بچوں کی صلاحیتوں کا فروغ

گذشتہ مضمون میں ہم نے بچوں کی صلاحیتوں کی پہچان کے سلسلے میں تفصیلی باتیں لکھی تھیں۔ اس قسط میں صلاحیتوں کے فروغ کی تدابیر اور ان سے متعلق بعض امور پر روشنی ڈالنی ہے۔
صلاحیتوں کا فروغ کب اور کن امور میں
یہ ایک اہم سوال ہے کہ بچوں کے اندر صلاحیتوں کا فروغ کب سے شروع ہو؟ ویسے پیدائش کے بعد ہی سے مختلف صلاحیتیں اپنے مناسب وقت اور عمومی رفتار سے پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں مگر ۶ تا ۱۲ سال کی عمر اس نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ مختلف صلاحیتوں کے نشو ونما اور پختگی اختیار کرنے کا یہ اہم ترین زمانہ ہوتا ہے۔ عمر کا یہ حصہ حرکت و عمل اور جذبات سے بھر پور ہوتا ہے۔ بیرونی دنیا سے سابقہ اور مسابقت کی شروعات ہوتی ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز بھی اب ہونے لگتی ہے۔ عمر کے اس حصے کو Concrete Operations Stage کہا جاتا ہے۔ اس مرحلہ میں صلاحیتوں کے نشو و نما کے سلسلے میں جن امور پر توجہ دینی ضروری ہے وہ حسب ذیل ہیں:
(۱) ذہنی نشو نما
ذہنی ارتقا میں نمایاں طور پر پختگی کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ نمبرات، حساب کتاب، حجم، رقبے، موازنہ وغیرہ کی صلاحیتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر چھ سال سے کم عمر کے بچے گھڑی دیکھ کر وقت نہیں بتا سکتے۔ مگر ان کا ذہن اس معاملہ میں اب کام کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح کچھ رقم دے کر دوکان بھیجیں تو خریداری کتنے کی ہوئی اور بچت رقم کتنی ملنی چاہیے اس کا انہیں علم ہوجاتا ہے۔ حساب کتاب کی یہ صلاحیت بھی …… کرتی ہے۔ پھر حجم کے سلسلے میں ان کا ذہن صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثلاً چھوٹے بچے جب گوشت کی مقدار میں زیادتی کا مطالبہ کرتے ہیں تو مائیں ایک بوٹی کے دوٹکڑے کردیتی ہیں اور بچہ خوش ہوجاتا ہے کہ ایک کے بجائے دو بوٹیاں اسے مل گئیں۔ مگر ۶ یا ۷ سال کے بچے پر یہ ترکیب کارگر نہیں ہوتی وہ حجم سے پہچان لیتا ہے کہ ایک بوٹی اور اس کے دو ٹکڑوں میں حجم کے اعتبار سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ایک کپ میں پانی لیں اور لڑکے کو بتادیں پھر ایک گلاس میں اسے انڈیل دیں پھر اسے بتائیں، اس کا ذہن اسے بتائے گا کہ حجم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے جبکہ کپ میں پانی کم نظر آرہا تھا اب گلاس میں کچھ زیادہ۔ چھوٹی عمر میں بچے جب روتے ہیں یا شرارت کرتے ہیں تو انہیں ’’اماں بو‘‘ یا ’’بڈھا‘‘ وغیرہ سے ڈرایا جاتا ہے۔ مگر ۶ سال کے بعد بچہ اس کی حقیقت کو جانتا ہے کہ یہ سب خیالی کردار ہیں۔ کوئی پرانی فوٹو بناکر چھوٹے بچے سے پوچھیں کہ کتنے بچے ہیں کتنے بڑے ہیں، یا کتنے لڑکے ہیں کتنی لڑکیاں ہیں تو اس سطح پر اس کا ذہن کام نہ کرسکے گا اور موازنہ کرنے کی صلاحیت ابھی اس میں نمودار نہیں ہوئی ہوتی ہے جبکہ ۶ سال کے بعد والی عمر میں بچہ موجزانہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے۔
اس طرح ذہن جب ارتقائی مرحلے طے کررہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کو صحیح رخ پر فروغ دینے اور ذہانت کے مختلف گوشوں کو کھولنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔
(۲) سماجی نشو نما
پرائمری اسکول سے قبل عالم طفولیت میں ایک بچہ کا سماج اس کا گھر ہی ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ خاندان تک اس کا دائرہ ہوتا ہے۔ لیکن پرائمری اسکول میں داخلے کے بعد اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ استاذ، طلبہ وغیرہ کے ساتھ اب اسے جینا ہے اور چلنا ہے۔ بلکہ ان کی نظروں میں اچھا لڑکا بننا اور نام کمانا ہوتا ہے۔ سماج اور سماج میں مقام پیدا کرنے کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ پھر سماج میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کی جذباتی تربیت ضروری ہوتی ہے جہاں وہ اپنے جذبات کو سماج میں مقبول طور طریقوں پر ہی اظہار کرے۔ نرمی، ملنساری، ایثار، انفاق، شائستگی، ہمت، جرأت، حاضر جوابی وغیرہ جیسی صلاحیتیں ۷ تا ۱۰ سال کی عمر میں فروغ پاتی ہیں۔ بچے جب ایک نئے سماج سے واقف ہوتے ہیں اس وقت ان کا شعور اتنا پروان چڑھ چکا ہوتا ہے کہ بعض واضح علامات آپ دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً:
