دینی مطالعہ

رمضان کا مہینہ تھا ، آدھی رات بیت چکی تھی ، پروانوں کی طرح زائرین خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے ، ہر طرف نور بکھرا ہوا تھا ،موسم میں ہلکی سی خنکی تھی ،خانہ کعبہ سے کچھ ہی فاصلے پر میری نگاہ جاکر اٹک سی گئی ، وہ سیاہ برقعہ میں لپٹی بیٹھی تھی ، ہاتھ میں سیاہ دستانے تھے ،اس کے پہلو میں ایک خوبرو نوجوان بیٹھا تھا سفید عربی لباس ، سر پر رخ عربی رومال ، دونوں ایک کتاب پر جھکے غور کررہے تھے ،وہ میرے رب کا کلام تھا ،تھوڑی دیر بعد دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر ایک دوسرے کو کچھ بتانے لگے ، وہ قرآن مجید کا اجتماعی مطالعہ کررہے تھے ۔کتنا پیارا منظر تھا ، اتنا ہی پیارا جتنا خانہ کعبہ کے طواف کا منظر ۔میں سوچ رہا تھا ہمارے معاشرے میں کتنے میاں بیوی کے جوڑے ہیں جو کسی وقت ایک جگہ بیٹھ کر قرآن مجید کا مطالعہ کرنے کی سعادت پاتے ہوں ۔
٭٭٭
ان کی شادی کو چند سال ہوئے تھے ، تین بچے تھے ، بالکل پھول جیسے ، دونوں آج اپنے بچوں کی تعلیم کے منصوبے بنارہے تھے ، اب بچوں کی تعلیم پہلے کی طرح آنکھ بند کرکے تو ہوتی نہیں ہے ، کہ کسی بھی قریبی اسکول میں داخل کرادیا ، اب تو بہت پہلے سے منصوبہ بندی کرناہوتی ہے ،اچھے سے اچھے اسکول کا انتخاب پہلے سے کیا جاتا ہے ، فلاں اسکول بہت ٹاپ کلاس کا ہے ، وہاں کے پڑھے ہوئے طلبہ ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں ، انہوں نے بہت عمدہ پلا ننگ کی اور اطمینان سے سوگئے ،بچوں میں دینی شعورپیدا کرنے کے لئے انہیں کیا کرنا ہوگا ، افسوس انہوں نے اس کا تو منصوبہ بنایا ہی نہیں ۔ انہیں اس کی فکر ہے کہ مرنے سے پہلے بچوں کا کیا ہوگا مگر اس کی فکر نہیں ہے کہ مرنے کے بعد ان کا کیا ہو گا ۔ فکر کیسے ہو ؟ انہیں تو اس کی بھی پرواہ نہیں کہ مرنے کے بعد خود ان کا کیا ہوگا ۔
٭٭٭
پت جھڑ آئی اور ایسی آئی کہ عمر کے سارے پتے جھڑ گئے ، زندگی جن بچوں کے سکھ کی خاطر قربان کردی ، اب وہ اپنی اپنی دنیائوں میں مست ہیں ، بوڑھے ماں باپ کی خبر گیری کی انہیں فرصت نہیں ، گھٹنوں میں درد ایسا کہ اٹھنا بیٹھنا مشکل ، ہارٹ اٹیک کا ہر وقت اندیشہ ، ایک نوکر اور وہ بھی اپنے من کا ، گھر میں تنہائی ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑے ، بیٹوں سے گلہ کرنے کا یارا نہیں ، ایک آدھ بار کچھ کہا تو بیدردی سے جھڑک دیا ، قرآن مجید میں اللہ پاک کہتا ہے ماں باپ کو اف تک نہ کہو ، اللہ کے رسول نے فرمایا ماں اور باپ جنت کے دو دروازے ہیں ۔مگر انہیں کیا پتہ ۔ بچپن میں انہیں قرآن مجید پڑھایا ہوتا ۔جوانی میں ان کے اندر قرآن وحدیث کے مطالعہ کا شوق پیدا کیا ہوتا تو آج ان سے اچھے برتائو کی امید بھی ہوتی ۔زندگی عذاب ہوئی جاتی ہے ،مرنے کے بعد کیا ہوگا ۔
٭٭٭
قرآن مجید صرف مردوں کے لئے نازل نہیں ہواہے ، اس پر عورتوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مردوں کا ہے ، اور اس کو سمجھنا عورتوں کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا مردوں کے لئے ، یہی نہیں جس طرح اسے اللہ نے مردوں کے لئے آسان کتاب بناکر نازل کیا ہے ویسے ہی عورتوں کے لئے بھی بہت آسان ہے اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا، اور آج جبکہ نئی تعلیم قرآن سے بیزار کرنے اور اللہ سے دور کرنے والی ہے ، ہر ماں کو قرآن مجید اس نیت سے بھی پڑھنا اور سمجھناچاہئے کہ باطل اس کے جگر گوشوں کو قرآن سے دور کرے گا تو وہ انہیں اس سے قریب کرے گی ۔وہ قرآن کی ہر ہر تعلیم اور ہر ہر ہدایت اپنے جگر کے ٹکڑوں کے دل میں اتار دے گی تاکہ وہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن سکیں ، اس دنیا میں بھی اور اس دوسری زندگی میں بھی جو آئے گی اور یقینا آئے گی ۔
