5

خواتین اور اسلام کی دعوت

اسلام کا ماننا یا نہ ماننا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے جس کا انسانی زندگی پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو، بلکہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اس سے دنیا و آخرت کی کامیابی وابستہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے اس دین کو قبول کریں ان کی یہ ذمہداری ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچائیں اور دنیا پر اس کی اہمیت واضح کریں۔ یہ ذمہ داری مردوں کی بھی ہے اور عورتوں کی بھی۔ چنانچہ دنیا میں اسلام اسی طرح پھیلا کہ دونوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کیا اور اس کو پورا کرنے میں لگ گئے۔ مسلمان خواتین نے مشکل ترین حالات میں بھی اس فرض کو جس طرح انجام دیا اس کا اندازہ ذیل کے چار واقعات سے ہوسکتا ہے۔

۱- حضرت انسؓ کی والدہ ام سلیم بنت ملحانؓ اپنی سوجھ بوجھ اور دانائی میں مشہور تھیں علامہ ابن عبدالبرؒ ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

کانت من عقلاء النساء۔

’’عاقل اور دانا عورتوں میں سے ایک تھیں۔‘‘

امام نوویؒ فرماتے ہیں:

کانت من فاضلات الصحابیات۔

’’علم و فضل والی صحابیات میں ان کا شمار ہوتا تھا۔‘‘

نیکی اور تقویٰ میں بھی ان کا بڑا اونچا مقام تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے جنت کا مشاہدہ کیا۔ وہاں میں نے کسی کی چاپ سنی۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کس کے چلنے کی آواز ہے بتایا گیا غمیصاء (ام انسؓ) کی آواز ہے۔

مدینہ میں اسلام پہنچا تو انھوں نے سبقت کی اور اسلام لے آئیں۔ اس وقت ان کے شوہر مالک بن نضر مدینہ سے باہر تھے۔ واپس ہوئے تو انہیں اس کا علم ہوا۔ کہا کہ کیا بے دین ہوگئی ہو؟ جواب دیا نہیں۔ محمد ﷺ پر ایمان لائی ہوں۔ حضرت انس بن مالکؓ گود میں تھے۔ انہیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بولنا سکھاتی تھیں۔ یہ دیکھ کر شوہر نے کہا کہ میرے بچہ کا بھی دین نہ خراب کرو۔ کہا : ا س کا دین خراب نہیں کررہی ہوں (بلکہ صحیح دین کی تعلیم دے رہی ہوں)۔

شوہر کو اسلام کی دعوت دیتی رہیں، لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا۔ خفاہوکر شام چلے گئے۔ وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔

شوہر کے انتقال کے بعد مشہور صحابی حضرت ابوطلحہؓ نے ان سے نکاح کرنا چاہا، لیکن اس وقت تک وہ اسلام نہیں لائے تھے۔ ام سلیمؓ نے ان سے کہا کہ آپ مشرک ہیں اور میں اسلام لاچکی ہوں۔ جب تک آپ بھی اسلام نہیں لے آتے ہم دونوں کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ ام سلیمؓ نے ان کے سامنے جس طرح شرک کی تردید کی اور توحید کو ثابت کیا اس کاذکر متعدد و روایات میں آتا ہے۔ انھوں نے ان کو سمجھایا۔ سوچیے! یہ پتھر اور لکڑی کے بت جن کو آپ پوجا کرتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟ فلاں قبیلہ کے سنگ تراش نے زمین سے پتھر اٹھایا اور بت بناکر کھڑا کردیا۔ فلاں بڑھئی نے لکڑی زمین سے نکالی اور ایک مورت بنادی۔ یہ آپ کو نہ تو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ آپ چاہیں تو لکڑی کے اس بت کو جلا کر راکھ کرسکتے ہیں۔ اسے سجدہ کرتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ یہ گفتگو مختلف اوقات میں ہوئی ہوگی۔ آہستہ آہستہ ان کے ذہن کی گرہیں کھل گئیں۔ ایک دن انھوں نے کہا: تمہاری بات میری سمجھ میں آگئی۔ اب میں اسلام لاتا ہوں۔ اس کے بعد ام سلیمؓ نے ان سے کہا۔ اب جب کہ آپ اسلام قبول کرچکے ہیں تو ہم دونوں کا نکاح بھی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ان کا نکاح ہوا اور حضرت ام سلیمؓ نے (اس خوشی میں) ان سے مہر بھی نہیں لیا۔

تبلیغ صرف زبان ہی سے نہیں ہوتی بلکہ آدمی کا کردار اور اس کا مضبوط رویہ بھی تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کسی مسلک پر انسان کی ثابت قدمی، اس کے لیے قربانی اور اسے غالب و سربلند دیکھنے کی تڑپ بعض اوقات وعظ و تبلیغ سے زیادہ کار گر ہوتی ہے اور بڑے بڑے لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ مسلمان خواتین کی استقامت اور ثابت قدمی نے اسلام کے سخت ترین مخالفین کو اپنی جگہ سے ہلادیا ہے اور وہ اسلام کے بارے میں سوچنے اور اسے قبول کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

حضرت عمرؓ شروع میں اسلام کے شدید مخالف تھے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض واقعات نے ان کے دل و دماغ کو بے حد متاثر کیا اور وہ اسلام لے آئے۔ ان میں سے دو واقعات کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔

۲- عامر بن ربیعہؓ اور ان کی بیوی ام عبداللہؓ مکہ کے ابتدائی دور میں اسلام لے آئے تھے۔ مکہ میں جب حالات ناقابل برداشت ہوگئے تو مسلمان مکہ سے حبشہ ہجرت کرنے لگے۔ ان ہی میں یہ دونوں بھی تھے۔ ام عبداللہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ سفر کے لیے پوری طرح تیار ہوچکے تھے۔ عامر کسی ضرورت سے باہر گئے ہوئے تھے کہ اسی اثنا میں عمر بن خطاب آئے۔ جب ہمیں پابہ رکاب دیکھا تو کہنے لگے ام عبداللہ! کیا اب روانگی ہے؟ میں نے کہا ہاں! قسم خدا کی! ہم یہاں سے کہیں بھی چلے جائیں گے۔دیکھیں اللہ تعالیٰ نجات کی صورت کیا پیدا کرتا ہے؟ آپ لوگوں نے ہمیں سخت پریشان کررکھا ہے۔ اس پر انھوں نے خدا حافظ کہا اور چلے گئے۔ اس وقت می ںنے ان کے اندر وہ طاقت دیکھی جو پہلے نہیں دیکھی تھی۔ میرے خیال میں ہمارے مکہ چھوڑنے کا انہیں غم تھا ، جب عامر واپس گھر پہنچے تو میں نے کہا۔ اگر آپ عمر کی رقت اور غم و حزن دیکھتے تو تعجب کرتے۔ انھوں نے کہا شاید تمہیں ان کے اسلام لانے کی توقع ہوچلی ہے؟ میں نے کہا ہاں! لیکن حضرت عمرؓ کی سختی کی وجہ سے وہ بالکل مایوس تھے کہنے لگے کہ خطاب کا گدھا جب تک اسلام نہ لائے عمر بھی اسلام نہیں لاسکتا۔

بظاہر اس وقت ان دونوں کی مظلومی اور بے بسی، سختی کے باوجود اپنے دین پر ثابت قدمی، اس کے لیے ہجرت، خویش و اقارب اور گھر بار کا چھوڑنا، یہ ساری باتیں ایک ایک کرکے حضرت عمرؓ کی نگاہوں کے سامنے آگئی ہوں گے اور وہ سوچنے لگے ہوں گے کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے۔ وہ کون سا جرم ہے جس کے لیے انہیں اس قدر تنگ کیا جارہا ہے؟

۲- حضرت عمرؓ سے پہلے ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زیدؓ اسلام لاچکے تھے۔ البتہ حضرت عمرؓ کے ڈر سے اسے مخفی رکھا تھا۔ ادھر حضرت عمرؓ اس بات پر سخت برہم تھے کہ رسول اللہ ﷺ باپ دادا کے دین پر تنقید کررہے ہیں، ان کو نادان اور غلط کار بتارہے ہیں اور ان کی وجہ سے قریش میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ ایک دن وہ اس ارادے سے نکلے کہ (نعوذ باللہ) آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کام تمام کردیں تاکہ یہ سارا ہنگامہ ہی ختم ہوجائے۔ راستہ میں نعیم بن عبداللہ سے ملاقات ہوگئی۔ ان کو حضرت عمرؓ کے ارادہ کا علم ہوا تو کہا اپنا ارادہ بدل دو۔ محمد (ﷺ) پر ہاتھ اٹھاؤ گے تو بنو عبد مناف تمہیں نہیں چھوڑیں گے ان کو قتل کرکے تم زندہ بچ نہیں سکتے۔ اگر محمدؐ اور ان کا دین برا ہے تو جاؤ اپنی بہن اور بہنوئی کی خبر لو۔ وہ دونوں بھی اسلام لاچکے ہیں اور محمدؐ کی پیروی کررہے ہیں۔ یہ سنتے ہی سارا غصہ بہن اور بہنوئی کی طرف مڑگیا۔ سیدھے ان کے گھر پہنچے۔ حضرت خبابؓ حضرت فاطمہؓ کو قرآن مجید پڑھانے کے لیے ان کے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ اس وقت وہ میاں بیوی کو سورئہ طٰہٰ پڑھا رہے تھے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے باہر سے قرآن پڑھنے کی آواز سنی۔ پوچھا یہ کیسی بھنبھناہٹ تھی؟ جواب ملا کوئی خاص بات نہیں ہے۔ بپھر گئے اور کہا مجھے خبر ہے تم لوگ بھی محمد (ﷺ) کے ساتھ ہوگئے ہو۔ یہ کہہ کر سعید بن زید کو پیٹنے لگے۔ بہن بچانے کے لیے دوڑیں تو انہیں بھی زخمی کردیا۔ زخموں نے ان دونوں کو ہراساں نہ کیا بلکہ ان کی حرارت ایمانی جوش میں آگئی۔ کہا: ہاں! ہم خدا اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب تمہارا جو جی چاہے کر گزرو۔ اس استقامت نے حضرت عمرؓ کو جھنجھوڑ دیا۔ بہن کو خون آلود دیکھ کر دل میں نادم ہوئے کہا: جو کتاب تم پڑھ رہے تھے لاؤ۔ دیکھوں تو محمدؐ کیا کہتے ہیںا؟ بہن نے کہا ڈرہے کہ کہیں آپ اس کی توہین نہ کریں۔ اپنے معبودوں کی قسم کھا کر کہا ایسا نہیں ہوگا۔ بہن نہ کہا آپ ناپاک ہیں اس لیے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ا س کتاب کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگاسکتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے غسل کیا اور سورئہ طٰہٰ پڑھنی شروع کی۔ بات دل میں اترتی چلی گئی اور پھر حضور ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوکر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔

ایسا بھی ہوا ہے کہ شوہر کو ایمان کی سعادت نصیب نہیں ہوئی یادیر میں نصیب ہوئی اور بیوی ایمان لے آئیں۔ شوہر کی عدم رفاقت کے باوجود اس پر ثابت قدم رہیں۔

حضرت ابوالعاصؓ حضرت خدیجہؓ کے بھانجہ تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اولاد کی طرف ان کی پرورش کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی آپ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ سے ان کا نکاح ہوگیا تھا۔ یہ جاہلیت میں بھی گو کہ اپنی نیکی، شرافت اور دیانت میں مشہور تھے، لیکن اسلام فتح مکہ سے کچھ ہی پہلے قبول کیا۔ حضرت زینبؓ جنگ بدر کے بعد مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے آئیں۔ اس طرح بعثت کے بعد وہ پندرہ برس تک مکہ میں ان کے ساتھ رہیں۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت زینبؓ اور حضرت خدیجہؓ نے ان کو سمجھانے کی کتنی کوشش نہیں کی ہوگی اور اس پوری مدت میںاسلام کی حقانیت کس کس عنوان سے واضح نہیں کی ہوگی۔ گو حضرت ابوالعاصؓ بہت تاخیر سے اسلام لائے۔ لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ اس میں ان کوششوں کا دخل نہیں تھا؟

ام حکیم بنت حارث جنگ احد میں مشرکین کی طرف سے شریک جنگ ہوئی تھیں۔ فتحِ مکہ کے بعد اسلام لائیں،لیکن ان کے شوہر عکرمہ بن ابوجہلؓ یمن فرار ہوگئے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچیں اور شوہر کے لیے امام حاصل کی۔ پھر آپؐ کی اجازت سے یمن گئیں، شوہر کو تلاش کرکے اپنے ساتھ لائیں اورآپؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ اس کے بعد وہ بھی اسلام لے آئے۔

حضرت خالد بن ولیدؓ کی بہن فاختہ بنت ولید فتح مکہ کے بعد اسلام لائیں اور بیعت کی۔ لیکن ان کے شوہر صفوان بن امیہ یمن بھاگ کر چلے گئے۔ وہ وہاں خود کشی کرنا چاہ رہے تھے۔ فاختہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ سے امان حاصل کی۔ آپؐ نے امان دی تو وہ واپس آئے اور فاختہ کے اسلام کے ایک ماہ بعد اسلام لائے۔

ام ہانیؓ حضرت ابوطالب کی لڑکی اور حضرت علیؓ کی سگی بہن تھیں۔ فتح مکہ کے بعد اسلام لائیں، لیکن ان کے شوہر ہیبرہ مکہ سے نجران فرار ہوگئے اور وہیں وفات پائی۔ باب دادا کے دین کو چھوڑنے کے لیے آخروقت تک تیار نہیں ہوئے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان خواتین نے اسلام قبول کرنے میں اپنے شوہروں کی بھی پروا نہیںکی، پھر صبروسکون اور حکمت کے ساتھ انھیں سمجھایا، دعوت دی، بڑے بڑے مخالفین کو قبول اسلام پر آمادہ کیا۔ ان کی معافی اور جاں بخشی کے لیے تگ و دو کی اور اس سلسلہ میں زحمتیں برداشت کیں۔ اس طرح دعوتِ دین کاحق ادا کیا اور ان لوگوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی سے ہم کنار کیا جو اس سے بہت دور ہوچکے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا سید جلال الدین عمری

تبصرہ کیجیے