قرآنی مثالی خواتین

وجودِ زن سے ہے تاریخ آدمی کا وقار
انسانیت کی ابتدا ہی سے خواتین نے اسلام کے بے حد اہم خدمات انجام دی ہیں۔ آج ہم ان خواتین اسلام کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں جن کے نام اور کارنامے بہت زیادہ معروف و مشہور نہیں ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جن کے مختصر تذکرے تو قرآن مجید میں آئے ہیں لیکن جن کے کارناموں کی تفصیلات درج نہیں ہیں بلکہ اشاروں کنایوں میں بات کہی گئی ہے اور ان کی زندگیوں پر اختصار کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ذرا سی کوشش سے ان اشاروں کو سمجھا اور ان پردوں کو ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس کوشش کے بعد جو خوبصورت مناظر اور زبردست حقائق سامنے آتے ہیں انہیں ہم پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر آپ اپنے ذہن و دماغ کی قوت کو متحرک کریں تو ممکن ہے کہ آپ اس سے زیادہ دیکھ اور سمجھ سکیں۔ اسلام کے لیے ان خواتین کی خدمات بھی بے انتہا قابل قدر ہیں اور ان کے تذکروں سے بھی ہمارے ایمان کو جلاء حاصل ہوسکتی ہے۔
ماں حوّاؑ:
دنیا کی تمام خواتین میں ماں حوا کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ بنا ماں باپ کے پیدا ہوئیں۔ انہیں دنیا کی خاتون اول ہونے کا درجہ بھی حاصل ہے۔ بابا آدم کے علاوہ صرف انہیں یہ مرتبہ حاصل ہے کہ یہ اس جنت میں قیام کرچکی ہیں جو تمام اہلِ ایمان کی منزل مراد ہے۔ انہیں یہ عجیب و غریب امتیاز بھی حاصل ہے کہ یہ اپنے سگے بیٹے اور بیٹیوں کی ساس بھی تھیں۔ ماں حوا کو ہمیشہ جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے جن میں ہمیشہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوا کرتے تھے۔ ان جڑواں بچوں کی شادی دوسری جڑواں جوڑی سے ہوا کرتی تھی۔ یعنی ہر لڑکے کی شادی دوسری جڑواں جوڑی کی لڑکی سے اور اسی طرح ہر لڑکی کی شادی دوسری جڑواں جوڑی کے لڑکے سے ہوتی تھی۔ تمام مذہبی و معاشرتی کاموں کو پہلی بار انجام دینے کا شرف بھی انہیں حاصل ہے۔
سرسری نظروں سے دیکھنے پر ماں حوا کا رول صرف بابا آدمؑ کی رفاقت اور تخلیق و تسلسل نوع آدم تک محدود نظر آتا ہے۔ لیکن اس دور کے حالات اور کوائف کے پس منظر میں غور کریں تو بے تکلف کہا جاسکتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں ماں حوّا نے جن مشکلات اور تکلیفوں کا سامنا کیا تھا شاید ہی کسی اور خاتون نے کیا ہوگا اورشاید ہی اتنی قربانیاں کسی اور نے دی ہوں گی۔
جنت کے عیش و آرام سے نکال کر خدا نے آدم و حوّا کو زمین میں بھیجا دیا تھا۔ اس وقت کی دنیا کا ذرا تصور کیجیے کہ کیسی تھی؟ تاریک اور گھنے جنگلات سے پٹی ہوئی، خوفناک اور عظیم الجثہ حیوانوں کا مسکن اور شدی موسموں کی آماجگاہ۔ انسانوں کے لیے ناقابل رہائش۔ ایسی تھی اُس وقت کی دنیا۔ انسانی جان کی حفاظت کے لیے روشنی، ہتھیار، مکان اور تمام ضروریات زندگی مثلاً اناج، کپڑا، ادویات، برتن، آلات، سواری، وغیرہ کہاں تھیں۔ آدم و حوا کے علاوہ کیسی تیسرے انسان کا وجود تک نہیں تھا۔ بعض روایات بتاتی ہیں کہ زمین پر دونوں کو ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور اتارا گیا تھا۔ خدا جانے کس طرح پہاڑوں، سمندروں، جنگلوں، ریگستانوں کو پار کرتے ہوئے نیز ہلاکت خیز موسموں کی سختی اور خطرناک درندوں سے بچتے ہوئے دونوں یکجا ہوئے ہوں گے؟ زندہ رہنے کے لے کتنی بار موت کا مقابلہ کیا ہوگا؟ عورت ہونے کی وجہ سے ماں حوا کو زیادہ ہی مشکلات اٹھانی پڑی ہوں گی۔ اس وقت کے انسانوں کی عمریں بے حد طویل غالباً ایک ہزار سال سے بھی زیادہ ہی ہوتی تھیں۔ یعنی دنیا کے ناموافق اور نامساعد حالات کی سختیاں سینکڑوں سالوں تک اٹھانی پڑی ہوں گی! لیکن ان سخت حالات میں بھی ماں حوا نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ شوہر جو اللہ کے نبی بھی تھے ان کی رفاقت نیز اولاد کی اسلامی پرورش اور تربیت کا حق ادا کیا۔ ماں حوا یقینا ایک عظیم ترین خاتون تھیں، آج کی خواتین ان کی ذات اور شخصیت کے بے شمار صفات اور خوبیوں پر نظر ڈال کر اپنے آپ کو بھی صبر و ثبات کے اس سانچے میں ڈھال سکتی ہیں۔ ان پر ہزاروں لاکھوں سلام۔
حضرت سارہؓ:
آج سے چار ہزار سال قبل کے عراق میں جہاں شرک و بت پرستی کا ماحول عام تھا، راج پروہت جس کے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی، اس کے بیٹے ابراہیم کی شادی سارہ نامی ایک لڑکی سے ہوئی تھی۔ ناز و نعم کی خوگر لیکن، مشرکانہ ماحول کی پروردہ اس لڑکی کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ تقدیر اسے دنیا کی عظیم ترین خواتین میں شامل کرنے سے پہلے سخت آزمائشوں سے گزارے گی۔ حضرت سارہؓ کے فضائل و مناقب میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ دنیا کی واحد ایسی خوش نصیب خاتون ہیں جن کے گھر میں چار نسلوں تک سلسلۂ نبوت چلا۔ ان کے شوہر ابراہیمؑ، بیٹے اسحاقؑ، پوتے یعقوبؑ اور پرپوتے یوسفؑ کو اللہ نے نبوت سے سرفراز کیا۔
ان کی آزمائش اس وقت شروع ہوئی جب شوہر حضرت ابراہیمؑ نے آبائی مذہب سے بیزاری کیا اور توحید کی تبلیغ شروع کی۔ سارہؓ کی فطرت سلیم نے فوراً سچائی کو سمجھ لیا اور انھوں نے اپنے شوہر کے مذہب اسلام کو قبول کرلیا۔ انہیں سخت مصائب جھیلنے پڑے لیکن سچائی کا دامن نہیں چھوڑا۔ ابراہیمؑ کو جب ان کے باپ آذر نے عاق کیا تو نازو نعم میں پلی سارہؓ نے بھی گھر کی آسائشیں چھوڑ دیں لیکن شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ہم اندازہ نہیں کرسکتے کہ حضرت سارہؓ جیسی نازو نعم اور شاہانہ شان و شوکت میں رہنے والی خاتون نے گھر کے آسودہ اور آرام دہ ماحول سے نکل کر دربدی کی زندگی میں کتنی تکلیفیں اٹھائی ہوں گی۔ انتہائی اعلیٰ درجے کا ایمان رکھنے والے لوگ ہی اللہ کی راہ میں ایسی مشقتیں اٹھاسکتے ہیں۔
