عورت حدیث کی نظر میں

عورت کا انسانی سماج میں ایک سنجیدہ مقصد اور بلند مقام ہے وہ ایک اہم منصب پر فائز ہے وہ نسلِ انسانی کے لیے کھیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ (البقرہ: ۲۲۳) مگر انسانی کا بیج جس کھیت میں بویا جاتا ہے اور جس سے نسلِ انسانی کے گل بوٹے اگتے ہیں وہ بے عقل اور بے شعور کھیت نہیںہے۔ اس کھیت میں کاشت کرنے والا مرد، انسان ہے تو یہ بھی انسان ہے۔ (النساء:۱) مرد کو اللہ نے عقل و شعور، فہم و ادراک، ارادہ و اختیار، بھلائی و برائی میں تمیز کرنے کی صلاحیت دی ہے تو عورت کو بھی ان نعمتوں سے نوازا ہے اور نسلِ انسانی کو پالنے پوسنے اس کی پرورش و پرداخت کرنے، پروان چڑھانے کی ذمہ داری عورت مرد پر ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
المرء ۃ راعیۃ علی اہل بیت زوجہا وولدہ وہی مسئولۃ عنہم۔ (بخاری)
’’عورت ذمہ دار ، محافظ اور نگراں ہے اپنے شوہر کے گھر والوں کی اور اس کی اولاد کے بارے میں اس سے باز پرس ہوگی۔‘‘
یعنی اولاد کی نگرانی، پرورش، دیکھ ریکھ، تربیت وغیرہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں اس نے کوتاہی تو نہیںکی۔
عورت اور مرد کے درمیان جو مساوات اسلام نے رکھی ہے اور جس کا تصور بھی غیر اسلامی معاشرے اور غیر اسلامی تہذیبیں نہیں کرسکتیں، اگر کوئی دیکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کافی ہوگا۔
ان المسلمین والمسلمات والمؤمنین والمؤمنات والقانتین والقانتات والصادقین والصادقات والصابرین والصابرات والخاشعین والخاشعات والمتصدقین والمتصدقات والصائمین والصائمات والحافظین فروجہم والحافظات والذاکرین اللّٰہ کثیراً والذاکرات اعد اللّٰہ لہم مغفرۃ واجراً عظیماً۔ (الاحزاب:۳۵)
’’بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، اللہ سے ڈرنے والے مرد اور اللہ سے ڈرنے والی عورتیں، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم تیار کررکھا ہے۔‘‘ (الاحزاب: ۳۵)
کون نہیں جانتا کہ اسلام نے ماں کی شکل میں عورت کا درجہ مرد یعنی باپ سے تین گنا زیادہ رکھا ہے۔ رشتوں میں، معاشرت میں اور حقوق و فرائض میں، بہت سے پہلوؤں میں، اسلام نے عورت کو مردوں پر فوقیت دی ہے۔غرض کہ تمام پہلوؤں کا اور تمام دلائل اور شواہد کو جمع کردینا نہ مقصود ہے اور نہ اس کی اس چھوٹے سے مضمون میں گنجائش ہے۔ صرف اشاروں سے کام لیا گیا ہے۔ قرآن محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے قرآن کی تعلیمات آپؐ کی تعلیمات ہیں۔ آئیے اس سلسلے میں چند احادیث کا بھی مطالعہ کرلیں تو مناسب ہوگا۔
(۱) عن ابی ہریرۃ عن النبی سالعی علی الارملۃ والمسکین کالمجاہد فی سبیل اللّٰہ واحسبہ قال وکالقائم الذی لایفتر وکالصائم الذی لا یفطر۔ (متفق علیہ)
’’ابوہریرہؓ نبیؐ سے روایت کرتے ہیں کہ بیواؤں اور مسکین کی (بھلائی اور خیر خواہی میں) کوشش کرنے والا ایسا ہے جیسا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ رات میں نماز کے لیے کھڑے رہنے والے کی طرح ہے جو نہ سست پڑتا ہو اور بلاناغہ روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔‘‘
(۲) عن انس قال من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیامۃ انا و ہو کہاتین وضم اصابعہ۔ (مسلم)
’’انسؓ نبیؐ سے روایت کرتے ہیں، جس شخص نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو وہ اور میں قیامت میں اس طرح ساتھ ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں، اور آپؐ نے اپنی انگلیاں ملادیں۔‘‘
اس شخص سے بڑھ کر خوش نصیب کون ہوسکتا ہے، جس کو قیامت اور حشر میں نبی کریمﷺ کی رفاقت نصیب ہوجائے، ذرا سوچئے، وہ لڑکیاں جن کی پیدائش کی خبر سے باپ کا منہ لٹک جاتا تھا اور چہرہ سیاہ پڑجاتا تھا جو لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا اور جسے ماں باپ نے ہاتھوں سے ڈھکیل کر زندہ دفن کردیتے تھے، ان ہی لڑکیوں کی پرورش کرنے والے مردوں اور عورتوں کو آخرت میں، اللہ کے رسول ﷺ کی رفاقت نصیب ہونے کی خوشخبری دی جارہی ہے۔
