بچوں کی صلاحیتوں کی پہچان

فہیم ذہین ترین طالب علم تھا۔ شہر کے سوسالہ قدیم اسکول کا ہونہار لڑکا تھا۔ گذشتہ ایک صدی میں کسی نے انٹرمیڈیٹ میں اتنے نمبرات نہیں لیے جتنا فہیم نے حاصل کیے۔ تمام مسابقتی امتحانات میں اس نے کامیابی حاصل کی۔ اب اس کے سامنے انجینئرنگ، میڈیسن، آرکیٹکچر وغیرہ کے میدان تھے۔ فہیم کا ذہن بچپن سے انجینئرنگ کا تھا۔ گھر والوں کا اصرار تا کہ وہ MBBSمیں داخلہ لے۔ دباؤ میں آکر اس نے داخلہ لے لیا۔ پہلے تو اس کی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر وہ گھبرایا ہوا بھی تھا۔ مزید لڑکوں کی ریکنگ نے اسے نفسیاتی ڈپریشن میں مبتلا کردیا۔ اس کا دل کالج کے ماحول سے ہٹ گیا۔ امتحانات میں مسلسل فیل ہوتا رہا۔ MBBSکے ۵ سال اس نے ۱۸ سالوں میں مکمل کیے مگر پھر بھی ڈاکٹر کی ڈگری حاصل نہ کرسکا۔ کمپیوٹر کا کچھ چھوٹا موٹا کورس اس نے دوران تعلیم کیا تھا۔ آج اس کی معاش کا وہی ایک ذریعہ ہے۔ بمشکل ۵ یا ۶ ہزار روپئے تنخواہ مل جاتی ہے۔
ان کے پڑوس میں جھونپڑی بنی تھی۔ وہاں انور رہتا تھا۔ غربت کی وجہ سے کچھ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ اس کی ماں نے گھروں میں کام کرکے بچے کو پڑھایا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری اور چھوٹی موٹی تجارت کے لیے دھکے کھاتا رہا۔ پھر کہیں مطب کھول لیا۔ انگریزی دوائیں، یونانی حلوے، دیسی علاج، جڑی بوٹی پتے بوٹے آزمائہ، لگن، ہمت اور جنون کے ساتھ کام کیا۔ آج وہ شہرۂ آفاق ڈاکٹر بن گئے ہیں۔ کروڑوں کی جائیداد ۱۰ سالوں کے اندر انھوں نے جمع کرلی ہے۔
فہیم اور انور کی داستانیں فرضی نہیں بلکہ حقیقی ہیں۔ فہیم کی داستان میں والدین اور بڑے بھائیوں نے اس کی صلاحیتوں کو پہچانا نہیں اور خود فہیم کو اپنی صلاحیتوں کا یا تو ادراک نہ ہوسکا یا حصار اور بندشوں کو وہ توڑ نہ سکا۔ اس کے بالکل برعکس دوسری مثال میں صلاحیتوں کو نہ غریب ماں نے پہچانا نہ سماج نے جبکہ خود انور نے اپنی صلاحیتوں کو دریافت کیا۔ اپنی زندگی کی داستان خود لکھی اور وہ سرخروا ہوا۔
دنیا میں آنے والا ہر بچہ کچھ نہ کچھ صلاحیت ضرور لے کر آتا ہے۔ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔ ایک ہی گھر کے پروردہ دو بچے دو انتہائی مختلف صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانا یا ان کا دب جانا دونوں ممکن ہیں۔ والدین کی ایک عظیم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو باصلاحیت بنائیں۔ بچوں کے اندر چھپی صلاحیتوں کے ادراک کا فن اور اس کی صلاحیت والدین کی شخصیت کا وہ گوشہ ہے جسے خود والدین کو اپنے اندر فروغ دینا ہوتا ہے۔ اور جب حقیقت ماں باپ اپنی انفرادی شخصیت کے ارتقاء کی طرف توجہ دینی ہوتی ہے۔ اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ صلاحیتیں کہاں سے آتی ہیں یا ان کی جڑیں کہاں پیوست ہیں۔ ماہرین نفسیات نے عموماً دو بنیادوں کا ذکر کیا ہے۔ (۱) موروثی اثرات (۲) ماحول کے اثرات۔ لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی اور اہم چیز بھی ہے جو انسان کو بناتی ہے وہ ہے توفیقِ الٰہی۔ انشاء اللہ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔
(۱) موروثی اثرات
ہم اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ایک عمر کو پہنچنے کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے تو ہمارا تجسس ہمیں تحقیق پر ابھارتا ہے کہ کہیں یہ بیماری ان کے خاندان کے کسی فرد میں تو نہیں ہے۔ کوئی آدمی انتہائی ذہین ہو تو ہم اس کی اولاد سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں اور عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔
انبیاء میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام ان کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام پھر ان کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے چنے جاتے ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ نبوت کسبی نہیں بلکہ وہبی ہوتی ہے۔ مگر اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نبوت سے سرفراز کرنے کے لیے انسانوں میں سے بہترین لوگوں ہی کا انتخاب کرتا ہے۔ مگر ان انبیاء کی صالحیت اور صلاحیت جبراً نہیں عطا نہیں کردی گئی بلکہ ان کی کوششوں، والدین کی تربیت اور ماحول کے اثرات کے بعد وہ اعلیٰ ترین مقام کو پہنچتے ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام ایک ایسے فرمانروا تھے جو نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ ان کے بعد ان کے لائق فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام سلطنت و فرمانروائی کی صلاحیت میں والد محترم سے کچھ آگے ہی تھے۔ چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت ہواؤں پر، جنات پر اور چرند و پرند پر بھی تھی۔
صلاحیتیں اور اوصاف والدین سے اولاد تک جینس کے ذریعہ منتقل ہوتے ہیں۔ باپ کے مادہ منویہ سے Chnomosome 23کروموزس اور ماں کے بیضہ سے ۲۳ منتقل ہوتے ہیں۔ اور یہی عورتی اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انہیں زبردست مائیکرواسکوپ کے ذریعہ سے بھی دیکھا نہیں جاسکتا۔ آنکھوں کا رنگ، جلد کی رنگت، بالوں کی نرمی و سختی وغیرہ عورتی طور پر منتقل ہوجاتے ہیں۔ جبکہ صلاحیتیں جیسے ذہانت وغیرہ بھی عام طور پر آئندہ نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔ مگر کس طرح یہ منتقل ہوتے ہیں اس کا علم انسان کو ابھی تک نہیں حاصل ہے۔
(۲) ماحول کے اثرات
دوسرا کارفرما عنصر جو انسان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے، جو بناتا یا بگاڑتا ہے وہ ماحول ہے۔ ماحول کے اثرات انسان پر اس وقت سے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں جبکہ ابھی وہ ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ ایک امریکی سفید فارم خاتون نے ایک کالے حبشی نما لڑکے کو جنم دیا۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ اس کے کمرے میں ایک حبشی کی تصویر تھی جسے وہ صبح و شام دیکھتی تھی۔ (ماخوذ) خوشی، غم، دینداری، بے دینی کے اثرات ماں کی ذہنی کیفیت کو بناتے ہیں۔ پھر یہ کیفیات مختلف نفسیاتی اوصاف کی شکل میں بچوں میںمنتقل ہوتے ہیں۔ (ہاں خوشی، غم، گھبراہٹ، ملامت وغیرہ جیسے احساسات منتقل نہیں ہوتے)۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ماں اگر حمل کے دوران meastes کا شکار ہو تو بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ حمل کے دوران X-rayکے اثرات بچوں پر پڑتے ہیں۔ بزرگوں کے واقعات میں یہ بات پڑھنے کو ملتی ہے کہ ان کی مائیں ہمیشہ باوضو رہتی تھیں، قرآن کی تلاوت کثرت سے کرتی تھیں، ذکر کا اہتمام کرتی تھیں اور جب دودھ پلاتیں تو تلاوت کو اپنے اوپر لازم کرلیتی۔ سوتے وقت عموماً لوریاں سناتیں۔ ہوسکتا ہے کہ بعض قارئین کو یہ بات غیر سائنٹفک محسوس ہو۔ مگر جدید کتابوں میں تحقیق کے حوالے سے لکھی گئی ہے کہ بچہ جب جنین کی شکل میں مادر رحم میں ہوتا ہے تو وہ بیرونی آوازیں سنتا ہے، ماں جب پیا ربھری باتیں اپنے پیٹ سے کرتی ہے تو وہ بھی سنتا ہے۔ گرمی اور سردی کے اثرات وہ محسوس کرتا ہے۔ تیز روشنی جب ماں کے پیٹ پر پڑتی ہے تو بچہ آنکھیں موند لیتا ہے۔ (دیکھئےHuman Development )
پھر جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو ماں، باپ، بھائی بہن، پھر پڑوسی، گلی، محلہ، قریہ/ بستی ، اسکول وغیرہ اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت انسان سازی کا اہم ترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بی بی ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ وادی میں لاکر چھوڑ دیا تھا۔ اسباب زندگی وہاں نام کو نہ تھے۔ پھر دھیرے دھیرے وہاں قبیلے آکر سکونت اختیار کرنے لگے، اسی ماحول کا اثر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام میںبدویانہ زندگی کی صلاحیتیں نہ صرف تھیں بلکہ نسلاً بعد نسلٍ قریش تک انہیں منتقل ہوتے ہوئے ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ خود پتھروں سے اپنا گھر یا خدا کا گھر بنانا، سیروسیاحت کرنا، شکار کرنا، گلہ بانی کرنا وغیرہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صلاحیتیں تھیں جو قریش تک نظر آتیں تھیں۔ اس کے برعکس حضرت یوسف علیہ السلام محل کے پروردہ تھے۔ علم، غوروفکر، تجزیہ، تجربہ، تدبیر کی صلاحیتیں ان کے اندر پروان چڑھنے میں ان کے قریبی ماحول کا بھی ایک اثر ضرور رہا۔
