حقوق و فرائض کا پختہ شعور

اسلام نے عورت کو جہاں شرف اور کرامت سے نوازا ہے، وہیں اسے مستقل بالذات حیثیت بھی دی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر، باپ، بھائی وغیرہ کی ذات کا ضمیمہ نہیں بلکہ اپنے حقوق، اختیارات اور ذمہ داریوں میں ایک الگ شخصیت ہے۔ عہدِ نبوی میں بے شمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں خواتین نے صرف اور صرف اپنی ذاتی خوبیوں اور ذاتی عظیم کارناموں کی بنیاد پر شہرت حاصل کی۔ اس میں ان کا علمی مرتبہ، فنی کمال، ذاتی خوبیاں جیسے شجاعت و بہادری، شعرو ادب، یہاں تک کہ ان کی مالی حیثیت سے بھی منفرد شناخت تھی۔ وہ اپنے مال و جائداد کی خود دیکھ ریکھ اور اس میں تصرف کی حقدار تھیں۔ شادی بیاہ اور طلاق وغیرہ میں بھی بغیر کسی دباؤ اور بیرونی مشوروں کی مخالفت میں ذاتی فیصلے کیے اور ان کی شخصیت شوہروں اور گھر کے دیگر ذمہ داروں کی اوٹ میں چھپی نہیں رہی۔ یہاں تک کہ تاریخ میں اس بات کی بھی مثال ملتی ہے کہ کسی عورت نے اللہ کے رسول کے مشورے کے بھی خلاف اپنی ذات کے سلسلے میں فیصلہ لیا۔ اور اس کی وجہ یہی تھی کہ اس معاشرہ کی عورت شخصی ارتقاء کی اس منزل کو پہنچ گئی تھی جہاں اسے اپنے حقوق و اختیارات کا ایسا پختہ شعور حاصل ہوگیا تھا کہ وہ بہت سے مسائل میں اپنی شرعی آزادی کو استعمال کرنے کے قابل بن گئی تھی۔
مسلم عورت کے شخصی ارتقاء کی منزلوں کو طے کرنے کا اہم ترین ذریعہ اس کے حقوق و فرائض کا پختہ اور مکمل شعور حاصل کرنا ہے۔ حقوق اور فرائض دونوں کو ایک ساتھ استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں خواتین کے حقوق کی جنگ جاری ہے اور جنگ میں صرف اور صرف حقوق کی بات کی جاتی ہے اور فرائض و ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جبکہ صالح معاشرہ اور مستحکم خاندان کی تشکیل کے لیے اور مرد و عورت کے درمیان محبت سے بھر پور پرجوش تعلق کے لیے دونوں کے درمیان خوبصورت توازن کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر یہ توازن نہ ہو تو سماج اور خاندان محبتوں اور الفتوں کا گہوارہ بننے کے بجائے مرد و عورت کے درمیان حقوق و فرائض کی جنگ کا محاذ بن جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج یہی کیفیت پوری دنیا میں پائی جاتی ہے اور مسلم معاشرہ بھی اسی کی زد میں ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عورت کی متوازن شخصیت کے لیے نہ صرف حقوق کا پختہ علم ضروری ہے بلکہ ان کے استعمال کے لیے درکار جرأت و ہمت بھی درکار ہے اسی طرح فرائض و ذمہ داریوں کا علم ہی کافی نہیں بلکہ ان کی ادائیگی کا جوش وجذبہ بھی نہایت ضروری ہے۔
دو خوبصورت مثالیں
٭ حقوق و فرائض کے پختہ شعور، ان میں توازن اور ادائیگی کے لیے جوش وجذبہ اور خلوص کی نمایاں اور روشن ترین مثال حضرت فاطمہ بنت رسول ﷺ کی ہے۔ جن کے مسلسل چکی پیسنے سے ہاتھوں میں گٹھے پڑگئے تھے اور پانی کا مشکیزہ بھرکر لانے سے سینے اور کمر پر نشان بن گئے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ کی طبیعت خراب تھی مگر وہ صبح اٹھیں اور فجر کی نماز کے بعد حسبِ معمول چکی پیسنے بیٹھ گئیں، ان کے شوہر حضرت علیؓ نے جب دیکھا تو بے چین ہو اٹھے کہ کہیں طبیعت اور زیادہ نہ بگڑ جائے اور منع کرنے لگے، اس پر حضرت فاطمہؓ نے جواب دیا کہ میں نے فجر کی نماز پڑھی کہ اللہ کا حق ادا کروں اور اب چکی پیس رہی ہوں تمہاری اطاعت اور بچوں کی خدمت کے لیے اور اگر میں اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے مرجاؤں تو مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں۔
٭ حضرت عمر بن خطاب خلیفۂ ثانی کی اہلیہ محترمہ بنت زید نماز جماعت میں شریک ہوتی تھیں اور یہ بات حضرت عمر کو ناپسند تھی۔ ان کے بیٹے نے ایک مرتبہ اپنی ماں سے کہا کہ آپ نماز باجماعت کے لیے کیوں نکلتی ہیں، جبکہ آپ کو معلوم ہے کہ عمرؓ اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس پر انہیں غیرت آئی اور انھوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ پھر مجھے روکتے کیوں نہیں ہو؟ اس پر ابن عمرؓ نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ کے اس قول نے انہیں روک رکھا ہے کہ ’’اللہ کی بندیوں کو مسجد (اللہ کے گھر) جانے سے مت روکو۔‘‘
