استحصال

ہے یہ مردوں کی عیاری، نہیں تہذیب کی صورت

ہے انسانی طبیعت کی کھلی تکذیب کی صورت

زنِ سادہ بنی شو پیس بازارِ تمدن میں

سمجھتی، کاش! دھوکا ہے حسیں ترغیب کی صورت

چمک آنکھوں میں جاگی سی، لبوں پر مسکراہٹ سی

سنبھالا آخری لیتی ہوئی، تخریب کی صورت

شیئر کیجیے
Default image
شاہ حسین نہری

Leave a Reply