اب رہا یہ سوال کہ صلاحیتوں اور اوصاف کو جنم دینے میں موروثی اثرات زیادہ قوی ہوتے ہیں یا ماحول کے اثرات؟ ان کی نہ صحیح پیمائش ممکن ہے، نہ قطعیت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کس عنصر کے کتنے اثرات ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ انسانی شخصیت ان دونوں کا امتزاج ہے۔ کرٹ اسٹرن نے ان دونوں کے اثرات کو ربر بینڈ سے تعبیر دی ہے۔ ربر بینڈ کو (مثلاً عورتیں چوٹی میں باندھنے کے لیے) جب پھیلایا جاتا ہے تو اس کا پھیلاؤ دو چیزوں پر منحصر ہوتا ہے ایک تو ربر کی کوالٹی پر دوسرا اس پر ڈالی گئی قوت پر۔ اس طرح انسانی صفات و صلاحیت کو وہاں تک پھیلایا جاسکتا ہے اور فروغ دیا جاسکتا ہے جتنا کے جینس میں موجود ہو اور اس پر جتنی تربیت و تعلیم کی قوت صرف کی جائے اور مشق کرائی جائے۔ (نفسیات کا تعارف، ٹی مورگن)
یہ بات اس مقام پر عرض کردینا ضروری ہے کہ ان دو عوامل کے اثرات یقینا بہت گہری اور دوامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مگر ایک اور اہم عنصر توفیقِ الٰہی بھی ہے۔ بعض دفعہ انسان کی اپنی انفرادیت یا سماجی دھارے سے بغاوت یا کسی اور چیز کے سبب انسان صلاحیتوں اور اوصاف میں بالکل وہ ثابت ہوتا ہے جس کا وہم و گمان تک سماج کے لوگ نہیں کرسکتے تھے۔ مثال کے طور پر یہ فضیل بن ایاز کا واقعہ مشہور ہے۔ وہ وقت کا مشہور ڈاکو تھا۔ کسی بستی پر حملہ کرتا تولوگوں کو سانپ سونگھ جاتا اور کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا تھا۔ ایک بار ایک رات کسی بستی پر اس نے ڈاکہ ڈالا۔ چھتوں پر چھلانگ لگا کر گزر رہا تھا کہ کسی گھر سے قرآن کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔ پڑھنے والا پڑھ رہا تھا:
الم یان للذین آمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللّٰہ۔
’’کیا اہلِ ایمان کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھل جائیں۔‘‘
جب اس نے سنا تو دل کی دنیا بدل گئی۔۔ وہ زاروقطار رونے لگا اور کہہ دیا اے مولا وہ وقت اب آگیا، اے مالک وہ لمحہ اب آگیا۔ اس کے فوراً بعد اس نے سچی توبہ کی اور عابد و زاہد بن گیا۔ اس طرح فضیل بن ایاز موروثی یا ماحول کے اثرات کے بالمخالف ایک دوسری ہی شخصیت بن گئے اور ان کا شمار اسلامی تاریخ کے نامور بزرگو ںمیں ہوتا ہے۔
جوہاری دریجہ (Johari Window)
انسان میں صلاحیتیں ۴ سطح پر موجود ہوتی ہیں۔ اس شخصیت کے خاکے کو دو ماہرین Harry Inghamاور Joseph Luftنے دریافت کیا۔ ان دونوں نام کے مرکب سے اس فارمولے کو موسوم کردیا گیا۔دراصل یہ خاکہ ایک کھڑکی ہے جس سے صلاحیتوں کو جھانک کر دیکھا جاسکتا ہے بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں موجود ہوں۔ اس معاملہ میں سب سے تیز نگاہیں والدین ہی کی ہوسکتی ہیں۔ یہ کھڑکی ایسی ہے جس کے کچھ پٹ کھلے ہیں کچھ بند ہیں۔ یہ کھڑکی حسب ذیل ہے:
(2) Hidden Self
پوشیدہ گوشے
(1) Open Self
معروف گوشے
(3) Undiscovered Self
دریافت طلب گوشے
(4) Blind Self
ناواقف گوشے
(۱) معروف گوشہ
پہلا خانہ شخصی صلاحیتوں کا وہ حصہ ہے جس کی واقفیت فرد کو بھی ہے اور دیکھنے والوں کو بھی وہ نظر آتا ہو۔ جیسے کچھ بچوں کی ذہنی صلاحیت، حاضر دماغی، یادداشت وغیرہ صلاحیتوں کے ایسے گوشے ہیں جس سے فرد و سماج دونوں واقف ہوتے ہیں۔ گویا زندگی کا ہر حصہ کھلی کتاب ہے۔ اس کی نمایاں ترین مثال علامہ ابن تیمیہؒ کی ہے۔ بچپن میں ان کو کتابوں سے انسیت تھی اور ان کی یادداشت بلا کی تھی۔ اور یہ صلاحیت انہیں موروثی طور پر ملی تھی۔ محمد ابو زہرہؒ نے اپنی کتاب ’’حیات- شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ‘‘ میں لکھا ہے:
’’امام ابن تیمیہؒ کو عہد طفلی ہی سے قوت حافظہ غیر معمولی طور پر قدرت کی جانب سے ودیعت ہوئی تھی۔ علمائے نفسیات کا خیال ہے کہ ذکاوت و ذہانت کا پہلا پیمانہ یادداشت کا قوی یا ضعیف ہونا ہے۔یہ غیر معمولی قوتِ حافظہ امام صاحب کو اپنے خاندان سے ورثہ میں ملی تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام صاحب کے والد ماجد بھی اس خصوصیت میں یگانہ اور منفرد تھے۔ وہ دمشق کی جامع اکبر میں درس دیتے تھے لیکن صرف قوت حافظہ کے بل پر نہ کہ کتابوں کا سہارا لے کر … اس ذہین باپ کابیٹا بھی ذہانت میں ہو بہو باپ کا نمونہ تھا۔
