تحفہ

بارش کی پہلی پھوار کے ساتھ ہی سارا ماحول بدل گیا تھا۔ کل سے اسکول کھل جائیں گے اس احساس نے گھر کے تمام بچوں میں ایک عجیب سی امنگ پیدا کردی تھی۔ بازاروں میں ہر طرف خریداروں کی چہل پہل تھی، جن میں اکثر بچے اور ان کے والدین تھے۔ سب کتابوں اور یونی فارم کی خریداری میں مصروف تھے۔

شگفتہ شام ڈھلے شہر کی سپر مارکیٹ سے اسکول کے لیے ضروری چیزیں خرید کر اپنے والد کے ساتھ لوٹی تو اسے دیکھتے ہی اس کا چھوٹا بھائی مزمل دوڑ پڑا اور اس کے لیے خریدی گئی چیزوں سے بھرا بیگ دیکھ کر خوش ہوگیا۔ جب اس کی نظر شگفتہ کے بیگ پر پڑی تو اسے فوراً محسوس ہوا کہ اس کا بیگ باجی کے بیگ سے چھوٹا ہے۔ شگفتہ کو اس نے یہ بات بتائی تو وہ اسے سمجھانے لگی کہ ’’میری کتابیں اور کاپیاں تم سے زیادہ ہیں۔ تمہارا بیگ چھوٹا ضرور ہے پھر بھی میرے بیگ سے زیادہ مہنگا اور خوب صورت ہے۔‘‘ یہ سن کر مزمل خاموش ہوگیا۔

شگفتہ نے جب اپنے بیگ کا جائزہ لیا تو سر پر ہاتھ مار کر بولی: ’’افوہ! خاص چیز تو رہ ہی گئی، کمپاس بکس رہ گیا نا!

’کیا دکان پر رہ گیا؟‘‘

’نہیں، مجھے یاد ہی نہیں رہا، اسی دوران مزمل نے اپنا بیگ کھولا تو اچھل پڑا ’’ارے واہ کمپاس بکس۔‘‘

’’یہ تمہارے بیگ میں کیسے آگیا، مگر ہم نے یہ خریدا تو نہیں تھا۔‘‘ شگفتہ کچھ سوچتی ہوئی بولی ’اچھا ۔۔۔ یہ تحفہ ہے۔ جہاں سے یہ خریدا گیا ہے، اس دکاندار نے کہا تو تھا کہ اس کے ساتھ اس کے اندر کوئی تحفہ بھی ہوگا۔ ہم وہاں دیکھنا بھول گئے تھے۔۔۔ مگر یہ تمہارے کسی کام کا نہیں ۔۔۔ مزمل یہ تم مجھے دے دو۔‘‘

’’نہیں یہ میرے بیگ میں سے نکلا ہے میرا ہے، میں کیوں دوں؟‘‘ مزمل اڑ گیا اور اسی بات پر ان دونوں میں چھینا جھپٹی شروع ہوگئی اور نوبت مار پیٹ تک پہنچ گئی۔

امی نے دونوں کو سمجھانے کی لاکھ کوشش کی مگر مزمل ماننے کو تیار نہ تھا۔

تھک ہار کر امی نے شگفتہ سے کہا: ’’بیٹی! تم بڑی ہو سمجھ دار ہو، تم ہی مان جاؤ، کل بازار سے نیا کمپاس بکس خرید لینا۔‘‘

’’بات خریدنے کی نہیں ہے امی جب گھر میںا یک چیز موجود ہے اور وہ کسی کے کسی کام کی نہیں، تو دوسری خریدنا کیا فضول خرچی نہیں ہے۔‘‘

’’وہ تو ہے مگر لڑکے کی ضد کا علاج بھی تو نہیں۔‘‘ یہ سن کر شگفتہ خاموش ہوگئی۔

رات گئے جب سب سونے کے لیے بستر پر لیٹے تو امی نے انہیں ایک کہانی سنائی۔

’’ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اس میں دو آدمی بہت مشہور تھے۔ عبد الرحمن اور شیخ رحیم۔ دونوں بڑے نیک اور شریف تھے۔ سب ان کی عزت کیا کرتے تھے۔ ان دونوں کا زیادہ تر وقت اپنے گھر اور کاروبار کے علاوہ مسجد میں گزرتا تھا۔ ایک مرتبہ عبد الرحمن کو کسی کام کے لیے رقم کی ضرورت پیش آئی اور رقم حاصل کرنے کے لیے اسے اپنا کھیت بیچنا پڑا۔ شیخ رحیم مالی اعتبار سے آسودہ حال تھا۔ اس نے وہ کھیت مناسب داموں میں خرید لیا۔

