3

مادر انساں ہے تو

اے کہ! تو ہے راز دارِ خلوتِ غارِ حرا
تو کہ! نیزہ چڑھ کر لا الہ الا اللہ جس نے پڑھا

سب سے پہلے نور قرآں جس کے سینہ کو ملا
نقش ہے جس کا وفا کا یہ شہیدؓ کربلا
تو نے بدلا ہے جہاں میں بارہا بگڑا نظام
لاکھ ہوں امِّ ذبیحؑ و امِّ موسیٰؑ پر سلام
اس نظامِ کہکشاں میں کوکبِ رخشاں ہے تو
اپنی قیمت کو بڑھا کس قدر ارزاں ہے تو

جسم ہے سارا جہاں لیکن اس کی جاں ہے تو
رحمتِ عالمؐ کی نظروں میں بشر کی ماں ہے تو
اے زہے!! جس کو ملا ہے خبر دنیا کا خطاب
پرورش کس کی بنی ہے نارِ دوزخ کا حجاب
اللہ اللہ! وہ مقامِ مادری کی عظمتیں
جھولتی ہیں پالنے میں ملتوں کی قسمتیں

تیرے تلوے چھو رہی ہیں جنتوں کی رفعتیں
تیرح دامن سے ہیں وابستہ ہماری عصمتیں
دینِ فطرت نے دیا ہے کس قدر اونچا مقام
نسلِ صالح پال کر دینا ہے تیرا خاص کام
اپنی ہستی کو سمجھ رحمتِ رحماں ہے تو
کعبۂ شیطاں نہ بن، حجت و برہاں ہے تو

امتیاز خیرو شر کی قدرتی میزاں ہے تو
لوٹ پھر گھر کی طرف مادرِ انسان ہے تو
ہاجرہ بن، طاہرہ بن! مریم عذرا، ہے تو
عائشہ بن فاطمہ بن حضرت خنساء ہے تو
خود بھی اپنی ذات سے ہے کیوں نہ جانے بدگماں
پیٹ میں پلنے نہیں دیتی ہے تجھ کو تری ماں

قتل اپنے ہاتھ سے کرتی ہے اپنی بیٹیاں
الاماں! اے الاماں، اے الاماں
بیٹیوں کی کررہے ہیں باپ خود عصمت دری
گندگی، اے حامیِ تہذیبِ حاضر گندگی!
ہے تقاضا وقت کا پھر پلٹ کر گھر میں آ
ہے اندھیرا گھر میں روشن کر چراغِ مصطفی

ہے چمن اجڑا ترا، پھر سلیقہ سے سجا
نسلِ نو کو لاالہ کا پھر سبق بھولا سکھا
پھر اسے سرشار کردے نغمۂ توحید سے
پھر اسے غیرت دلا کچھ غیر کی تقلید سے

شیئر کیجیے
Default image
محمد عزیز مظاہری

تبصرہ کیجیے