جہاں تک ان کی یادداشت کی صلاحیت کا تعلق ہے وہ ان کی زندگی کا ایک ایسا گوشہ ہے جو انتہائی معروف تھا۔ ایسی صلاحیتیں اپنے آپ سے پروان چڑھتی ہیں۔ اس کے پیچھے بڑی عرق ریزی، باریک بینی، دقت و مشقت کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ امام صاحب کی یادداشت اتنی معروف تھی کہ ایک جید عالم دین حلبؔ سے دمشق لائے تھے۔ انہیں اس لڑکے کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے چاہا کہ اسے آزما کر دیکھا جائے۔ ایک درزی کی دکان پر آکر بیٹھ گئے کچھ دیر بعد لڑکا ابن تیمیہ کا گزر ادھر سے ہوا۔ درزی نے بتایا کہ یہی وہ غیر معمولی ذہانت والا لڑکا ہے۔ امام حلبی نے اس لڑکے کو طلب کیا۔ ہاتھ میں تختی تھی۔ اس سے کہا کہ جو کچھ میں کہوں لکھتے جاؤ۔ لہٰذا لڑکے نے لکھ دیا۔ امام حلبی نے کہا: پڑھ لو، لڑکے نے پڑھ لیا۔ امام نے تختی واپس لے لی اور کہا کہ اب پڑھو۔ لڑکے نے فرفرکم وبیش جو تیرہ حدیثیںاملاکرائی گئی تھیں وہ سب یادداشت سے سنادیں۔ پھر امام صاحب نے لڑکے کو تختی واپس کی، کہا کہ اسے صاف کردو۔ پھر احادیث کی کچھ اسناد لکھو، لڑکے نے لکھ دیں۔ پھر کہا ایک بار پڑھ لو لڑکے نے پڑھ لیا۔ امام حلبی نے تختی اپنے پاس لے لے اور کہا اب سناؤ۔ لڑنے نے فراٹے کے ساتھ وہ تمام اسانید سنادیں، یہ دیکھ کر وہ حیران و ششدر رہ گئے اور فرمایا ’’یہ لڑکا اگر زندہ رہ گیا تو بڑا مرتبہ حاصل کرے گا۔ میری نظر سے آج تک ایسا کوئی لڑکا نہیں گزرا۔‘‘
(۲) پوشیدہ گوشہ
زندگی میں بعض ایسی صلاحیتیں انسان کے اندر ہوتی ہیں جس سے فرد واقف ہوتا ہے۔ اس کا اندر یقین سے بھرا ہوتا ہے اور ایک نادر موقع کا منتظر ہوتا ہے۔ اس پہلو سے وہ گوشہ سماج کے لیے پوشیدہ ہوتا ہے۔ اپنی انتھک محنت، لگن سے فرد جب آگے بڑھتا ہے باوجود اس کے کہ سماج میں اس کی پذیرائی نہیں ہوتی، مگر اپنی صلاحیتوں کا لوہا آخر کار منوالیتا ہے۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی خود اعتمادی مضبوط، جن کی سوچ مثبت، اور جن کا عزم ہمت ہمالہ سے اونچا ہوتا ہے۔ بحیثیت ماں باپ بچوں کو آزادی دیں اور مواقع فراہم کریں۔ بسا اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس کی بچپن کی ضد ہے، اس سے کیا ہونے والا، دنیا میں اس سے کیا روزی کمائی جاسکتی ہے وغیرہ۔
’’پوشیدہ گوشہ‘‘ رکھنے والے بچوں میں صلاحیتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ وہ بہتی ندی کے مانند اپنا راستہ سنگلاخ زمین کے درمیان سے بھی نکال لیتے ہیں۔ سماج کے ’’چودھریوں‘‘ کی طرف سے ان کی ہمت افزائی نہیں ہوتی، ان پر یہ طعنے بھی کسے جاتے ہیں ’’ارے کیا پدی کیا پدی کا شوربا‘‘۔ کبھی کہتے ہیں: ’’ہاتھی گھوڑا ہار گئے، گدھا پوچھے کتنا پانی‘‘۔ اس غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ مثال کے طور پر مائیکل فاراڈے Michael Faradayکا قصہ ہم یہاں بیان کریں گے۔
فارا ڈے آج سے تقریباً ۲۱۵ سال قبل برطانیہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ باپ لوہا رتھا۔ فاراڈے میں ظاہری طور پر صلاحیتیں نظر نہیں آرہی تھیں۔ وہ اکثر شام غروب آفتاب کے نظارہ میں گزارتا۔ اس کی استانی اسے خوب لعنت ملامت کرتی تھی۔ ایک دن آدھ آنہ دے کر فارا ڈے کی پٹائی کے لیے بید منگوایا۔ وہ فاراڈے کے لیے اسکول کی تعلیم کا آخری دن تھا۔ پھر ماں نے اسے ایک بیکری میں نوکری لگادی۔ پھر ایک کتابوں کے جلد ساز کے پاس نوکری کرنے لگے۔ فاراڈے کو ان دونوں جگہوں پر کتابوں اور اخبارات پڑھنے کا موقع ملتا رہا۔ ایک دن سر ہمفری ڈیوی وقت کا مانا ہوا سائنس داں کا لیکچر اس کے شہر میں تھا۔ کسی طرح وہاں پہنچ گیا، لیکچر سنا، پھر اس کا نوٹس تیار کیا، خوش خط لکھا پھر اس کی جلد بنائی اور سر ہمفری ڈیوی کو ارسال کردیا۔ اس کام سے ڈیوی بہت خوش ہوا۔ فاراڈے نے اس کی رایل انسٹی ٹیوٹ لائبریری میں نوکری طلب کی۔ ٹالنے کی غرض سے جواب ملا کہ صرف بوتل وغیرہ دھونے والے ایک لڑکے کی ضرورت ہے۔ موقع کو غنیمت جانا اور فاراڈے نے لیبارٹری میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے اس نے اپنے سائنسی کیرئر کا آغاز کیا اور اتنی ترقی کی کہ دنیا میں اس نے پہلی مرتبہ برقی قوت اور مقناطیسی قوت کے درمیان موجود تعلق کو دریافت کیا۔ اس طرح بجلی دریافت ہوئی اور دنیا کو اس نے منور کردیا۔ آج دنیا کی تمام ترقیات برقی قوت کے بغیر ایک ناممکن بات ہوگی۔ Geveatorاور Dynamoاسی کی ایجادات ہیں۔ ایک وقت آیا کہ اس نے اپنے استاد کے فارمولوں سے اختلاف کیا جس نے خود فاراڈے کی شخصیت کے ’’پوشیدہ گوشے‘‘ کو دریافت کیا۔ غرض اس طرح شخصی صلاحیتوں کے پوشیدہ حصہ کو یا تو خود فرد دریافت کرلیتا ہے یا کوئی جوہر شناس فرد اسے پہچان کر اس چھپے عظیم انسان کی دریافت کرتا ہے۔
اس پہلو سے حضرت یوسفؑ کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تفکر، تدبد، تدبیر اور انتظامیہ کی صلاحیتوں کو انھوں نے خود دریافت کیا اور بروئے کار لائے۔ ایک اندھے کنویں کی تہ سے شاہی سلطنت کے تحت تک کا سفر تنہا اپنی صلاحیت اور خدا کی نصرت کے ساتھ کیا۔
