شخصیت سازی کا فن

اس اہمیت سے کون واقف نہیں ہے کہ بچے کی تربیت میںوالدین کا بڑا اہم رول ہوتا ہے؟ خصوصاً ماں کا؟جن مائوں نے اپنے بچو ں کی تربیت پر شروع ہی سے توجہ دی ہے‘ نہ صرف وہ بچے بڑے ہوکر ایک کامیاب زندگی گذارے ہیں‘ بلکہ تاریخ میں اپنا ایک نمایاں مقام بھی بنایاہے۔چاہے وہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اور حضرت انسؓ ہوں یا حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ یا علامہ اقبالؒ۔اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کی تعلیم و تربیت میں ان کی مائوںنے ان پر اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔
بات بالکل واضح ہے اگر کوئی ماں اپنے بچے کی تربیت کرنا چاہتی ہو تو‘ اس کو اس معاملہ میں انتہائی حساس ہونا چاہئے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت سے غفلت ‘ زبردست نقصان کا باعث ہوسکتی ہے۔انشاء اللہ ہم اس مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ایک ماں اپنے بچے کی شخصیت کس طرح بنا سکتی ہے؟ اور کیا طریق کار اور اصول اس کے پیش نظر ہونے چاہئیں؟
بچے کی موثر انداز سے تربیت کے لئے اس کے ابتدائی سال بڑے اہم ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس سلسلہ میں کافی تحقیق کی ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ 15سال تک کی عمر کے لئے والدین کی بہت زیادہ توجہ درکار ہوتی ہے۔ اس عمر تک پہچنے سے قبل ایک بچہ مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے۔اور ہر مرحلہ کچھ نہ کچھ سیکھنے اور سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر مناسب توجہ دی جائے تو بچہ وہ سب کچھ سیکھے گا جو آپ چاہتی ہیں۔15سال کی عمر سے قبل حسب ذیل چار مراحل ہوتے ہیں۔
(۱)پیدا ہونے کے بعدسے دوسال تک:اشیاء کو آہستہ سے پکڑنے ‘ عمل کو دہرانے اور بولنے کی کوشش کرتا ہے
(۲) 2سے7سال:اشیا ء کی پہچان اور بول چال سیکھتا ہے ‘ باہر کے ماحول سے جڑ جاتا ہے
(۳) 7سے11سال:شعور پختہ ہوتا جاتا ہے‘ نئی نئی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں‘لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے‘ اپنے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیتا ہے
(۴) 11سے15سال:سن بلوغ کو پہنچتا ہے‘نئے نئے خیالات پیدا ہوتے ہیں‘عزائم اور حوصلے بلند ہوجاتے ہیں‘ اور کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
عمر کے ان مراحل کی اہمیت کو سمجھنا‘ بچے کی شخصیت سازی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔عمر کے جس حصہ میں بچے کی جو ضروریات ہوں‘ انہیں احسن طریقے سے پورا کیا جائے۔
بچے کی ضروریات
ہر بچہ کو ایک بالغ نگران کار کی ضرورت ہوتی ہے۔اکثر وہ نگران کار‘ ماں ہی کے روپ میں ہوتی ہے جو بچہ کی پرورش میں مرکزی کردار نبھاتی ہے۔ایک ماں کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ 3تا5سال کے عمر کے بچوں پر خصوصی توجہ دے کیوں کہ اس مرحلہ میں بچے کا دل و دماغ بڑی تیزی کے ساتھ نشوونما پاتا ہے۔
بچے کا دل و دماغ
یہ اسطرح بنائے گئے ہیں جو کسی نے کسی سے رشتہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔جیسے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں‘ ویسے دماغ کے صحیح ڈھنگ سے سوچنے اور دل کے صحیح طرز پر سمجھنے کا عمل پختہ ہوتا جاتا ہے۔اس لئے عمر کے اس نازک مرحلہ میںضروری ہے کہ والدین ہمیشہ بچے کے ساتھ رہیں۔والدین سے قربت کے نتیجے میں بچہ کی شخصیت پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔اور جو خوبیاں اس کے اندر پروان چڑھائی جائیں گی‘ اس میں بھرپور کامیابی ملے گی۔
مزاج
شخصیت سازی کے لئے بچہ کے مزاج سے واقفیت ضروری ہے۔مزاج سے مراد اچھی یا خراب صحت نہیں۔بلکہ فطری صلاحیتیوںاور رجحانات کا ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے بعد کا اظہار مزاج کہلاتا ہے۔ اس لئے کسی بھی شخصیت کی پہچان اسی وقت مکمل طور پر ہوسکتی ہے جب کہ اس کی ان فطری صلاحیتوں کا مقابلہ حالات سے ہوتا ہے۔ہم اللہ کے رسولﷺ کی وہ حدیث جانتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا کہ بہادر وہ نہیں جو کشتی میں کسی پہلون کو گرادے‘ بلکہ اصل بہادرتو وہ ہے جو اپنے غصہ کو قابو میں رکھے۔ اس حدیث سے آپ سمجھ سکتی ہیں کہ نامناسب حالات سے فطری صلاحیت جب میل کھاتی ہے اس کا اظہار یا توغصہ کی شکل میں ہوسکتا ہے یہ پھر صبر کی شکل میں۔ ایک ماں کی حیثیت سے آپ بچے کی فطری صلاحیتوں اور رجحانات کا اس مہارت کے ساتھ اندازہ کرلیں کہ ان کا ظہور ہر طرح کے حالات میں انتہائی مناسب اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نگاہ میں پسندیدہ ہو۔ جیسے حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی ماں نے نصیحت کی تھی‘ کہ کچھ بھی ہوجائے جھوٹ نہ بولنا۔اب رہا یہ سوال کہ بچہ اپنے اور دوسروں کے سلسلہ میں کس بنیاد پر رائے قائم کرلیتا ہے؟ تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ‘ مزاج کی جس طرح نشوونما ہوگی ‘اس کا رویہ بھی اسی طرح کا ہوگا۔لہذا آپ کو ایک بہترین مربی بننے کے لئے ‘ ایک بہترین مزاج شناس بھی بننا چاہئے۔
آئیے اب ہم مزاج کو سمجھتے ہیں۔ہر بچہ کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔اس کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ اس کا مزاج کیسا ہے؟بعض ایک اعمال سے متعلق تفصیلات اس طرح ہیں:
(۱) حرکت و عمل: بعض بچے بڑے شریر قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک جگہ نہیں بیٹھتے۔ ان کی یہ عادت بتاتی ہے کہ وہ بڑی توانائی اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور بعض بچے بڑے سست ہو تے ہیں۔
(۲) توجہ اور یکسوئی :اس کے ذریعہ سے آپ یہ جان سکتی ہیں کہ بچہ اپنی توجہ کب ہٹاتا ہے اور کسی کام میں اس کی کس قدریکسوئی ہوتی ہے؟ اگر کوئی دلچسپ کام میں مصروف ہو تو کیا ایک ہلکی سی آہٹ سے بھی وہ دوسری طرف متوجہ ہوجاتا ہے؟اگر جواب ہاں میں ہو تو وہ خوش آئند ان معنوں میں ہے کہ اسے کسی بھی غلط کام سے روکنے کے لئے اس کی توجہ کو فوری ہٹا یا جاسکتا ہے۔ البتہ جہاں تک یکسوئی کا معاملہ ہے ‘ اس سلسلہ میں اس کا یہ طرز عمل تربیت کے لئے رکاوٹ بنے گا۔مثلاً اگر وہ ہوم ورک کررہا ہوتو ذرا سی آواز پراس کی یکسوئی ختم ہوجائے گی۔
(۳) قبول کرنا/انکار کرنا :یہ عادت دراصل بچے کی اس خوبی کو واضح کرتی ہے کہ وہ کس طرح نئے حالات اور نئے اور اجنبی لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے؟ اس کے اندر قبول کرنے کا مادہ زیادہ ہے یا انکار کرنے کا؟
(۴) مطابقت :تبدیلیوں کو بچہ کس قدر آسانی کے ساتھ برداشت کرلیتا ہے؟نیا کھیل ‘ نیا کام ‘ نئی جگہ وغیرہ۔ کیا ان سے وہ فوری مانوس ہوجاتا ہے؟یا اس کے لئے کافی وقت درکار ہے؟
(۵) استقلال:یہ مزاج میں پائی جانے والی ایک غیر معمولی خوبی ہے جس کی پہچان اس وقت بخوبی کی جاسکتی ہے جب بچہ کسی بھی کام میں یا کھیل میںبہت دیر تک منہمک رہتا ہے۔ چاہے کتنا ہی شور شرابا ہو وہ اپنی توجہ کو نہیں ہٹاتا۔
(۶) موڈ :بچہ اکثر کس طرح کے موڈ میں رہتا ہے؟ خوش باش یا غم زدہ۔ یا دونوں کے بین بین صورت حال ہوتی ہے؟اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچہ کا موڈ کیسا ہے؟
مزاج سے متعلق ان مختلف رویوںکے پیش نظر آپ اس کی شخصیت سازی کا ایک منظم پروگرام بناسکتی ہیں۔ان رویوںکے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی پہلو بھی۔ آپ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ مثبت پہلوئوں پر مزید توجہ دیں‘ اور منفی پہلوئوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔ ذیل میں ایک چارٹ دیا جارہا ہے۔اس چارٹ کا پہلا کالم بچے کے مزاج سے متعلق مختلف رویوں کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے کالم کا جواب بچے کی تربیت کی راہیں آسان کرتا ہے جب کہ تیسرے کالم کا جواب آپ سے زیادہ کوشش کا مطالبہ کرتا ہے۔
مزاج
تربیت کرنا آسان ہے اگر جواب ہو
تربیت کے لئے زیادہ توجہ درکار ہے اگر جواب ہو
(۱)حرکت و عمل:کھیل کود اور مختلف کاموں کو انجام دینے میں کیا بچہ بہت زیادہ مصروف رہتا ہے؟
ہاں
نہیں
(۲) توجہ اور یکسوئی:ایسا کام جس میں بچے کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے‘ اس میں توجہ اور یکسوئی کا معاملہ کیسا ہے؟
کم
زیادہ
(۳) قبول کرنا/انکار کرنا:نئے حالات اور نئے لوگوں سے میل جول
قبول کرتا ہے
انکار کرتا ہے
(۴) مطابقت:نئی نئی تبدیلیوں کے مطابق کیا بچہ اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے
ہاں
نہیں
(۵) استقلال:کیا کسی کام میں مصروف ہو تو اسے فوری چھوڑنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا؟
ہاں
نہیں
(۶) موڈ:بیشتر معاملات میں بچہ کا موڈکس طرح کا ہوتا ہے؟ مثبت یا منفی
مثبت
منفی
َ حسب ذیل امور سے متعلق بچوں کو بچائے رکھئے۔ یہ ان کی شخصیت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں:
(۱) محبت نہ کرنا
(۲) ستانا
(۳) بچپن میں نگرانی نہ کرنا
(۴) اپنے رویے اور فیصلوں میں باربار تبدیلیاںلانا
(۵) گھریلو مسائل اور والدین کا آپس میں جھگڑنا
(۶) بغیر علاج یاتشخیص کے کسی بیماری کا ایک لمبے عرصہ تک رہنا جیسے کان کا درد‘ پیٹ کا درد وغیرہ
ان امور سے لاپرواہی ہرگز نہ ہو۔ بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان سے لاپرواہی کے سبب بچو ں کے اندر حسب ذیل خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں:
٭ احساس کمتری
٭ دوسروں پر زیادہ انحصار
٭ مشکلات اور مسائل سے پریشانی
٭ قوت برداشت میں کمی
٭ دوستی قائم رکھنے یا بنانے میں دشواری
٭ غیر اخلاقی حرکت
٭ غصہ اور مارپیٹ کا رجحان
٭ گھر اور افراد خاندان سے متعلق منفی سوچ
٭ رحم و کرم اور ہمدردی کا فقدان
٭ اسکول میں خراب کارکردگی اور دوسروں کے ساتھ رہنے کا مسئلہ
٭ گفتگو اور زبان کا مسئلہ
٭ فضول اور بے معنی گفتگو
٭ سیکھنے اور سمجھنے میں دشواری کا سامنا
٭ سستی اور کاہلی
٭ بیماریوں سے خوف
َ طریق تربیت
٭ بچو ں کی تربیت سے متعلق آپ کو نہ صرف حساس ہونا چاہئے بلکہ آپکو بچو ں کے مزاج کاایک بہترین منتظم بن جانا چاہئے۔کہ ہر حال میں جذبات اور غصہ میں آئے بغیر منصوبہ بند اور احسن انداز سے بچوںکی تربیت ہوسکے۔
٭ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر کیجئے۔ آپ بھی اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق کام کرسکیں گی اور بچے کے اندر بھی نظم و ضبط پیدا ہوگا۔جیسے سونے کا وقت‘ بستر پر جانے کا وقت‘ کھیل کا وقت‘ ہوم ورک کا وقت وغیرہ
٭ اگربچے سے کوئی غلطی ہوتو ایسا رویہ اختیارکیجئے کہ اس کو معلوم ہوجائے کہ آپ اس کی غلطی کو ہر گز پسند نہیں کرتیں اور اس سے خفا ہیں۔
٭ خوب جان لیجئے کہ آپ کے اخلاق و کردار کا بڑا غیر معمولی اثر بچوں پر پڑتا ہے۔لہذا آپ ہر معاملہ میں اپنے بچوں کے لئے آئیڈیل بن جائیے۔نمازوں کی پابندی‘ تلاوت قرآن مجید اورذکر واذکار‘ وعدوںکی پابندی‘ صاف و شفاف معاملات‘ افراد خاندان سے بہتر تعلقات‘ سچ گوئی‘بڑوں کی خدمت ‘فضول باتوں سے پرہیز‘ لڑیچر کا مطالعہ وغیرہ کے سلسلہ میں آپ کا بچہ آپ کو مثالی ماں سمجھے۔
٭ رات کو سونے سے قبل یا دن کے کسی اوقات میں قرآنی قصے اور حضرات انبیاؑ ‘ صحابہ کرامؓ اور بزرگان دین کے حالات زندگی سے متعلق کہانیاں سنانے کا اہتمام کیجئے۔ بچے کی سوچ او رفکر کوصحیح رخ دینے کا یہ نہایت آسان ‘ موثراور قابل عمل طریقہ ہے۔
َ خود اعتمادی پیدا کیجئے
٭ بچے کے مزاج کو سمجھنا‘ اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کا پہلا مرحلہ ہے۔
٭ بچے میں خود اعتمادی پیدا کیجئے۔اسے ہمیشہ اپنے بارے میں مثبت انداز سے سوچنے اور اپنی خوبیوں او ر خامیوں سے باخبر رہنے کی اہمیت واضح کرتے رہئے۔
َ اچھے کھلونے بھی بچے کی شخصیت پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔ اس کے استعمال سے بچے کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اشیاء کس طرح کام کرتی ہیں؟ نئی نئی ترکیب سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اوردوسروں سے تعاون لینے اور دینے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
َ خوف سے بچائیے
٭ ہر بچے میں خوف ہوتا ہے‘ کسی میں کم اور کسی میں زیادہ۔ بچوں میں سے غیر ضروری خوف دور ہو تو‘ ان کے اندر بلند عزائم ‘ حوصلہ اور صبر پیدا ہوتا ہے۔البتہ تھوڑا خوف ہونا چاہئے۔ جو بچے کو نقصان پہچانے والے کاموں سے روکتا ہے مثلاً مصروف سڑک پار کرنا‘ نامعلوم لوگوں سے کچھ لینا وغیرہ۔
عموماً بچوں میں حسب ذیل امور سے متعلق خوف ہوتا ہے:
٭ اندھیرا ٭ تنہائی ٭ امتحان ٭ پولس ٭ اسکول ٭ غصہ کرنے والے لوگ ٭ لوگوں کی ناراضگی ٭ ناکامی ٭ غلطیوں کا ارتکاب ٭ جانور ٭ لوگوں کے سامنے گفتگو ٭ ڈاکڑ یا دواخانہ ٭ مکڑی اور جھنگر
٭ جس چیز سے متعلق خوف ہو اسے حکمت سے دور کیجئے۔مثلاً اگر بچہ اندھیرے سے ڈرتا ہو تو ہمیشہ کمرہ روشن رکھیئے۔ اگر کسی وجہ سے اندھیرا ہوجائے تو اسے اکیلا مت چھوڑئیے۔ اس بات کا بھی جائزہ لیجئے کہ وہ اندھیرے سے آخر کیوں ڈرتا ہے؟ اگر کمرہ میں موجود چیزیں اندھیرا ہونے پر خوفناک دکھائی دیتی ہوں تو ان پر روشنی ڈال کر حقیقت بتائیے۔اگر بچہ اسکول جانے سے ڈرتا ہو تو ‘یہ معلوم کیجئے اس کا یہ ڈر کس وجہ سے ہے؟ کیا گھر کے لوگوں سے دوری کی وجہ سے؟ کیا اسکول کے شریرساتھیوں سے؟ کیا پڑھائی یا استاذ کی مار سے؟جس سے متعلق بھی ڈر ہو اس کو سلیقے سے دور کیجئے۔
َ ٹی وی اور انٹرنیٹ
٭ ٹی وی کا بہتراستعمال علم اور صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ اپنے گھر کا ماحول اس طرح بنائیں کہ اس کا محتاط اور بامعنی استعمال ہو۔ نیوز ‘ جنرل نالج اور کارٹون نیٹ ورک جیسے چینلوں کو مخصوص کرلیجئے۔ اس کے استعمال کا ٹائم ٹیبل بنائیے۔ یہ بات بدرجہ بہتر ہے کہ گھر میں ٹی وی ہو اور بچے اس کا شعوری اور بامعنی استعمال کرتے ہوں۔ بجائے اس کے کہ گھر میںٹی وی نہ ہو اور بچوں میں ایک قسم کی تشویش اور دیکھنے کی چاہ پنپنے لگے۔ اور وہ ادھر ادھر جانے کو سوچنے لگیں۔ایسا ہی معاملہ انٹرنیٹ کے استعمال کا بھی ہے۔اس کے محتاط اور بامقصد استعمال کے لئے بچوں کی رہنمائی کیجئے۔
َ تعلیم میں مدد کیجئے
٭ بچے کو روزانہ مطالعہ کا پابند بنائیے۔گھر میں ایسا ماحول پیدا کیجئے جس سے سکون اور اطمینان کے ساتھ مطالعہ کیا جاسکے۔
٭ اسکول میں لیئے گئے نوٹس کو دوبارہ لکھنے میں مدد کیجئے۔
٭ بچے کے تمام کاموں میں مدد مت کیجئے ۔صرف ایسے کاموں میں تعاون کیجئے جسے بچہ انجام دینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ جیسے کسی الفاظ کے ہجے‘ حساب کا کوئی مشکل سوال وغیرہ۔
٭ Testاور امتحانات کے موقع پر بچوں کے اعتماد کو بحال رکھئے۔رات میں جاگ کر پڑھنے سے منع کیجئے۔ دن کے اوقات میں منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھنے کا عادی بنائیے۔
َ مقاصدفیملی کی وضاحت ( Family Mission Statement )
آپ کا گھر اعلی اخلاقی اقدار کا مسکن ہونا چاہئے۔جس کی پاسداری گھر کے تمام افراد اسی طرح کرتے ہوں جیسے وہ اپنی اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔حسب ذیل امور آپ کے گھر کی پہچان بن جائیں:
٭ ہم سب صرف اور صرف اللہ رب العالمین کی بندگی کرتے ہیں۔ اسی سے ڈرتے ہیں۔ اسی سے دعائیں مانگتے ہیں
٭ ہم روزانہ پانچوں نمازیں ‘ پابندی وقت کے ساتھ ادا کرتے ہیں
٭ ہم روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں
٭ ہم پابندی سے اسکول جاتے ہیں
٭ ہم جھوٹ بولنے اور بناوٹی باتیں کرنے سے بچتے ہیں
٭ ہم اپنے بڑوں کی عزت کرتے ہیں اور ہمارے بڑے ہم سے بے انتہامحبت کرتے ہیں
٭ ہم وقت کی قدر کرتے ہیں۔اور ہر کام کے لئے سختی کے ساتھ اسکی پابندی کرتے ہیں۔
٭ ہم حالات حاضر ہ پر باہم تبادلہ خیال کرتے ہیں
٭ ہم اپنے گھر میں آنے والے مہمانوں کی خاطر داری کرتے ہیں
٭ ہم تمام اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں
ان اہم امور کا وقفہ وقفہ سے جائزہ بھی لیجئے‘ یہ جاننے کے لئے کس حد تک ان پر عمل کیا جارہا ہے؟
َ بچوں کے لئے رہنمایانہ خطوط
بچو ں کو بامقصد زندگی گذارنے کا عادی بنائیے۔شخصیت کی نشوونما بغیرکسی مقصد کے نہیں ہوسکتی۔لہٰذااپنے بچوں پر واضح کیجئے کہ وہ دنیا میں بے مقصد نہیں آئے ہیں۔بلکہ انہیں یہاں رہ کر صحیح معنوں میں اللہ کی بندگی کرنی ہے۔اور جو لوگ اللہ کو نہیں جانتے‘ انہیںاللہ کی پہچان کرانی ہے۔ان تک اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات پہچانی ہے۔
حسب ذیل امور پر مشتمل ایک خوبصورت کارڈ یا چارٹ بنایئے۔ جو ہمیشہ بچے کے پاس رہے۔یا گھر کے دیور پر آویزاں رہے۔ روزانہ یا ہفتہ میں کچھ دن ان سے متعلق بچے کی کیفیت معلوم کرنے کی کوشش کیجئے۔
٭ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بے انتہا محبت کرتا ہوں
٭ مجھے ہر حال میں اللہ رب العالمین سے ڈرنا چاہئے ‘ میں جہاں بھی رہوں وہ مجھے دیکھتا ہے
٭ میں اپنے والدین سے بھی محبت کرتا ہوں
٭ میں اپنے بھائی ‘ بہن اور دوستوں کے کام آتا ہوں
٭ میں اپنے استاد کی عزت کرتا ہوں
٭ میں جھوٹ نہیں بولتا
٭ میں ہمیشہ اپنا ہوم ورک وقت پرختم کرتا ہوں
٭ مجھے ہمیشہ اچھے دوستوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے
آخری بات
بچوں کی شخصیت سازی کے لئے کچھ اصولی باتیںبیان کی گئیں۔ جن کی اصل مخاطب ایک ماں ہے۔اور ایسا بچہ جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیںکہ بچے کی شخصیت کی صحیح رخ پر نشوونما کے لئے یہ عمر ہی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ویسے شخصیت کے ارتقاء کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں۔ اور نہ ہی مربی کی۔عمر کے کسی بھی مرحلہ میں تبدیلی لانے کی غرض سے کوشش کی جاسکتی ہے۔اور یہ کوشش ایک ماں کے علاوہ خواتین ہر حیثیت میں کرسکتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد عبداللہ جاوید

Leave a Reply