٭٭٭
ہر بچے کے کچھ پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ، بعض بچوں کو کرکٹ کے کھلاڑی زیادہ پسند ہوتے ہیں ، وہ ان کی تصویریں کاٹ کاٹ کر اپنے پاس رکھتے ہیں ، بعض بچے فلمی کرداروں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، ان کی پوری ہسٹری انہیں ازبر ہوتی ہے ، آپ کی خواہش ہونا چاہئے کہ آپ کے بچے اللہ کے رسول کے شیدائی ہو جائیں ، رسول کے پیارے صحابہ کے چاہنے والے ہوجائیں ، خالد بن ولید ، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کا نام سن کر ان کی رگوں میں خون کی گردش تیز ہوجائے ، اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ خود اپنی روشن اور تابناک تاریخ کا مطالعہ کریں ۔
پیارے رسول کی سیرت پڑھیں ، صحابہ کے کارنامے پڑھیں ۔اور پھر اپنے معصوم بچوں کو سنائیں ۔آنے والی نسلیں ہماری تاریخ سے محبت کریں اس خواب کو ممکن صرف اور صرف آپ بناسکتی ہیں ۔اور اگر آپ نے یہ کام کردیا تو اسلام کے دشمن ہماری تاریخ کو کتنا ہی بگاڑنا چاہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے ۔اگر عورت یہ طے کرلے کہ اسے اپنی شاندار تاریخ کی حفاظت کرنا ہے تو پھر اس کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
٭٭٭
اسلام اور کفر کا اصل میدان جنگ اس وقت گھر ہے ، پہلے جنگیں شہر کے باہر میدانوں میں لڑی جاتی تھیں ، تلواروں اور تیروں کا زمانہ تھا ، جنگ کی کمان مردوںکے ہاتھ میں ہواکرتی تھی ، اب یہ جنگ گھروں کے اندر لڑی جارہی ہے ، معصوم ذہن و دماغ اس کا نشانہ ہیں ، اور اب اس کی قیادت مسلم اور مومن عورتوں کو کرنا ہے ، آپ کا گھر میدان جنگ بنا ہوا ہے ، آپ جانیں یا نہ جانیں اور آپ چاہیں یا نہ چاہیں ،تو کیا آپ خود اپنے گھر کے اندر اسلام کی شکست گوارا کریں گی ۔دینی مطالعہ اس جنگ میں آپ کا اہم ہتھیار ہے ،اس سے لیس ہونا آپ پر فرض ہے ۔
٭٭٭
پوری زندگی کو اسلا می بنانا جس طرح مردوں پر فرض ہے ویسے ہی عورتوں پر بھی فرض ہے ،زندگی کو اسلامی بنانے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام ہے کیا ، اور کیا اسلام نہیں ہے ، اسی لئے اللہ کے رسول نے کہا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔آپ ہی سوچئے کیا وہ خاتون جنہیں دین کا علم حاصل ہو اور جنہیں دین کا علم حاصل نہیں ہو برابر ہو سکتی ہیں ؟ ۔عمر کا کیا بہانہ ؟ کیا گود سے گور تک علم حاصل کرو والی بات صرف مردوں سے کہی گئی ہے ؟۔
٭٭٭
دینی مطالعہ کا آپ کا اپنا ایک منصوبہ ضرور ہونا چاہئے ۔
مثال :
قرآن مجید کی تلاوت : روزانہ ایک چوتھائی پارہ
قرآن مجید کاترجمہ وتفسیر : روزانہ ایک رکوع
حدیث پاک کا ترجمہ وتشریح : روزانہ ایک حدیث ۔
سیرت اور اسلامی تاریخ : روزانہ تین صفحات ۔
اسلامی فقہ : ہفتہ میں ایک باب ۔
گھر میں ایک اخبار ایسا ضرور آئے جو مسلمانوں کی صحیح صورتحال بتائے۔
٭٭٭
اگر آپ کے گھر اور پڑوس میں اور بھی کچھ تعلیم یافتہ خواتین ہیں اور یقینا ہوں گی تو ان کے ساتھ مل کر ایک اسٹڈی سرکل بنائیے ۔
اس کانقشہ کچھ اس طرح کا ہو ۔
مثال :
٭ ایک لائبریری ہوجس میں سب کی طرف سے کتابیں داخل کی جائیں ۔یا ایک فہرست ہر بہن کے پاس رہے کہ کس کس کے پاس کون کون سی کتابیں ہیں ۔ کتابوں کا تبادلہ ہوتا رہے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر بہن کو کم پیسوں میں زیادہ کتابیں پڑھنے کو مل جائیں گی ۔