(۳) ناواقف گوشہ
شخصیت کا ایک حصہ وہ ہے جسے Blind Selfکہا جاتا ہے۔ یعنی اپنی شخصیت کے بعض پہلو سے فرد خود ناواقف ہوتا ہے۔ اس کے اندر صلاحیت کی چنگاری موجود ہوتی ہے مگر اس کو شعلہ جوالہ میں تبدیل کرنے کا کام والدین یا استاذ یا کوئی رہنما، مرشد یا بزرگ کرتے ہیں۔ شخصیت سازی کے کام کی پہلی سیڑھی فرد شناسی ہوتی ہے۔ والدین سے بڑھ کر اپنے بچوں کے معاملے فرد شناس کوئی اور کیوںکر ہوسکتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں شعوری کوششیں کریں اور دلچسپی دکھائیں تو بچے کی حرکات وسکنات اس کی امنگوں اور خواہشوں، اس کی باتوں، اس کی مصروفیتوں اور اس کی صحبت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا یہ لخت جگر فلاں میدانِ کار کا آدمی بن سکتا ہے۔ حالاں کہ بچہ اپنے مستقبل سے ناواقف ہوتا ہے اور بعض مخصوص صلاحیتوں سے نا آشنا رہتا ہے۔ علامہ اقبال کے والد صاحب نے اپنے لختِ جگر کی قرآن سے دلچسپی دیکھی مگر قرآن فہمی کی صلاحیت، جس سے اقبال ناواقف تھے، محسوس کیا اور اس کے راز سے آگاہ کیا۔ اس طرح عشق رسول کے گوشے کے سلسلے میں بھی ان کے والد نے بڑی حکمت اور پرسوز لہجے میں اس فکر کی جانب ان کی ذہنی کاوشوں کو رخ دیا۔ ان دو عظیم فکری صلاحیتوں کے پیچھے دو واقعات کارفرما ہیں۔ انہیں اقبال کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
’’جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو صبح اٹھ کر روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا۔ والد صاحب اپنے ورود و وظائف سے فرصت پاکر آتے اور مجھے دیکھ کر گزر جاتے۔ ایک صبح وہ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: کبھی فرست ملی تو میں تم کو ایک بات بتاؤں گا۔ بالآخر ایک مدت کے بعد یہ بات بتائی۔ ایک دن صبح جب میں حسبِ دستور قرآن کی تلاوت کررہا تھا تو وہ میرے پاس آئے اور فرمایا: بیٹا کہنا یہ تھا کہ جب تم قرآن پڑھو تو یہ سمجھ کر پڑھو کہ یہ قرآن تم پر ہی اترا ہے، یعنی جیسے اللہ تعالیٰ خود تم سے ہم کلام ہے۔
اس واقعہ کے بعد قرآن ان کی فکری کاوشوں کا مرکز و محور بن گیا، اب وہ نہ صرف تلاوت کیا کرتے تھے بلکہ تفکر و تدبر کے عادی بنے۔ اپنے بارے میں خود ان کا یہ شعر ہے:
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومی کبھی پیچ و تاب رازی
اقبالؔ کی شاعری کا ایک اہم موضوع’’خودی‘‘ ہے۔ فلسفہ خودی پر ان کے نادر اشعار ہیں۔ ان کی عمر کے آخری حصے میں، جب وہ صاحب فراش تھے، کسی نے ان سے ان کے فلسفہ خودی کی بنیاد اور ماخد کے بارے میں پوچھا تو جواب میں انھوں نے کہا کہ ذرا قرآن اٹھاؤ، قرآن شریف لایا گیا تو انھوں نے سورئہ حشر کی آیت
ولا تکونوا کالذین آمنو اللہ فانہم انفسہم اولٰئک ہم الفاسقون۔ (الحشر:۱۹)
’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اس نے بھی انہیں خود فراموش بنادیا؟ وہی فاسق ہیں۔‘‘
کو اپنا ماخذ فکری قرار دیا۔
اس طرح علامہ اقبال کی قرآن فہمی کی صلاحیت جو خود ان سے مستور تھی ان کے والد ماجد نے اسے آشکارا کیا۔ ان کے والد ماجد ایک خدا ترس اور صوفی آدمی تھے۔ ان کے گھر ایک بار کسی فقیر نے بھیک مانگنے کے لیے ان کے دروازے پر صدا لگائی اور کچھ لیے بغیر وہاں سے کسی طرح نہ ٹلا۔ نوجوان اقبال کو اس پر سخت غصہ آیا اور انھوں نے اس دوچار طمانچے رسید کردیے۔ اس سے فقیر کی جھولی میں جو کچھ تھا، وہ سب زمین پر گر پڑا۔ ان کے والد نے یہ منظر دیکھا تو آنکھ میں آنسو آگئے۔ انھوں نے گلوگیر لہجے میں اپنے بیٹے اقبال سے کہا:
’’قیامت کے دن جب رسول کریم ﷺ کے ارد گرد ساری امت مسلمہ جمع ہوگی، غازی، شہید، عالم، حافظ، عابد، سب موجود ہوں گے اور یہ مظلوم فقیر آقائے نامدارﷺ کے سامنے تمہارے اس ظلم کی فریاد کرے گا اور آنحضرت ﷺ مجھ سے پوچھیں گے کہ ہم نے ایک بندہ مسلم کو تیری فرزندگی اور نگہداشت میںدیا، تو اسے بھی آدمی نہ بناسکا تو میں کیا جواب دوں گا۔ اے نورِ نظر! تو امت محمدی کا ایک فرد، تجھے اخلاق محمدی سے بہرہ ور ہونا چاہیے اور سراپا شفقت ورحمت بننا چاہیے۔ نہ کہ ظلم و فرعونیت کا نمونہ۔‘‘
اقبال کے دل پر اپنے والد محترم کی یہ نصیحت اثر کرگئی بلکہ ان کے دل و دماغ پر ایک دائمی نقش چھوڑ گئی۔ (ماخوذ پیام اقبال بنام نوجوانِ ملت از سید قاسم محمود)
(۴) دریافت طلب گوشہ
