خواب دیکھئے، خواب دکھائیے

ماں کا ایک اہم رول یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خواب دکھاتی ہے۔ اپنی لوریاں کے ذریعہ، کہانیوں کے ذریعہ، نصیحتوں کے ذریعہ اور اپنی میٹھی میٹھی باتوں کے ذریعہ وہ بچے کو ایک وژن فراہم کردیتی ہے۔ عظیم شخصیات کے تذکروں کے ذریعہ تاریخ کے بلند کرداروں کے حوالوں سے اور پاس پڑوس میں پھیلی ہوئی مثالوں کے ذریعہ ایک نصب العین بچے کی نگاہوں کے سامنے سیٹ کردیتی ہے۔
اس وژن اور اس خواب کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اکثر شخصیتیں اسی کو بنیاد پر تعمیر ہوتی ہیں۔ عظیم شخصیتوں کی سوانح حیات پڑھئے، اکثر جگہ ماؤں کی نصیحتوں اور ان کے خوابوں کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ وہ لوگ بھی جنھوں نے نہایت بے بسی، اور بے یقینی کے عالم میں اپنی زندگی کا سفر شروع کیا اور کامیابی کی منازل طے کرتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام روشن حرفوں میں درج کرگئے، اکثر اپنی عظیم ماؤں کے مرہونِ منت نظر آتے ہیں۔ ماں کے خواب، ماں کی آرزوئیں اور ماں کی نصیحتیں زندگی میں عزم و ارادہ، حوصلہ و امنگ اور جہدِ مسلسل کی تحریک کا بہت بڑا سرچشمہ تشکیل دیتی ہیں۔
وہ بیٹے بہت خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی ماؤں کو نہایت بلند اور پاکیزہ خواب دیکھنے والی آنکھوں نصیب ہوتی ہیں۔ یہ خواب دراصل ان کے نہایت تابناک مستقبل کی طرف چڑھائی کے لیے پہلا زینہ بنتے ہیں۔ ’’بیٹا تم بڑے ہوکر کیا بنوگے؟‘‘
یہ سوال دنیا کی ہر ماں اپنے بچے سے کرتی ہے۔ اور خود ہی اس کا جواب بھی دیتی ہے۔ جواب کا انحصار ماں کے ظرف پر ہوتا ہے۔ پست خیال اور پست ذہن ماں کا خواب بھی نہایت پست ہوگا۔ وہ اپنے بچوں کو حقیر خواب دکھائے گی۔ دولت کے خواب، عہدوں کے خواب، جاہ و حشمت کے خواب، بیٹا تمہارا باپ مزدور ہے، تمہیں مستری بننا ہے، تمہارا باپ چپراسی ہے، تمہیں پڑھ لکھ کر بابو بننا ہے، تمہیں انجینئر بننا ہے، ڈاکٹر بننا ہے، کلکٹر بننا ہے۔ تمہیں کار والا بننا ہے، بنگلہ والا بننا ہے۔ ایسی ماؤں کے بچے اکثر طاغوتی نظام کے کل پرزے اور بے دام غلام بن کر نکلتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں:’’ہوا کے دوش ہر اڑنے والے خس و خاشاک اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض‘‘ ایسے ہی حقیر خوابوں کا اینڈ پروڈکٹ (End Product)ہوتے ہیں۔ ان میں نہ دنیا کو بدلنے کا کوئی داعیہ ہوتا ہے، نہ کسی بلند مقصد کے لیے کام کرنے کی جرأت اور حوصلہ ۔ وہ محنت و مشقت کے ذریعہ کوئی ہنر،کوئی علم، کوئی ڈگری حاصل کرلیتے ہیں۔ اور زندگی بھر روٹی کے ٹکڑوں کے عوض اپنے آقاؤں کے لیے بے معنی کام کرتے رہتے ہیں۔ اگر ان کے کچھ آدرش ہوں بھی تو ان کے لیے جدوجہد کرنے کی خاطر ان کے پاس ایک لمحہ بھی نہیں ہوتا۔
