموش ہونے کا حکم دیا سب لڑکے خاموش ہوگئے۔ بادشاہ نے سب لڑکوں کے گملے دیکھے سب لڑکوں کے گملوں میں طرح طرح کے پھول تھے۔ ایک لڑکا چپ کھڑا تھا۔ بادشاہ نے اس کا گملا پکڑا اور بولا تمہارا گملا مٹی سے کیوں بھرا ہوا ہے اور اس میں پودے کی نشانی نہیں ہے۔ محمد حسین نے ساری حقیقت بتادی۔

بادشاہ اس کی ایمانداری پر بہت خوش ہوا۔ بادشاہ نے اعلان کروایا کہ اب یہ بادشاہی محمد حسین کے قبضے میں ہے۔ لڑکوں نے اس کی وجہ پوچھی تو بادشاہ نے جواب دیا میں نے تم سب کو خراب بیج دئے تھے تم نے بیچ بازار سے خریدے ہوں گے۔ سب لڑکے اپنے اپنے گھر چپ چاپ چلے گئے اور اپنے گھر والوں سے شرمندہ ہوگئے۔بادشاہ کے انتقال کے بعد محمد حسین حکومت کرنے لگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد حسان

Leave a Reply