یہاں ایک طرف تو عہد نبوی کی ایک خاتون کے اندر اللہ کے گھر کی محبت اور عبادت کا انتہائی شوق نظر آتا ہے، دوسری طرف شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کا وہ جذبہ بھی نظر آتا ہے کہ اگروہ اللہ کے رسول کی اجازت کے باوجود انہیں مسجد نہ جانے کا حکم دیں تو وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہوں گی۔
علم دین کا شوق
عہدِ رسالت میں دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کا جو جذبہ مردوں کے اندر نظر آتا ہے بالکل وہی جذبہ خواتین کے اندر بھی نمایاں ہے اور جذبہ اور لگن نے ان کے دینی فکر اور فرائض و ذمہ داریوں کے شعور کو بڑا مضبوط کردیا تھا۔ چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی ہر دینی مجلس میں بڑے شوق کے ساتھ شریک ہوتی تھیں۔ اس کے باوجود بعض خواتین کو اس بات کا احساس تھا کہ گھریلو ذمہ داریوں اور صنفی نزاکتوں کے سبب انہیں اللہ کے رسول کی اس قدر صحبت نہیں مل پاتی تھی جس قدر مردوں کو حاصل تھی چنانچہ اسی احساس کے سبب ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اورکہا کہ یا رسول اللہ مرد آپ سے استفادہ میں ہم پر سبقت لے جاتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ہم عورتوں کے لیے کوئی دن مقرر کردیں اور ہم حاضر ہوجایا کریں تاکہ اللہ نے جو علم آپ کو دیا ہے آپ ہمیں بھی اس کی تعلیم دیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’تم عورتیں فلاں دن اور فلاں مقام پر جمع ہوجایا کرو۔‘‘ اور پھر یہ سلسلہ جاری ہوگیا۔
خواتین کے اندر اس بات کے احساس نے کہ یہ علم دین کا حصول صرف مردوں ہی کا نہیں بلکہ عورتوں کا بھی حق اور ذمہ داری ہے اس لیے انہیں اس معاملہ میںپیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ انہیں اس بات کے لیے آمادہ کیا کہ وہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس بات کا مطالبہ کریں۔ حضرت اسماء بنت شکل کا واقعہ مشہور ہے جنھوں نے حیض اور غسل جنابت سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بلاجھجھک اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا تھا اور رسولؐ نے انہیں وضاحت کے ساتھ یہ مسائل سمجھائے تھے اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا تھا کہ’’انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں کہ دینی مسائل کے سمجھنے میں حیا ان کے لیے مانع نہیں ہوتی۔‘‘
شخصی حق کے استعمال کی چند مثالیں
٭ حضرت بریرہؓ کے شوہر مغیثؓ ایک غلام تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ بریرہؓ کے سلسلہ میں تین احکام آئے ہیں کہ یہ کہ وہ آزاد کی گئی ہیں اور پھر انہیں شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا۔ اختیار دیے جانے پر انھوں نے شوہر سے علیحدہ رہنا پسند کیا۔ جس پر ان کے شوہر کو بڑا صدمہ ہوا۔ روتے روتے وہ بے حال ہوجاتے اور داڑھی آنسوؤں سے تر ہوجاتی۔ اللہ کے رسول کو بھی مغیث کی بریرہؓ سے غیر معمولی محبت کا احساس تھا۔ آپؐ نے بریرہؓ سے فرمایا: ’’کاش تم رجعت کرلیتیں۔‘‘ اس پر بریرہؓ نے پوچھا کہ ’’اے اللہ کے رسول کیا یہ آپ کا حکم ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: میں صرف سفارش کررہا ہوں۔‘‘ بریرہؓ نے کہا: ’’پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ جانتی تھیں کہ حکم کی صورت میں رسول ﷺ کی اطاعت فرض ہے، اس لیے انھوں نے وضاحت چاہی اور جب آپؐ نے فرمایا کہ ’’محض سفارش‘‘ ہے تو وہ سمجھ گئیں کہ اس کے قبول کرنے یا نہ کرنے کا انہیں اختیار ہے۔
٭ حضرت علیؓ کی حقیقی بہن اور حضرت محمد ﷺ کی چچازاد بہن ام ہانی فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ فلاں شخص کو میں نے پناہ دے رکھی ہے۔ میرے بھائی علیؓ کہتے ہیں کہ وہ اسے قتل کردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دے رکھی ہے اس کو ہم نے پناہ دی۔‘‘
