6

صبح صادق

رات تاریک تھی، رات پر ہول تھی، زندگی کے کہیں بھی نظارے نہ تھے
ماہتاب آدمیت کا روپوش تھا، عدل و انصاف کے بھی ستارے نہ تھے
راہ و منزل پہ تھی رات چھائی ہوئی، کوئی جگنو فضا میں چمکتا نہ تھا
جھلملاتی ہوئی، ٹمٹماتی ہوئی، شمعِ اخلاق کا بھی اجالا نہ تھا
راہ رو تیرگی میں بھٹکتے ہوئے، صبح کی آس بھی دل سے جاتی رہی
رات اکڑتی رہی، رات بڑھتی رہی، ہر طرف جال اپنا بچھاتی رہی
کفر والحاد کے خارزاروں میں تھا دامنِ فکر و احساس الجھا ہوجا
’’شر‘‘ تو تاریک ہی تھا مزاجاً، مگر ’’خیر‘‘ پر بھی اندھیرا تھا چھایا ہوا
کیا عرب کیا عجم، ہر جگہ، ہر طرف کالے کالے تھے ذہن و ضمیر بشر
جاہلیت کے تاریک جنگل میں تھا، آدمی آدمی کا شکاری مگر
کوہِ فاراںؔ پہ اک روشنی جاگ اٹھی اور پھر بڑھ کے مہرِ مبیں ہوگئی
رات نے بڑھ کر پہلے تو دھاوا کیا اور پھر صبح کے نور میں کھو گئی
چادرِ تیرگی پارہ پارہ ہوئی، امن کی روشنی مسکرانے لگی!
آدمی کا مقدر چمکنے لگا، ہر طرف زندگی مسکرانے لگی!
کیا عرب، کیا عجم، ہر جگہ ہر طرف صبح صادق کے جلوے مچلنے لگے
جن مناظر پہ تھیں ظلمتوں کی تہیں وہ بھی رنگ اپنا اپنا بدلنے لگے
تانے بانے تمدن کے بدلے گئے، مرنے جینے کا معیار بدلا گیا
خیروشر کی حدیں بھی مقرر ہوئیں، کھانے پینے کا معیار بدلا گیا
ساری دنیا میں سچی سحر ہوگئی زندگی کا حسیں آسرا مل گیا
جو خود اپنی طلب میں بھی ناکام تھے ان جہالت زدوں کو خدا مل گیا
………………………
رات تاریک ہے، رات پرہول ہے، زندگی کے کہیں بھی نظارے نہیں
ماہتاب آدمیت کا روپوش ہے، عدل و انصاف کے بھی ستارے نہیں
روح پر کفر و الحاد کی چھاپ ہے، ذہن مفلوج ہے فکر بیمار ہے
دودھ پیتے ہوئے زہر اگلتے ہوئے کالے ناگوں کی پُرہول پھنکار ہے
وحدتِ زندگی کے ترانے بھی ہیں، عالمی امن کی لب پہ باتیں بھی ہیں
اور اپنی خدائی کا نشہ بھی ہے، ایٹمی جنگ کے دل میں گھاتیں بھی ہیں
دامن علم و حکمت میں ہے تیرگی، درس گاہوں پہ ہے رات چھائی ہوئی
رہنماؤں پہ ہے رات چھائی ہوئی، اور راہوں پہ ہے رات چھائی ہوئی
کس جگہ بربریت کا ڈیرا نہیں، کس جگہ ظلمتوں کا بسیرا نہیں
دورِ نو کی چمک پر نے جائے کوئی، یہ فریبِ سحر ہے سویرا نہیں
ساتھیو! امن کی ہے اگر جستجو، چاہتے ہو کہ سکھ چین آرام ہو
’’امنِ عالم پیامِ خدائی میں ہے‘‘ ہمنواؤ پیامِ خدا عام ہو
جرأتِ مومنانہ سے کچھ کام لو، رات کا یہ فسوں توڑنا ہے تمہیں
ساتھیو! عصرِ حاضر کے دھارے کا رخ موڑنا ہے تمہیں موڑنا ہے تمہیں
آج بھی وہ زمانے میں موجود ہے، کوہِ فاراں سے ابھری تھی جو روشنی
لیکن افسوس اس کا ہے وہ روشنی چادرِ تیرگی میں ہے لپٹی ہوئی
ساتھیو! روشنی جس میں مستور ہے اٹھ کے وہ چادرِ تیرگی پھاڑ دو
رات کے سینۂ شیطنت خیز میں صبحِ صادق کا بڑھ کر علم گاڑ دو

شیئر کیجیے
Default image
ابوالمجاہد زاہدؔ

تبصرہ کیجیے