(الف): شخصیت کی ساخت: شخصیتوں کی پہچان ہونے لگتی ہے۔ وہ بھلے اور برے کریکٹر میں تمیز کرنے لگتا ہے۔ وہ اشخاص کو اوصاف سے پہچانتا ہے۔ اشخاص کے بارے میں وہ اپنی ایک رائے رکھتا ہے اور فیصلہ کرپاتا ہے۔ بچوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ کس طرح اپنے قریبی سماج یعنی اسکول کے بعض اشخاص کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جیسے: ’’امی ! میرے ساتھ جو لڑکا بیٹھتا ہے وہ حسن ہے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہیں۔ بال گھنے، گھنگھریالے اور کالے ہیں۔ مگر وہ چٹاگورا ہے۔ ہم اس کو گورو کہہ کر پکارتے ہیں۔‘‘
ابتدائی کلاس میں تو وہ صرف جسمانی طور پر چہرے مہرے اور ناک نقشے کی وضاحت کرتا ہے مگر جب وہ ۹ یا ۱۰ برس کا ہوجاتا ہے تو اشخاص کے مزاج، اوصاف کی بھی وہ تصویر کشی کرنے لگتا ہے۔
’’ابو! ہماری میم رضیہ ہیں۔ بڑی سویٹ ہیں۔ وہ ہم بچوں سے بہت پیار کرتی ہیں۔ کوئی بچہ جب شرارت کرتا ہے تو ڈانٹنے کے بجائے صرف آنکھوں کے اشارے سے وہ کنٹرول کرلیتی ہیں۔ مگر ابا وہ اپنے گھر والوں کی بہت تعریف کرتی رہتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر آسٹریلیا جاکر آئے، وہاں انھوں نے گنگارو دیکھا۔ ان کا بیٹا کمپیوٹر انجینئر ہے۔ وہ کسی بڑی کمپنی میں کام کررہا تھا۔ اب امریکہ چلا گیا۔ بس، یہ انداز ان کا ہمیں پسند نہیں آتا۔‘‘
ماہرین نفسیات نے تجربوں سے اس فرق کو محسوس کیا کہ لڑکا/ لڑکی اس عمر میں (یعنی پرائمری اسکول کی عمر میں) افراد کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ صرف ان کی جسمانی شخصیت ہی سے واقف نہیں ہوتے بلکہ افراد کی نفسیات، مزاج اور کردار سے بھی واقفیت ہونے لگتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے اندازے اور فیصلے غلط ہوں مگر شخصیت کی شناخت کی صلاحیت ان میں پیدا ہونے لگتی ہے۔ اس عمر میں ان کی ملاقات سماج کے اچھے لوگوں سے ہونی چاہیے۔ ان کے درمیان اٹھنے بیٹھنے اور ان کو قریب سے دیکھنے کے مواقع ملتے رہیں تو ان کے ذہن میں اچھی شخصیتیں اور مثبت کردار کے لوگ جگہ پائیں گے۔
(ب):دوستی: سماجی نشو نما کا ایک پہلو ’’حلقہ یاراں‘‘ ہے۔ اسکول پہنچنے کے بعد زندگی میں پہلی مرتبہ دوستی کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر بچوں کے لیے یہ خوشگوار مرحلہ ہوتا ہے سوائے ان بچوں کے جن کو Externalizing Problemہویعنی بیرونی دنیا سے سابقہ ان کے لیے ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ ان کا برتاؤ سخت ہوتا ہے۔ دھکم پیل اور مارپیٹ کرنا ان کی عادت ہوتی ہے۔ مگر دھیرے دھیرے وہ صحیح ڈگر پر آجاتے ہیں۔ دوستی کی شروعات ذاتی مفاد کے تحت ہوتی ہے۔ اچھا دوست وہ ہے جو ’’مجھے ٹافی دیتا ہے‘‘ یا ’’اپنی سائیکل پر مجھے بٹھا کر لاتا ہے۔‘‘ پھر عمر کے بڑھنے کے ساتھ اس تصور میں تبدیلی آتی ہے۔ تعلیم و تربیت سے یہ بات وہ سیکھ لیتا ہے کہ ’’دوست وہ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔‘‘ اس عمر میں احتیاط برتنی چاہیے کہ بچوں کی دوستی اچھے لڑکوں سے ہو۔ چوری، جھوٹ، گالم گلوج اور بے حیائی کی باتیں وہ ’’اپنے سماج‘‘ سے سیکھ کر آتے ہیں۔ اس لیے سماجی نشو نما کے اس مرحلے میں والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں کو گھر پر بلائیں۔ ان کے عادت و اطوار دیکھیں، ان سے ہم بھی پیار کریں، ان کی بھی تربیت کریں اس لیے کہ ان کے ماحول میں ہمارے بچے کی تربیت ہورہی ہے۔ پھر بچوں کو ایس آئی او چلڈرن سرکل یا جی آئی او سے وابستہ کرانا چاہیے تاکہ انہیں دینی ماحول میسر آئے۔