جب بادشاہ وقت نمرود نے ابراہیمؑ کو زندہ جلائے جانے کی سزا تجویز کی اس وقت بھی سارہ کے ایمان اور استقلال میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔ انھوں نے نہ ہائے واویلا کیا نہ شوہر کو جان بچانے کا غلط مشورہ دیا۔ پھر جب ابراہیمؑ کو ملک بدر کیا گیا تو سارہؓ نے ان کے ساتھ خدا جانے کتنے ملکوں، جنگلوں اور صحراؤں کی خاک چھانی، ہم اندازہ نہیں کرسکتے کہ عیش و آرام کی پروردہ ایک خاتون نے اس طویل اور بے سروسامانی کے مہاجرانہ سفر کی مشقتیں کیسے برداشت کی ہوں گی؟ ہم ان کے ایمان، استقلال اور ہمت کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہزاروں لاکھوں سلام ہوں حضرت سارہؓ پر۔
حضرت سارہؓ کی ایک اور فضلیت انھیں عظمت بخشتی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے شوہر حضرت ابراہیمؑ کی دوسری شادی حضرت ہاجرہؓ سے کروادی تھی تاکہ وہ صاحب اولاد ہوجائیں اور ان کے مشن کو اُن کے بعد اُن کے بیٹے جاری رکھ سکیں۔ اسلام کی ترقی اور توسیع کے لیے ایک خاتون کا رقابت اور دشمنی کے جذبات سے اوپر اٹھ کر اتنی بڑی قربانی دینا یقینا تمام مسلمان خواتین کے لیے ایک اعلیٰ مثال ہے۔
حضرت ہاجرہؓ:
حضرت ابراہیمؑ کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہؓ کا شمار بھی دنیا کی عظیم ترین خواتین میں ہوتا ہے۔ بعض اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت ہاجرہؓ بادشاہِ مصر کی بیٹی تھیں۔ جب ان کی شادی حضرت ابراہیمؑ سے ہوئی اس وقت حضرت ابراہیمؑ کی عمر بڑھاپے کی سرحد میں داخل ہوچکی تھی۔
حضرت ہاجرہؓ نے ایمان اور صبر و رضا کا جو معیار قائم کیا اس پر شاید ہی کوئی انسان پورا اتر سکے۔ حضرت ہاجرہؓ نے خدا اور رسول کی اطاعت میں اپنی اور اپنے لخت جگر کی زندگی کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ وہ منظر یاد کرکے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جب اللہ کے حکم پر حضرت ہاجرہؓ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کے ساتھ یکا و تنہا رہنا گوارہ کرلیتی ہیں۔ ان نامساعد و ناموافق حالات کا مقابلہ کرنے اور اپنی اور اپنے شیر خوار کی زندگیاں بچانے کے لیے ان کے پاس صرف ایک ہی سہارا تھا یعنی خدا کا سہارا۔ اور اس سہارے پر انہیں اتنا پختہ یقین تھا کہ شوہر ابراہیمؑ اس ویرانے میں تنہا چھوڑ کر جانے لگے تو انہوں نے پوچھا کہ ہمیں یہاں کس کے سہارے پر چھوڑ رہے ہیں؟ جب ابراہیمؑ نے انہیں کہا: ’’اللہ کے سہارے پر‘‘ تو انھوں نے بڑی آسودگی اور اطمینان سے جواب دیا: ’’پھر کوئی خوف و خطرہ نہیں۔ اللہ سے بڑھ کر کس کا سہارا ہوسکتا ہے؟‘‘ اللہ نے انہیں بے سہارا نہیں چھوڑا۔ جب شیر خوار اسماعیل ؑ پیاس سے تڑپنے لگے تو حضرت ہاجرہؓ نے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ پہاڑیوں کے بیچ سات چکر لگائے۔ اس وقت کوئی عام خاتون ہوتی تو اپنی تقدیراپنے شوہر اور اپنے پیدا کرنے والے خدا سے نہ جانے کتنے شکوے شکایتیں کرتی۔ لیکن حضرت ہاجرہؓ نے کامل ایمان کا مظاہرہ کیا اور اللہ پر بھروسا رکھا۔ اللہ نے بھی دونوں ماں بیٹے پر اپنی رحمتیں نچھاور کردیں اور زمین سے چشمۂ زم زم پیدا کردیا۔ نہ صرف یہ بلکہ حضرت ہاجرہؓ کا پانی کے لیے صفا مروہ کے درمیان دوڑنا اللہ کو ایسا بھایا کہ اسے حج کا ایک رکن بنادیا۔ اور تا قیامت اہلِ ایمان کے لیے اس سنت پر عمل کرنا لازم کردیا۔
