مشورہ حاضر ہے!

ظہورحسین لکھتے ہیں: انناس کے بارے میں بتائیے۔ میں ایک انناس خرید کر لایا تو وہ کھٹا تھا۔ میٹھے انناس کہاں سے ملتے ہیں؟ اس کے بارے میں لکھیں۔ دوسرے یہ کہ میرے کانوں میں کھجلی رہتی ہے۔ چابی گھمانے سے سکون ملتا ہے۔ کانوں کے بارے میں بھی مشورہ دیجیے۔ انناس صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ دل، جگر، معدے، دماغ کو فرحت بخشتا ہے۔ اس کے کھاتے ہی پورے جسم میں ٹھنڈک پڑ جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ میں فجر کی نماز کے بعد لوگ بسوں میں سوار ہو کر مسجدِ عائشہ تک جاتے ہیں تاکہ وہاں جا کر احرام باندھ کر آئیں اور عمرے کی سعادت حاصل کریں۔ ملائیشیا، ترکی اور دوسرے ممالک سے آئی ہوئی خواتین بس میں چڑھتیں تو ان کے ہاتھ میں انناس کا ڈبا اور چمچ ہوتا۔

بڑے مزے سے انناس کھاتی جاتیں۔ یہی ان کا ناشتا ہوتا تھا۔ ڈبے میں بند انناس میٹھا ہوتا اور اس کا شیرہ بھی مزیدار لگتا ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ انناس کھانے سے وہ بڑے آرام سے عمرہ کرلیتی تھیں اور تھکن بھی نہیں ہوتی۔ انناس کا پھل بڑے سٹورز پر مل جاتا ہے۔ آپ انناس خرید کر اسے مشین سے کٹوا سکتے اور اس کا تازہ جوس پی سکتے ہیں۔ اس میں ہلکی سی ترشی ہوتی ہے جو اسے اور بھی ذائقے دار بناتی ہے۔ انناس چھیلنا اور کاٹنا بھی ایک فن ہے۔

اس کو آپ ضرور کھائیں۔ قدرت نے تمام پھلوں میں غذائیت رکھی ہے۔ آپ ڈبے میں بند انناس خرید سکتے ہیں۔ یہ گول گول قتلوں میں اور چھوٹے چوکور ٹکڑوں میں عام مل جاتے ہیں۔ رہی کان کی بات، آپ کان کا میل صاف کرانے کے لیے کسی اچھے کانوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ کان میں پِن، چابی، دیا سلائی وغیرہ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اس سے کان میں انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ آپ احتیاط کریں ورنہ کان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کان میں چابی کی وجہ سے زخم بھی بن سکتا ہے۔ آپ ایک بار ضرور کان کا معاینہ کرائیں۔

نظر کی کمزوری

عامر شہزاد عمر۱۶ سال، عینک لگنے کے باوجود نظر کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے لیے مشورہ مانگتے ہیں۔بیٹا! آپ کسی اچھے ڈاکٹر سے آنکھ کا معاینہ کراکے نئی عینک بنوائیں۔ سونف بادام ہم وزن لے کر پیس لیں۔ اس میں چینی یا مصری ملادیں۔ آپ تینوں چیزیں بھی ہم وزن لے سکتے ہیں۔ صبح شام ایک چمچ سفوف دودھ کے ساتھ کھائیں۔ جب بھی گاجر کا موسم ہو، روزانہ گاجر کا جوس لیں۔ اس سے بہت فرق پڑے گا۔ عینک کا نمبر صحیح ہونا چاہیے۔ ٹیلی ویڑن قریب سے نہ دیکھیں، آنکھوں پر بْرا اثر پڑتا ہے۔

پھسڈی بچے

میرے ۶ بچے ہیں اور سب کے سب پڑھائی میں بالکل دلچسپی نہیں لیتے۔ بڑی مشکل سے پاس ہوتے ہیں۔ ویسے ہیں ذہین اور کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں اسکول جاتا تھا میری والدہ پراٹھا یا گھی سے چپڑی روٹی بناتی تھیں۔ رات کے سالن اور آملیٹ کے ساتھ ناشتا ہوتا تھا۔ دودھ یا لسی کا ایک گلاس ضرور ملتا تھا۔ میں اپنی بیگم سے کہتا ہوں کہ وہ صبح ناشتا بنائیں مگر وہ ڈبل روٹی اور مکھن چائے کے ساتھ دیتی ہے۔ لنچ میں لے جانے کے لیے وہ دو تین چکن کے نگیٹس تل دیتی ہے اور بس۔ بچے توس بھی نہیں کھاتے، بھوکے اسکول جاتے ہیں۔ آپ اس بارے میں ضرور بتائیں۔ اچھا ناشتا بچوں کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔ ہمارے ہاں گھروں کا یہی مسئلہ ہے۔

آپ کی بات سے میں متفق ہوں۔ بچوں کو ناشتا کرکے ضرور جانا چاہیے۔ پہلے مائیں صبح اذان کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔ کام کاج کے ساتھ وہ ناشتا بھی بناتیں۔ کبھی دلیہ بنتا، کبھی کچوریاں تلی جاتیں۔ چھٹی کے روز گھر میں حلوہ پوری بنتی۔ بچوں کو بازار کی چیزیں بالکل نہیں کھلائی جاتی تھیں۔ اب تو فری ہوم ڈلیوری ہے۔ آرڈر کریں تو گھر دے جاتے ہیں۔ دفتر جانے والوں کو خاص طور پر دیسی گھی کا پراٹھا انڈا ناشتے میں دیا جاتا تھا تاکہ وہ تمام دن کام اور تھکاوٹ محسوس نہ کریں۔ اب تو ۸۹ فیصد بچے ناشتے کے بغیر اسکول جاتے اور چھٹی کے وقت کینٹین سے چیزیں خرید کر کھاتے ہیں۔

پہلے خواتین کہتی تھیں روٹی میں بہت غذائیت اور طاقت ہے۔ سوکھی روٹی پیاز کے ساتھ بھی کھا لی جائے تو مزدور چلچلاتی دھوپ میں کام کر سکتا ہے۔ ڈبا بند جوس اور بیکری کی اشیا بچوں کے لیے مفید نہیں۔ آپ روٹی پر مکھن یا گھی لگا کر کھا سکتے ہیں۔ دہی کی لسی کے ساتھ پراٹھا کھا سکتے ہیں۔ جو بچے پیٹ بھر کر ناشتا کرتے ہیں وہ پڑھائی میں بھی تیز ہوتے ہیں۔ بچوں کے کھانے پینے کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کی عمر بڑھوتری کی ہوتی ہے۔ انھیں غذائیت ملے تو وہ چاق و چوبند رہتے ہیں۔ مائوں کو چاہیے وہ بچوں کی صحت کا خیال رکھیں۔ انھیں اچھا ناشتا اور کھانا بنا کر دیں۔ سلاد اور پھل غذا میں شامل کریں۔ بچوں کی صحت اچھی رہے گی۔

آملہ کا تیل

بازار میں آملہ کا تیل ملتا ہے مگر وہ خالص نہیں ہوتا۔ گھر میں کس طرح آملہ کا تیل بنتا ہے؟ اس کے فوائد بتائیں؟

آج بھی اچھے دواخانے آملہ کا خالص تیل بناتے ہیں۔ آملہ کا تیل سر میں ٹھنڈک ڈالتا، بالوں کی خشکی دور کرتا، بالوں کو نرم ملائم رکھتا اور گرنے سے روکتا ہے۔ جو لوگ یہ تیل باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں ان کے بال اچھے رہتے ہیں بلکہ سیاہی بھی قائم رہتی ہے۔ گھر میں تیل بنانے کے لیے سرسوں یا ناریل کے تیل میں آملہ کے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں۔ آدھا کلو تیل بوتل میں ڈالیں۔ اس میں تقریباً ڈیڑھ چھٹانک آملہ موٹا موٹا کوٹ کر ڈالیں۔ گٹھلیاں نکال دیں۔ اس تیل کو دھوپ میں رکھیں۔ دن میں ایک دوبا رہلادیا کریں۔ ۱۵ دن کے بعد آملے نکال دیں۔

چھان کر تیل استعمال کریں۔ اکثر لوگ آملے نہیں نکالتے بلکہ اسے تیل میں رہنے دیتے ہیں۔ ۱۵ دن بعد دھوپ میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔

سبز آملے اچھی طرح کچل لیں۔ گٹھلیاں نکال دیں۔ تقریباً ایک پائو آملے لے کر ایک کلو تیل میں ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب آملے جل جائیں صرف تیل رہ جائے تو اْتار کر چھان کر رکھ لیں۔ آملے کا تیل تیار ہے۔ آپ اس میں رنگ، خوشبو بھی ملا سکتے ہیں۔ ورنہ اسی طرح استعمال کرنے سے بال مضبوط اور سیاہ ہو جائیں گے۔ گرمی سے ہونے والا سردرد بھی ختم ہوجائے گا۔

پیٹ کا مسئلہ

میری بہن کوئی بھی مرچوں والا سالن کھالے تو اسے پیچش ہوجاتی ہے۔ مہینے میں ایک دو مرتبہ ڈاکٹر کے ہاں جانا پڑتا ہے۔ کوئی گھریلو ٹوٹکا بتائیں تاکہ اسے آرام آجائے۔ (اِرم شاہ) اپنی بہن سے کہیے زیادہ مرچوں والا سالن نہ کھائے۔ کھانے کے بعد آدھا کپ دہی ضرور لیں، اس سے مرچوں کا اثر کم ہو جائے گا۔ اسپغول کی بھوسی ہر جگہ مل جاتی ہے۔ ایک پیکٹ لا کر رکھ لیں۔ جب بھی پیچش ہو، تو ایک بڑا چمچ اسپغول کی بھوسی آدھ پائو دہی میں اچھی طرح ملا کر رکھ دیں۔ اسے فریج میں نہ رکھیے گا۔ گھنٹہ بھر بعد اسے کھا لیجیے۔ اس میں آپ تھوڑی سی چینی بھی ملا سکتے ہیں۔ دو مرتبہ روز کھائیں۔ پیچش کا مسئلہ ٹھیک ہوجائے گا۔ کچھ لوگ اچھا پکا ہوا کیلا چھیل کر اس پر اسپغول کا چھلکا اچھی طرح لگا کر کھاتے ہیں۔ اس سے بھی پیٹ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اسپغول معدے کے لیے بہت اچھی دوا ہے۔ آپ اسے کھا کر دیکھیں۔

سردرد

میں دوپہر کو جب گھر آتاہوں تو بہت گرمی ہوتی ہے۔ میرے سر میں سخت درد شروع ہوجاتا ہے، جو شام تک رہتا ہے۔ میں کوئی دوا نہیں کھانا چاہتا۔ عمر ۵۲ سال ہے اس کے لیے گھریلو ٹوٹکا بتائیں۔

پہلی بات یہ کہ آپ سر پر کوئی ٹوپی یا رومال رکھیں۔ ٹھنڈے مشروبات استعمال کریں۔ تخم ملنگاں ایک چمچ ایک گلاس پانی میں بھگوئیں۔ صبح جاتے وقت بھگو دیں اور آکر اس میں تھوڑا سا دودھ چینی ملا کر شربت کی طرح پئیں۔ مالی سے کہہ کر تلسی کے پتے منگوائیں۔ صندل کی لکڑی کا برادہ پنساری سے خریدیں۔ پندرہ بیس تلسی کے پتے رگڑ کر اس میں چوتھائی چمچ صندل کا برادہ ملا کر گاڑھے پیسٹ کی طرح پیشانی پر لگائیں۔ تلسی کے پودے ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ اس میں بہت افادیت ہے اور کئی امراض کو دور کرتی ہے۔ اس کا پیسٹ لگانے سے سکون مل جاتا اور درد دْور ہوجاتا ہے۔ صندل کا شربت پینے سے گرمی دور ہوتی ہے۔ ٹھنڈے مشروبات پینے سے فرق پڑتا ہے۔ کھیرے، ککڑی کی سلاد ضرور کھائیں۔ اس میں پیاز اور پودینہ ملائیں۔ زیادہ گرمی محسوس ہو تو کچے آم کا شربت ساری گرمی ختم کردیتا ہے۔