(ج): گروپ: سماجی نشو نما کے ضمن میں ایک اور نیا پہلو اس عمر میں جو نظر آتا ہے وہ ہے گروپ سازی گروپ سازی دوستی کرنے کی توسیع ہے۔ بچہ ایک سے زائد احباب کو اپنا دوست تسلیم کرتا ہے۔ جن بچوں کے اقدار، اطوار اور مقاصد میں اشتراک ہوتا ہے ان کا ایک ایک گروپ بن جاتا ہے جن کی شناخت کے امتیازات ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے بچوں کے، کھیل کود کرنے والوں کے، ڈرامے وغیرہ میں حصہ لینے والے لڑکوں کے، شرارت اور ہنگامہ بازوں کے گروپ ممتاز ہوتے ہیں۔ گروپس میں ایک لیڈر ہوتا ہے، ایک اپنا نظم ہوتا ہے، کچھ اصول وہ اپنے سے طے کرلیتے ہیں مشورے، مقاصد، مقدار اور اقدار وہ وقتاً فوقتاً طے کرتے ہیں۔
گروپس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کا سماجی نشو نما ہوتا ہے جسے Socialization کیا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بچوں میں مسابقت ہوتی ہے جو آئندہ کی زندگی میں بقا و نشو نما کے لیے ضروری ہے۔ گروپس کا تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اختلافات، مسائل کا حل وہ خود نکالتے ہیں۔
اس مرحلے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچہ جس گروپ کا فرد بن رہا ہے اس پر نگاہ بھی ہو اور واقفیت بھی۔ اساتذہ سے مل کر معلوم کریں کہ اس کا گروپ کیسا ہے اور کن اوصاف کا حامل ہے۔
مندرجہ بالا تین عوامل یعنی شخصیت کی شناخت، دوستی کرنا اور گروپ سازی کے ذریعہ بچوں کا سماجی ارتقا ہوتا ہے۔extravortnessایک عظیم اور اہم ترین صلاحیت ہوتی ہے جس میں انسان بے جھجھک ہوتا ہے اور دوسروں سے ملنے میں وہ خود اقدام کرتا ہے۔
(۳) تعلیمی ارتقا
تعلیم کی شروعات کا زمانہ عموماً ۵ اور ۶ سال کے آس پاس ہوتا ہے۔ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ممالک میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ مگر آج کل کانونٹ کے فیشن نے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا۔ اب ڈھائی برس کی عمر میں ’’کرش‘‘ اور ’’بیبی سٹنگ‘‘ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ زیر بحث عمر کے حصے میں لکھنے، بولنے، پڑھنے یاد کرنے اور حساب کتاب کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ امریکہ میں چوتھی جماعت میں جب یہ صلاحیتیں کسی قدر فروغ پاجاتی ہیں تو ’’تعلیم یافتہ‘‘ کے زمرے میں وہ شامل ہوجاتے ہیں۔
تعلیم میں اور تعلیمی صلاحیت کے فروغ میں اسکول کی کارکردگی کتنی ہے، یہ ماہرین نفسیات کی بحث کا موضوع رہا ہے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کا واحد مرکز اسکول نہیں ہے۔ انسانی تاریخ سے یہ بھی ثابت نہیں ہے کہ ہر زمانے میں اسکول کا تصور رہا ہو۔ بلکہ اس کی تاریخ دو ڈھائی سو سالہ ہی ہے۔ اسکول میں تعلیم کا ایک رسمی ڈھانچہ اور ایک متعین نصاب ہوتا ہے جب سب کے لیے مساوی اور مشترک ہوتا ہے۔ تجربوں اور مشاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کی صلاحیت اسکول میں داخلہ لینے سے قدرے بہتر طور پر بڑھتی ہے۔ ورنہ خود آج ہمارے آس پاس کئی ایسے احباب کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جن کی اسکول کی تعلیم ساتویں، آٹھویں سے زیادہ نہیں مگر علمی صلاحیت میں PhDsکو مات کردیں۔ ان میں لکھنے، پڑھنے، بولنے، بحث کرنے کی بلا کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اس بحث کا یہ مطلب نہیں کہ بچوں کو اسکول بھیجنے کا کچھ زیادہ فائدہ نہیں بلکہ یہ بات ذہن نشین کرتی ہے کہ والدین بچوں کے علم میں ترقی کے لیے صرف اسکول کی تعلیم پر انحصار کرکے بیٹھ نہ جائیں اور اپنا رول فراموش نہ کردیں۔ ورنہ اسکول، جو تعلیم کے رسمی اور جدید مراکز ہیں، ان میں استاد، طلبہ کا ایک دوسرے کو ٹیوٹرنگ کرنا اور مسابقتی ماحول کے ذریعہ نوخیز نسلوں کی علمی صلاحیت فروغ پاتی ہے۔
کونسی صلاحیتیں اور کیسے؟
اوپر کے مباحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ صلاحیتوں کے فروغ کی اہم ترین عمر ۶ تا ۱۲ سال ہے۔ اور جن امور پر والدین کو توجہ دیتی ہے وہ ہیں، ذہنی ارتقاء، سماجی ارتقاء اور تعلیمی ارتقاء ۔ صلاحیتوں کے یہ تین وسیع ترین رخ شمار کیے جاسکتے ہیں۔ اب ذیل میں بعض صلاحیتوں کی نشاندہی کی جارہی ہے اور ان کے فروغ کی بعض آسان تدابیر بتائی جارہی ہیں۔ صلاحیتیں دو نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ایک عمومی صلاحیتیں، دوسری خصوصی صلاحیتیں۔ عمومی صلاحیت سے مراد عموماً وہ صلاحیت ہوتی ہے جو بحیثیت فرد اکثر انسانوں میں پائی جاتی ہے جو نہ منفرد ہوتے ہیں نہ ان کے فروغ کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس خصوصی صلاحیتوں سے مراد وہ صلاحیتیں ہیں جن کا وجود سماج میں خال خال پایا جاتا ہو اور وہ تخلیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں مثلاً آرٹ، پینٹنگ، موسیقی، مجسمہ سازی، کارٹون وغیرہ۔ ہم اس مضمون میں پہلی قسم پر بحث کریں گے۔