چند دنوں بعد شیخ رحیم نے سوچا کہ اس کھیت میں پیڑ لگانے چاہئیں۔ جب اس نے وہاں موجود کنویں کو دیکھا تو وہ بالکل سوکھا ہوا تھا۔ شیخ رحیم نے مزدوروں کو بلوایا اور ایک نیا کنواں کھودنے کا حکم دیا۔ کنواں کھودنے کا کام جاری تھا کہ ایک دن مزدوروں نے شیخ رحیم کو بتایا زمین میں کوئی سخت چیز نکل آئی ہے۔ اسے کھود کر باہر نکالا گیا تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ یہ ایک بہت بڑا صندوق تھا جو سونے کے زیورات سے بھرا ہوا تھا۔ خزانہ نکلنے پر مزدوروں نے شیخ رحیم کو مبارک باد دی اور کہا اس میں ہمارا بھی حصہ ہونا چاہیے۔‘‘

شیخ رحیم نے اس صندوق کو دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ بہت دیر تک سوچتا رہا اور پھر کہا: ’یہ خزانہ ہمارا نہیں ہے، ہم نے عبد الرحمن سے صرف زمین خریدی ہے۔ یہ کھیت اس کا تھا اس لیے یہ صندوق بھی اسی کا ہے۔ ہمیں اسے لوٹا دینا چاہیے۔ اس نے اپنے غلام کو عبد الرحمن کے گھر بھیج کر اسے کھیت میں بلوایا اور پورا ماجرا کہہ سنایا، پھر صندوق اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا: ’بھائی یہ تمہاری امانت ہے، لے جاؤ۔‘

عبد الرحمن نے کہا: ’میں نے تمہیں کھیت بیچ دیا تھا اس کے بعد اس کھیت میں موجود ہر چیز تمہاری ہے۔ اس صندوق پر میرا کوئی حق نہیں۔‘‘

دونوں وہ صندوق ایک دوسرے کے حوالے کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب بات نہ بنی تو معاملہ اس بستی کے قاضی کے پاس گیا۔ قاضی صاحب بھی اس عجیب و غریب مقدمہ کو سن کر حیران بھی تھے اور خوش بھی۔ خوش یہ سوچ کر تھے کہ ان کی بستی میں ایسے نیک اور بے غرض انسان موجود ہیں، جن کے دل میں دولت کا ذرا بھی لالچ نہیں۔ قاضی صاحب نے بہت غور و خوض کے بعد عبد الرحمن سے پوچھا تمہارے کتنے بچے ہیں؟

’’میری ایک ہی لڑکی ہے۔‘‘

’’کیا عمر ہے اس کی؟‘‘

’’یہی کوئی بیس سال۔‘‘

’’کیا اس کی شادی ہوچکی ہے؟‘‘

’’نہیں میں اس کے لیے مناسب رشتے کی تلاش میں ہوں، میں نے یہ کھیت اسی لیے بیچا تھا، تاکہ اس کی شادی کا سامان کرسکوں۔‘

پھر قاضی صاحب نے شیخ رحیم سے سوال کیا۔

’’آپ کی کتنی اولادیں ہیں؟‘‘

شیخ رحیم نے جواب دیا: ’’میرا ایک بیٹا ہے۔‘‘

’’کیا عمر ہے؟ کیا اس کی شادی ہوچکی ہے؟‘‘

’’جی نہیں یہی کوئی پچیس سال کا ہوگا، ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی۔‘‘

’’پھر تو معاملہ بہت آسان ہے، عبد الرحمن صاحب آپ اپنی بیٹی کا نکاح شیخ رحیم صاحب کے بیٹے سے کردیں اور یہ خزانہ ان دونوں کو دے دیں۔‘ آپ دونوں کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور یہ دولت بھی آپ دونوں ہی کے گھر میں رہے گی۔‘‘ شیخ رحیم نے یہ فیصلہ قبول کرلیا۔

قاضی صاحب کے اس فیصلے کو سن کر بستی کے لوگ ایک بار پھر ان کی عقل مندی کے قائل ہوگئے۔

اگلی صبح جب شگفتہ نے اسکول جانے سے پہلے اپنا بیگ نکالا اور کتابیں رکھنے لگی تو اس نے دیکھا۔ اس میں کمپاس بکس رکھا تھا۔ مزمل اسی کمرے میں اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔

شگفتہ اس کے لیے رنگ برنگے پلاسٹک کے بلاکس کا سیٹ لائی تھی، انھیں جوڑ کر وہ ایک گھر بنا رہا تھا۔

’’مزمل! یہ کمپاس بکس یہاں تم نے رکھا ہے؟‘‘ شگفتہ نے اس سے پوچھا۔

’’جی ہاں۔۔۔ تحفہ ہے، آپ کے لیے۔‘‘ مزمل کے چہرے پر معصوم سی مسکراہٹ تھی۔

شگفتہ نے آگے بڑھ کر اسے ’’میرا پیارا بھائی‘‘ کہہ کر گلے لگا لیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد اسد اللہ ناگپور

Leave a Reply