تم؟

تم تو بے خدا ہوئیں! تم پہ اعتبار کیا؟
تم؟ مسل سکوگی تم؟ زیرِ پا شرار کیا؟
تم؟ لٹا سکوگی تم؟ ذہن کا قرار کیا؟
بولو! روند جاؤگی غم کے خار زار کیا؟
تم تو بے خدا ہوئیں! تم پہ اعتبار کیا؟
تم پہ اعتبار کیا! کب کہاں لڑھک پڑو؟
کس گھڑی پگھل بہو، کس طرف ڈھلک پڑو؟
تم بھی جانتی نہیں کب معاً بہک پڑو؟
کفر کا اصول کیا! کفر میں وقار کیا!
تم تو بے خدا ہوئیں! تم پہ اعتبار کیا!
آپ کو میں ساتھ لوں؟ جی نہیں، اجی نہیں!
آپ پر یقین کروں؟ جی نہیں کبھی نہیں!
زندگی کی کش مکش کھیل اور ہنسی نہیں!
آزما نہیں چکیں خود کو بار بار کیا!؟
تم تو بے خدا ہوئیں! تم پہ اعتبار کیا؟
وقت کی ہوائے نو یوں تمہیں اڑائے گی!
تم کہاں گئیں کدھر، کچھ خبر نہ آئے گی!
کل یہ ساری ’’عاشقی‘‘ بھول بھال جائے گی!
آندھیوں کے سامنے جم سکے غبار کیا!
تم تو بے خدا ہوئیں! تم پہ اعتبار کیا!
تم کو مست کرسکے اک ادا ظریف سی
تم کو جذب کرسکے اک نگہِ لطیف سی
تم کو مول لے سکے اک خوشی خفیف سی
روح کی نفیر کیا! فرض کی پکار کیا!
تم تو بے خدا ہوئیں! تم پہ اعتبار کیا!
آج سے یہ جان لو! میرے راہ اور ہے
میرے عیش اور ہیں! میری چاہ اور ہے
میری قہقہہ الگ! میری ’’آہ‘‘ اور ہے
دو مذاقِ مختلف، ہوں گے سازگار کیا؟
تم تو بے خدا ہوئیں، تم پہ اعتبار کیا؟

شیئر کیجیے
Default image
نعیم صدیقی

Leave a Reply