4

نسوانی شخصیت: مختلف تصورات و نظریات

عورت کیا ہے؟ کیوں پیدا کی گئی ہے؟ عورت سے مرد کا کیا تعلق ہونا چاہیے؟ عورت کا تہذیب و ثقافت اور حیات و کائنات میں کیا مقام و مرتبہ ہے؟ اور بحیثیت عورت اس کے حقوق و فرائض کا تعین کس طرح کیا جائے؟ ہر دور میں یہ اہم سوال رہا ہے اور ہر دور میں ان مسائل سے متعلق مختلف تہذیبوں کے رویے، مذاہب کے تصورات، علما، مفکرین نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں۔ بنیادی طور پر ان نظریات کو سمجھنے کے لیے کئی ضخیم کتابوں کو پڑھنے کی ضرور ت ہے۔ مثلاً چند اہم کتابیں درج ذیل ہیں:
(۱) پردہ — مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
(۲)Women Between Islam & Western Society — مولانا وحید الدین خان
(۳)عورت اسلامی معاشرے میں — مولانا جلال الدین عمری
(۴) خاتونِ اسلام — ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
(۵) Man the Unknown — الگزس کیرل
(۶) تاریخِ اخلاق یورپ— لیکی
(۷) محکومیتِ نسواں— مِل
(۸) مرد و عورت — ہیولاک ایکس
(۹) منوسمرتی — منوراج
(۱۰) تاریخ تمدنِ ہند— محمد مجیب
(۱۱) کلیاتِ اقبال — محمد اقبال
اس مختصر مضمون میں نسوانی شخصیت سے متعلق مختلف تصورات و نظریات کی صرف ایک جھلک پیش کی جارہی ہے۔
یونانی تہذیب اور عورت:
قدیم یونانی عقیدے کے مطابق اولین عورت ’’پنڈورا‘‘ اپنے ساتھ تمام دنیوی آفات و مصائب،رنج و غم، برائیاں اور گناہ اور فتنہ و فساد لے کر اس دنیا میں آئی۔ اگرچہ یونان کے لوگ عقلیت پسند، روشن خیال اور تہذیب و تمدن میں اعلیٰ تھے لیکن اس عقیدہ سے متاثر ہوکر انھوں نے عورت کے بارے میں یہ تصور پیش کیا:
’’آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن ہے، لیکن عورت کے شر کا علاج ناممکن ہے۔‘‘
مشہور مصنف لیکی نے یونانی عورتوں کی بدتر صورتِ حال کی تصویر اپنی کتاب ’’تاریخِ اخلاقِ یورپ‘‘ میں یوں پیش کی ہے:
’’بحیثیت مجموعی باعصمت یونانی بیوی کا مرتبہ انتہائی پست تھا۔ اس کی زندگی ساری عمر غلامی میں بسر ہوتی تھی۔ لڑکپن میں اپنے والدین کی، جوانی میں اپنے شوہر کی، بیوہ ہونے کی صورت میں اپنے بیٹوں کی۔ وراثت میں اس کے مقابلے میں اس کے مرد رشتہ داروں کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی تھی۔ طلاق کا حق اسے قانوناً ضرور حاصل تھا مگر عملاً وہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتی تھی۔ کیوںکہ عدالت میں اس کااظہار شرم و حیا کے خلاف تھا۔ افلاطون نے بلاشبہ مرد اور عورت کی مساوات کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ تعلیم صرف زبانی تھی۔ عملی زندگی اس سے بہت دور رہی۔ شادی کا مقصد خالص سیاسی تھی کہ اس سے طاقت ور اولاد پیدا ہو۔ جو حفاظتِ ملک کے کام آئے۔ اور اسپارٹا کے قانون میں یہ وضاحت موجود تھی کہ ضعیف شوہروں کو اپنی کمسن بیویاں کسی نوجوان کے نکاح میں دے دینا چائیں تاکہ فوج میں قوی سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔‘‘