پہلے تو آگ میں آم بھلبھلاتے تھے۔ گرم گرم راکھ میں دبا دیتے۔ آم نرم پڑجاتا تو دھو کر چھیل کر پانی میں ملا کر چینی ڈال کر پیتے۔ سارا جسم گرمی سے تپ رہا ہو تو اس آم کا گودا تھوڑے پانی میں ملا کر جسم پر چھینٹے دیتے تاکہ گرمی کا اثر دور ہو جائے۔ بہرحال گرمی کے موسم میں شدید دھوپ سے بچنا چاہیے اور پانی زیادہ سے زیادہ پینا چاہیے۔ سبزیاں کچی پکی کھانی چاہئیں اور دہی اپنی خوراک میں ضرور شامل کرنی چاہیے۔ دھوپ سے چہرہ متاثر ہو تو گھیکوار کا گودا لگائیں۔ گھر میں سیب ہو تو اْس کے باریک قتلے کاٹ کر چہرے پر رکھنے سے ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔ سیب کاٹنے سے پہلے فریج میں ٹھنڈا کر لیں۔

انگور

بازار میں لال اور کالابڑا انگور ملتا ہے میں ہمیشہ سبز انگور خریدتا ہوں۔ آپ کالے انگور کے متعلق بتائیں یہ کتنے فائدہ مند ہیں۔

انگور قوت و توانائی اور غذائیت سے بھرپور ہے اور لوگ اسے زمانہ قدیم سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ انگور میں قدرتی طور پر خالص گلوگوز ہوتا ہے۔ اس کے کھانے سے جسم میں فوری توانائی کا احساس ہوتا ہے۔ بخار سے اٹھے ہوئے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھا ہے۔ اس کے کھانے سے صحت بہتر ہوتی ہے۔ انگور سبز، زرد، کالے، سرخ رنگوں میں ہوتا ہے۔ قدرت کے اس عطاکردہ پھل سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کالے انگور بہت فائدہ مند ہیں۔ دل کے لیے مفید۔ آج بھی لوگ کالے اور سرخ انگور کو پسند کرتے ہیں۔ اس کا جوس بھی ڈبے میں بند ملتا ہے۔ لیکن انگور کا تازہ بنا ہوا رس زیادہ فائدہ مند ہے۔

ہائی بلڈپریشر کے مریض کالے انگور سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کینسر کی مختلف قسموں میں کالے انگور کا استعمال مفید ہے۔ کشمش اور منقیٰ بازار میں تمام سال دستیاب ہیں۔ قبض کے لیے منقی استعمال کیا جاتا ہے۔ چند دانے ایک گلاس پانی میں رات کو بھگوتے ہیں اور اگلے دن ان کو کھاتے ہیں۔ پانی پی لیتے ہیں۔ اس سے قبض نہیں رہتا۔ بے ضرر علاج ہے۔ چھوٹے بچوں کو عمر کے مطابق منقی کا پانی دے سکتے ہیں۔ منقی کھانے سے پہلے اچھی طرح دھو لیا جائے تاکہ مٹی گردوغبار صاف ہوجائے اور اس کے بیج نکال لیے جائیں۔ اسی طرح جو لوگ خون کی کمی کا شکار ہوں، اپنا وزن بڑھانا چاہتے ہوں وہ انگور اور منقی سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ حکیم اجمل خان مرحوم نامی گرامی حکیم تھے۔ ان کے کچھ نسخے آج بھی گھروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ کمزور بچوں کے لیے بادام، منقی، عناب پیس کر روزانہ کھلانے سے بچہ صحت مند رہتا ہے۔ کمزوری دور ہو جاتی ہے اور یہ سب منقی کا کمال مانا جاتا ہے۔ آپ انگور ضرور کھائیں۔ چاہے جس رنگ کے ملیں، ان کو کھانا چاہیے۔ صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔

گردن پر کالا نشان

میرے پاس ایک خوبصورت ہار ہے۔ کسی نے یہ مہنگا ہار تحفہ میں دیا تھا۔ نقلی ہے مگر دیکھنے میں بالکل اصلی لگتا ہے۔ میں نے ایک بات نوٹ کی ہے۔ جب بھی میں یہ ہار پہنتی ہوں، تو چند گھنٹوں بعد جگہ سرخ ہوجاتی ہے۔ کھجلی ہوتی ہے۔ پھر یہ جگہ کالی ہو جاتی ہے۔ چند روز بعد سیاہی دور ہوتی ہے۔ یہ کیا ہے؟