(ا) سننے کی صلاحیت:
اللہ تعالیٰ کا عظیم عطیہ دماغ ہے اور انسان کی عظمت اسی دماغ سے ہے۔ دماغ میں جو معلومات پہنچتی ہیں وہ حواس کے ذریعہ آتی ہیں۔ ان میں سننا ایک اہم ذریعہ بلکہ اولین ذریعہ ہے۔ اس لیے نبیﷺ نے بچہ پیدا ہونے کے فوراً بعد اذان اور اقامت دینے کا حکم فرمایا اس لیے کہ دماغ میں جو پیغام سب سے پہلے نقش ہو وہ کبریائی رب ہو۔ بچہ جس آن پیدا ہوا اسی لمحہ وہ سنتا ہے جبکہ دیکھنے میں اسے دو چار دن لگتے ہیں۔ سننے کی صلاحیت میں تیزی، حساسیت اور لطافت انسان کی ذہانت کی علامت ہے۔ ایک ذہین آدمی نقار خانے میں طوطی کی آواز سن لیتا ہے۔ بچوں کا ذہن کسی ایک چیز ہر توجہ مرتکز کرنے کا عادی نہیں ہوتا ہے اس لیے وہ کھیلوں سے بھی بہت جلد اکتا جاتا ہے۔ سننا دراصل توجہ کو مرتکز کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے سننے کے سلسلے میں ان کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ بچوں سے جب کہا جائے کہ ’’جاؤ جلدی دروازہ کھولو۔‘‘ ، ’’قیس میلے کپڑے لاکر حمام میں ڈالو‘‘، ’’رضی دکان سے ٹماٹر لاؤ‘‘ تو جواب ایک ہی حکم پر بہت کم آتا ہے۔ یا تو دوچار بار اسی بات کو دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے، یا آواز کو تیز اور لہجے کو سخت کرنا پڑتا یا رے، ارے وغیرہ لگانے پر جواب آتا ہے۔اگر معاملہ ایسا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ سننے سمجھنے اور ردعمل کرنے کی صلاحیت کمزور ہے۔ اس کا نقصان آگے چل کر یہ ہوگا کہ کلاس میں لکچرز سن کر بات کو جلد اخذ کرنے کی صلاحیت کم ہوگی۔ مزید آگے چل کر تجارتی میدان میں ہلکے اشاروں میں بڑی باتیں جو چھپی ہوتی ہیں ان تک ان کا ذہن نہیں جائے گا یا نوکری کرتے ہوں تو مالک کا دھیمی آواز میں ایک مرتبہ دیا گیا حکم عمل سے ادھورا رہ جائے گا۔ یہ سب سننے کی صلاحیت میں کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے بچے کو سننے میں تیز، سرعت اور تمیز کا عادی بنانا چاہیے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل آسان طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔
(الف): بچوں کو کہانیاں سنائیں، بیچ میںکچھ سوالات کریں اور دیکھیں کہ الفاظ کچھ نئے انھوں نے اخذ کیے ہیں کہ نہیں۔ سوالات زیادہ ہونے سے کہانی کی روانی ختم ہوجاتی ہے اس لیے جب کہانی ختم ہوجائے تو بچوں سے کہا جائے کہ کہانی میں منو کا قصہ، وہاں تک سناؤ جب وہ ندی پر پہنچتا ہے۔ دوسرا بچہ قصہ وہاں سے شروع کرے اور جنگل میں بھالو سے ملاقات تک کا واقعہ سنائے۔ تیسرا اختتام تک۔ اس طرح بچوں کی سننے کی صلاحیت کا فروغ دلچسپی کے ساتھ ہوگا۔
(ب): کسی پارک وغیرہ میں بیٹھ جائیں۔ بچے سے کہیں کہ آنکھ بند کرلے اور مختلف آوازوں کو وہ پہچانے اور بتائے۔ اس سے اخذ اور تمیز کی صلاحیت بڑھے گی۔ مثلاً کار، آٹو، بائیک کی آوزیں، ہارن، بریک مارنے کی کچ کچ، پرندوں کا چہکنا، پتوں کی سرسراہٹ، دور سے ’’برفی برفی‘‘ کی صدا، کتے کا بھونکنا، جھولے کے چرخے کی گھر گھر، ہوا چلنے کی دھیمی اورلطیف آواز، کسی کے آہستہ قدم چلے آنے کی آہٹ وغیرہ۔ نہ صرف وہ ان مختلف آوازوں کی فہرست پیش کرے بلکہ کہیں کہ وہ اسے دہرائے۔
(ج): آپ ایک نظم یا ترانہ یا لوری پڑھیں۔ یا CDیا کیسٹ لگادیں۔ بچہ اسے سنے اور یاد کرے۔
(د): کبھی کبھی بیک وقت پانچ چھ احکام ایک ہی سانس میں دیں اور ایک ہی مرتبہ بولیں اور بچے سے کہیں کہ جو سب پر عمل کرے گا اسے انعام۔ مثلاً ’’دورازے تک جاؤ، ایک دائرہ بناکر گھومو، پھدکتے ہوئے کچن جاؤ،نمک کی بوتل اٹھا لاؤ اور ٹیبل پر الٹا رکھ دو، لائبریری سے چھوٹی، لال ڈکشنری کھلی اٹھالاؤ۔‘‘ ان احکام میں سے بہت سے احکام بجا تو لائیں گے مگر تفصیلات نظر انداز ہوجانے کاامکان ہے۔ مثلاً نمک کی بوتل لاکر ٹیبل پر رکھ تو دیں گے مگر وہ سیدھی ہوگی۔ ڈکشنری اٹھا تو لائیں مگر وہ بڑی جو عموماً استعمال ہوتی ہے یا چھوٹی لائیں بھی تو کھلی لانا بھول جائیں گے۔