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت امِ ہانیؓ کو اپنے اس شخصی حق کا ادراک تھا کہ عام آدمی کی طرح وہ بھی اگر چاہیں تو گھر کے دیگر لوگوں کی رائے کے برخلاف پناہ دے سکتی ہیں اور انھوں نے پناہ دی۔ پھر حضرت علیؓ کی شکایت بھی کی جس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے اس بات کا اعلان کیا کہ ام ہانیؓ نے اپنے حق کا صحیح استعمال کیا ہے۔
٭ حضرت زینبؓ بن جحش معاشی خود کفالت اور اپنے شوہر واولاد پر ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے خرچ کرنے کے سلسلے میں مشہور تھیں۔اور صحابیات میں سب سے زیادہ صدقہ و انفاق کرنے والی خاتون کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ وہ چمڑے کا کام جانتی تھیں اسے دباغت دینے، اس کی سلائی کرکے مختلف چیزیں بنانے اور مرمت کرنے کا فن وہ جانتی تھیں اور اس سے ہونے والی آمدنی کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کیا کرتی تھیں۔
٭ عہدِ رسالت کی خواتین نکاح و طلاق کے سلسلے میں اپنے حق و اختیار سے بھی نہ صرف واقف تھیں، بلکہ انہیںاستعمال بھی کرنے کی جرأت رکھتی تھیں اور ایسے واقعات تاریخ میں ملتے ہیں جہاں عورتوں نے اپنے شوہروں سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی بات مان کی علیحدگی کو قبول کیا۔ قبیلہ جعفر کی ایک عورت کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ اس کا ولی اس ناپسندیدگی کے باوجود کہیں اس کی شادی نہ کردے اور یہ بات اس عورت نے دو بزرگوں کو بتادی جس پر انھوں نے اطمینان دلایا کہ شوہر کا اختیار عورت کا ذاتی حق ہے۔ اس کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے حضرت خنساء بنت خدامؓ کی مثال دی جن کا نکاح ان کے والد نے ان کی پسند کے خلاف کردیا تھا اور اللہ کے رسول نے اسے ختم کرادیا تھا۔
حقوق و فرائض کے شعور کی بنیادیں
٭ شریعت اور اس کے مزاج سے گہری واقفیت ہی وہ اہم بنیاد ہے جو حقوق و فرائض کا مستحکم شعور عطا کرتی ہے۔ قرآن و حدیث اور سنت رسول اور واقعات عہد رسالت وہ روشن لکیریں ہیں جو ہماری خواتین کی حدیں واضح طور پر متعین کردیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سماجی و معاشرتی من گھڑت اور شریعت کے مخالف روایات کی اسیری کے بجائے اسلام کے وسیع تر دائرہ میں رہ کر اپنے حقوق و فرائض کا علم حاصل کیا جائے۔ اس اہم بنیاد کو نظر انداز کرکے اور پس پشت ڈال کر جو بھی روش اختیار کی جائے گی وہ معاشرہ کو مرد و عورت کے درمیان جنگ کا محاذ بنادے گی جو مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھانے ہی کا ذریعہ بنے گی۔
٭ حقوق کے استعمال کے سلسلے میں جہاں آج کی عورت کو زیادہ باشعور ہونے کی ضرورت ہے وہیں معاملات کے معاشرتی، سماجی اور قانونی پہلوؤں پر خاطر خواہ نظر بھی ضروری ہے۔ ایسے ماحول میں جہا ںقانون اور روایات شریعت سے ٹکراتے ہوں اور جہاں خود مسلم سماج خاتون کو اس حق سے مختلف نام نہاد مصالح کی بنیاد پر دینے کے لیے رضا مند نہ ہو، اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ خواتین کے درمیان جہاں حقوق کے سلسلہ میں بیداری لائی جائے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ اس بیداری کی مہم کو ان عناصر کی گرفت سے آزاد کرایا جائے جنھوں نے حقوق و اختیارات کی اس جنگ میں مرد و خواتین آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ یہ عناصر سماج کو کشمکش اور محاذ آرائی کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ اسلام معاشرتی اصلاح خاندانی نظام کے استحکام اور محبت باہمی پیدا کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ اور اسلامی تاریخ سے یہ بات واضح ہے کہ حقوق و فرائض کے اس شعور اور بیداری معاشرہ اور خاندان کو انتشار و بے چینی سے نجات دلاکر استحکام و اطمینان عطا کیا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply