3

سچے بول

عورت پہ یہ تہذیب کے ڈالے ہوئے گھیرے
کرگس کے ہیں چنگل میں ممولوں کے بسیرے
اب فلم کے نغموں سے ابھرتی ہیں شعائیں
ہوتے تھے کسی وقت نمازوں میں سویرے
خاتونِ حرم کے لیے گھر ہی میں اماں ہے!!
جس دیس میں ہر سمت ہوں عصمت کے لٹیرے
ان اہلِ سیاست کے فریبوں میں نہ آنا!!
سانپوں کو لیے پھرتے ہیں جیبوں میں سپیرے
باتوں سے بھی بدلی ہے کسی قوم کی تقدیر!
جنگو کی چمک سے کہیں جاتے ہیں اندھیرے
اربابِ حکومت کے نہ وعدوں پہ لگا آس
اے دوست! یہ سائے تو نہ میرے ہیں نہ تیرے!
تہذیبِ فرنگی کے یہ سفّاک شکنجے
زلفوں کے بھی سائے نہیں ہوتے ہیں گھنیرے!
اس دورِ پُر آشوب میں باطل کے مقابل!
کچھ بھی ہو مگر ڈال دیے ہم نے بھی ڈیرے

شیئر کیجیے
Default image
ماہرؔ القادری

تبصرہ کیجیے