تم مجھے بھول جاؤگے

رہ نہ سکے گا عمر بھر آج کا جوشِ اضطراب
آرزوؤں میں آئے گا کوئی ضرور انقلاب
پھر کوئی دوست ڈھونڈ ہی لے گی نگاہِ انتخاب
زیست ہے زیست، دل ہے دل، اور شباب پھر شباب
عہدِ وفا ہے ایک خواب
تم مجھے بھول جاؤ گے
٭
تم مجھے بھول جاؤگے
جس کی تجلیوں سے تھی بزمِ امید حشر خیز
جس کے تبسموں سے تھا سازِ حیات نغمہ ریز
جس کے نفس نفس سے تھی محفلِ دوش مشک بیز
رکھ کے کہو جگر پہ ہاتھ آج بھی ہے وہی عزیز؟
وقت ہے کچھ عجیب چیز
تم مجھے بھول جاؤ گے
٭
تم مجھے بھول جاؤگے
رسمِ جہاں ہے انقلاب، دور کا نام کائنات
دم کوئی لے سکے کہیں اتنا سکوں بھی دے حیات
آرزوؤں کی دل میں ہے ایک سجی ہوئی برات
ایک نگاہ ایک امنگ، ایک امنگ ایک رات
ہستیٔ عشق بے ثبات
تم مجھے بھول جاؤ گے
٭
تم مجھے بھول جاؤگے
کوئی کسی کی یاد میں حشر تلک جیا نہیں
تیرِ نظر کی چوٹ سے کوئی کبھی مرا نہیں
بن کے کھرنڈ سا داغِ جگر اڑا نہیں
سنگِ لحد کو توڑ کر سبزہ کہاں اُگا نہیں
تم کوئی لا دوا نہیں
تم مجھے بھول جاؤ گے
٭
تم مجھے بھول جاؤگے
پھر سے نگار خانۂ شوق کو تم سجاؤ گے
پھر کسی بت کے واسطے فرشِ نظر بچھاؤگے
آج کی بات کو کبھی خواب میں بھی نہ لاؤ گے
نام مرا اگر کوئی لے گا تو مسکراؤ گے
تم مجھے بھول جاؤگے
تم مجھے بھول جاؤ گے
٭

شیئر کیجیے
Default image
آنند نرائن ملاَّؔ

Leave a Reply