زوال یافتہ قوموں کی اکثریت بلکہ عظیم اکثریت، ایسے ہی پست ذہن غلاموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ چاہے ان کی ڈگریاں کتنی ہی اونچی ہوں، اور وہ کتنے ہی مہذب اور شائستہ نظر آتے ہوں اور کیسے ہی بلند عہدوں پر فائز ہوں، اصلاً تو وہ سسٹم کے بے دام اور بے حیثیت غلام ہی ہوتے ہیں۔ جن اصولوں کو وہ صحیح سمجھتے ہیں، ان کے لیے کچھ بھی نہیں کرپاتے۔ تاریخ کے قافلے، ان کے ماتم، سینہ کوبی، اور ڈرائنگ روم مباحث کے باوجود انہیں روندتے ہوئے، پامال کرتے ہوئے گزرجاتے ہیں۔ وقت انہیں ان کی ڈگریوں، دولت اور عہدوں سمیت، تاریخ کی ڈسٹ بن میں جھونک دیتا ہے۔ اور انسانیت تو دور کی بات ہے، خود ان کے پر پوتے ان کے نام تک سے ناواقف ہوتے ہیں۔
اس کے بالمقابل عالی ظرف مائیں اپنے بچوں کو وہ خواب دکھاتی ہیں جو عبداللہ بن زبیرؓ، حسین بن علیؓ، ابن تیمیہؒ، سید احمد شہیدؒ، علامہ اقبالؒ، سید قطب شہیدؒ، سرسیدؒ اور سید مودودیؒ کی ماؤں نے اپنے بچوں کو دکھایا تھا۔ ان تاریخ ساز بزرگوں میں سے ہر ایک کی سوانح میں ان کی ماؤں کا ضرور ذکر ملتا ہے۔ ان بلند خیال ماؤں کی آنکھوں میں عارضی چکا چوند کے خواب نہیں مچلتے، وہ اپنے بچوں کو امامت و قیادت کے منصوبوں پر دیکھتی ہیں۔ عہد سازی اور تاریخ سازی کا رول ادا کرتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ تاریخ کا دھارا موڑتے ہوئے اور حیاتِ انسانی کے سفر کی سمت درست کرتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ ان کے خوابوں کا محور و مرکز اپنے بچوں کے کردار کی قوت ہوتا ہے۔
حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ بیٹا، دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا، میدانِ جنگ میں جرأت کے ساتھ مردانہ وار زخم قبول کرنا، تمہاری شہادت میرے لیے سرمایۂ افتخار اور تمہاری بزدلی میرے لیے ذلت ہوگی۔‘‘ اس شریف ماں کے بلند خواب نے جس شخصیت کی تعمیر کی، آج تاریخ اس کا نام نہایت احترام سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہہ کر لیتی ہے۔
ایک کم عمر طالب علم نے رہزنوں کے پوچھنے پر اپنی متاعِ کل کی نشاندہی کردی اور لٹ کر بدحال اور قلاش ہوجانا منظور کرلیا، صرف اس لیے کے اس کی ماں نے اسے ہمیشہ سچ بولنے کی نصیحت کی تھی۔ اس عظیم ماں کے خواب کی پیداوار آج کروڑوں انسانوں کی عقیدتوں کا محور ہے، دنیا انہیں ’’پیرانِ پیر‘‘ کہتی ہے۔ اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے تذکرہ کے بغیر اسلامی تصوف کی کوئی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔
دو تین صدی پہلے یوپی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک ماں نے اپنے بچے کو ایک خواب دکھایا تھا – بلند و پاکیزہ خواب – اس بچہ کو آج اسلامی تاریخ سید اور شہید کے نام سے جانتی ہے۔
مصر کے ایک گاؤں میں ، ایک ماں نے بڑے چاؤ سے اپنے ذہین و فطین بچہ کو قرآن کی تعلیم دی، بلکہ تعلیم کا آغاز حفظِ قرآن سے کرایا- اسے کچھ خواب دکھائے- پھر اس بچہ نے اونچی ڈگریاں بھی لیں – امریکہ سے پڑھ آیا – لیکن کمانے یا عہدہ پانے کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کی خاطر۔ اس بچہ کو پھانسی پائے آج تقریباً ۴۰ سال ہورہے ہیں لیکن وہ ابھی بھی ساری اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھوں کا کانٹا بنا ہوا ہے۔ اور سید قطبؒ کو دنیا بھر کے اسلام پسند اپنا محسن مانتے ہیں۔
زوال پذیر اور خوابیدہ ملت میں اپنے نغموں کے ذریعہ زندگی و تازگی کی نئی لہر دوڑانے والے سر محمد اقبالؒ اپنی ماں کے بارے میں کہتے ہیں ؎
موج دود آہ سے آئینہ ہے روشن میرا
گنج آب آورد سے معمور ہے دامن میرا
چیرتی ہوں میں تیری تصور کے اعجاز کا
رخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا
تربیت سے میں تیری انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا
دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
یہ ان ماؤں کا ذکر تھا جن کی گود میں انسانیت کے محسن پیدا ہوئے۔
آج امت مسلمہ کی بدقستمی میں سے ایک بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ امت ایسے خواب دکھانے والی ماؤں سے محروم ہوگئی۔ ہمارے احوال کی پستی کا بنیادی سبب ہمارے خوابوں کی پستی ہے۔ ہمارے روشن دور میں مائیں اپنی گودوں میں اپنے بچوں کو بتاتی تھیں کہ آج صلاح الدین ایوبی نے فلاں معرکہ سر کیا ہے، آج امام احمد بن حنبلؒ نے خلیفہ کے مقابلہ میں فلاں بات کہی ہے۔ اس کے مقابلہ میں آج صورتحال یہ ہے کہ ہماری ماؤں کو پتہ ہی نہیں کہ نجم الدین اربکان کون ہیں؟ ا ور راشد الغنوشیا کس چڑیا کانام ہے۔ وہ عملی زندگی میں انجینئروں اور ڈاکٹروں کے قافلے دیکھتی ہیں اور ٹی وی کے پردے پر راہول دارویڈ اور سلمان خان کو۔بچے اسی خواب کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کرتے ہیں اور کسی ایم این سی میں جاکر فنا ہوجاتے ہیں۔ ذہین نوجوانوں کے ایسے قافلے تیار ہوجاتے ہیں جو کسی ایم این سی میں ۱۶، ۱۷ گھنٹے خدمات انجام دیتے ہیں اور رات میں تھکے ہارے امت کے احوال پر بے معنی تبصرے کرکے سوجاتے ہیں۔اسلام اور امت اسلام کو ان کے وجود کا مردم شماری کے بھاری بھرکم عدد کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ مستقبل کی تاریخ پتھر کی ان بے جان مورتیوں پر لعنت بھیجے گی اور آئندہ نسلیں ان ماؤں کو بھی کوسیں گی جن کی بانجھ گود میں اس قحط الرجال کا سبب بنیں۔
حجاب کی قارئین سے ہماری استدعا یہی ہے کہ اپنا شمار ان بدنصیب ماؤں میں مت کرائیے۔ اپنے بچوں کو اونچے خواب دکھائیے۔ ہر وہ اونچا خواب جو آپ اپنے بچوں کو دکھائیں گی، انشاء اللہ اس ستم رسیدہ امت کی حالت کو سدھارنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنے گا۔ اور آئندہ نسلیں اس خواب کے لیے آپ کی احسان مند رہیں گی۔
اس دنیا کو بدلنا ہے