بی بی! کچھ لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ ان کو دھات سے الرجی ہوتی ہے۔ آپ ہی نہیں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی دھات سے الرجی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ میں نے خود ایسی خواتین دیکھی ہیں جن کے کان میں زیور پہننے سے دانے ، خارش، ورم ہو تا ہے۔ پھر اس میں سے پیپ اور خون رستا رہتا ہے۔ ایک ایسی ہی لڑکی کو میں نے کان میں صرف نیم کے تنکے ڈالنے کی تاکید کی۔ نیم کی وجہ سے ان کی یہ تکلیف دور ہوئی۔ آپ اس ہار کو سنبھال کر رکھ لیں۔ کسی خاص تقریب میں پہنیں۔ گلے میں ٹیلکم پائوڈر لگائیں اور گھر آتے ہی آپ ہار اتار دیں۔ اچھی طرح گردن صاف کریں اور کوئی لوشن لگا لیں۔

یہ تو وقتی تدبیر ہے۔ میں آپ کو مشورہ دوں گی یہ ہار اچھی دھات کا نہیں ہے، اس میں نکل ہونے کی وجہ سے گردن میں الرجی ہوتی ہے۔ ایسی چیزوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاتھ میں نقلی چوڑیاں، انگوٹھی پہننے سے بھی بعض دفعہ خارش شروع ہوجاتی ہے۔ کانوں میں تکلیف محسوس ہو تو آپ فوراً کانوں میں سے زیور اتار دیجیے۔ آج کل نقلی زیورات کی بھرمار ہے۔ ان میں پتا نہیں کون کون سی دھات ملائی جاتی ہے۔ آپ احتیاط کریں۔ ایسا فیشن اور نمائش کس کام کی جو آپ کو تکلیف میں مبتلا کر دے۔

الرجی ٹھیک ہوگئی

ہمار قاریہ بہن ادیبہ گوجرانوالہ میں رہتی ہیں۔ انھوں نے ہمارے طب و صحت نمبر میں ’’مشورہ حاضر ہے‘‘ میں عناب کے بارے میں پڑھا۔ یہ دافع حساسیت ہے۔ ان کو ایک عرصہ سے الرجی تھی۔ سارا جسم خشک اور جلن، گرمی محسوس ہوتی تھی۔ انھوں نے پانچ ہفتہ عناب اور گل منڈی نسخہ کے مطابق پیا۔ اللہ کے فضل سے دیرینہ شکایت دور ہوگئی۔ پھر انھوں نے اپنے بیٹے کو بھی یہی نسختہ استعمال کرایا۔ وہ بھی ماشاء اللہ ٹھیک ہو گیا۔ ان کے بیٹے احمد کو بھی فسادِخون کا مسئلہ تھا۔ انھوں نے فون پر شکریہ ادا کیا اور مزید معلومات لیں۔ پانچ دانے عناب اور بارہ دانے گل منڈی کے ایک گلاس پانی میں رات کو بھگودیے جائیں اور صبح مل چھان کر پی لیے جائیں۔ ایک ہفتہ سے لے کر تین ہفتہ تک پینے سے بہت فرق پڑجاتا ہے۔

ویڈیو گیم

بچے ویڈیو گیم بہت کھیلتے ہیں ان کو کیسے روکا جائے؟ بعض دفعہ تو وہ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ کھیل میں مست رہتے ہیں۔

بی بی! کئی جگہ بچوں پر سختی کرنی پڑیتی ہے۔ اب تو جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے بچوں کو ایک گھنٹہ سے زیادہ کمپیوٹر پر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ آپ بچوں کو پیار سے سمجھائیں۔ وہ مان جائیں گے۔ جو بچے زیادہ گیمز کھیلتے ہیں وہ سوچ بچار میں رہتے ہیں، پریشان ہو جاتے ہیں۔ بہن بھائیوں اور دوستوں میں بھی گھلنا ملنا اچھا نہیں سمجھتے۔ ہر وقت گیم میں دل لگا رہتا ہے۔ ویڈیو گیمز کھیلیں ضرور مگر ایک گھنٹہ بعد ختم کردیں۔ اس سے صحت بہتر رہے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply