عورت، سماج اور ذمہ داریوں کے درمیان

عورت کے بغیر گھر کا کوئی تصور نہیں۔ عورت گھر میں یگانگت اور محبت کی روح پھونکتی ہے۔ عورت ایک متوازن اور مکمل انسان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جو چیز بھی عورت کو اس ذمہ داری کی ادائیگی سے روکے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر میں لڑکیوں کے زندہ در گور کرنے کے خلاف ہوں۔ اسی طرح انھیں اس وقت زندہ درگور کرنا بھی ناپسندیدہ ہے جب ان کی صلاحیتیں پختہ ہوجائیں اور وہ اپنے خاندان اور قوم کو خیر ہی خیرعطا کرسکتی ہوں۔ پھر ہم ان دو چیزوں میں کیسے تطبیق دیں گے؟
پہلے ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ نسوانیت کو حقیر سمجھنا جرم ہے، اسی طرح ہم اسے ان راہبوں پر بھی نہیں ڈال سکتے جہاں اسے انسان نما بھیڑیے اچک لیں۔ صحیح مذہب ہمیں ان لوگوں کی تقلید سے منع کرتا ہے جو عورتوں کو مقید کرکے اور ان کی امنگوں کا گلا گھونٹ کر رکھتے ہیں اور ان پر طرح طرح کی ذمہ داریاں ڈالتے ہیں اور ان قوموں کی روایات کو بھی مسترد کرتا ہے جنھوں نے ہر آبرو کو مباح کررکھا ہے اور نفسانی جذبات کو بے لگام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے تمام قوانین کو نظر انداز کررکھا ہے۔
ایک عورت گھر کے اندر اور باہر دونو جگہ کام کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ خاندان کے مستقبل کے تحفظ کی مکمل ضمانت ہو اور پاکیزہ و صاف ستھرا ماحول بھی ہو جس میں عورت اپنے فرائض کو کسی خوف و خطر کے بغیر انجام دے سکے۔
ایک لاکھ ڈاکٹر اور ایک لاکھ مدرس مطلوب ہیں تو آدھی تعداد عورتوں کی لی جاسکتی ہے بشرطیکہ معاشرہ پاکیزہ ہو اور اس میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی مقر رکردہ حدود کا خیال رکھا گیا ہو۔ نہ تو اس میں لباس و جسم کی نمائش ہو اور نہ چھچھورا پن ہو، نہ ہی اجنبی کے ساتھ بے لگام اختلاط ہو اور نہ ہی خلوت کے اسباب مہیا ہوں:
تلک حدود اللّٰہ فلا تعتدوہا ومن یتعد حدود اللّٰہ فاولئک ہم الظالمون۔ (البقرۃ:۲۲۹)
’’یہی اللہ کے حدود ہیں لہٰذا ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں۔‘‘
یہاں پر یہ بات ضرور مدنظر رہے کہ باہمی ارتباط اور زندگی گزارنے کااصل مرکز گھر ہے۔ مجھے ان لوگوں کے حال پر بہت دکھ ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو نوکروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں یا بچوں کو دیکھ بھال اور دودھ پلانے کے لیے اس کے مخصوص مرکزوں میں ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ماں کی گرم سانسیں بچوں کی تربیت، خوبیوں کی نشوونما اور برائیوں سے بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ عورتوں کے اس بنیادی کردار کو نبھانے کے لیے ہمیں ہزاروں وسیلے تلاش کرنے ہوں گے۔ یہ بات بہت آسان ہے بشرطیکہ ہم دین کو اس کے صحیح خدوخال میں دیکھیں اور بے جا انحراف اور غلو سے اجتناب کریں۔ میں بہت سی ایسی ماؤں کو جانتا ہوں جو اسکولوں کی کامیاب پرنسپل ہیں اور بہت سے ماہر لیڈی ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جنھوں نے یہ پیشہ اختیا رکرکے اپنے پیشہ اور خاندان کو عزت بخشی ہے۔ ان سب کے پیچھے صحیح دین کی جان کاری کارفرما تھی۔
ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ یہودیوں نے ہمیں شکست دے کر ہماری سرزمین پر یہودی مملکت قائم کی تھی اور ان کے اس کام میں ان کی عورتیں برابر کی شریک تھیں۔ ان یہودی عورتوں نے اپنے مذہب کی خاطر سماجی اور فوجی خدمات میں شرکت کی تھی۔ میں نے یہ بات بھی دیکھی تھی کہ ایک یہودی عورت نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے چھ روزہ جنگ اور پھر بعد کی جنگوں میں بڑی بڑی داڑھی مونچھوں والے عرب لیڈروں کو خاک چٹا دی تھی۔ میں نے شمالی افریقہ اور بہت سے دیگر ممالک میں راہباؤں، کنواری اور شادی شدہ عورتوں کو نہایت جوش و خروش کے ساتھ عیسائیت کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہمیں اس لیڈی ڈاکٹر کی جرأت و ہمت کی بھی داد دینی چاہیے جو فلسطینی پناہ گزینوں کے خیموں میں اخیر وقت تک ڈٹی رہی جس کی وجہ سے اسے بھی مردار کا گوشت تک کھانا پڑا اور پھر آخری حصار کو عبور کرتے ہوئے وہ کچھ عرب بچوں کو اپنے ساتھ برطانیہ لے گئی تاکہ وہاں پر ان کا باقاعدہ علاج کیا جاسکے۔
بہت سے میدانوں میں بے حیائی اور عریانیت کی حدود کو پار کرنے کے ساتھ ساتھ عورتیں بین الاقوامی سطح پر شرافت و کرامت کے کشادہ اور وسیع میدانوں میں بھی قابل قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان غیر مسلم عورتوں کی طرف سے ہماری سرزمین اور دیگر علاقوں میں مذہبی اور سماجی جہاد کو دیکھ کر مجھے اسلاف کی عورتوں کا وہ جہاد اکبر یاد آگیا جو انھوں نے اسلامی جنگوں میں شامل ہوکے کیا تھا۔ انھوں نے دین کی خاطر قربانیاں دیں، جب ہجرت فرض ہوئی تو انھوں نے ہجرت کی اور ہجرت کرنے والے لوگوں کو پناہ دی۔ انھوں نے مسجد نبوی میں حاضر ہوکر سالہا سال تک نماز ادا کی اور جب جنگ کی نوبت آئی تو وہ بھی میدان جنگ میں شریک ہوئیں۔ اس سے قبل انھوں نے میدانِ جنگ میں طبی خدمات انجام دیں تھیں اور فوجی امور میں ہر قسم کی ممکنہ مدد بہم پہنچائی تھی، لیکن بعد کے دور میں عورتوں کی پوزیشن خراب ہوگئی اور ان پر جہالت مسلط کردی گئی اور پھر وہ عام انسانی راستوں سے بچھڑ گئیں۔ کیوں کہ عورت کے حقوق اور مصالح کے بارے میں قرآنی آیات پر عمل موقوف کردیا گیا۔ چنانچہ اسے میراث سے بالکل ہی بے دخل کردیا گیا اور شادی بیاہ کے معاملہ میں بھی اس سے مشورہ کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ ہزاروں لاکھوں طلاقوں میں شاید ایک فیصلہ عورتوں کو کچھ دے دلا کر باعزت طور سے ان کے گھروں کو واپس بھیجا گیا ہو۔ خدا تعالیٰ کا یہ فرمان:
والمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین۔ (البقرۃ:۲۳۱)
’’اور مطلقہ عورتوں کو دستور کے مطابق کچھ دینا پرہیز گاروں کے لیے لازمی ہے۔‘‘
وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکما من اہلہ و حکما من اہلہا۔ (النساء: ۳۵)
’’اور اگر تمہیں دونوں کے درمیان جھگڑے کا خوف ہو تو ایک حکم شوہر کی طرف سے اور ایک حکم بیوی کی طرف سے مقرر کرو۔‘‘
تو ان کی حیثیت عملاً کاغذ پر ایک سیاہی سے زیادہ نہیں رہنے دی گئی۔ عورت گویا اس قدر حقیر ہے کہ اس کے لیے صلح کی مجلس کون منعقد کرے اور اگر اسے گھر سے باہر نکال پھینکا جائے تو کوئی بھی اس کی مزاحمت نہیں کرے گا۔ مرد کی خطا تو قابلِ معافی ہے مگر عورت کو تو اس کی قیمت بہر حال چکانی پڑتی ہے۔
عالمی استعمار نے اپنے آخری حملہ میں ہماری اس کجی سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور اسلامی تعلیمات کے خلاف کافی نقصان دہ پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ گویا مظلوم اسلام ہی اپنے متبعین میں انتشار و افتراق کا ذمہ دار بن گیا۔
تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ اسلام کے یہ ترجمان اورمحافظ اس موروثی انتشار کے سب سے بڑے نقیب بن کر اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ انھوں نے اپنی نادانی سے اسی انتشار کو اسلام سمجھ لیا تھا۔ پاگل پن کی بھی بہت سے قسمیں ہیں اور جہالت کی بھی۔
مردو زن کے تعلقات کی بنیاد خدا تعالیٰ کے اس فرمان پر قائم ہے:
لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی بعضکم من بعض۔
(آل عمران: ۱۹۵)
’’میں تم میں سے کسی مرد یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کرتا تم میں سے بعض بعض سے ہے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا ہے:
من عمل صالحا من ذکر او انثی وہو مومن فلنحیینہ حیاۃ طیبۃ ولنجزینہم اجرہم باحسن ماکانوا یعملون۔ (النحل: ۹۷)
’’جس نے نیک کام کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مؤمن ہو تو ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور انھیں اچھا بدلہ دیں گے کیونکہ وہ اچھا کام کرتے تھے۔‘‘
اس کے علاوہ حضور غ نے بھی فرمایا ہے: ’’عورتیں مردوں ہی کا حصہ ہیں۔‘‘
شریعت میں کچھ چیزوں کے بارے میں نہ تو حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی روکا گیا ہے بلکہ مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے تاکہ ہم ان میں پوری آزادی کے ساتھ مثبت یا منفی تصرف کرسکیں۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی ذاتی رائے کو دین کا ایک حصہ قرار دے۔ یہ اس کی ذاتی رائے ہے اور بس۔ شاید ابن حزم کے اس قول میں یہی راز پنہاں ہو کہ اسلام نے عورت کو کسی منصب پر فائز کرنے سے منع نہیں کیا ہے صرف خلافت عظمیٰ کو چھوڑ کے۔
ابن حزم کے اس قول کی بعض لوگوں نے یہ کہہ کر تردید کی کہ یہ بات قرآن کی اس آیت کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے:
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللّٰہ بعضہم علی بعض وبما انفقوا من اموالہم۔ (النساء: ۳۴)
’’مرد عورتوں پر حاکم ہیں کیونکہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور کیونکہ وہ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں۔‘‘
کیوں کہ اس آیت سے بقول ان کے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عورت کسی بھی کام میں مرد کی سربراہ نہیں بن سکتی۔
یہ بات قطعی غلط ہے۔ قرآن شریف کے اگلے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مرد کی یہ حاکمیت اس کے گھر اور اس کے خاندان تک محدود ہے۔
حضرت عمرؓ نے مدینہ کے بازار کے حساب و کتاب کے فیصلوں کے لیے محترمہ شفاء کو مقرر کیا تھا۔ وہ تمام اہلِ بازار خواہ مرد ہوں یا عورت کے مابین حلال و حرام کی تفریق کرنے، عدل و انصاف کرنے اور خلاف ورزیوں کو دفع کرنے کی ذمہ دار بنائی گئی تھیں۔
اگر کسی کی بیوی اسپتال میں ڈاکٹر ہو تو اس کا شوہر اس کے فنی امور میں کیسے مداخلت کرسکتا ہے اور اس کے اسپتال کے کاموں پر کیسے اثر انداز ہوسکتا ہے؟ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ابن حزم کا کلام اس حدیث سے متعارض ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ:
خاب قوم ولوا امرہم امرأۃ۔
’’وہ قوم رسوا ہوئی جس نے اپنے امور کی باگ ڈور کسی عورت کو سونپ دی۔‘‘
لہٰذا اس حدیث کی رو سے کسی چھوٹے یا بڑے امر کی باگ ڈور عورت کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے۔ لیکن ابن حزم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں صرف ملک کی سربراہی کسی عورت کے ہاتھ میں دینے سے منع کیا گیا ہے اس کے علاوہ دیگر امور سے اس حدیث کا کوئی تعلق نہیں۔
اب آئیے ذرا مذکورہ بالا حدیث پر گہرائی سے غور کریں۔ ہمیں اس بات کا مطلق شوق نہیں کہ ہم کسی عورت کو صدر مملکت یا وزیر اعظم کا عہدہ پیش کریں۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ملک کی سربراہی امت کے موزوں ترین شخص کو دی جائے۔ اس نقطۂ نظر سے میں نے حدیث کو دیکھا۔ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ پھر اس کا کیا مطلب ہوگا؟
جس وقت ایران اسلامی فتوحات کے آگے سرنگوں ہورہا تھا تو اس وقت ایران ایک ظالم شہنشاہیت کے جوروظلم سے سسکیاں لے رہا تھا۔ یہ لوگ آتش پرست تھے، شوریٰ نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ شاہی رائے کی کوئی بھی شخص مخالفت کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ لوگوں کے باہمی تعلقات انتہائی خراب تھے، کوئی بھی شخص اپنے باپ یا بھائی کو ادنیٰ سی بات پر قتل کردیتا تھا اور پوری قوم اس ظالمانہ جبر کے تحت دم گھونٹنے والی اطاعت پر مجبور تھی۔
ایسے حالات میں رومیوں نے ایرانیوں کو میدانِ جنگ میں شکست فاش دی۔ اس سے قبل رومی بری طرح پسپا ہوچکے تھے۔ لیکن اب پانسہ پلٹ چکا تھا۔ فارس کی سرزمین رومیوں کی یلغار سے روز بروز سکڑتی جارہی تھی۔ ایسے میں کسی تجربہ کار سردار کی ضرورت تھی جو رومیوں کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہوسکے۔ مگر سیاسی بت پرستی نے قوم وملک کو ایک نوجوان عورت کی جاگیر بنا رکھا تھا جو کچھ بھی نہیں جانتی تھی اور اس کا مطلب پورے ملک کی تباہی ہوسکتا تھا۔ اسی بات کے مدنظر حضورؐ نے یہ حکیمانہ الفاظ فرمائے تھے جو پوری طرح ایران کے حالات پر صادق آتے تھے۔ اگر فارس میں اس وقت مجلس شوریٰ قائم ہوتی اور کوئی عورت اسرائیل کی گولڈ امائر کی طرح زمان حکومت اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے جنگی امور کا ذمہ دار کمانڈروں کو بنائے رکھتی تو اس وقت حالات پر تبصرہ یقینا دوسرا ہی ہوتا۔
آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ ان سب باتوں سے میرا مطلب کیا ہے؟ میرا جواب یہ ہے کہ آپؐ نے اہلِ مکہ کے سامنے سورہ نمل کی تلاوت فرمائی اور پھر ملکہ سبا کی ذکاوت و فہم کی تعریف فرمائی جس نے اپنی حکمت و دانائی سے اپنی قوم کو ایمان اور کامیابی کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ پھر آپؐ ایسا کوئی حکم کیوں کر صادر فرماسکتے تھے جو وحیِ الٰہی کے بالکل منافی تھی۔
بلقیس ایک وسیع و عریض ملک کی مالک تھی جس کے بارے میں ہد ہد نے حضرت سلیمان ؑ کو ان الفاظ میں خبر دی:
انی وجدت امرأۃ تملکہم وأوتیت من کل شیٔ ولہا عرش عظیم۔ (النمل: ۲۳)
’’میں نے ان کا مالک ایک عورت کو پایا اور اس کے پاس ہر چیز موجود ہے اور اس کا تخت بھی بہت لمبا چوڑا ہے۔‘‘
حضرت سلیمانؑ نے اسے اسلام کی دعوت دی اور غرور و سرکشی سے روکا۔ جب اسے ان کا خط ملا تو اسے نے جواب کے لیے امراء سلطنت سے مشورہ کیا جنھوں نے اسے کوئی بھی فیصلہ لینے کا اختیار دیا اور کہا کہ ہم بہرحال تمہارے ساتھ ہیں جسے قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
نحن أو لو اقوۃ وأولوا باس شدید والامر الیک فانظری ماذا تامرین۔ (النمل: ۳۳)
’’ہم صاحب طاقت ہیں اور زبردست دبدبہ والے ہیں، اب معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے لہٰذا تم دیکھ لو کہ تم کیا حکم دیتی ہو۔‘‘
مگر یہ عقل مند عورت نہ تو اپنی طاقت و قوت کے زعم میں مبتلا ہوئی اور نہ ہی اپنی قوم کی بے مثال جانفروشی سے، بلکہ اس نے حضرت سلیمانؑ کو جانچنے کا فیصلہ کیا کہ آیا وہ اقتدار اور دولت کے بھوکے ہیں یا ایمان اور دعوت کے علم بردار ایک نبی؟ چنانچہ جب وہ سلیمانؑ سے ملی تب بھی وہ ذہانت و حکمت کی روشنی میں ان کے حالات، معاملات اور ارادوں کا بغور مطالعہ کرتی رہی جس کے نتیجہ میں اس پر یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ وہ ایک نیک بخت پیغمبر ہیں۔
ملکہ بلقیس کے ذہن میں ان کا وہ خط بھی تھا جس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے:
انہ من سلیمان وانہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم الا تعلوا علی وائتونی مسلمین۔ (النمل:۳۸)
’’یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور جسے شروع کیا ہے اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے اور یہ کہ میرے خلاف سرکشی نہ کرو اور میرے پاس اطاعت گزار بن کے چلے آؤ۔‘‘
پھر اس نے اپنے قدیم مذہب بت پرستی کو ترک کرکے اللہ کے دین میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس نے کہا:
رب انی ظلمت نفسی واسلمت مع سلیمان للّٰہ رب العالمین۔
(النمل: ۴۴)
’’اے میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لائی۔‘‘
اب آپ ہی بتائیے کیا وہ قوم رسوا ہوسکتی ہے جس کی حاکم ایسی صائب الرائے اور سلیم الفطرت ہو؟ یہ عورت اس مرد سے کہیں بہتر ہے جس کو قوم ثمود نے حضرت صالحؑ کی اونٹنی ذبح کرنے کے لیے بلایا تھا ملاحظہ ہو قرآن کی آیت:
فنادوا صاحبہم فتعاطی فعقر فکیف کان عذابی و نذر، انا ارسلنا علیہم صیحۃ واحدۃ فکانوا کہشیم المحتظر، ولقد یسرنا القرآن للذکر فہل من مذکر۔ (القمر:۲۹-۳۲)
’’انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا جس نے اونٹنی پر وار کیا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں پس کیوں کر ہوا میرا عذاب اور ڈرانا۔ ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی پس ایسے ہوگئے جیسے باڑہ بنانے والوں کی روندی ہوئی گھاس اور ہم نے یقینا قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت لینے والا۔‘‘
میں اس بات پر دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ میں عورتوں کو بڑے بڑے مناصب پر متمکن کرنے کی وکالت کررہا ہوں بلکہ میں تو حدیث کی صحیح تفسیر کرنا چاہتا ہوں اور پھر کتاب اللہ اور سنت میں کوئی تناقض نہ پایا جائے یا اس کے مفہوم کو غلط نہ سمجھا جائے تاکہ سنت اور تاریخی حقیقت میں بھی کوئی تعارض پیش نہ آئے۔
برطانیہ کا سنہری دور ملکہ وکٹوریہ کا دور تھا۔ آج وہاں ایک خاتون ملکہ اور دوسری (کتاب لکھتے وقت مارگریٹ تھاچر) وزیر اعظم ہے۔ اس کے باوجود اس کی اقتصادی حالت اچھی ہے اور سیاسی استحکام ہے۔ پھر ان عورتوں کو چننے والوں کے حصہ میں ناکامی اور رسوائی کیوں نہیں آئی؟
میں نے ایک دوسرے جگہ اندرا گاندھی کا ذکر کیا تھا، جس نے اپنے دور میں اپنی قوم کی امنگوں کو پورا کرتے ہوئے ایک مسلم ملک کے دو ٹکڑے کردیے اور فیلڈ مارشل یحییٰ خان کو صرف رسوائیاں ہاتھ آئیں۔
اسی طرح اسرائیل کی گولڈ امائر نے بھی عربوں کو ایسی ذلت آمیز شکست دی کہ اس کی رسوائی کو دھونے کے لیے شاید ایک نسل درکار ہو۔ یہ قصہ مرد یا عورت کا نہیں ہے بلکہ کردار اور ذاتی صلاحیتوں کا ہے۔
اس قدر عظیم الشان فتح کے بعد اندرا گاندھی نے انتخاب کرایا لیکن قوم نے منتخب نہیں کیا۔ مگر چند سالوں میں ہی یہ صورت حال بدل گئی اور وہ پھر برسرِ اقتدار آگئیں۔ انتخاب کے ذریعہ بغیر کسی جبر و زبردستی کے۔
دوسری طرف مسلمانو ںکا کیا حال ہے۔ وہ انتخابات میں دھاندلی کرنے میں گویا ماہر ہیں تاکہ وہ زور زبردستی سے اقتدار پر قابض رہیں اور لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں۔
اب آپ ہی بتائیے، خدائی نصرت و تائید اور دنیا میں زمام کار سنبھالنے کا حق دار کون ہے؟ یہاں پر ہم ابن تیمیہؒ کا قول کیوں نہ یاد کریں: ’’اللہ تعالیٰ کبھی ایک کافر حکومت کی مدد کرتا ہے، اس کے عدل و انصاف کی وجہ سے اور ایک مسلم مملکت کو شکست دیتا ہے اس کے ظلم و ستم کی بدولت۔‘‘
لہٰذا یہاں پر مرد وعورت کا سوال نہیں ہے۔ ایک اچھی دین دار عورت ایک ناشکر گزار داڑھی والے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
اس وقت مسلمان دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں وہ اپنے دین و مذہب کو دنیا کے سامنے کس طرح پیش کررہے ہیں؟ سب سے پہلے وہ اپنے دین کے ارکان کو لازم پکڑیں اور اس کے عظیم مقاصد اور عزائم کو مدنظر رکھیں۔ جن مسائل کے بارے میں اسلام نے خاموشی اختیار کی ہے ان میں خواہ مخواہ نہ الجھیں۔ جن چیزوں سے وہ پہلے سے مانوس ہیں انھیں دوسروں پر نہ تھوپیں، ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ہم قبیلہ عبس و ذیبان کے رسم و رواج کو امریکہ اور آسٹریلیا لے جائیں بلکہ ہم تو صرف اسلام اور خالص اسلام کو لے جانے کے مکلف ہیں۔
قومیں صرف اہم مسائل سے سروکار رکھتی ہیں۔ ٹریفک میں انگریز بائیں جانب مڑتے ہیں جبکہ پورا یورپ دائیں جانب مڑتا ہے مگر اس کا اثر ناٹو پر یا یورپی اتحاد کے دستور پر نہیں پڑتا۔
اسی طرح اگر فقہاء کسی مسئلہ میں مختلف رائے رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ جو قول لوگوں کے لیے زیادہ آسان ہو اسے اختیار کریں۔ آج یورپ میں عورت خود ہی جس سے چاہتی ہے شادی کرلیتی ہے۔ وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیںہے۔ ایسی صورتحال میں اگر امام ابوحنیفہؒ کا مسلک ان کی عادت سے زیادہ قریب ہے تو پھر ان پر امام مالکؒ اور احمدبن حنبلؒ کا مسلک تھوپنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس طرح کی زور زبردستی انھیں اللہ کے راستے سے دور لے جائے گی۔ یہاں پر یہ بات مدنظر رہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عاقلہ بالغہ اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے، جبکہ امام مالکؒ اور احمد بن حنبلؒ ولی کے بغیر نکاح کو جائز نہیںمانتے۔
اگر وہ کسی عورت کو حاکم، قاضی، وزیر یا سفیر بنانا چاہتے ہیں تو بنانے دیجیے، ہمارے پاس اس کے جواز میں فقہی رائے موجود ہے پھر ایک مخصوص رائے پر زور زبردستی کیسی؟
جو لوگ فقہ سے بے بہرہ ہیں انھیں اپنا مند بند رکھنا چاہیے تاکہ وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرکے اپنی نادانی سے اسلام کو نقصان نہ پہنچائیں جسے انھوں نے سمجھا ہی نہ ہو یا قرآن سے متصادم ہورہی ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: علامہ محمد الغزالی ترجمہ: مطلوب احمد قاسمی

Leave a Reply