سب سے پہلا خواب یہ دکھانا ہے کہ بیٹا، اس دنیا کو بدلنا ہے۔ یہ دنیا خدا کے احکام کی نافرمانی کرکے، ظلم، ناانصافی اور فتنہ و فساد کا گڑھ بن گئی ہے۔ تمہیں خوب پڑھنا ہے، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر بھی بننا ہے، لیکن دنیا کے ڈھب پر چلنے کے لیے نہیں، اس بے ڈھب دنیا کے خود ساختہ آقاؤں کی غلامی کے لیے نہیں، بلکہ اس دنیا میں ایک بڑی تبدیلی لانے کے لیے۔ بیٹا، اس دنیا کو ویسا ہی بناناہے جیسی یہ اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں تھی، صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کے دور میں تھی۔ اس کے لیے اعلیٰ صلاحیتیں حاصل کرنی ہیں۔ اندھی تقلیدی صلاحیتیں نہیں بلکہ اختراعی اور اجتہادی صلاحیتیں۔ تاکہ ان صلاحیتوں کے بل پر اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ایک نئی دنیا کی تعمیر کی جاسکے۔ اس کے لیے ہر چیز بدلنی ہے۔ ہر چیز نئی بنانی ہے۔ نیا علم، نئے فنون، نئے ارادے، نئی تہذیب، نئی ٹکنالوجی، ایک ایسی پاکیزہ دنیا بنانی ہے جس میں ہر ایک کو انصاف حاصل ہو۔ مساوات ہو، اخوت ہو، ایمانداری ہو، خدا کا خوف ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ خواب دکھانا ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے بے دماغ اور بے ضمیر غلام نہیں بنے رہیں گے بلکہ اس نئی دنیا کی تشکیل کا بیڑہ اٹھائیں گے۔
کردار کی بلندی
نئی دنیا کی تشکیل کے لیے پہلی ضرورت اعلیٰ اور پختہ کردار ہے۔ محض صلاحیتوں کے بل پر غلامی تو کی جاسکتی ہے رہبری و امامت کا منصب اور انہیں کیا جاسکتا۔ صداقت، دیانت داری، اصول پسندی، ہمت و شجاعت، جرأت و بے باکی اور اس طرح کی اعلیٰ اخلاقی صفات کے بغیر وہ شخصیت بن ہی نہیں سکتی جس کی آج اسلام کو ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسے پختہ کردار کا خواب دکھانا ہے جسے کسی صورت جھکایا نہیں جاسکتا، جس کے ضمیر کو خریدا نہیںجاسکتا، جس کے اصولوں کا سودا نہیںکیا جاسکتا، جس کی اصل متاع اس کے اصول ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو نڈر، بے باک اور بہادر بنانا ہے۔ ان کے اندر ظلم کے خلاف جدوجہد کا داعیہ پیدا کرنا ہے۔ ان کے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ بزدلی ایک اخلاقی عیب ہے، اور ڈر ایک قابل نفرت شئے۔ گویا انہیں بہادر اور جری بننے کا خواب دکھانا ہے۔
ساتھ ہی ہمیں اپنے بچوں کو ساری انسانیت سے محبت کرنے کی تعلیم دینی ہے۔ ہمارے بچے ہندو، مسلم سکھ، عیسائی سب کو اللہ کے بندے سمجھیں۔ سب کی بھلائی کی فکر کریں۔ وہ صرف مسلمانوں کے لیڈر بننے کا خواب نہ دیکھیں، انسانیت کے رہبر و رہنما بننے کا خواب دیکھیں۔ ان کا وژن صرف مسلمانوں کی نجات نہ ہو بلکہ ساری دنیا میں عدل و قسط کا قیام ہو۔
کردار کی سب سے اہم خوبی یہ کہ ہمارے بچے بیل، بکریوں اور چوہے بلیوں کی طرح صرف اپنے اور اپنے بال بچوں کے پیٹ کی خاطر جینے والے نہ بنیں۔ اپنی قیمتی زندگی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو چھوٹے اور حقیر کاموں میں نہ گنوادیں، بلکہ ایک مشن کی خاطر جئیں – کچھ کرکے جائیں -جتنا اس دنیا سے لے رہے ہیں، اس سے زیادہ اس دنیا کو دے کر جائیں۔
اعلیٰـ ترین صلاحیتیں
ہم اپنے بچوں کو صلاحیت اور علم و فن کے اعلیٰ ترین مقام کا خواب دکھائیں۔ دنیا کو بدلنے کے لیے علم و صلاحیت بھی نہایت ضروری ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں ان کا ہدف بہت اونچا ہونا چاہیے۔ کوئی ڈگری حاصل کرنا،رینک لے لینا مارکس اسکور کرنا، یہ سب بہت معمولی باتیں ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو نوبل پرائز جیتنے کا خواب دکھائیں۔ فارابی اور بو علی سینا بننے کا خواب دکھائیں۔ علم و فن کے مختلف میدانوں میں خدا بیزار لوگوں کی بنی بنائی لکیریں پیٹنے کے بجائے ، اختراعات اور ایجادات کا ذریعہ بنے کا وژن دیں۔ مولانا مودودی کے الفاظ میں ’مقلدوں کے کمال کا نہیں، بلکہ مجتہدوں کے کمال‘ کا خواب دکھائیں۔
خواب کیسے دکھائیں؟
خواب دکھانا کوئی مصنوعی عمل نہیں ہے۔ ایک ماں اپنے بچہ کو وہی خواب دکھا سکتی ہے جو خود اس کی آنکھوں میں مچل رہا ہوتا ہے۔ بلند خواب دیکھنے کے لیے فکر وخیال کی بلندی، جذبات کی پاکیزگی اور قلب کی وسعت درکار ہے۔ اونچے خواب اونچے دماغوں ہی میں پیدا ہوسکتے ہیں۔ وہ ماں کیا بلند خواب دیکھے گی جو صرف وقت کے قارونوں اور ہامانوں کو جانتی ہے اور ابراہیمؑ و موسیٰؑ، صدیقؓ و فاروقؓ اور مودودیؒ و قطبؒ سے ناواقف ہے۔ جس کی ذہنی تربیت اقبالؒ کے حیات آفریں نغموں کے بجائے بابا بلاک شیپ کے بے معنی فقروں کے ذریعہ ہوئی ہے۔
بلند خواب دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مائیں اپنی تربیت پر توجہ دیں:
(۱) وہ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھیں۔ اور دیکھیں کہ قرآن زندگی کے کیا آئیڈیل دیتا ہے۔ کن لوگوں کو آئیڈیل قرار دیتا ہے۔ اور کیا خواب دکھاتا ہے۔
(۲) سرورِ عالمؐ کی سیرت پڑھیں، اور دیکھیں کہ دنیا کے سب سے بہتر انسان کی آخر کیا خوبیاں تھیں جنھوں نے انہیں سرورِ عالم بنادیا۔ ان کی شخصیت کا امتیازی وصف کیا تھا؟ ان کی جدوجہد کا محور و مرکز کیا تھا؟
(۳) اسی طرح تاریخ اسلام کی عظیم شخصیتوں کی سوانح حیات پڑھیں اور غور کریں کہ انہیں تاریخ میں امر کس چیز نے بنادیا؟ دولت نے؟ عہدہ و منصب نے؟ جاہ وحشمت نے؟ آخر کیا بات ہے کہ آج دنیا بغداد کے عالیشان محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے رؤسا میں سے کسی کو نہیں جانتی لیکن ایک فقیر جنید بغدادیؒ کا نام عزت و احترام سے لیتی ہے؟ دوسری طرف بہت سے درویشوں اور فقیروں کے مقابلے میں اپنے عہد کے ایک دولت مند تاجر ابوحنیفہؒ کو امام اعظم قرار دیتی ہے؟ عباسی دربار کے اعلیٰ عہدیداروں اور بلند منصب افسروں کا نام ونشان آج تاریخ میں موجود نہیں ہے لیکن ان بااختیار عہدیداروں نے بے بس احمد بن حنبلؒ کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسائے تھے، آخر کیا وجہ ہے کہ وہ آج تاریخ کا سرمایۂ افتخار ہیں۔
اگر سید قطبؒ امریکہ میں (جہاں انہیں اعلیٰ ترین عہدوں کے کئی آفرز موجود تھے) ایک موٹی تنخواہ والی آرام دہ ملازمت کو، مصر کی جیل اور پھانسی کے پھندے پر ترجیح دیتے، تو کیا ہم ہندوستانی ان کے نام سے بھی واقف ہوتے؟ ا ور اگر مولانا مودودیؒ عالمی اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ (جس کی پیش کش ایوب خاں نے کی تھی) بنے رہتے تو کیا بش اور بلیئر پر ان کے نام سے ویسی کپکپی طاری ہوتی جیسی آج ہورہی ہے؟
تاریخ ساز شخصیتوں کا مطالعہ آپ کے ذہن کو کشادہ کرے گا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ انسان کسے کہتے ہیں؟ انسان کی اصل بڑائی اور اس کا اصل کمال کیا ہے؟ وہ بڑے عہدیدار اور دولت مند جو ہمیں اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے بڑے نظر آتے ہیں دراصل کتنے حقیر، کتنے معمولی اور کتنے ناقص انسان ہیں؟ اسلامی تاریخ کے جگمگاتے ستاروں کے سامنے ان کا بے رونق وجود کتنا بے معنی اور بے حیثیت ہے؟
(۴) اسلامی تاریخ کے ساتھ عام انسانی تاریخ کا بھی مطالعہ کریں – ہر قوم کا سرمایۂ افتخار وہی لوگ ہیں جو کسی بڑے مشن کے لیے جئے – لنکن، والٹر، روسو، مارکس، بدھ، گاندھی – کسی بھی قوم کے کسی بھی ہیرو کی زندگی پر نظر ڈالیے کچھ خصوصیات مشترک ملیں گی۔ اعلیٰ ترین صلاحیت، کردار کی بلندی، اپنی ذات اور خاندان کے مفادات سے بالاتر ایک اونچا مشن، اس مشن کے گرد گھومتی زندگی، مشن کے لیے بڑی سے بڑی قربانی، روپیہ پیسہ اور عہد ہ و منصب سے بے نیازی (غناء) مشن کی خاطر عیش و آرام کی قربانی – یہ ہیں وہ اوصاف، جن کے بغیر دنیا کی کوئی قوم سربلندی کا تصور نہیں کرسکتی۔
(۵) ان سب کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے عہد، اس کے مسائل، اس کے تقاضوں اور اس کی ضرورتوں سے بھی واقف ہوں۔ آج دنیا کے کونسے مسائل ہیں جن کے حل کا خواب ہم اپے بچوں کو دکھا سکتے ہیں؟ ہمارے عہد کی شخصیتوں میں کون لوگ کس حیثیت میں ہمارے بچے کے لیے رول ماڈل بن سکتے ہیں؟ اس عہد میں کچھ نمایاں کام کرنے کے لیے اسے کونسی صلاحیتیں اپنے اندر پیدار کرنی ہیں؟ اس چمکتی، دمکتی، جگمگاتی دنیا کے کون سے چھپے ہوئے مہیب اندھیاروں کو اسے دور کرنا ہے؟ یہ جو تعفن کے بھبکے آرہے ہیں، ان کا سرچشمہ کدھر ہے؟ اور اس کی صفائی کے لیے ہمارے نونہال کو کیا کرنا ہے؟
ان سوالوں کے جوابات کا صحیح شعور حاصل کیے بغیر کوئی ماں اپنی گود کو مردم خیز نہیں بناسکتی۔
مختار مسعود لکھتے ہیں:
’’قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے، اور قحط الرجال میں زندگی – مرگِ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیاتِ بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال – ایک سماں موت کی ناحق زحمت کا تو دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا، ایک سماں حشر کا تو دوسرا محض حشرات الارض کا – زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں۔
زندگی کی ارزانی، بے مصرف حیات، زندگی کی ناحق تہمت اور ہر طرف بکھرے ہوئے بے حیثیت، بے آواز، بے مصرف حشرات الارض – قحط الرجال کی ایک نہایت بھیانک صورتحال کا اس وقت امت مسلمہ کو سامنا ہے۔ اور اس آفت عظیم سے باہر نکال لانے کی ذمہ داری امت کی ماؤں پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
سید سعادت حسینی

Leave a Reply