(ہ): کبھی بچے کے سامنے پیچیدہ، بے معنی جملے تیز کہیں اور بچے سے کہیں کہ وہ دہرائیں۔ یہ سب کھیل کھیل میں ہونا چاہیے یا سفر کے دوران۔
(و): بچے جب کسی اجتماع میں جاکر آئیں یا خطبہ جمعہ سے لوٹیں تو انہیں اس بات کا عادی بنائیں کہ سنی ہوئی تقریر کا اختصار پیش کریں۔ جب یہ عملی مشق انہیں دی جائے گی تو وہ تقریر کو اس کے مضمون کے ساتھ یاد رکھیں گے۔ ورنہ امت کا حال یہ ہے کہ کسی تقریر کو سن کر وہ کہیں گے کہ ’’واہ تقریر بڑی پیاری تھی‘‘ پھر پوچھیں کہ حضرت نے کیا بتایا جواب ملے گا ’’نئی جی تقریر بہت اچھی تھی‘‘ یہ دراصل سننے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔
سننے کی صلاحیت ہوسکتا ہے بعض قارئین کو عجیب لگے۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ’’زبان دانی‘‘ ذہانت کی علامت مانی گئی ہے۔ ایک ذہین آدمی کے پاس الفاظ کا زبردست خزانہ ہوتا ہے۔ جب مناسب الفاظ لوگوں کے پاس نہ ہوں تو ’’وہ‘‘ ، ’’یہ‘‘ ،’’ہے نا‘‘ ’’آں‘‘، ’’اوں‘‘ کے بے معنی الفاظ بیچ میں ڈال کر اپنے جملے پورے کرلیتے ہیں۔ مگر ایک ذہین آدمی مناسب وقت پر مناسب الفاظ استعمال کرتا ہے۔ چادر، کمبل، لحاف، اوڑھنا، بیڈ شیٹ، شال وغیرہ میں باریک فرق ہے۔ یہ ذخیرہ الفاظ سننے سے حاصل ہوتے ہیں۔ پڑھ بھی لیا تو ان کا تلفظ سن کر ہی آدمی سیکھتا ہے۔ جس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ زیادہ ہو وہ گفتگو کے فن کا ماہر ہوتا ہے یا مصنف ہو تو اس کی تحریروں میں دریا کا بہاؤ محسوس کیا جاسکتا ہے جیسا کہ مولانا مودودیؒ کی تحریریں ہوتی ہیں۔
(۲) تدبر کی صلاحیت
تفکر و تدبر سے انسان بلند ہوتا ہے۔ غوروفکر کی صلاحیت کے استعمال سے انسان خیالات کی تخلیق کرتا ہے۔ ایک سائنس دان، ایک مصنف، ایک شاعر، ایک حکمراں، ایک تاجر وغیرہ اپنے اپنے امور پر غوروفکر کرتے ہیں اور مناسب اسٹریٹجی وضع کرتے ہیں یا ادویات و اشیاء ایجاد کرتے ہیں۔ یہ سب تفکر و تدبر کا ثمرہ ہوتے ہیں۔ یہ صلاحیت بھی بچوں میں فروغ دینے کی ضروری ہے۔ اس کے لیے ہم ایک آسان ترکیب بتارہے ہیں۔ بچوں کے سامنے ایک قصہ یا کہانی سنائیں۔ مثلاً حضرت عمرؓ کی سیرت ہوسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے بچپن میں پڑھنا، تقریر کرنا، گھڑ سواری، تیر چلانا، گلہ بانی، پہلوانی وغیرہ سیکھا۔ پھر قبولِ اسلام کی ایمان افروز داستان سنائیں۔ پھر مختلف جنگوں میں ان کے کارہائے نمایاں بتائیں۔ پھر ان کے جلالی مزاج کے کچھ واقعات سنائیں جن سے بچے بہت خوش ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کی بہت سی آراء کی موافقت میں قرآن میں احکام آئے اس کا قصہ سنائیں۔ پھر خلیفہ بننے کے بعد لوگوں کی خبر گیری کے بعض نادار واقعات سنائیں۔ پھر ان سے سوالات کریں۔ ان سوالات میں ایک درجہ بندی ملحوظ رکھیں۔ اس سے ان کی ذہنی صلاحیتوں میں زبردست ترقی ہوتی ہے۔ درج ذیل درجہ بندی کو غور سے دیکھیں۔
(الف): علم: کہانی سننے کے بعد علم کا درجہ سب سے پہلا اور بنیادی درجہ ہے۔ یہ دراصل معلومات کو اخذ کرنا اور ضرورت پر اسے ہوبہو سنا دینا ہوتا ہے۔ معلومات کی یہ سطح ذہنی صلاحیتوں کی شروعات ہے۔ بعض لوگ صرف معلومات کو ذہانت تسلیم کرلیتے ہیں۔ حسب ذیل سوالات بچوں کے اندر معلومات کی سطح بلند کریں گے۔
٭ حضرت عمر کا پورا نام کیا ہے؟
٭ حضرت عمر کہاں پیدا ہوئے؟
٭ حضرت عمر کس کے بعد خلیفہ ہوئے؟
(ب): فہم: علم کے بعد فہم کا درجہ آتا ہے۔ معلومات کو صحیح پس منظر اور درست اسباب کے ساتھ وابستہ رکھنا فہم ہے۔ علم و فہم فکری صلاحیتوں کی اہم ترین بنیادہیں۔ فہم کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل سوالات بچوں سے کریں:
٭ صلح حدیبیہ کے وقت حضرت عمرؓ کا اختلاف کا سبب کیا تھا؟
٭ حضرت حاطبؓ بن ابی بلقہ کی گردن اڑا دینے کی بات حضرت عمر نے کیوں کہی؟
٭ حضورؐ کی دعا حضرت عمرؓ کے بارے میںکیوں تھی؟
(ج): تجزیہ: تجزیہ میں واقعہ کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ واقعات اور احوال کو مختلف عناوین دینا، محذوف اجزاء کو پُر کرنا، مشترک اور مختلف امور کی پہچان کرنا تجزیہ ہوتا ہے۔ تجزیہ میں مضمون کو اپنی ترتیب سے جوڑنا بھی ہوتا ہے۔ اس صلاحیت کے فروغ کے لیے بچوں سے یہ پوچھیں:
٭ نبیؐ نے کہا تھا ’’میرے بعد نبی ہوتے تو عمر ہوتے‘‘ ایسا آپ نے کیوںکہا؟
٭ حضرت ابو بکر صدیقؓ انتقال کے وقت خلیفہ کے لیے حضرت عمرؓ کے نام کو تجویز کیا تھا۔ جبکہ حضرت عمرؓ کے مزاج میں قدرے سختی تھی۔ مزاج کا منصب پر کیا اثر پڑا۔
٭ حضرت عمرؓ کی طرح آپ دین کی حمیت میں غصہ کریں تو گھر کی کن کن باتوں پر کریں گے؟
(د): انطباق: انطباق تدبر کی صلاحیتوں کی چوٹی ہے۔ جتنا کچھ پڑھیں، سنیں، دیکھیں ان کے اسباب اور پس منظر کچھ مختلف ہوتے ہیں۔ ان سے اصول نکال کر آج کے حالات میں منطبق کرنے کا کام ایک بڑا اور مشکل کام ہوتا ہے۔ مفکرین مجددین اور مصلحین یہی کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ وہ مطالعہ قرآن و حدیث کی روشنی میں آج کے حالات پر انطباق کرکے نئے پیدا شدہ مسائل کا حل دریافت کرتے ہیں۔ اس فکری صلاحیت کی اعلیٰ ترین سطح تک پہنچانے کے لیے بچوں کی تربیت ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں بچوں سے کچھ اس طرح کے سوالات ہوسکتے ہیں۔
٭ حضرت عمرؓ کی جگہ تم ہوتے تو بتاؤ بٹے حملے کیا تم کیا کرتے؟
٭ حضرت عمر کے زمانے میں اسلامی مملک وسیع ترین مملکت تھی۔ آج تم اس مقام پر ہوتے تو کن ممالک کو ختم کرتے کیوں اور کیسے؟
اس طرح مسلسل بچوں کو کہانیاں سناتے رہیں۔ ان سے سوالات کرتے رہیں تاکہ ان کی ذہنی سطح میں ارتقا ہو۔ ان کے جوابات بتادیں گے کہ بچے ابھی کس سطح پر ہیں۔
(۳) پڑھنے کی صلاحیت
پڑھنے کی عادت عموماً بچوں میں اسکول کی کتابوں کی حد تک ہوتی ہے۔ نصاب امتحان پاس کرنے کے لیے تو کافی ہوسکتا ہے مگر زندگی میں داعیانہ کردار ادا کرنے کے لیے صرف اتنا پڑھنا کافی نہیں ہے۔ لہٰذا بچوں میں خوب سے خوب مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔ مطالعہ جتنی کثرت سے کریں اتنی رفتار بھی تیز ہوگی۔ مسلسل ذہن کو مطالعہ سے غذا فراہم ہوتی رہے گی تو ذہانت و معلومات میں اضافہ ہوگا۔ زبان دانی اور ذخیرہ الفاظ جمع کرنے کا ذریعہ بھی مطالعہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ نئے خیالات کی تخلیق کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ افکار کا مطالعہ ہو۔ مگر زمانے کے بگاڑنے بچوں کو اس حد پر پہنچادیا کہ اب مطالعہ کی عادت ایک نادر چیز بن کر رہ گئی ہے۔ ٹی وی بینی نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ مطالعہ تفکر تدبر پر ابھارتا ہے جبکہ ٹی وی بینی نقل پر ابھارتی ہے۔ ضرورت ہے کہ بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرایا جائے۔ مطالعہ ان کی عادت اور فطرت ثانیہ بن جانی چاہیے۔ اس کے لیے حسب ذیل تدابیر پر عمل کیا جاسکتا ہے:
(الف): کتاب پڑھ کی کہانی سنائیں: کتابوں سے دلچسپی کا پہلا پہلا تعلق اس وقت ہوگا جب آپ کتاب دیکھ کر پڑھ کر اس میں سے کہانی سنائیں۔ بچوں کو کہانیاں چونکہ پرلطف اور مزیدار ہوتی ہیں، اس لیے انہیں اس کتاب سے بھی محبت ہوجاتی ہے۔ آپ وہ کتاب بستر پر ہی چھوڑ دیں توبچوں میں سے کوئی اسے اٹھا کر حفاظت سے رکھے گا۔ کہیں سے پھٹ جائے تو اسے گوند لگائے گا۔ سفر پر جائیں تو اس کتاب کو ساتھ لے لیں گے تاکہ مزیدار دلچسپ کہانیوں سے محرومی نہ ہونے پائے۔ پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے بنیاد ہے کتاب سے تعلق۔
(ب): بچوں کے لیے کتابیں اور میگزین فراہم کرنا: دوسرا مرحلہ ان کے خود مطالعہ کا آتا ہے۔ اس مرحلہ میں بچوں کے پہلے پہل رنگین، نقشوں اور تصویر والی کتابیں فراہم کریں۔ نماز کی ترکیب، حج، انبیاء کے قصے وغیرہ آج کل اعلیٰ طباعت اور اچھی کوالٹی میں میسر ہیں۔ اسی طرح ’ہلال‘، ’سائنس کی دنیا‘، Islamic Quizنامی میگزین صرف بچوں کے لیے جاری ہوتے ہیں۔ بچوں کے نام سے وہ میگزین جاری کرائیں۔ انہیں ڈاکیہ کا انتظار رہتا ہے کہ ان کا دل پسند میگزین کب آئے گا۔