زندگی کی عام رو میں شخصیت کی کشتی بہتی رہتی ہے، اچانک جب کسی طوفان سے آشنائی ہوتی تب شخصیت کے بعض جواہر سامنے آتے ہیں جو اب تک فرد اور سماج سے پوشیدہ رہے۔ جو ہاری دریچہ کا یہ چوتھا خانہ ۹۹ فیصد انسانوں کی زندگی میں کبھی نہیں کھلتا۔ انتہائی ذہین یا غرمعمولی صلاحیت والے لوگوں کو یہ نصیب ہوتا ہے کہ اپنے شخصی اوصاف اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ کہیں آگ لگی ہوتی ہے، لوگ تماشائی بن کر کھڑے رہتے ہیں، بھیڑ میں کوئی شخص دیکھ لیتا ہے کہ اندر ایک بچہ موجود ہے۔ وہ دیوانہ وار کود پڑتا ہے اور بچہ کو زندہ یا مردہ اٹھالاتا ہے۔ لوگ ششد ررہ جاتے ہیں کہ اس قسم کے ’’شریف‘‘ آدمی سے آگ میں کود جانے کی جرأت غیر متوقع تھی۔ فرقہ وارانہ فسادات کے وقت بعض لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ’’غیر مذہب‘‘ کی عورتوں کو بھی مظلوموں کے ہاتھ سے چھڑا لاتے ہیں تب دنیا کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں لادین شخص میں بھی انسانیت کا احترام پایا جاتا ہے۔ ۲۶؍جنوری کو صدرِ جمہوریہ bravey awardکے ذریعہ لوگوں کی شجاعت کی داد دی جاتی ہے۔ ان میں عورتوں اور بچوں سے بھی ایسے کارہائے نمایاں انجام پاتے ہیں جس سے دنیا کو واقفیت ہوتی ہے کہ بھاگنے، دوڑنے، حاضر دماغی سے کام لینے، چالاکی اور ہوشیاری برتنے کی صلاحیتیں بھی ان میں موجود ہیں جو اب تک غیر معلوم تھیں۔ حالات کی سنگینی یا ذمہ داریاں ان دریافت طلب پہلوؤں کو اجاگر کردیتے ہیں۔ یہ دراصل وہ صلاحیت تھی جو اچانک نمودار ہوئی بلکہ صیغہ راز میں تھی حالات کے نشیب و فراز نے اسے دریافت کرلیا۔
یہ ’’دریافت طلب گوشہ‘‘ ماں باپ کی دریافت تو نہیں بلکہ حالات کی دریافت ہوتے ہیں۔ مگر ان میں بھی ماں باپ کا ایک رول ہوتا ہے۔ زندگی کے تمام حالات میں اور مشکل صورت میں بچوں کی ہمت بندھاتے رہیں اور شریک کرواتے رہیں تو غیر معمولی حالات میں اپنے جوہر دکھانا ممکن ہوسکے گا۔ زندگی کے تمام حالات میں مشکل مواقع بھی آجاتے ہیں۔ مشکل سے مراد بچہ کے لیے ایک نیا ہوم ورک مشکل نظر آتا ہے جیسے چوتھی جماعت کے ایک طالب علم کو ایک بک ریویو یا ایک حادثہ کی پریس رپورٹنگ ہو یا اسکول کے کسی بڑے پروگرام میں تقریر کرنے کے لیے کہا گیا ہو یا کسی زلزلہ، سیلاب، سونامی اور فسادات کے بعد ریلیف کا کام ہو۔ ایسے موقاع پر بچوں کو بچا بچا کر رکھنے کے بجائے انہیں آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ ایسے کاموں میں حصہ لیتے رہیں۔ جو ان کی عمر کی مناسبت سے مشکل ہو جب اندر کا تردد ٹوٹے اور سرگرمیوں میں شمولیت کی جھجھک دور ہو تو رفتہ رفتہ بچے کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ زندگی کے پیش کردہ چیلنجز کو وہ قبول کرتا ہے اور عمل و حصول یابی اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال چوہدری علی احمد مرحوم میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ چوہدری صاحب جماعت اسلامی کی ایک قد آور شخصیت رہی ہے۔ گو ان کی رسمی تعلیم کم تھی مگر اپنی محنت و کاوش سے اتنا مطالعہ کررکھا تھا کہ علم کا ایک بہتا دریا تھے۔ بڑے بڑے پروفیسر صاحبان اور نظریات کی چغادریوں کو انھوں نے مات کردیا۔ جہاں وہ علمی میدان کے آدمی تھے وہیں وہ عملی میدان کے بھی شہسوار تھے۔ آزادی اور تقسیم ہند کے وقت حالات انتہائی سنگین تھے۔ دونوں طرف خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی اور لاشوں کے انبار پڑے تھے۔ بے سروسامان لٹے پٹے لوگ جو پاکستان پہنچ رہے تھے ان کی راحت کاری اور نوآباد کاری کے لیے مولانا مودودیؒ نے اپنے ارکان و کارکنان کو طلب کرلیا تھا۔ مہاجرین کا ایک ریلا تھا جو آرہا تھا۔ ان کی خدمت ترجیح اول تھی۔ اسی کام کے لیے مولانا مودودیؒ نے فرد شناس نگاہ سے چوہدری علی احمد مرحوم کو بحیثیت انچارج منتخب کیا۔ اس مشکل گھڑی میں انھوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا اور بڑی خوبی کے ساتھ اس ریلیف کام کو انجام دیا۔ اس طوفان بلا نے چوہدری صاحب کی انتظامی صلاحیت جو اب تک مستور تھی، اب دریافت ہوئی اس کے بعد مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں جماعت کی تاسیس اور کام کے فروغ کے لیے جو شخصیت سب سے موزوں ترین تھی وہ چوہدری صاحب ہی کی شخصیت تھی۔ چنانچہ مولانا مودودیؒ خود لکھتے ہیں:
’’اس کے بعد مجھے یقین ہوگیا تھا کہ جماعت اسلامی میں جو چند آدمی مہمات کے لیے موزوں ہیں ان میں سے ایک چوہدری صاحب مرحوم ہیں۔ مشرقی پاکستان میں تین سال کے اندر انھوں نے جو خدمات انجام دیں انھوں نے نہ صرف اس رائے کی تصدیق کی بلکہ ہم سب کی توقعات سے اپنے آپ کو بڑھا ہوا ثابت کیا۔‘‘ (چوہدری علی احمد از اسعد گیلانی)
