ماں کا خط

تجھے سسرال میں حاصل ہے ہر راحت بآسانی
سناکرتی ہوں سب کرتے ہیں تیری ہی ثنا خوانی
مری دوری سے اے نورِ نظر کیوں ہے پریشانی
کوئی ماں اپنی بیٹی کو بھلا سکتی ہے دیوانی
نظر سے دور ہو لیکن، ہو دل کے پاس اے بیٹی!
حیاتِ غیر دینی ایک بے کنجی کا تالا ہے!
تمدن مغربی اے جانِ جاں مکڑی کا جالا ہے
رواجِ بے حجابی خوشنما کانٹوں کی مالا ہے!
نئی تہذیب سے ہوشیار، یہ تاریک اجالا ہے
نسائیت کا ہر لحظہ رہے احساس اے بیٹی!
تری ہر چال سیدھی ہو، ترا ہر ڈھنگ پیارا ہو!
محبت تیرا مسلک ہو، اطاعت تیرا شیوا ہو!
ترے اخلاق یوں چمکیں کہ گھر بھر میں اجالا ہو
ترے پیش نظر ہر دم حیاتِ پاکِ زہراؓ ہو
جنابِ عائشہؓ کی تجھ میں ہو بو باس اے بیٹی!
طبیعت کو ہمیشہ خوگرِ صبر و رضا رکھنا
دلِ عشرت طلب میں ہر گھڑی خوفِ خدا رکھنا
حقوقِ زندگی کا دھیان ہر صبح و مسا رکھنا!
ردائے عصمت و عفت، بچھونا اوڑھنا رکھنا
بہو سے ایک دن بننا ہے تجھ کو ساس اے بیٹی!

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

Leave a Reply