(ج): کتاب کے علاوہ بھی پڑھائیں: پڑھنے کی عادت پیدا کرنے کی ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ جب آپ سودے کی دوکان جائیں تو بچے سے کہیں کہ مختلف چیزوں، ان کی کمپنی، وزن، قیمت وغیرہ وہ پڑھ کر سنائے۔ کچن میں پکاتے وقت بعض پکوان کی ترکیب ڈبے پر لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ بچے سے کہیں کہ وہ پڑھ کر سنائیں اور ہم پکائیں گے۔ باہر جائیں تو دوکانوں کے بورڈ، گلیوں کے نام پڑھائیں۔ پڑیا کا کاغذ پھینکنے سے پہلے بھی ایک بار پڑھ کر دیکھ لینا سکھائیں کہ کبھی کوئی کام کی بات نکل آتی ہے۔
(د): دینی کتابیں فراہم کریں: جب کتابوں سے اور پڑھنے سے ذوق بڑھے تو آسان کتابیں فراہم کریں۔ مثلاً مائل خیر آبادی مرحوم کی کتابیں بچوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ مطالعہ کی شروعات وہاں سے ہو پھر دھیرے دھیرے انبیاء کے قصے، صحابہ کی زندگیاں، سیرت اور بزرگوں کی داستان عزیمت پر چھوٹی چھوٹی کتابیں فراہم کریں۔ کبھی کبھی لائبریری لے جائیں۔ کبھی کتابوں کی نمائش میں لے جائیں۔ کبھی صاحب مطالعہ دوست کے گھر لے جائیں۔ اس طرح کتابیں، مطالعہ، علم ان کے لیے ذہنی غذا کی فراہمی کے سامان بن جائیں گے۔
(۴) یادداشت کی صلاحیت
یادداشت کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ گھر سے نکلے، واپسی کا راستہ اور گھر یاد نہ ہوتو کیا ہوگا؟ گھر پہنچے تو بیوی یاد نہ ہو، بچے یاد نہ ہوں تو کیسا لگے گا۔ آپ کا پہلا جملہ یاد نہ ہو تو دوسرا جملہ بے ربط، بے معنی بلکہ بکواس ہوجائے گا۔ یادداشت انسانی صلاحیتوں میں ایک بنیادی صلاحیت ہے۔ ہر انسان میں یہ صلاحیت کم سے کم درجہ میں بھی ضرور ہوتی ہے۔ مگر اسے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ضرورت ہے۔ یادداشت ذہانت کے پیمانوں میں سے ایک پیمانہ ہے۔ ذہین لوگوں کی بڑی قدردانی ہوتی ہے۔ اچھی یادداشت اچھے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
یادداشت دو قسم کی ہوتی ہے: (۱) قلیل المیعاد یادداشت (۲) طویل المیعاد یادداشت۔ اول الذکر میں کوئی بھی ڈاٹا ۳۰ سکنڈ تا ایک منٹ کے لیے یاد رکھا جاسکتا ہے۔ ان میں جو ضروری امور ہیں وہ خود بخود طویل المیعاد یادداشت میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ بچوں کی یادداشت کی صلاحیت کو بڑھانے کی بعض آسان ترکیب ذیل میں درج کی جارہی ہیں:
(الف): دوکان سے سودا لانے کے بعد پانچ پانچ آئٹم بچے کو دیں اور کہیں کہ وہ کچن میں رکھ آئے۔ پھر اس سے پوچھیں وہ چیزیں کیا تھیں۔ اس طرح سودا خرید کر لانے کے لیے بھیجیں تو چٹی میں لکھ کر دینے کے بجائے اسے صرف سنادیں کہ فلاں فلاں چیزیں لانی ہیں۔ وہ انہیں یاد کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایک دو مرتبہ غلطی ہوسکتی ہے کہ ٹماٹر کے بجائے آلو لے آئے وغیرہ۔ مگر زبانی فہرست دینا اس کی یادداشت کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔
(ب): ٹیبل پر پندرہ بیس آئٹم جوڑ دیں مثلاً: صابن، منجن، کنگھی، چابی، ڈبہ، شیشہ وغیرہ۔ بچوں سے کہیں کہ ایک منٹ وہ میز پر نگاہ ڈال لیں پھر ان چیزوں کو ہٹا دیں۔ اس کی ایک فہرست پہلے سے تیار کرکے رکھ لیں۔ آدھا گھنٹے کا وقفہ دیں۔ جیسے ناشتہ کا وقفہ یا غسل کرنے کے لیے کہہ دیا جائے۔ آدھے گھنٹے کے بعد بچے سے کہیں کہ جو ۲۰ آئٹم میز ہراس نے دیکھے اس کی فہرست تیار کریں۔ کامیابی پر انعام دیں۔
(ج): کبھی گھر کے بچے اور دیگر رشتہ داروں کے بچوں کو جمع کرلیں۔ دو دو کی جوڑی بنادیں۔ سمجھئے کہ بچوں کی ۵ جوڑی تیار ہوگئیں۔ ۱۰ چٹی تیار کریں۔ ہر چٹی پر ایک جملہ اردو یا انگریزی میں لکھ دیں جیسے ’’تاج محل آگرہ میں ہے۔اٹھ کر دیکھ، پلٹ کر جا، کام کر، اور واپس آ، یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم۔‘‘ ہر جوڑی کو پہلے ایک چٹی دیں اور لکھا جملہ یاد کرلینے کے لیے صرف ایک منٹ دیں۔ پھر وہ چٹی پیچھے بیٹھے دوسری جوڑی کو دے دیں۔ اس طرح اسے پاس کردیں۔ پھر دوسری چٹی، پھر تیسری اس طرح ۱۰ ؍چٹیاں ۱۰ منٹ میں ہر گروپ سے پاس کرادیں۔ اس کے بعد ایک آدھ گھنٹے کے لیے بچوں کو کسی کھیل میں لگادیں۔ وقفے کے بعد ان سے چاہیں کہ ان یاد کردہ دس جملوں کو لکھ دیں۔ جو صحیح لکھے گا اسے انعام دیں۔