یونانی تہذیب کے عہدِ زوال میں طوائف کے کوٹھے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی۔ مفکرین، علماء دانشوران ، شعر او ادبا اور ماہرینِ فنون — سبھی طوائف کے حضور ’’زانوئے ادب‘‘ تہہ کرتے اور وہ صدرنشین ہوتیں۔ عریانیت کو آرٹ اور کلچر کا نام دیا گیا۔ حتی کہ مذہب نے بھی عریانیت، فحاشی اور جنس پرستی کے آگے ’’خود سپردگی‘‘ کا اعلان کردیا۔ کام دیوی (Aphrodite) کی پرستش عام ہوگئی جس کی داستان یہ تھی کہ ایک دیوتا کی بیوی ہونے کے باوجود اس کے جنسی تعلقات تین مزید دیوتاؤں سے تھے اور اتنا ہی نہیں بلکہ ایک ’’انسان‘‘ کو بھی اس ’’مہربان دیوی‘‘ سے مستفید ہونے کا ’’شرف‘‘ حاصل تھا۔ اسی کے بطن سے محبت کے دیوات ’’کیوپڈ‘‘ کی ’’ولادت باسعادت‘‘ ہوئی۔ یہ اس قوم کی معبود تھی۔ جو اسپارٹا زوال پذیر ہونے لگا تو اس کی وجہ ارسطو نے یہ بتائی کہ دراصل عورت کے حقوق اور اس کی آزادی کو تسلیم کرلینے کا یہ منطقی نتیجہ برآمد ہوا ہے۔
رومی تہذیب اور عورت:
رومی تہذیب میں عورتوں پر ’’مردانہ اقتدار‘‘ کا یہ عالم تھا کہ شوہر اپنی بیوی کو جب چاہتا گھر سے نکال دیتا یا قتل کردیتا تھا۔ نکاح کی حیثیت محض ایک ’’قانونی معاہدہ‘‘ (Civil Contact) کی سی تھی۔ حتی کہ مشہور رومی فلسفی سینکا (۴ ق م تا ۵۶ء) کے بقول روم میں طلاق کی وبا اس قدر عام ہوگئی کہ عام عورتیں اپنی عمر کا حساب شوہروں کی تعداد سے لگاتی تھیں۔ فلورا نامی ایک کھیل کو نہایت مقبولیت ملی، کیوں کہ اس میں برہنہ عورتوں کی دوڑ ہوا کرتی تھی۔
مصری تہذیب اور عورت
حضرت عمرؓ کے زمانے تک مصر میں یہ رواج عام تھا کہ دریائے نیک کے خشک ہوجانے پر اس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ماں باپ کی اکلوتی لڑکیوں کو زیورات اور زیب و زینت سے آراستہ کرکے دریا میں قربان کردیا جاتا تھا۔
ایرانی تہذیب اور عورت
ایران میں عورت ایک مقیّد لونڈی کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کی خریدو فروخت کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ ایامِ حیض کے دوران عورتوں کو گھر کے باہر خیموں میں رکھا جاتا تھا، جہاں صرف خدّام ملنے جاتے، وہ بھی آنکھ، ناک اور کان میں کپڑا لپیٹ کر۔
چینی تہذیب اور عورت
چین میں بھی عورت کو لونڈی بناکر رکھا جاتا تھا۔ مشہور چینی مصلح کنفیوشش کا قول ہے ’’عورت مرد کی تابع ہے اور اس کا کام مرد کی حکم برداری ہے۔‘‘
عرب اور عورت
عرب میں بچیوں کی پیدائش کو نحوست اور رسوائی سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ وہ اس کو اپنی غیرت کے خلاف سمجھتے تھے کہ کوئی مرد اس کا داماد بنے۔ چنانچہ قرآنِ کریم نے عربوں کی اس سوچ کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے:
’’جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ زرد پڑجاتا ہے اور وہ غم سے گھٹنے لگتا ہے۔ اس خبر کو وہ اس حد تک برا سمجھتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنی قوم سے چھپائے پھرتا ہے (اور اس سوچ میں پڑجاتا ہے) کہ آیا ذلّت برداشت کرتے ہوئے اس کو باقی رکھے یا زیرِ زمین دفن کردے۔‘‘
لڑکیوں کو زندہ درگور کردئیے جانے کے دردناک واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ قیس بن عاصم کے تعلق سے ذکر کیا جاتا ہے کہ اس نے زمانۂ جاہلیت میں اپنی آٹھ، دس بچیاں زندہ دفن کردی تھیں۔ اس کے علاوہ عورت کو سیاسی، سماجی اور معاشی تمام حقوق سے محروم رکھا جاتا۔ اس کے مقابلے میں مرد کو مکمل غلبہ اور اقتدار حاصل تھا اور اس کی شادیوں کی بھی کوئی حد مقرر نہ تھی۔
یورپ اور عورت