٭ سب مل کراچھے اسلامی رسالوں کی فہرست بنائیںاورطے کرلیں کہ ایک سے زائد اسلامی پرچے منگائیں گی ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بہت سارے اسلامی رسالے سبھی بہنوں کو پڑھنے کو مل جائیں گے ۔اور جیب پر زیادہ بوجھ بھی نہیں پڑے گا ۔
٭ ہفتہ میں ایک مرتبہ اسٹڈی سرکل کا کسی ایک بہن کے گھر اجتماع ہو ۔اس میں کسی کتاب کا حاصل مطالعہ پیش کیا جائے ۔کسی مسئلہ پر آپس میں گفتگو ہو ۔
٭ کسی بہن کو کوئی مسئلہ درپیش ہو ، تو اسٹڈی سرکل کی طرف سے کسی معتبر عالم یا دارالافتاء سے فتوی منگایا جائے اور سب بہنوں کو پڑھ کر سنایا جائے۔اسٹڈی سرکل کی بہنیں خود بھی کتابوں سے اس مسئلہ کا حل تلا ش کرکے اجتماع میں پیش کریں ۔
٭ کسی اخبار یا رسالے میں اسلام کے خلاف کوئی بات چھپی ہو تو اس سے اسٹڈی سرکل کی بہنوں کو مطلع کریں اور اسلام کی صحیح تصویر کو جاننے کی کوشش کریں ۔
٭٭٭
عورتوں کے حقوق اور عورتوں کی آزادی کے لئے کوشش کرنے والی خواتین اگر اپنے مشن میں مخلص ہیں تو انہیں اس کی تحریک ضرور چلانا چاہئے کہ مسلمان عورتوں کو جمعہ اور عیدین کا خطبہ سننے کی اجازت ملنی چاہئے ۔ اور اس کا معقول انتظام ہر مسجد میں ہونا چاہئے ۔یہ بات بڑی عجیب سی ہے کہ عورتیں بازار میں جائیں تو کوئی نہیں روکتا ، آفس جائیں تو کوئی نہیں روکتا ، پارکوں اورتفریح گاہوں میں جانے سے کوئی منع نہیں کرتا ، مگر مسجد جیسی پاک وصاف جگہ میں جانے کہ ممانعت ہے ۔ حالانکہ رسول کا ارشاد ہے : انسانوں کے لئے سب سے بری جگہ بازار ہے اور سب سے اچھی جگہ مسجد ہے ۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ اگر عورتیں اپنے گھر میں کوئی فلمی گانا سنتی ہیں تو کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا ،لیکن اگر وہ جمعہ کے دن مسجد چلی جائیں کہ امام صاحب اتنی اچھی اچھی دین کی باتیں بتاتے ہیں ، ذرا ہم بھی سنیں تو ہنگامہ ہو جائے ۔وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے بطور خاص جب کہ اسلام شدید خطرے میں ہے اور اس کی حفاظت کے لئے عورتوں کو بھی آگے آنا ہے ۔کہ جمعہ اور عیدین کے منبر کو سارے مسلمانوں کی ذہنی تربیت اور دینی تعلیم کا سب سے اہم ذریعہ بنایا جائے ۔
٭٭٭
اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ کے علاقے میں کسی بڑے عالم کی یا کسی بڑے دینی رہنما کی تقریر ہونے جارہی ہے تو مطالبہ کیجئے کہ عورتوں کے لئے بھی پردے میں انتظام کیا جائے ۔اور پھر اس میں ضرور شرکت کیجئے ۔ایسا نہ ہو کہ گھر کہ بس بڑی بوڑھی عورتیں چلی جائیں ، بلکہ کم عمر لڑکیوں کو بھی ضرور ساتھ لے کر جائیں ۔ واپس آکر تقریر کی موثر باتیں پھر سے دہرائیے ۔اور اس پر اچھے انداز سے گفتگو کیجئے ۔کہ اس تقریر کو سننے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
غرض دینی معلومات کے حصول کے لئے جتنے مواقع مردوں کو حاصل ہیں اتنے ہی مواقع عورتیں بھی حاصل کریں یہ ان کا حق ہے جس سے انہیں محروم کردینا ان پر سب سے بڑا ظلم ہے ۔اللہ کے رسول نے تو عورتوں کو مردوں سے زیادہ مواقع دئے تھے ۔مسجد نبوی میں آپ جو تعلیم دیتے تھے اس میںتو مرد عورت سب شریک رہتے ہی تھے ، اس کے علاوہ عورتوں کے مطالبے پر ہفتہ میں ایک دن ان کے لئے الگ سے مسجد کے باہر ایک گھر میں مخصوص تھا کہ وہ عورتیں جو کسی وجہ سے مسجد میں نہ آسکیں ان کی تعلیم کا نظم کیا جائے ۔ دیکھنے کہ بات یہ ہے کہ یہ عورتوں کے اپنے مطالبہ پر کیا گیا تھا ۔
اور کیا آپ کو معلوم ہے رات کے آخری حصہ میں حضرت عائشہ آنحضور کے ساتھ دین کی باتیں کیا کرتی تھیں ؟ ۔

شیئر کیجیے
Default image
محی الدین غازی

Leave a Reply