(د): کسی ٹور پر لے جائیں۔ مختلف تاریخی مقامات، اسباق کی بعض چیزیں جیسے کنویں سے سینچائی، نہر سے سینچائی، تالاب سے سینچائی، ندی کا سمندر سے ملنا، کسی مقام پر قوس قزاح کا دیکھنا، ڈیم، اوور برج، انڈر برج، ریلوے کراسنگ، پھر ہوٹل، دکانیں، محلے، گلیاں وغیرہ بتائیں۔ ان کے نام، وجہ تسمیہ، کام وغیرہ سمجھا دیں۔ تفریح سے گھر واپس لوٹنے کے بعد بچوں سے کہیں کہ جو زیادہ سے زیادہ تفریحی مقام کے آئٹم لکھے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنی یادداشت پر ذخیرہ شدہ مواد کو باہر نکال لانے کی صلاحیت میں چستی اور تیزی پیدا کرسکیں گے۔
(۵)ذخیرہ الفاظ
الفاظ کا ذخیرہ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے حد درجہ ضروری ہے۔ مفکر، دانشور، سائنس داں کو اپنے لطیف اور پیچیدہ خیالات کو، پڑھنے اور سننے والے کو سمجھانے کے لیے مناسب اور مترادف الفاظ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب اس کے پاس الفاظ کا بھاری ذخیرہ ہو۔ عموماً ہماری زبان دانی خراب اور کمزور ہوتی ہے اس لیے بچے بھی ہم جیسے ہی نکلتے ہیں۔ بچپن ہی میں اس صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کچھ آسان طریقے درج ہیں۔
(الف): بچوں سے خوب باتیں کریں۔ بات کرتے وقت ان کے الفاظ کو دہرانا نہیں چاہیے۔ جیسے پانی کو مانی، چمچہ کو اُنّا، شکر کو ککر وغیرہ جب بچے کہتے ہیں تو ہمیں ان کی معصوم زبان سے اچھا تو لگتا ہے۔ ایک دوبار لطف لینے کے لیے دہرالیں تو دہرالیں۔ مگر ہم جب بات کریں پانی کو پانی، چمچہ کو چمچہ، شکر کو شکر ہی کہیں۔ اچھی زبان بولیں، نئے نئے الفاظ استعمال کریں۔
(ب): بچوں کے سامنے ترانے، گانے اور نظمیں خود سنائیں یا کیسٹ اور سی ڈی لگائیں۔ ان لوریوں اور نظموں میں نفیس الفاظ استعمال ہوئے ہوتے ہیں، ان کا بار بار سننا، گنگنانا ذخیرہ الفاظ کو بڑھانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔
(ج): ۳ سالہ بچہ، چونکہ نیا نیا بولنا سیکھا ہوتا ہے، اور گھر والے اس کی باتوں سے خوش ہوتے ہیں اور اظہارِ خوشی اسے اچھا لگتا ہے۔ اس لیے وہ کچھ باتونی ہوجاتا ہے۔ وہ نہ صرف انسانوں سے بات کرتا ہے بلکہ گڑیا سے، کھلونوں سے، درودیوار سے اور کبھی اپنے آپ سے وہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس وقت اسے تصویروں والی کتابیں فراہم کریں گے تو وہ ان میں موجود کتا، بلی، ہوائی جہاز سے باتیں کرے گا۔
(د): بچوں سے بات کرتے ہوئے مکمل جملے اور متفرق جملے بولنا چاہئیں۔ بچے کہیں کہ کیا ہم دوکان جارہے ہیں تو جواب بجائے اس کے کہ ’’ہاں‘‘ ہم یہ کہیں کہ ہاں ہم مارکیٹ میں سبزی اور گوشت کی دوکان پرجائیں گے۔‘‘ سامنے سے کار گزرے تو بجائے اس کے کہ ’’رکو، کارگذر جائے‘‘ یہ کہیں کہ’’رکو ماروتی ویگن آر گزرجائے یا آٹو رکشہ سڑک پار کرلے‘‘۔ اس طرح گاڑی کو گاڑی کہنے کے بجائے وہ سینکڑوں گاڑیوں کے نام، ان کی کمپنی کے نام کے ساتھ یاد رکھیں گے اور پہچانیں گے۔ علی ہذا القیاس درخت، پھل، پھول، سڑک، دوکان، کپڑے اور دیگر چیزوں میں جو اقسام ہیں ان میں سے ہر ایک کی شناخت کے ساتھ ہم بات کریں تو ان کا ذخیرہ الفاظ بڑھے گا۔
گذشتہ دونوں مضامین میں جو باتیں ہم نے عرض کی ہیں وہ صرف اشارے ہیں۔ ورنہ ہر والدین خصوصاً ماں اپنی زبان، اپنے ماحول اور معیار کے لحاظ سے اپنا خود ایک الگ طریقہ اپناسکتے ہیں۔ شرط اول یہ ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات سماجائے کہ بچوں کو آنے والی مسابقتی دنیا کے لیے ہمیں زیادہ باصلاحیت بنانا ہے۔ شرط دوم ہے ان کی صلاحیت کے ارتقا کے لیے ہمیں دلچسپی کا مظاہرہ کرنا اور وقت فارغ کرنا۔ انشاء اللہ پھر ہم دیکھیں گے کہ گھر کا ماحول کتنا خوشگوار بنتا ہے۔ گھر کے اندر رہنا اچھا لگے گا۔ بچوں کو باصلاحیت بنتے دیکھ کر ہمیں یہ اطمینان ہوگا کہ ہم مریں گے تو ہماری قبر میں راحت کا سامان فراہم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں احساس، توفیق اور فکرمندی عطا کرے۔ آمین!

شیئر کیجیے
Default image
ایس امین الحسن

Leave a Reply