یورپ میں محض ایک صدی سے کچھ ہی عرصے قبل تک عورتوں کا استحصال باضابطہ قانون کے تحت کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ عورت کو مرد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا بھی حق حاصل نہ تھا۔ حقوقِ وراثت سے یکسر محروم رکھا جاتا تھا۔ شادی محض ایک تجارت تھی۔ چنانچہ آزادی نسواں کے مشہور مبلغ مِل کے بقول:
’’تاریخِ یورپ کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ باپ اپنی بیٹی کو جہاں چاہتا بیچ ڈالتا تھا۔ اور اس کی مرضی کی کچھ پروا نہ کرتا تھا۔‘‘ (محکومیتِ نسواں)
فرانس میں ۵۷۶ء میں ’’عورت انسان ہے یا نہیں‘‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی اور بحث اس بات پر ہوئی کہ عورت کے اندر ’’روح‘‘ بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر روح ہوتی ہے تووہ انسان کی یا کسی جانور، شیطان یا چڑیل کی؟ اور کانفرنس اس نتیجہ پر پہنچی کہ گرچہ عورت کے اندر انسان ہی کی روح ہوتی ہے لیکن وہ ’’روح‘‘ مرد سے ادنیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔ لہٰذ عورت کی پیدائش کا مقصد مردوں کی غلامی اور خدمت کرنا ہے۔
گیارہویں صدی عیسوی میں گرجا کی عدالت نے یہ قانون پاس کیا کہ شوہر اپنی بیوی کو محدود مدت کے لیے کسی دوسرے مرد کے حوالے کرسکتا ہے۔ شرفا کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسان کی نئی نویلی دلہن سے چوبیس گھنٹے تک ہمبستری کرسکتے ہیں۔ ۱۵۶۷ء میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ایک قانون بناکر یہ وضاحت کی تھی کہ عورت کو کسی بھی قسم کی مختاری اور اقتدار نہیں دیا جاسکتا۔ ۱۸۰۵ء تک برطانوی قانون کے مطابق شوہر اپنی بیوی کو فروخت کرسکتا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی قیمت ’’نصف شلنگ‘‘ مقرر کی گئی تھی۔ انگریزی پارلیمنٹ نے ہنری ششم کے دورِ حکومت میں یہ قانون پاس کیا تھا کہ عورت انجیل نہیں پڑھ سکتی۔
ہندوستانی تہذیب اور عورت
ہندوستانی تہذیب میں عورت کو ’’بدروح‘‘ اور ’’پاپ کی کال کوٹھری‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ نکاح کے بجائے ’’کنیا دان‘‘ کی رسم تھی، جس کے مطابق عورت اپنے مرضی کے بغیر ایک مرد کے حوالہ کردی جاتی تھی اور پھر وہ اس مرد کی ملکیت سے زندگی کے آخری سانس تک کسی بھی حال میں نہیں نکل سکتی۔ مرد، عورت کے لیے آج بھی ’’سوامی‘‘ اور ’’پتی دیو‘‘ یعنی ’’مالک و معبود‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کو جائداد یا وراثت میں کوئی حق حاصل نہیں اور ایک مدت تک یہاں ’’ستی پرتھا‘‘ عام رہی ۔ ہندوستان میں عورت کے مرتبہ اور حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آریہ لوگ جوئے میں اپنی بیوی، بچوں تک کی بازی لگا دیا کرتے تھے اور ہار جانے کی صورت میں اپنی بیوی کو جیتنے والے فرد کے حوالے کردیتے تھے۔ نیز عورتوں کو دیوتاؤں کی رضا مندی اور ان سے بارش یا رزق طلب کرنے کے لیے بھینٹ چڑھا دیے جانے کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ جنوبی ہند میں اب بھی ’’دیو داسی پرتھا‘‘ عام ہے۔ جس کے مطابق نوجوان اور کنواری لڑکیوں کو مندروں میں دیوتاؤں کی خدمت کے لیے وقف کردیا جاتا ہے اور ان کی اولادوں کو ’’دیو پتر‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہندوستانی تہذیب میں ’’جنس پرستی‘‘ کا خمیر و خمار اس قدر رچا بسا ہوا ملتا ہے کہ رفتہ رفتہ، اسی ہوس اور حیوانی خواہش نے ’’مذہب‘‘ کا لبادہ بھی اوڑھ لیا۔ ورنہ بقول مولانا مودودیؒ یہ لنگ اور یونی کی پوجا، یہ عبادت گاہوں میں برہنہ اور جوڑواں مجسمے، یہ دیو داسیاں، یہ ہولی کی رنگ رلیاں، یہ دریاؤں کے نیم عریاں اشنان — آخر کس چیز کی یادگار یں ہیں۔