ایک مثال ہم نے قریب میں تحریک اسلامی سے دی ہے۔ ورنہ نبی کریم ﷺ نے جس تحریک کو برپا کیا اس سے بیشتر مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ جوہاری دریچہ کا تیسرا خانہ ’’ناواقف گوشہ‘‘ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے جو افراد تیار کیے ان کی ناواقف صلاحیتوں کو نہ صرف آپ نے محسوس کیا بلکہ انہیں پروان چڑھایا۔ انسانی تاریخ میں نبی ؐ سے بڑھ کر کوئی بھی شخص فرد شناس اور شخصیت ساز واقع نہیں ہوا ہے۔ آپ نے افراد کی چھپی صلاحیتوں کو پہچانا اور ابھارا۔ مصعبؓ بن عمیر کو سفیر، خطیب اور مبلغ بنایا۔ بلالؓ کو موذن اور بیت المال کا نگراں مقرر کیا، معاذؓ بن جبل کو گورنر کا مقام دیا تو اسامہؓ بن زید کو سپہ سالار کا منصب عطا کیا۔ یہ دراصل ان کی چھپی ہوئی صلاحیتیں تھیں۔ پھر حالتا نے صحابہ کرامؓ کو آزمائش کی بھٹی میں تپاکر کندن بنایا۔ دعوت اسلامی کی صدا بلند کرنے کے بعد آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں، ملک چھوڑنا پڑا، ہجرت مدینہ کا مرحلہ آیا، بدروحنین، احد و احزاب، تبوک و یرموک نے صحابہ کرام کی دریافت طلب صلاحیتوں کو دریافت کیا جس کے نتیجے میں صدیق و فاروق فقیہ الامت، امین الامت، سیف اللہ وغیرہ انسانی تاریخ میں صلاحیتوں کے لحاظ سے بلند مینار دنیا کے سامنے آئے۔
صلاحیتوں کو مرجھا دینے والے عوامل
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ گھر کا ماحول صلاحیتوں کے پروان چڑھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے بعض گھروں میں ایسے حالات ہوتے ہیں جس میں کلی کھلنے کے بجائے مرجھا جاتی ہے۔ اس لیے ذیل میں ان عوامل کی طرف نشاندہی کی جارہی ہے۔
(۱) زوجین کی چپقلش
میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت ہو تو گھر کا ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔ بچوں کی نفسیاتی صحت اچھی ہوتی ہے۔ ان کی خود اعتمادی مضبوط ہوتی ہے وہ ایک ایسے پودے کی مانند ہوتے ہیں جس کی زمین بھی اچھی ہو اور جس کی فضا بھی خوشگوار۔ ایسے پودے تناور درخت بننے، پھل پھول لانے میں دیر نہیں کرتے۔ اس کے برعکس میاں بیوی کے درمیان چپقلش ہو، آئے دن زبان درازیاں اور لڑائی جھگڑا ہو تو بچے ’’قربانی کے بکرے‘‘ ثابت ہوتے ہیں۔ شوہر باہر کا غصہ لاکر بیوی پر نکالتا ہے۔ بیوی اپنا غصہ بچوں پر نکالتی ہے۔ بچے اپنا غصہ یا تو گلی میں جاکر کتے کو چھیڑ کر اور پتھر سے مار کر اس کی ٹانگ توڑتے ہیں یا اپنا سر دیوار سے ٹکراتے ہیں، یا شیشہ، آئینہ بلب وغیرہ پھوڑ کر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔اسے نفسیات کی زبان میں Anger Displacementکہا جاتا ہے۔ یعنی غصہ کی نکاسی ہوتی ہے۔ لڑائی جھگرے کے ماحول میں بچوں کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ کس وقت والدین کیا ردعمل کریں گے۔ تناؤ اور تصادم کی یہ کیفیت بچے پر بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ بچے چاہتے ہیں کہ انہیں پیار ملے، مگر جب دیکھتے ہیں کہ زوجین میں کوئی ایک ظالم ہے دوسرا مظلوم تو وہ شرمندہ ہوتے ہیں اور ظالم باپ یا ظالم ماں کی عزت دل سے نکل جاتی ہے۔ بعض ظالم ماں باپ بچوں کو بے تحاشا مارتے ہیں، اور سخت سزائیں دیتے ہیں۔ جس سے وہ اپنے بارے میں اندازہ لگا لیتے ہیں کہ وہ ناکارہ ہیں۔ آگے چل کر اقدام کی صلاحیت سے وہ خالی ہوجاتے ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس کے برعکس زوجین کے درمیان محبت بچوں کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے۔ بچے اپنے والدین سے بے تکلف ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ان کی صلاحیتوں کی کھڑکی میں جھانکنے کا موقع مل سکتاہے اور تب ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صلاحیتوں کا کون سا پلہ کھلا ہے اور کون سا پلہ بند۔ بند دروازے کو کھولنے کے لیے بھی زوجین کے درمیان محبت، ان کے تعلقات کی گرمجوشی سے ایک ٹیم کا ماحول پیدا ہوگا اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میںآسانی ہوگی۔
(۲) والد کی غیر حاضری
بچوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں فروغ دینا، کان کھود کر سونا نکالنے کے برابر ہے۔ اس عظیم کام کے لے ماں اور باپ کا گھر پر ہونا لازم ہوتا ہے۔ بعض گھرایسے ہوتے ہیں جہاں ماں یا باپ کا انتقال ہوچکا ہوتا ہے۔ یا طلاق دے کر باپ رخصت ہوچکا ہوتا ہے، یا کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ جب وہ گھر پر آئے تو بچے اسکول میں ہوں اور بچے جب گھر آئیں تو وہ کام پر، یا کبھی کبھی باپ بیرونِ ملک میں اپنی معاشی تگ و دو میں ہوتا ہے۔ ایسے گھروں میں بچوں کی نگہداشت صحیح طور پر نہیں ہوتی۔ نتیجتاً بچے کے آوارہ بننے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔
(۳) اکلوتا بچہ
بچوں کی تربیت میں گھر کا ماحول چونکہ اہم کردار ادا کرتا ہے جس گھر میں صرف اکلوتا بچہ ہو وہاں وہ ماں باپ کا حد درجہ لاڈلا ہوجاتا ہے اس کے بعد اسے نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے تھوڑی سی بھی سختی ناگوار لگتی ہے۔ اس طرح بے جا پیار سے بچوں کے اندر غلط عادتیں اور اپنی ضد منوانے کی بیماری پیدا کردیتی ہے۔ بھائی بہنوں کے درمیان پلنے میں گفتگو، ہنسی مذاق، کھیل کود، اختلافات اور جتھ بندی وغیرہ کے ذریعہ زندگی کے میدان عمل کے لیے ان کی تیاری فطری رفتار سے ہوتی ہے۔ ایسے گھر میں سب بچے یکساں سلوک کے مستحق ہوتے ہیں جبکہ اکلوتا بچہ گھر کی مرکزی شخصیت بن جاتا ہے۔
(۴) ننھیال کے پالتو
بعض گھروں میں برضا و رغبت نانی نانا نواسوں اور نواسیوں کے لے پالتی ہیں۔ بعض گھروں میں مجبوری ہوتی ہے کہ بیوہ یا مطلقہ بیٹی کے بچوں کو نانی اپنے پاس رکھ کر بیٹی کا عقد ثانی کردیتی ہے۔ اپنے بچوں پر تو وہ سختیاں کرچکی ہوتی ہیں مگر نواسوں پوتوں پر ایسا کرنا انہیں برا لگتا ہے۔ اس عمر میں نانی / دادی کو بچہ کی فلاح و بہبودی کا شعور نہیں ہوتا۔ لاڈ پیار کرنا، ناز برداشت کرنا ہی وہ عظیم خدمت سمجھتی ہیں۔ ایسے بچے شوق اور چٹخاروں کے عادی ہوتے ہیں۔ چونکہ ان کا کوئی محتسب نہیں ہوتا اس لیے ان کی کارکردگی پر کسی کی نگاہ نہیں ہوتی۔ آخر کار یہ پالتو بچے خود کے لیے اور سماج کے لیے کسی مفید کام کے عموماً نہیں ہوا کرتے۔
(۵) والدین کی سختی یا غیر مستقل رویہ
بچوں کو نظم و ضبط سکھانا والدین کا فریضہ ہوتا ہے تاکہ وہ سماج کا کارآمد حصہ بن سکیں۔ ڈسپلن سکھانے میں بعض چیزوں سے منع کرنا پڑتا ہے۔ اس مرحلہ میں بعض والدین انتہائی سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، بعض نرم رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بعض والدین کا رویہ غیر مستقل ہوتا ہے۔ ایک کام کرنے پر کبھی وہ خاموش ہوجاتے ہیں کبھی ناراض۔ اس تضاد فکر کو بچے غور سے دیکھتے ہیں۔ بعض دفعہ ڈسپلن سکھانے میں ماں باپ کے درمیان اختلاف رونما ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بچہ بہت لاڈلا ہوتا ہے شاید اس وجہ سے بھی کہ وہ پہلا بچہ ہے یا بیما ربچہ ہے۔ دوسرے کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ ہونے لگتا ہے۔ کبھی اس وجہ سے کہ وہ بدصورت ہوتا ہے، کبھی اس وجہ سے کہ وہ منحوس مانا جاتا ہے۔ اس کے حمل قرار پانے کے بعد تجارت بیٹھ گئی وغیرہ۔ اس طرح کے رویے بچوں پر مضر اثرات ڈالتے ہیں اور ان کی صلاحیتیں مرجھا دیتے ہیں۔
جبکہ والدین کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ تمام بچوں کو مساوی نگاہ سے دیکھیں۔ عادلانہ برتاؤ کریں۔ سب کو یکساں پیار اور توجہ دیں۔ ڈانٹنے، منع کرنے، سختی کرنے اور روکنے کے کچھ پیمانے متعین ہوں مثلاً گندی باتیں کرنے پر یا والدہ کی بات نہ ماننے پر یا آپس میں لڑنے پر ابا ناراض ہوں گے۔ جب اس طرح ناپسندیدہ چیزیں متعین ہوں تو بچے بھی ان چیزوں سے بچیں گے۔ اسی طرح ترغیب و تحریک اس بات پر ہو کہ جو کہانی کی کتاب پڑھے گا، جو اجتماع میں جائے گا، جو دوسروں کے کام آئے گا انہیں ابا کا انعام ملے گا۔ اس طرح یکساں توبہ، استقلال اور متعین پیمانے بچوں کو یقین عطا کریں گے اور بچے ان کے سہارے اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں گے۔
اس پورے تربیت اور صلاحیتوں کی پہچان کے مراحل میں ماں کا رول کلیدی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ماں ہی بچے کی اصل مربی ہے اور اسی سے بچے زندگی کا نصف علم سیکھتے ہیں۔ اور باقی نصف اسکول، معاشرے اور عملی زندگی سے۔
بچوں کی صلاحیتوں کی شناخت اور ان کو پروان چڑھانا عورت کی شخصیت کا وہ حصہ ہے جس کے ارتقاء پر ہر ماں اور ہر باپ کو توجہ دینی لازمی ہے۔ تبھی جاکر اولاد کا اور خود ان کا مستقبل روشن ہوسکے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
ایس امین الحسن

Leave a Reply