وادیٔ فاران کے اس اجاڑ ریگستان میں تمام گھریلو آسائشوں اور شوہر کی رفاقت سے دور رہتے ہوئے بھی حضرت ہاجرہؓ نے حضرت اسماعیلؑ کی بہترین اسلامی تربیت کی۔ ان میں خدا اور رسول کی کامل اطاعت اور والدین کی فرمانبرداری کرنے کا سچا جذبہ اس طرح بھردیا کہ جب شعور کی عمر کو پہنچنے پر اللہ حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو حضرت اسماعیلؑ اس مرحلے میں باپ کے پوچھنے پر انتہائی فرمانبرداری سے کہتے ہیں: ’’ابا جان جو کچھ آپ کو اللہ نے حکم دیا اس کی تعمیل کیجیے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صابر و شاکر پائیں گے۔‘‘ اس وقت حضرت ہاجرہؓ کا صبر اور ان کی ایمانی پختگی قابلِ داد ہے کہ انھوں نے اللہ کی مرضی کے آگے شوہر اور بیٹے کے ساتھ سرِ تسلیم خم کردیا اور کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہیں آنے دیا۔ حضرتِ ہاجرہؓ یقینا آہنی اعصاب اور فولادی دل و جگر رکھتی تھیں جو ایسی سخت آزمائشوں میں ذرہ برابر متزلزل نہیں ہوئیں۔ ان کی اسی عظمت کے پیشِ نظر اسلام کی دو بڑی عبادات حج اور قربانی میں ان کی عزیمت اور استقلال کی نشانیوں کو باقی رکھا گیا ہے اور کروڑوں مسلمان ہر سال ان کی سنتوں پر عمل کرکے ان کی یاد کو اپنے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔
والدئہ حضرت موسیٰؑ:
قرآن میں ان کا مختصر تذکرہ ہے۔ انہیں دو نبیوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی والدہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یہ ان معدودے چند خواتین میں سے ہیں جن پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی۔
بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و استبداد عروج پر تھا۔ فرعون کے کسی کاہن نے پیش گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا لڑکا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں فرعون کا اقتدار ختم ہوجائے گا۔ اس خوف سے فرعون نے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کرانا شروع کردیا۔ اسی زمانے میں حضرت موسیٰ کی ولادت ہوئی دوسرے بچوں کی طرح ان کی زندگی بھی خطرے میں تھی۔ ہر گزرنے والا دن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے لیے زبردست قلبی و ذہنی وساوس، نفسیاتی الجھنیں اور اعصاب شکنی کا عذاب لاتا ہوگا۔ بالآخر وہ دن آہی پہنچا ہوگا جس کے خیال سے ہی اس نیک خاتون کا خون خشک ہوتا رہا ہوگا۔ فرعونی سپاہی جو اسرائیلی بچوں کے قتل پر مامور تھے انہیں حضرت موسیٰؑ کی ولادت کی بھنک بھی مل ہی گئی ہوگی۔ اس وقت موسیٰؑ کی والدہ کے ممتا بھرے دل کی کیا کیفیت ہوگی؟ یہ اندازہ ہم نہیں لگاستکے کیونکہ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی اپنے نومولود بچے کے قتل کیے جانے کے خوف سے واسطہ نہیں پڑا ہے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے ان پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ بچے کو لکڑی کے صندوق میں لٹا کر دریا میں چھوڑ دیں۔ اللہ بچے کی حفاظت کرنے، ماں سے دوبارہ ملانے اور اسے پیغمبر بنانے کا وعدہ بھی اس وحی میں کرتا ہے۔ والدئہ موسیٰ سچی مومنہ تھیں، ان کا ایمان درجہ کمال پر پہنچا ہوا تھا۔ تب ہی تو وہ اس وحی پر یقین کامل کرکے عمل کرپائیں۔ اگر ان کے ایمان میں ذرہ برابر بھی نقص ہوتا تو وہ اللہ کے حکم پر بچے کو دریا میں نہ ڈال پاتیں۔ ان کی زندگی کا یہ وہ روشن پہلو ہے جو ہماری نظروں کے سامنے ہر وقت رہنا چاہیے۔ بعد کے حالات و واقعات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ کس طرح اللہ نے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ان کے جگر کے ٹکڑے کو انتہائی قلیل مدت میں ان کی گود میں واپس پہنچا دیا اور انہیں کا دودھ پی کر حضرت موسیٰؑ پروان چڑھے۔
ہمشیرہ حضرت موسیٰؑ:
جب والدئہ موسیٰؑ بچے کو صندوق میں لٹا کر دریا میں چھوڑ دیتی ہیں تو موسیٰؑ کی بہن کو ہدایت کرتی ہیں کہ وہ چھپ کر دیکھیں کہ صندوق بہہ کر کس طرف جاتا ہے اور کہاں پہنچتا ہے؟ ہمشیرۂ موسیٰؑ یقینا ایک سمجھدار اور معاملہ فہم لڑکی تھیں۔ وہ ایک تربیت یافتہ جاسوس کی طرح کامیابی سے صندوق کا تعاقب کرتی ہیں اور کسی کو اس کا شبہ تک نہیں ہونے دیتیں۔ اس کے علاوہ فرعون کے محل کی خواتین کو جو شیر خوار موسیٰ کو دودھ پلوانے کے لیے سخت پریشان ہورہی تھیں دودھ پلانے والی خاتون کی حیثیت سے اپنی والدہ کا پتہ اتنی عقلمندی سے دیتی ہیں کہ کسی کو یہ حقیقت معلوم نہیں ہوپاتی کہ یہ لڑکی موسیٰ کی سگی بہن ہے اور موسیٰ کا دودھ پلانے کے لیے جس خاتون کی نشاندہی کی ہے وہ دونوں کی والدہ ہے۔ ہمشیرۂ موسیٰ نے اتنی کم عمری میں ایسی عقلمندی کا جو کام کیا انسانی تاریخ میں ایسے واقعات شاذ ہی ملتے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہو۔
حضرت صفوریٰؓ زوجہ حضرت موسیٰؑ:
عظیم مسلم خواتین کی فہرست میں حضرت صفوریؓ کا نام زریں حروف سے لکھاجانا چاہیے۔ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت شعیبؑ کی بیٹی تھیں۔ حضرت صفوریٰ کے فضائل و مناقب میں یہ بات اہم ہے کہ نبی کی بیٹی اور نبی کی بیوی ہونے کا شرف ان کے علاوہ شاید کسی اور خاتون کو حاصل نہیں ہے۔ حضرت صفوریٰ نے حد حیادار، دانشمند، صابر، قیافہ شناس اور بہادر خاتون تھیں۔ انھوں نے حضرت موسیٰؑ کو دیکھتے ہی اندازہ لگالیا تھا کہ وہ انتہائی نیک، ایماندار، جفاکش اور بہادر انسان ہیں، چنانچہ اپنے ضعیف والد حضرت شعیب سے موسیٰؑ کا تذکرہ بطور ایک ایماندار اور بہادر انسان کے کیا اور انھیں ملازم رکھنے کا مشورہ دیا۔ والد بزرگوار بھی بیٹی کی اصابت رائے کے معترف تھے۔ وہ نہ صرف موسیٰؑ کو ملازم رکھ لیتے ہیں بلکہ بعد میں اپنی دانشمند بیٹی بھی ان کے نکاح میں دے دیتے ہیں۔ حضرت صفوریٰ بڑی جوہر شناس خاتون تھیں۔ ایک اجنبی نوجوان کو، جس کا کوئی ٹھور ٹھکا نہ نہیں تھا، بطور شوہر قبول کرلینا کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ اللہ اللہ کیا سمجھدار خاتون تھیں۔ مستقبل کے رسول خدا کی زوجیت کا شرف انہیں حاصل ہورہا ہے یہ تو یقینا ان کو معلوم نہ تھا لیکن ایک بہترین انسان کی رفاقت انہیں حاصل ہورہی ہے اس پر انہیں کامل یقین رہا ہوگا۔ حضرت موسیٰ نے جب مدین سے مصر لوٹنے کا فیصلہ کیا تو حضرت صفوریٰ اس طویل مسافت کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو خاطر میں لائے بغیر ان کی ہم سفر بن گئیں۔ اپنے والدین، بہنوں، گھر اور وطن کو چھوڑ کر، ایک خچر کی پشت پر بیٹھ کر سخت ناہموار پہاڑی اور صحرائی راستوں اور انتہائی سرد اور ناموافق موسم کی سختیوں کے باوجود شوہر کے ساتھ طویل سفر کیا۔ اس واقعہ سے شوہر کے تئیں ان کی محبت، رفاقت اور فرمانبرداری ظاہر ہوتی ہے۔مصر پہنچ کر بھی حالات ناموافق ہی رہے۔ ایک جابرو ظالم بادشاہ کے مقابلے میں حضرت موسیٰ سینہ سپر ہوگئے۔ حضرت صفوریٰ اس معرکہ میں بھی شوہر کے ساتھ تھیں۔ وہ شوہر کے شانہ بشانہ اسلام کی تبلیغ میں مصروف رہیں۔ اللہ ان سے راضی ہو۔
حضرت آسیہ ؓ (زوجہ فرعون:)
قرآن میں سورئہ تحریم کی آیت نمبر ۱۱ میں اللہ نے حضرت آسیہؓ کا تذکرہ بڑے اچھے انداز میں اس طرح کیا ہے: ’’اور اہلِ ایمان کے معاملے میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب کہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لیے اپنے یہاں جنت میں ایک گھربنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے۔‘‘
حضرت موسیٰؑ کی پیدائش پر جب ان کی والدہ نے انہیں صندوق میں لٹا کر دریا میں چھوڑا تو وہ صندوق بہتے بہتے فرعون کے محل تک پہنچ گیا تھا۔ اس وقت فرعون اور اس کی بیوی دریا کے کنارے غالباً سیر کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے جب ایک بچے کو دریا میں بہتے دیکھا تو اسے اٹھالیا۔ دونوں بے اولاد تھے۔ فرعون کو یہ شک تھا کہ ہو نہ ہو یہ بچہ بنی اسرائیل کا ہے۔ لیکن آسیہؓ نے اسے یہ کہہ کر مطمئن کردیا : ’’یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں۔‘‘ (القصص: ۹)
حضرت آسیہؓ نے موسیٰؑ کو اپنے بیٹے کی طرح پالا۔ شہزادوں کی طرح ان کی تربیت کی۔ انھیں نہ صرف شاہی آداب سکھائے گئے بلکہ تمام وہ علوم جو اس وقت رائج تھے ان کی بھی تعلیم دی گئی۔
موسیٰؑ مدین سے مصر لوٹے اور فرعون کے دربار میں پہنچ کر اسلام کی دعوت پیش کی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا تو فرعون ان کی جان کا دشمن ہوگیا۔ لیکن حضرت آسیہؓ موسیٰؑ پر ایمان لائیں۔ اور پھر فرعون کے وہ تمام مظالم انھوں نے برداشت کیے جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے باغی نے ان پر کیے مگر ذرہ برابربھی ان کا ایمان نہ ہل سکا۔ اللہ ان سے راضی ہو۔
ان قرآنی خواتین کے تذکرہ کا مقصد یہ ہے کہ ہماری خواتین اور بیٹیاں ان عظیم شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور ان کے روشن پہلوؤں پر غور کرکے اپنی زندگیوں کو بھی روشن بنائیں۔ کیونکہ یہ وہ عظیم شخصیات ہیں جن کے نقوش قدم پر چل کر ہی ہماری مستحکم اور مضبوط نیز کامیاب و کامران شخصیت کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد اسلم غازی

Leave a Reply