عورت اور یہودیت
اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت آدمؑ کو اگر ان کی بیوی حوّا گمراہ نہ کرتی تو وہ ’’شجر ممنوعہ‘‘ کے قریب نہ جاتے اور اس پھل کو نہ چکھتے جس سے اللہ نے منع کیا تھا۔ لیکن حوا نے آدمؑ کو بہکادیا، جس کی سزا یہ ملی کہ اللہ نے آدم کو زمین پر پھینک دیا۔ ورنہ آدم اور اس کی اولاد ’’انسان‘‘ آج بھی جنت کے مزے لوٹتے۔ لیکن بدطینت اور مکار ’’عورت‘‘ کی بات میں آکر ہم اس عظیم خدائی نعمت و عیش و عشرت سے محروم کردئیے گئے۔ عہد نامہ قدیم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حوّا سے کہا:
’’میں تیرے دردِ حمل کو بڑھا دوں گا، تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔‘‘ (پیدائش باب ۳)
گویا حوّا نے آدم کو گمراہ کرکے جس جرم کا ارتکاب کیا تھا، خدا کی طرف سے اس جرم کی سزا ملی کہ وہ حمل اور ولادت کی تکلیف میں مبتلا کی گئی اور ہمیشہ کے لیے مرد کا غلبہ و اقتدار قائم کردیا گیا۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹینکا کے مطابق یہودی قانون کے تحت مرد وارث کی موجودگی میں عورت وراثت سے محروم ہوجاتی تھی اور عورتوں کو دوسری شادی کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
یہودی مذہب میں شادی کے بعد عورت اپنے خاوند کی زر خرید لونڈی بن جاتی ہے اور اس کا شوہر اس کو فروخت کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ اسی طرح باپ کو بھی اپنی بیٹی کی تجارت کا اختیار حاصل ہے۔
عورت اور عیسائیت
اپنے آغاز میں عیسائیت نے فحاشی، عریانیت اور منکرات کے انسداد میں اہم کردار ادا کیا۔ قحبہ گری کا خاتمہ ہوا، طوائف، مغنیہ اور رقاصہ عورتوں نے عیسائی تعلیمات سے متاثر ہوکر اپنے اپنے پیشوں سے توبہ کرلی مگر مسیحی علما نے رفتہ رفتہ ’’رہبانیت‘‘ کا غیر فطری تصور پیش کرکے ’’عورت‘‘ کو تمام تر ’’برائیوں کا سرچشمہ‘‘ قرار دینا شروع کردیا۔ اور وجودِ نسواں کے تعلق سے حقارت اور نفرت کے جذبہ کو فروغ دیا جانے لگا۔ چنانچہ اس عہد کے ایک عظیم ترین راہب کرائی سوسٹم نے عورت کے بارے میں یہاں تک اعلان کردیا کہ: ’’عورت ایک ناگزیر برائی، ایک پیدائشی وسوسہ، ایک مرغوب آفت، ایک خانگی خطرہ، ایک تباہ کردینے والی دلربا اور ایک آراستہ مصیبت ہے۔‘‘
صنفِ نازک کے خلاف عیسائیت کے شدید جذبات کا اندازہ ایک معروف عیسائی راہب طرطولین کے اس خطاب سے کیا جاسکتا ہے:
’’عورتو! تم نہیں جانتیں کہ تم میں سے ہر ایک حوّا ہے، خدا کا فتویٰ جو تمہاری جنس پر تھا وہ اب بھی تم میں موجود ہے، تو پھر جرم بھی یقینا تم میں موجود ہوگا۔ تو تم شیطان کا دروازہ ہو، تم ہی نے آسانی سے ’’خدا کی تصویر‘‘ یعنی ’’مرد‘‘ کو تباہ و برباد کردیا۔‘‘
سینٹ پال اپنے ایک خط میں لکھتا ہے:
’’مرد عورت کے لیے نہیں بلکہ عورت، مرد کے لیے پیدا ہوئی ……… عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے سر پر محکوم ہونے کی علامت رکھے۔‘‘
عورت اور جین مذہب
جین مذہب کے دو فرقوں ’’سویتمبر‘‘ اور دیگمبر‘‘ میں اہم تفریق کی بنیاد یہ بھی ہے کہ سوتیمبر فرقہ عورتوں کے لیے ’’نجات‘‘ کو ممکن تصور کرتا ہے جب کہ دیگمبر فرقے کے عقیدے کے مطابق عورت جب تک عورت ہے نجات نہیں پاسکتی البتہ اس کی روح بطور تناسخ کسی او ر جسم میں داخل ہوجائے تو نجات پاسکتی ہے۔
عورت اور بدھ مت
بدھ مذہب کے نزدیک عورت تو کجا! یہاں تک کہ عورت سے تعلق رکھنے والا مرد بھی کبھی ’’نروان‘‘ حاصل نہیں کرسکتا۔ ایک خاص موقع پر مہاتما بدھ نے کہا کہ ’’اگر ہم عورتوں کو اپنی جماعت میں شامل نہ کرتے تو مذہب زیادہ دنوں تک خالص رہتا۔‘‘
ہندو مذہب اور عورت
ڈاکٹر گستاؤلی بان نے لکھا ہے کہ کسی کتاب میں عورتوں کے ساتھ ایسی سختی کا برتاؤ نہیںکیا گیا ہے جیسا کہ ہندوؤں کی کتابوں میں۔ پنچ تنتر کا یہ ٹکڑا دیکھئے:
’’یہ عورت گناہوں کا مخزن، ہزار مکاریوں کا محل، بدگمانیوں کا ڈیرا، امت ملا ہوا زہر ہے۔‘‘ (بحوالہ تمدنِ ہند ص:۴۱۷)
مشہور ہندو فلسفی منوراج نے اپنی کتاب ’’منوسمرتی‘‘ میں مذہب کی بنیاد پر ایک ’’نظامِ حیات‘‘ کا خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ منوسمرتی میں عورت سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، ان کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
٭ جھوٹ بولنا عورتوں کا خاصہ ہے۔
٭ بغیر سوچے سمجھے کام کرنا، دھوکا، بے وقوفی، لالچ، ناپاکی، بے رحمی یہ سب عورت کے فطری عیب ہیں۔
٭ شہزادوں سے تہذیبِ اخلاق، عالموں سے خوش کلامی، قمار بازوں سے دروغ گوئی اور عورتوں سے مکاری سیکھنی چاہیے۔
منو عورتوں کو نصیحت کرتا ہے:
’’عورتوں کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعددوسرے شوہر کا نام بھی نہ لے۔ کم خوراکی کے ساتھ اپنی زندگی کے بقیہ دن پورے کرے۔‘‘
عورت اور جدید نظریات
عورت سے متعلق جدید نظریات کی بھر پور ترجمانی ’’تحریکِ آزادیٔ نسواں‘‘ کے منشور سے ہوتی ہے۔ اس تحریک کے برپا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دراصل ایک طویل مدت سے ہونے والے استحصال کے ردِّ عمل سے وجود میں آئی۔ آزادیِ نسواں کے علمبرداروں اور نظریہ سازوں نے یہ دعویٰ کیا کہ عورت اور مرد دونوں ہر اعتبار سے برابر ہیں۔ ایک صنف کو کسی بھی زاویے سے اور کسی بھی میدان میں دوسری صنف پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ دونوں اصناف کو حیات و کائنات کے تمام تر شعبوں میں برابر حقوق و اختیارات حاصل ہیں اور ان کے فرائض بھی یکساں ہیں۔ دنیا کے کارخانہ میں کوئی ایسا کام نہیں ہے جس کے لیے مرد و عورت کی تفریق کو جائز قرار دیا جاسکے۔ خواہ وہ تجارت و معیشت ہو یا صنعت و حرفت، عدلیہ، مقننہ اور منتظمہ کے شعبے ہوں یا پھر سیادت و قیادت۔
صنفِ نسواں سے متعلق جدید تصورات کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اگرچہ جسمانی ساخت اور استحکام کے اعتبار سے عورت کمز ور ہے لیکن اس کمی کا تدارک عورت کی جنسی کشش اور حسن و جمال جیسی دو بڑی قوتوں سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ جدید نظریے کے مطابق عورت بنیادی طور سے ایک آزاد، خود کفیل، خود مختار اور مطلق العنان وجود ہے اور اس کو اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حسن، اپنی کشش اور اپنے جسم کا جس طرح چاہے استعمال کرے۔ جدید مفکرین کے نزدیک صدیوں سے عورت پر ظلم و جبر اور استحصال و استبداد کے پہاڑ توڑے جانے کا اصل سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں جھانک کر اپنی بے پناہ قوتوں اور صلاحیتوں کو دریافت نہیں کیا اور اس نے خود کو کمزور و ناتواں تصور کرکے اپنے اوپر ظالم و جابر مرد کی جباری اور حکمرانی مسلط کرلی۔ اب عورت کے پاس اس صدیوں سے چلی آرہی غلامی، مظلومیت، ذلت، پستی اور زوال کا واحد حل یہ ہے کہ عورت، مرد کی غلامی کی بیڑیوں کو توڑ کر اپنی مکمل آزادی اور خود مختاری کا اعلان کردے۔ اور اس کی نسوانی عظمت و خود داری کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ مرد کے سماجی تحفظ، سیاسی بالادستی اور معاشی کفالت کے سہارے گھٹ گھٹ کر جینے سے صاف طور پر انکار کردے اور خود وہ سیاسی، سماجی اور معاشی اعتبار سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے۔ وہ اپنے دست و بازو اور دل و دماغ پر بھر پور اعتماد اور بھروسہ کرے۔ اگر عورت اپنی کفالت کے لیے ’’جسم فروشی‘‘ کرتی ہے تو اسے طوائف کہنا عورت ذات کی شان میں توہین ہے۔ دراصل وہ تو ایک ’’جنسی کارکن‘‘ سیکس ورکر ہے، جس کا پیشہ جنسی اعتبار سے مضطرب خلقِ خدا کی تسکین کا سامان کرنا اور ان کو فرحت و انبساط سے ہم کنار کرنا ہے۔ یہ عین ’’خدمتِ خلق‘‘ ہے۔ اگر عورت کے پاس حسن کی دولت ہے تو اس کی نمود و نمائش کے لیے ’’مقابلۂ حسن‘‘ اور ’’فیشن شو‘‘ میں شرکت کی آزادی اس کا بنیادی حق ہے۔
حالاں کہ ان تصورات کی تائید کسی علمی نظریے سے ابھی تک نہیں ہوسکی ہے اور نہ تو ’’تحریکِ آزادیٔ نسواں‘‘ کو ہی کوئی مستحکم فلسفیانہ اور فکری اساس فراہم ہوسکی ہے۔ بلکہ اس کے برعکس مغرب کا اہلِ علم طبقہ اپنی جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ان خیالات کی پرزور تردید کرتا ہے۔ مثلاً نوبل انعام یافتہ فرانسیسی مصنف الگزس کیرل کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’مردوں اورعورتوں کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ بنیادی نوعیت کے ہیں۔ یہ اختلافات ان کے جسم کی رگوں اور ریشوں کی ساخت کے مختلف ہونے سے پیدا ہوتے ہیں۔ عورت کے بیضہ دان سے جو کیمیاوی مادّے خارج ہوتے ہیں ان کا اثر صنفِ نازک کے ہر حصے پر مرتب ہوتا ہے۔ مردوں اور عورتوں کے طبعی اور نفسیاتی اختلافات کا سبب بھی یہی ہے۔‘‘ (مین دی ان نون)
الگزس کیرل مردوں اور عورتوں کے طبعی اور نفسیاتی اختلافات پر مزید بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’ان بنیادی حقائق کو (جو مرد اور عورت کے طبعی فرق پر دلالت کرتے ہیں) نظر انداز کردینے کی وجہ سے نسوانی آزادی کے علمبرداروں نے یہ دعویٰ کیا کہ مردوں اور عورتوں کی ذمہ دایاں اور حقوق یکساں اور مساوی ہونی چاہئیں۔ حالانکہ فی الحقیقت مردوں اور عورتوں کے درمیان بے حد اختلافات پائے جاتے ہیں۔ عورت کے جسم کے ہر خلیے پر اس کی نسوانیت کے نقوش مرتسم ہوتے ہیں۔ یہی بات اس کے اعضا کے متعلق بھی صحیح ہے۔ اور بالخصوص اس کے نظامِ عصبی کے متعلق۔ عورتوں کو اپنی فطرت کے مطابق اپنے رحجانات کی تشکیل کرنی چاہیے۔ بغیر اس کے کہ وہ مردوں کی تقلید کریں۔ تہذیب کے ارتقا میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا زیادہ حصہ ہے۔ اس لیے انہیں خصوصی فرائض سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر لیمبروس گنا اپنی کتاب ’’روحِ انسانیت‘‘ میں تحریر کرتی ہے: ’’ان (مرد و عورت) کے ذہنی اور اخلاقی رجحانات میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔‘‘
وہ آگے چل کر مزید یہ مشورہ بھی دیتی ہے:
’’ترقی اور ارتقا صرف اس طرح ممکن ہے کہ مردوں اور عورتوں کے معاشرتی حقوق وفرائض تعین کرنے میں ان کے فرق و اختلاف کو مدنظر رکھا جائے۔‘‘
متفقہ طور سے اب تک کے سب سے بڑے ماہرِ جنسی نفسیات ہیولاک ایکس اپنی کتاب ’’مرد و عورت‘‘ میں عورتوں کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں یوں انکشاف کرتا ہے:
’’عورت دوسروں کی ہمدردی کے لیے تڑپتی ہے اور اس میں مختاری کا جذبہ ویسا پُر زور نہیں ہوتا جیسا مردوں میں ہوتا ہے۔‘‘
نسوانی شخصیت : اسلامی نظریات
قرآن کریم میں انسان کو بلا تفریق جنس محترم، قرار دیا گیا ہے۔ اور بغیر کسی جنسی قید کے بزرگی کا معیارِ حقیقی ’’تقویٰ‘‘ کو ٹھہرایا ہے۔ اور مردو عورت کے درمیان قوتوں اور صلاحیتوں کے فرق کو عزت اور ذلت کا پیمانہ نہ بنانے کے بجائے انہیں یکساں مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔
قرآن کریم دختر کشی کو سخت گناہ قرار دیتا ہے اور مومن مردو عورت کو ایک دوسرے کا ولی اور دوست قرار دیتا ہے جہاں وہ مل کر نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو ستانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔
حدیث میں ہے: ’’اللہ نے حرام کی ہے تم پر ماؤں کی نافرمانی، ادائیگی حقوق سے دست برداری اور ہر طرف سے ذخیرہ اندوزی اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا۔‘‘ (بخاری، کتاب الاولاد، باب حقوق الوالدین)
دوسری طرف نبی ؐ نے بچیوں کی پرورش و پرداخت کے سلسلے میں ان الفاظ میں ترغیب دی:
’’جس شخص کے لڑکی ہو اور اسے نہ زندہ درگور کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ (ابوداؤد، کتاب الاولاد)
اسلام نے باپ کے مرتبے پر ماں کو فوقیت بخشی:’’ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔‘‘ (الحدیث)
قرآن کریم نے شوہر اور بیوی کے محبت والفت بھرے جذباتی و روحانی رشتے کی وضاحت یوں کی: ’’وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔‘‘
ایک طرف عورت کے تعلق سے تہذیبوں اور مذاہب کے ذلت آمیز تصورات کی ایک طویل داستانِ مظلومیت ہے، جس کی رو سے عورت سراپا، ’’ذلیل اورگھٹیا خلقیت‘‘ قرار پاتی ہے تو دوسری طرف رحمۃ للعالمینؐ کا یہ فرمان ہے:
’’مجھے تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورت اور نماز۔‘‘
ایک حدیث میں آپ نے فرمایا: پوری دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔
غرض کہ اسلام نے عورتوں کو زندہ رہنے، ملکیت اور وراثت، اپنی پسند کے مطابق نکاح و خلع، حصولِ علم اور دیگر تمام حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے باضابطہ ’’شرعی قوانین‘‘ نافذ کیے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر خالد مبشر

تبصرہ کیجیے