(۳) عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک غریب عورت آئی جو اپنی دو لڑکیوں کو اٹھائے ہوئی تھی، تو اسے میں نے تین کھجوریں دیں، اس نے ایک ایک ان دونوں کو دے دی اور ایک اپنے منہ تک لے جانے لگی تاکہ خود کھائے تو دونوں لڑکیاں وہ بھی مانگنے لگیں، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں کو دے دیا اور خود کچھ بھی نہ کھایا۔مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، میں نے اس کاتذکرہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا تو آپ نے فرمایا:
ان اللہ قد اوجب لہا بہا الجنۃ وااعتقہا بہا النار۔(مسلم)
’’بلاشبہہ، اللہ نے اس کھجور کے عوض (اس ایثار کے عوض) اس کے لیے جنت واجب کردی۔ یا یہ فرمایا تھا کہ اس کے عوض اس کو دوزخ سے نجات دے دی۔‘‘
(۴) عائشہؓ ہی سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، اس نے کچھ سوال کیا، میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کچھ نہ تھا، میں نے اس کو وہی دے دی۔ اس نے وہ ان دونوں کو بانٹ کر دے دی اور خود کچھ نہیں کھایا، پھر اٹھی اور چلی گئی۔ اسی وقت نبی ﷺ تشریف لے آئے، میں نے آپؐ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپؐ نے فرمایا:
من ابتلی من ہذہ البنات بشیٔ فاحسن الیہن کن لہ سترا من النار۔ (متفق علیہ)
’’جو کوئی (عورت یا مرد) ان لڑکیوں کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور عمدہ سلوک کیا تو یہ لڑکیاں اس کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی۔‘‘
(۵) ابوشریحؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہم انی احرج الحق الضعفین الیتیم والمرء ۃ۔(النسائی)
’’اے اللہ! جو شخص ان دونوں کمزوروں، یتیم اور عورت کا حق ضائع کردے تو اس گناہ سے میں اس کو تاکیدی طور پر ڈراتا ہوں اور اسے زجر و توبیخ کرتا ہوں کہ یہ معمولی گناہ نہیں ہے ان دونوں کے حقوق ضرور ادا کرنا ہیں۔‘‘
(۶)عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ استوصوا بالنساء خیرا۔ (متفق علیہ)
’’ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے ساتھ بہتر برتاؤ اور اچھا سلوک کرو یہ میری وصیت اور تاکیدی ہدایت ہے اسے قبول کرو۔‘‘
یہ ایک ایسا حکم ہے جو اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے یعنی ہمہ پہلو خیر خواہی اور ہمدردی، ہمہ پہلو حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرنے کی نبیؐ نے تاکید فرمائی ہے۔
(۷)عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ اکمل المؤمنین ایمانا احسنہم خلقا و خیارکم لنساء ہم۔ (ترمذی)
’’ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان والوں میں مکمل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو اور جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہو۔‘‘
(۸)عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الدنیا متاع و خیر متاع الدنیا المرء ۃ الصالحۃ۔ (مسلم)
’’دنیا متاع ہے اور بہترین متاع صالح عورت (نیک بیوی) ہے۔‘‘
اسی طرح اگر عورت کو ایسا مرد مل جائے جو افکار اور نظریات میں اخلاق و عادات میں، معاشرت اور رہن سہن میں، عائلی اور گھریلو زندگی میں، زندگی کے مختلف پہلوؤں اور مرحلوں میں مرد سے زیادہ شیطان یا ظالم کا کردار ادا کرے تو عورت کی زندگی اجیرن ہوکر رہ جائے گی اس لیے نبی کریم ﷺ کے فرمانِ مبارک کی روشنی میں یہ بھی حقیقت ہے کہ :
الدنیا متاع وخیر متاع الدنیا المرء الصالح۔
’’دنیا متاع ہے اور بہترین متاع ِدنیا (عورت کے لیے) صالح شوہر ہے۔‘‘
لیکن سوال پیدا ہوتا کہ جناب نبی کریمﷺ نے صرف یہ کیوں فرمایا کہ اگر عورت صالح ہو تو بہترین متاع ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ عورتوں کو چونکہ شیطان کے چیلے اور ابلیس کے ایجنٹ ہمیشہ حقیر و ذلیل سمجھتے رہے ہیں اور اس شیطان کا ایجنٹ ناگن اور روح انسانی سے محروم اور نہ معلوم کیا کیا کہتے رہے ہیں، اس لیے آپؐ نے فرمایا: صالح عورت تو بہترین متاعِ دنیا ہے۔
دراصل عورت ہونا اور مرد ہونا نہ کوئی خوبی ہے اور نہ عیب۔ جو چیز انسان کے اختیار میں نہ ہو اس پر نہ اسے شاباشی ملے گی اور نہ اس پر اسے ڈانٹ پھٹکار پڑے گی البتہ صالح ہونا یا نہ ہونا، عورتوں اور مردوں کے اختیار میں ہے اگر وہ صالح بنتے ہیں اور اپنی اولاد کو صالح بناتے ہیں تو وہ انعام کے مستحق ہیں اور اگر سلسلہ میں کوتاہی کرتے ہیں تو یقینا وہ سزا کے مستحق ہوں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا محمد سلیمان قاسمی

Leave a Reply