پیغامِ عمل

خراجِ عقیدت ادا کرنے والو! خراجِ عقیدت سے کیا کام ہوگا

یہی ہے زبانی محبت کا عالم، تو دینِ ہدیٰ اور بدنام ہوگا

اگر سن سکو تم تو روحِ محمدؐ خراجِ اطاعت کی طالب ہے تم سے

یہی ہے جو قول و عمل کی دو رنگی، بہت درد انگیز انجام ہوگا

فقط خوش بیانی کے جوہر دکھا کر کوئی قوم دنیا میں ابھری نہیں ہے

عمل چھوڑ کر، صرف باتیں بناکر کوئی قوم دنیا میں ابھری نہیں ہے

یہ سچ ہے کہ میلاد و سیرت کے جلسے بظاہر ہیں بامِ سعادت کے زینے

یہ سچ ہے کہ نعتِ محمد کے موتی ہیں ایمان کی انگشتری کے نگینے

مگر اے قصیدہ گرو یہ تو سوچو! کہ بے روح لفظوں کی قیمت ہی کیا ہے

بنے ہیں کہیں نقش آبِ رواں پر، چلے ہیں کہیں خشکیوں میں سفینے

نبی کی حیاتِ مقدس کو دیکھو، ملے گی سراپا جہادِ مسلسل

وفا کی صلابت میں فولاد و آہن، کرم کی لطافت میں رحمت مکمل

یہ سوچو کہ نورِ ہدایت کا پرچم، جنابِ محمد نے کیسے اُڑایا

یہ سوچو کہ دبتوں کو کیسے ابھارا، یہ سوچو کے گرتوں کو کیسے اٹھایا

یہ سوچو کہ کیا چیز تھی جس کے بل پر، خدا کے اکیلے پیمبرؐ نے اٹھ کر

الٹ دی تھی ایوانِ روما کی مسند، پلٹ دی تھی صحرا نشینوں کی کایا

یہی ناکہ اس بندئہ باصفا نے جلایا چراغِ جہاد و عزیمت

یہی نا کہ میدانِ سعی و طلب میں نہ چھوڑا کبھی دامنِ استقامت

یہی نا کہ سارے زمانے سے کٹ کر اٹھایا خدا کی اطاعت کا پرچم

ہدایت کا دین اور سعادت کا پرچم، وفا کا حقیقی محبت کا پرچم

وہ بدر و حنین و تبوک واحد کا، جفا کوش، جانباز، یکتا مجاہد

وہ تھا جس کے مضبوط دستِ عمل میں، جہاں سے نرالی شجاعت کا پرچم

وہ جرأت سراپا، وہ ہمت مجسم، وہ راتوں کا عابد و دن کا سپاہی

وہ جس نے سیاست کی زلفیں سنواریں، وہ جس نے فقیری میں کی بادشاہی

اگر اس سے کچھ بھی عقیدت ہے تم کو، تو اپنا وطیرہ بدلنا پڑے گا

نفاقِ زبان و عمل سے گزر کر صداقت کے سانچے میں ڈھلنا پڑے گا

خبر دے رہا محمد کا اسوہ، کہ آساں نہیں ہے مسلمان ہونا

بہت امتحانات درپیش ہوں گے، بہت سخت راہوں پہ چلنا پڑے گا

وہ شعب ابی طالب و شہرِ طائف برابر صدا پر صدا دے رہے ہیں

وہ مکہ کی خاکِ مقدس کے ذرے، نقوشِ قدم کاپتا دے رہے ہیں

اٹھوں مومنو! آج سے عہد کرلو، حبیبِ خدا کی اطاعت کرو گے

عقیدت کے پہلو بہ پہلو عمل سے، حقیقت میں تعمیلِ سنت کرو گے

وہ تابندہ اسلام جو رہ گیا ہے، کتابوں کے اوراق میں دفن ہوکر

وفاکیشیوں سے جفا کوشیوں سے، زمانہ میں اس کی اشاعت کروگے

یہ ذوقِ اطاعت سے خالی عقیدت، عقیدت نہیں صرف بازیگری ہے

جو ایثار و اقدام سے جی چرائے، محبت نہیں صرف بازیگری ہے

شیئر کیجیے
Default image
عامرؔ عثمانی

Leave a Reply